بحیرہ مردار

اردن اور اسرائیل کے درمیان میں دریائے اردن کے دہانہ پر واقع ایک بہت بڑی جھیل ہے جو چار سو مربع میل کے علاقہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی پچاس میل اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی گیارہ میل ہے۔ یہ جھیل بحیرہ مردار (The Dead Sea) کے نام سے مشہور ہے۔اس کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍جولائی 2002ء میں مکرم پروفیسر طاہر احمد نسیم صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
بحیرہ مردار کا ساحل سطح سمندر سے 1310 فٹ نیچے ہے اور یہ زمین کا سب سے گہرا نشیبی علاقہ ہے اور اسی طرح یہ دنیا کا سب سے کڑوا پانی ہے جس کی کڑواہٹ سمندری پانی سے نوگنا زیادہ ہے، اگرچہ پانی دیکھنے میں شفاف اور چمکدار ہے۔ کڑواہٹ کی وجہ سے یہاں حیواناتی اور نباتاتی زندگی تقریباً مفقود ہے اور سوائے Shrimp کے اَور کوئی جانور اس میں نہیں ملتا۔ دراصل یہ جھیل زمین کی سطح پر پیدا ہونے والی ایک بہت بڑی دراڑ جسے Fault کہا جاتا ہے، کے اندر پانی بھرنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ دریائے اردن اور کچھ چھوٹی ندیاں اس میں تازہ پانی ڈالتی رہتی ہیں لیکن جو پانی بخارات بن کر اُڑتا ہے وہ تازہ پانی کی نسبت کم ہوتا ہے۔ چنانچہ اس جھیل کا پانی روز بروز کم اور زیادہ کڑوا ہوتا چلا جارہا ہے۔ حد سے زیادہ نمکین ہونے کی وجہ سے اس کی کثافت اضافی اس قدر زیادہ ہے کہ انسان بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے اسکی سطح پر لکڑی کی طرح تیرتا رہتا ہے اور ڈوبتا نہیں۔ اس میں بڑی تعداد میں معدنیات پائی جاتی ہیں۔ ایک اسرائیلی کمپنی یہاں سے تجارتی پیمانے پر معدنیات حاصل کرتی ہے۔ یہ خیال بھی ہے کہ اس میں نہانے سے بعض بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کئی حمام اس کے ساحلی علاقہ میں بنائے گئے ہیں۔
اس جھیل کے ساحل پر جگہ جگہ نمک کے بڑے بڑے ستون بھی کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں، مشرقی اور مغربی ساحلوں پر شفاف چٹانیں ہیں۔ شمال مغربی چٹانوں میں واقع غاروں میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی انتہائی اہم مذہبی دستاویزات دریافت ہوئی تھیں جنہیں Dead Sea Scrolls کہا جاتا ہے۔ ان دستاویزات کا تعلق ایک سو سال قبل از مسیح سے لے کر 70 سن عیسوی تک کے زمانہ سے ہے اور یہ چمڑے اور اسی قسم کی اشیاء پر لکھی ہوئی تحریریں ہیں۔ بعض تحریریں دو سو سال قبل مسیح میں لکھی گئیں۔ مذہبی سکالرز کا خیال ہے کہ یہ یہودیوں کے ایک فرقہ کی لائبریری تھی۔
سب سے پہلے یہ دستاویزات وادی قمران میں واقع ایک غار سے 1947ء میں ملیں۔ پھر 1950ء کی دہائی میں دس مزید غار دریافت ہوئے جن میں یہ دستاویزات موجود تھیں۔ انہیں بائبل کی قدیم ترین دستاویزات تسلیم کیا گیا ہے۔ ان میں Old Testament کے یونانی ترجمہ کے کچھ حصے بھی شامل ہیں اور کچھ حصے آرامک (Aramic) اور کچھ عبرانی (Hebrew) زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ ان دستاویزات سے حقیقی عیسائیت کی تعلیمات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی اصلیت کا بخوبی علم ہوسکتا ہے لیکن سکالرز کے عیسائی چرچ کے عقائد سے اختلافی بیانات کے بعد ان دستاویزات کو غائب کردیا گیا اور ان پر مزید تحقیق روک دی گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں