جلسہ سالانہ یوکے1999ء پر اہم شخصیات کی طرف سے خیرسگالی کے پیغامات

(مطبوعہ ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ لندن بتاریخ 29؍اکتوبر 1999ء)

جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ ۱۹۹۹ء کے موقع پر
مختلف اہم شخصیات کی طرف سے خیرسگالی کے پیغامات

(مرتبہ : محمود احمد ملک)

جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۹ء کے موقع پر متعدد اہم عالمی سیاسی شخصیات نے شرکاء جلسہ کے لئے خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے تہنیتی پیغامات ارسال کئے۔ ان پیغامات میں سے بعض پیغامات جلسہ سالانہ کے مختلف اجلاسات میں پڑھ کر سنائے گئے۔ تاہم ان تمام پیغامات کا خلاصہ بغرض ریکارڈ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ میں ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔
اس میں آئیوری کوسٹ کے صدر کا پیغام شامل نہیں ہے جسے آئیوری کوسٹ کے وزیر مذہبی امور نے جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس پڑھ کر سنایا تھا اور وہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ کی ایک سابقہ اشاعت میں شامل تھا۔
……………
عزت مآب ٹو نی بلئیر وزیراعظم برطانیہ
مجھے اس با ت کی از حد خو شی ہے کہ میں احمدیہ مسلم ایسو سی ایشن کے جلسہ سالانہ پر مبارک باد کا پیغام بھیج رہا ہو ں۔ امید ہے یہ جلسہ جو اسلام آ باد، سرے، میں منعقد ہو رہا ہے گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوگا۔ ہر سال اس جلسہ میں سترہ ہزار احمدی شامل ہو تے ہیں اور اس کا انعقاد برطانوی معاشرہ پر گہرے اثرات مرتّب کرتا ہے۔
خاص طور پر اس سال جماعت احمدیہ کا دستو ر ا لعمل اور اس کے عقائد کا بیان بہت برمحل ہے۔ چنانچہ کوسووو کی صورتحال سے نبردآزما ہونے کی تدابیر کرتے وقت رواداری اور دوسروں کے عقائد کا احترام ہمارے نزدیک سرِ فہرست اوامر تھے۔ احمدیہ مسلم ایسو سی ایشن کے دستو ر ا لعمل’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ ‘ سے زیادہ موزوں الفاظ اُس مقصد کے اظہار کے لئے پیش کرنا ممکن نہیں ہیں جس کے لئے ہم اس وقت کوشاں ہیں۔
مجھے پرخلوص امیدہے کہ آپ لو گ جلسہ کے یہ چند ایام دلچسپی اورشو ق سے گزاریں گے۔ اوراس ملک میں اپنا مثبت اور نتیجہ خیز کر دار ادا کرتے رہیں گے۔
نیک ترین تمنا ؤں کے ساتھ
……………
عزت مآب جاں کریٹی این وزیر اعظم کینیڈا
میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہے کہ میں احمدیہ مسلم جماعت کے برطانیہ میں منعقد ہو نے والے ۳۴ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر حاضرین کی خدمت میں تہہ دل سے مبارکباد پیش کررہا ہوں۔
یہ جلسہ رشتہ داروں اور دو ستو ں کے پر امن اور خیر سگالی کے ماحول میں جمع ہونے کا ایک ذریعہ ہے اور آپ کو ایک نادر مو قع بہم پہنچاتاہے جس میں آپ اپنے پیش آمدہ مسائل کو زیر غو ر لاسکیں اور اسلام کو درپیش مسائل پر باہم تبادلہ خیال کرسکیں۔ منتظمینِ جلسہ قابل ستائش ہیں کہ وہ اس ذریعہ سے نسل در نسل را بطہ کو بڑھانے اورساتھ ساتھ دنیا بھر میں امن اور انصاف کے فروغ دینے کا موجب بنتے ہیں۔
ازرا ہ کرم میری نیک تمنائیں قبو ل فرماویں کہ یہ ایک نہایت بار آ ور اور یاد گار جلسہ ثابت ہو۔
……………
عزت مآب فلائٹ لیفٹیننٹ جیری جو ن را لنگسی صدر مملکت غا نا
میں اپنی حکومت اور غانا کے عوام کی طرف سے احمدیہ مسلم جماعت کے۳۴ ویں جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والو ں کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتاہوں۔
غا نا کا مختلف مذاہب کے پیروکاروں پر مشتمل معاشرہ ہمیں مذاہب کے باہمی احترام کی ضرو رت اور عوام کی مادی اور روحانی بہبو د کے لئے مشترک جدوجہد کرنے کا احساس دلاتا کرتا ہے۔
احمدیہ مسلم مشن غانا نے حکومت کی مساعی کو مزید تقویت دیتے ہوئے تعلیم ، صحت اورزراعت کے میدنو ں میں قابل تعریف کردار ادا کیاہے۔ علاوہ ازیں احمدی اپنے اخلاقی نظم وضبط اور معاشرتی ترقی میں مثبت کردار اداکرنے میں ایک امتیاز کے حامل ہیں۔
میری دعا ہے کہ آپ کے جلسہ کی کاروائی بابرکت اور کامیاب رہے۔
……………
عزت مآب ڈاکٹر ٹوماسی پوا پوا گورنر جنرل طوالو
عزت مآب ڈاکٹر ٹوماسی پوا پوا (K.B.S) گورنر جنرل طوالو نے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے نام اپنے پیغام میں لکھا: –
حضرت اقدس! مجھے ازحد خوشی ہے کہ میں حضور کی خدمت میں آداب عرض کرتے ہوئے دو سال قبل حضور کے ساتھ ہونے والی اپنی ایک روح پرور ملاقات کی یاد دلاتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ حضور مجھے اور میرے ملک کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہوں گے۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس مہینہ کے آخر پر لندن میں جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ منعقد ہو رہا ہے۔ ازراہ کرم تمام دنیا سے آئے ہوئے حا ضرین تک میری طرف سے تسلیمات پہنچادیں۔ اب تو میں کئی سالو ں سے احمدیت سے واقف ہوں۔ یہ خداتعالیٰ سے محبت کرنے والے اور انسانیت کی خدمت کرنے والے ہیں۔ مجھے امید ہے آپ لوگ تمام دنیا کو خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار کرسکیں گے کیونکہ دنیا میں دائمی امن قائم کرنے کا صرف یہی ایک ذریعہ ہے۔
میں دعا کرتاہوں کہ آ پ کا جلسہ ہر طرح سے کامیاب رہے۔
عا لی آداب کے ساتھ آپ کا مخلص
……………
عزت مآب مہندر چودھری وزیر اعظم فجی
میں اپنی حکومت اورفجی کے عوام کی طرف سے تمام دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کو اُن کے جلسہ سالا نہ کے مو قع پر، جو اسی ماہ انگلستان میں ہو رہا ہے مبارکباد پیش کرتاہوں۔
مذہب میں وسعت نظری اور بردبا ری – دو ایسی کلیدیں ہیں جو دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ فجی میں یہ دونو ں قدریں بکثرت موجود ہیں۔ ہمارے چھوٹے سے ملک میں مختلف مذاہب کے پیروکار آباد ہیں مثلاً عیسائی ، ہندو، مسلما ن وغیرہ۔ اسکے باوجود ہم باہم پُرامن رہتے ہیں۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ہر فرد عقائد میں اختلاف کا حق قبو ل کرتے ہو ئے اسکی مزاحمت کرنے کے بجائے اس پرقومی یک جہتی کی بنیا د رکھتا ہے۔
احمدیہ مسلم جماعت فجی نے قومی یک جہتی کے استحکام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور میں جماعت احمدیہ کے امیر اور ان کے اراکین کی اس بارہ میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتاہوں۔
میں خواہش رکھتاہوں کہ اس سال کے اجتماع میں کئی ایسے نئے منصوبے زیرِ غور آئیں جنہیں مندو بین اپنے اپنے ملکو ں میں نا فذ کرسکیں۔
خدا کرے کہ یہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیا ب ہو۔
……………
عزت مآب فریڈرک ٹلوے سومے وزیر اعظم تنزانیہ
عزت مآب فریڈرک ٹلووے سومے، وزیر اعظم تنزانیہ نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ کی خدمت میں اپنے تہنیتی پیغام میں لکھا:-
السلام علیکم!
مجھے معلوم ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ برطانیہ کا ۳۴واں جلسہ سالانہ ۳۰؍جولائی سے یکم اگست ۱۹۹۹ء تک منعقد ہو رہا ہے۔ اس موقعہ پر میں تنزانیہ کی حکومت اور اپنی طرف سے جماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
جماعت احمدیہ کے تنزانیہ میں قیام کو ۶۵ سال گزرچکے ہیں اور اس کی شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس عرصہ کے دوران جماعت نے خود کو ایک پُرامن، تعاون کرنے والی، ملکی قوانین کی پابند، رواداری کی حامل اور مذہبی سوجھ بوجھ کی حامل جماعت کے طور پر ثابت کیا ہے۔
جماعت احمدیہ نے تنزانیہ کی روحانی خدمت کرنے کے علاوہ صحت اور تعلیم کے میدانوں میں معاشرتی خدمات بھی سرانجام دی ہیں۔ حکومتِ تنزانیہ اپنے عوام کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے جماعت کی طرف سے کی جانے والی اِن خدمات کو بہ نظرِ تحسین دیکھتی ہے۔ حکومت کے تعاون سے یہ خدمات ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گی جس میں محبت الٰہی میں سرشار لوگ پیدا ہوں گے۔
مجھے امید ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں جماعت احمدیہ اپنی خدمت خلق کی سعی کو اپنے دستورالعمل ’’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کی روشنی میں مزید ترقی دے گی۔
میں آپ کے ۳۴ویں جلسہ سالانہ کی کامیابی اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے لئے دعا گو ہوں۔ والسلام
……………
عزت مآب باسڈیو پانڈے وزیر اعظم ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو
عزت مآب باسڈیو پانڈے وزیر اعظم ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو نے اس موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ کی خدمت اقدس میں ایک طویل تہنیتی پیغام ارسال کیا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:-
السلام علیکم ورحمۃاللہ!
اس اہم موقع پر یہ پیغام بھیجنا میرے لئے خوشی کا باعث ہے۔ امیر و مشنری انچارج ٹرینیڈاڈ کے ساتھ میرے قریبی تعلقات کی وجہ سے مجھے آپ کی جماعت کی اُن مختلف خدمات کا علم ہوا ہے جنہیں عالمی سطح پر تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا اور قابلِ ستائش سمجھا جاتا ہے اور انہی کی بدولت یہ جماعت اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے امتیازی مقام حاصل کرچکی ہے۔یہ بات یقینا دل کو خوشی سے گرما دینے والی ہے کہ اسلام کو دہشت گرد مذہب کے روپ میں پیش کرنے والی اس دنیا میں ایک ایسی مسلمان جماعت بھی ہے جو آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے مطابق لوگوں میں امن ، موافقت اور تعاون کی روح کو فروغ دے رہی ہے۔
مجھے علم ہوا ہے کہ آپ کی جماعت ایک سو ساٹھ ممالک میں قائم ہوچکی ہے اور اس کا مرکز لندن میں ہے جہاں آپ کی مقدس ہستی قیام فرما ہے اور یہیں سے تیزی سے پھیلنے والی اس جماعت کے معاملات سے متعلق ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ یقینا یہ ہر پہلو سے عظیم الشان کامیابی ہے۔
آپ کی جماعت کی طرف سے صحت اور تعلیم کے میدان میں دنیا بھر میں(مسلمانوں اور غیرمسلموں میں امتیازکئے بغیر) کی جانے والی خدمات کا علم پاکر مَیں بہت متاثر ہوا ہوں۔ جن امور نے خاص طور پر مجھے متوجہ کیا ہے اُن میں ایشیا اور افریقہ کے بعض ممالک میں ہسپتالوں اور سکولوں کا قیام، قرآن کریم کے ایک سو زبانوں میں تراجم، غرباء کے لئے خوراک مہیا کرنے کا اہتمام اور چوبیس گھنٹے عالمی سطح پر اسلامی پروگرام نشر کرنے والے مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کا اجراء شامل ہیں۔ یہ ایک مذہبی تنظیم کی فقیدالمثال کامیابی ہے۔
مَیں ذاتی طور پر مولانا ابراہیم بن یعقوب امیر جماعت احمدیہ ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی سربراہی میں کی جانے والی جماعتی خدمات کو بہت خوشی سے دیکھتا ہوں اسی طرح ایک اور احمدی برادر ادریس ساقی صاحب بھی میرے قابل اعتماد ساتھیوں میں سے ہیں۔ اس جماعت کی میرے ملک کے لئے عمومی خدمات اور عوام کی خدمت کیلئے رفاہی کام ناقابلِ فراموش ہیں۔ احمدیوں کی قومی سطح پر مساعی ایک اچھی قوم کی تشکیل میں حکومت کی کوششوں کی مددگار ہے۔
تقدس مآب! میری حکومت کی خواہش ہے کہ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو دنیا کی قابل رشک قوموں میں کھڑا ہوجائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہمیں متحد ہوکر ایک دوسرے سے ہرممکن تعاون کرنا ہوگا۔ آپ کا دستورالعمل ’’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ مجھے یہ اعتماد دیتا ہے کہ مجھے آپ کی جماعت کا تعاون ہمیشہ حاصل رہے گا۔
اُس خدا سے جو تمام قدرتوں کا مالک ہے، میری دعا ہے کہ وہ آپ کے جلسہ کو ایک کامیاب اور روحانی ارتعاش پیدا کرنے کا ذریعہ بنادے۔
آپ سب پر اُس کی رحمت ہو۔
……………
را ئیٹ آ نریبل پیڈی ایش ڈاؤن رکن برٹش پارلیمینٹ
عزت مآب پیڈی ایش ڈاؤن رکن برٹش پارلیمینٹ نے حضر ت خلیفۃ المسیح الرا بع ایدہ اللہ کی خدمت اقدس میں مرسلہ اپنے پیغام میں تحریر کیا:-
مجھے از حد خوشی ہے کہ میں احمدیہ مسلم جماعت کے لندن میں منعقد ہونے والے عالمی جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تائیدی پیغام بھیج رہا ہو ں۔
احمدیہ مسلم جماعت برطانیہ میں ہر معاشرتی سطح پر اخلاقی ، رو حا نی اور تعلیمی میدانو ں میں اعلیٰ کر دار ادا کر رہی ہے۔ برطانیہ کے لئے اس جیسی تنظیموں کی مختلف ثقافتوں کے فروغ کے سلسلہ میں بہت اہمیت ہے تاکہ ہمارا معاشرہ مسلسل پنپتا رہے۔
ہم سب عالمی سطح پر جماعت کی طرف سے کئے جانے والے رفاہی کاموں کی قدر کرتے ہیں۔میں آپ کی جماعت کی انتھک کو ششو ں کو سراہتاہوں جس کے ذریعہ آپ افریقہ اورایشیامیں دکھوں میں مبتلا انسانیت کی چارہ سازی کررہے ہیں۔خاص طور پر سابق یو گو سلاویہ میں جہا ں آپکی رفاہی تنظیم ’’ ہیومینیٹی فرسٹ‘‘ 1993ء سے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔
میں آپ کے رضاکاروں کاشکریہ ادا کرنا چاہتاہو ں جو گزشتہ چند سالو ں میں بوزنیا میں ہرممکن مدد کررہے ہیں۔ نیز ان رضاکا روں کے کام کو بھی سراہنا چاہتاہوں جوآ جکل البانیہ اور کوسوو و میں مقیم ہیں اور وہاں پناہ گزین کیمپوں میں کام کرتے ہوئے لو گوں کو دوبارہ بسانے کے منصوبوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے انکا شکریہ ادا کرتاہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتاہوں کہ وہ اس نہایت اہم کام کو جاری رکھیں۔
میں آپ کے مستقبل کے منصو بو ں کی کامیابی کے لئے دعا ئے خیر کرتے ہوئے جلسہ کے شرکاء اور دنیا بھر کی احمدی جماعتوں کو سلام پہنچاتا ہوں۔
نیک تمنا ؤ ں کے ساتھ
……………
عزت مآب راجر کالِف وائس پر یذیڈنٹ یو رپین یونین علاقائی کمیٹی
مکرم و محترم امیر صاحب جماعت احمدیہ برطانیہ کے نام آپ نے اپنے پیغام میں لکھا:-
آپ کی مشفقانہ دعوت کا شکریہ۔ ان دنوں بعض ضروری مصروفیات کی وجہ سے میں جلسہ پرحاضر نہ ہوسکوں گا۔ گزشتہ جلسہ سالانہ پر جس گرم جوشی سے آپ نے میرااستقبال کیا تھا اس کا احساس اور اس کی یاد اب تک تازہ ہے۔ نیز جلسہ کے دنو ں میں جماعت احمدیہ کے طریق کا ر نے مجھ پر گہرا اثر چھو ڑا ہے۔
ایک دفعہ پھر آپ کا شکریہ۔ میری دعا ہے کہ یہ جماعت خدمتِ خلق کے کاموں میں کامیاب رہے اور اِس صدی کا یہ آخری جلسہ کامیاب ہو۔
تسلیما ت و آداب
……………
عزت مآب ایگے ٹووان ممبر آ ف نارویجین پارلیمنٹ
مجھے معلوم ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ انگلستان میں ۳۰؍ جولائی سے یکم اگست تک منعقد ہو رہا ہے۔
اس مو قع پر میں دلی مسرت کے ساتھ جلسہ کے شرکاء کو مبارک باد پیش کرنا چا ہتاہوں۔ یہ اس صدی کا آخری جلسہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ عالمی اجتماع بہت کامیا ب اور خوشگوار ہوگا۔
جماعت احمدیہ کے سربراہ اعلیٰ نہا یت اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں اور سب کے ساتھ بہت عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ اُن کا طرز عمل ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ ہم جہا ں کہیں بھی رہتے ہوں اور جو کچھ بھی ہمارے مذہبی اعتقادات ہوں، ہم کو سب کیلئے پیار اور محبت کے جذبات رکھنے چاہئیں۔
انسانیت کی خدمت جو آپ لو گ کررہے ہیں اس میں مزید ترقی کے لئے میری تمنا ئیں آپ کے ساتھ ہیں۔
نیک ترین تمناؤں کے ساتھ
……………
عزت مآب ولیم ہیگ ممبر آف برٹش پارلیمینٹ اور لیڈر حزب اختلاف
مجھے از حد خوشی ہے کہ میں احمدیہ مسلم جماعت برطانیہ کے جلسہ سالانہ کے مو قع پر نیک تمنا ئوں کا اظہا ر کررہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی یہ جلسہ نہایت کامیاب رہے گا او ر یہ چند دن آپ کے لئے بہت بارآور ثابت ہوں گے۔
……………
محترمہ این مَیری فیگر سٹروم ممبر آف سویڈش پارلیمنٹ
مجھے از حد مسرت ہے کہ عالمی مسلم احمدیہ جماعت اس ماہ صدی کا آخری جلسہ سالانہ منعقد کررہی ہے۔
میں اپنے چند اراکین پار لیمینٹ اور کالما ر کے احمدیو ں کے ساتھ مل کر اس جماعت پر جبرو تشدد کے خلاف ایوان میں آواز بلند کرتی رہی ہوں۔ (اُن کے حق میں) جنہیں آزادیٔ تقریر اور آزادیٔ مذہب وغیرہ کے بنیادی انسا نی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔
سویڈن میں جماعت احمدیہ سے میرے ایک عرصے سے اچھے تعلقات ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں اس نیک مقصد میں مسلسل ان کی مدد کرتی ر ہوں گی۔
آپ کا جلسہ کامیاب رہے۔
آداب وتسلیمات کے ساتھ ۔
……………
جناب کے۔ایم۔ سنگھ سفارتکار ہائی کمیشن آف انڈیا
احمدیہ مسلم جماعت برطانیہ کے ۳۴ویں سالانہ جلسہ کے موقع پر ہائی کمشنر کو دعوت دینے کا شکریہ۔ ہائی کمشنر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے جلسہ کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں لیکن اُن دنوں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث اس میں شمولیت سے قاصر ہیں۔ تاہم انہوں نے جناب ایم۔سی۔نتھانی کونسلر کو نامزد کیا ہے کہ وہ اس جلسہ میں ہائی کمشنر کی نمائندگی کریں۔
……………
جناب پیٹروَون بٹلر سفارتکار جرمنی برائے برطانیہ
جرمنی کے سفیر برائے برطانیہ نے اس موقع پر اپنے تہنیتی پیغام میں تحریر کیا کہ:- ’’آپ کا جلسہ، جس میں جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک کے لو گ بھی شرکت کررہے ہیں نہایت کا میا ب اور بارآور ثابت ہو‘‘۔
پر خلوص جذبات کے ساتھ
……………

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X