بیلارس(Belarus )

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ نومبر 2003ء میں مکرم محمود احمد اشرف صاحب کے قلم سے مشرقی یورپ کی ریاست بیلارس کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔
1922ء سے 1991ء تک بیلارس سویت یونین کا حصہ تھا۔ اس کا ایک تہائی رقبہ 1920ء سے 1939ء تک پولینڈ کا حصہ رہا ہے۔ سویت یونین کے آخری سالوں میں بیلارس قدامت پرست کمیونزم کا گڑھ تھا۔ یوکرین کے رہنے والوں کے برعکس بیلارس کے باشندوں میں کبھی بھی اپنی الگ قومیت کا کوئی گہرا احساس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس لحاظ سے یہ وہ ملک ہے جو گویا اپنی مرضی کے خلاف آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوا ہے۔ یہ رقبہ کے لحاظ سے سابقہ سویت یونین کی چھٹی بڑی ریاست تھی۔ اس کے مغرب میں پولینڈ، جنوب میں لٹویا، شمال مغرب میں لیتھوینیا اور شمال اور مشرق میں روس واقع ہے۔ عمومی طور پر اس کی زمین ہموار ہے۔ کل رقبہ 207595 ؍ مربع کلو میٹر ہے۔
بیلارس کو ندی، نالوں اور جھیلوں کا ملک بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں دس ہزار سے زائد جھیلیں پائی جاتی ہیں۔ ملک کا قریباً ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ پولینڈ کے ساتھ اس کی سرحد پر ایک بہت بڑا منفرد جنگل پایا جاتا ہے جو جنگلی حیات کا ایسا قدرتی ذخیرہ ہے جس کو انسان کے ہاتھوں بہت کم نقصان پہنچا ہے۔پرندوں اور جانوروں کی درجنوں اقسام یہاں پائی جاتی ہیں جن میں سے بعض نایاب ہیں۔
ملک کے قریباً اسی فیصد لوگ بیلارسی ہیں۔ جس کے معنے ہیں سفید روسی لوگ (White Russians)۔ یہ نام غالباً ان کے روایتی سفید لباس کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ اقلیتوں میں روسی ، پولش اور یوکرینین شامل ہیں۔ سب سے بڑا مذہب روسی آرتھوڈاکس ہے۔ لیکن ایک ملین سے زیادہ رومن کیتھولکس بھی ہیں۔ 2000ء میں اس کی کُل آبادی قریباً 99 لاکھ 89 ہزار تھی۔
بیلارس کا دارلحکومت Minsk دوسری جنگ عظیم کے دوران مکمل طور پر تباہ کردیا گیا تھا۔ پھر اسے ازسر نو تعمیر کیا گیا اور اب یہ ایک مصروف صنعتی شہر ہے جہاں قریباً ستر ہ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں روسی ریاستوں میں سے سب سے زیادہ تباہی بیلارس میں ہی ہوئی تھی۔ بعد میں کئی دیگر شہر بھی ازسر نو تعمیر کئے گئے جو صنعتی مراکز بن گئے۔ اب یہاں بھاری مشینری تیار کی جاتی ہے۔ زراعت بھی اقتصادیات کا اہم حصہ ہے۔ مختلف قسم کا اناج، آلو، چقندراورFlax (ایک پود1 جس کے تنے سے دھاگہ بنتا ہے جس سے Linen کپڑا بنایا جاتا ہے) اہم پیداوار ہیں۔ پوٹاش کا بہت بڑا معدنی ذخیرہ موجود ہے جو کھاد بنانے کے کام آتا ہے۔
یوکرین کے شہر چرنوبل میں ہونے والے نیوکلئیر دھماکہ کے نتیجہ میں بیلارس کے ایک بڑے حصہ میں زمین کو نقصان پہنچا تھا اور صحت عامہ کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔
اٹھارویں صدی کے آخر میں بیلارس، روس کا حصہ بن گیا۔ جنگ عظیم اول میں یہ پہلے روس اور جرمنی کی افواج کا میدان جنگ بنا، پھر روس اور پولینڈ کی افواج اس سرزمین پر باہم دست و گریبان ہوئیں۔ جنوری 1919ء میں اسے سوویت سوشلسٹ ریاست قرار دیا گیا۔ مگر پولینڈ کے ساتھ جنگ میں اس کا ایک تہائی حصہ جاتا رہا۔ مارچ 1921ء میں بیلارس کو ’’ریگا‘‘ معاہدہ کے مطابق روس اور پولینڈ کے مابین تقسیم کردیا گیا۔ جب پولینڈ پر جرمنوں نے 1939ء میں حملہ کیا اور جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو سویت افواج بھی پولینڈ میں داخل ہو گئیں اور انہوں نے وہ علاقہ پھر قبضہ میں کر لیا جو 1921ء میں ان کے ہاتھ سے جاتا رہاتھا۔ جرمنوں نے روس پر حملہ کیا تو بیلارس پر خوب یلغار ہوئی اور آبادی کا ایک چوتھائی حصہ جنگ میں مارا گیا۔
آزادی کے بعد بیلارس کے رہنما کمیونزم کے پرانے تصورات کے ساتھ ہی چمٹے رہے لیکن 1994ء کے انتخابات میں ہٹلر کا ایک مداح کامیاب ہوگیا اور اسی سال ملک کا نیا آئین بھی تیار کیا گیا۔ مگر اس کی مخالفت نے پھر زور پکڑ ا اور نتیجتاً 1996ء میں حکومت نے روس کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات کا ایک معاہدہ کیا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/V2MgB]

اپنا تبصرہ بھیجیں