حضرت اُمّ عمّارہ رضی اللہ عنہا

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (سیرت صحابیات نمبر 2011ء) میں حضرت اُمّ عمّارہؓ کی سیرۃ و سوانح کا مختصر ذکر مکرمہ سیّدہ نیّر طاہر صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت اُمّ عمّارہؓ کا اصل نام نسیَبہ بنت کعب بن عمر تھا۔ انصار کے قبیلہ خزرج کے نجّار خاندان سے تعلق تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب کی والدہ سلمیٰ بھی اسی خاندان سے تھیں اور اسی وجہ سے آنحضورؐ اور تمام مسلمان اس خاندان کی بڑی قدر کرتے تھے۔
حضرت اُمّ عمّارہ 584ء میں پیدا ہوئیں ۔ آپؓ یثرب کی وہ پہلی خاتون تھیں جنہیں بیعتِ عقبیٰ ثانیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپؓ کی پہلی شادی چچازاد حضرت زیدؓ بن عاصم سے ہوئی جن سے دو بیٹے حضرت عبداللہؓ اور حضرت حبیبؓ پیدا ہوئے۔ جنگ بدر میں حضرت زیدؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کی شادی حضرت عربہ بن عمرؓ سے ہوئی جن سے دو بچے تمیم اور خولہ پیدا ہوئے۔
حضرت اُمّ عمّارہؓ کو غزوۂ اُحد، غزوۂ خیبر، غزوۂ حنین اور جنگ یمامہ کے علاوہ صلح حدیبیہ، بیعتِ رضوان اور فتح مکّہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیّت کا شرف حاصل ہوا۔ غزوۂ اُحد سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو چند دیگر خواتین کے ہمراہ لشکر کے ہمراہ جاکر زخمیوں کی مرہم پٹّی کرنے اور پانی پلانے کی اجازت عطا فرمائی۔ جب جنگ کے دوران مسلمانوں کے درّہ چھوڑ دینے کے نتیجہ میں کفّار کا بھرپور حملہ ہوا تو حضرت مصعب بن عمیرؓ شہید ہوگئے جن کا حُلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا جلتا تھا۔ اس پر کفّار نے یہ خبر پھیلادی کہ رسول اکرمؐ مارے گئے ہیں ۔ پھر ایک ایسا وقت آیا جب آنحضورؐ کی حفاظت کے لئے صرف حضرت طلحہؓ اور حضرت سعدؓ باقی رہ گئے۔ ابنِ قمئہ نے موقع سے فائدہ اٹھاکر آنحضورؐ کو ایک پتھر مارا جس سے آنحضورؐکے خود کی کڑیاں رخسار مبارک میں دھنس گئیں ۔ ایسے میں حضرت اُمّ عمّارہؓ مشکیزہ اٹھائے زخمیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھیں کہ اچانک آپؓ کی نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو سب کچھ وہیں چھوڑ کر آنحضورؐ کی طرف دوڑیں ۔ اسی اثناء میں عبداللہ بن قمئہ نے آنحضورؐ پر تلوار سے وار کیا مگر حضرت اُمّ عمّارہؓ نے وہ وار اپنے اوپر لیا جس سے کندھے پر بہت گہرا زخم آیا مگر اس کے باوجود آپؓ نے اُس پر جوابی حملہ کیا۔ وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے بچ گیا۔ اس دوران آپؓ کے دونوں بیٹے بھی وہاں پہنچ گئے اور ابن قمئہ بھاگ گیا۔ حضرت اُمّ عمّارہؓ کے پاس تلوار تو تھی مگر کوئی ڈھال نہ تھی اس لئے آنحضورؐ پر ہونے والے ہر وار کو اپنی تلوار یا اپنے جسم پر لے لیتیں ۔ آنحضورؐ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ اسی اثناء میں آنحضورؐ نے ایک مسلمان کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اوبھاگنے والے! اپنی ڈھال تو اُن کو دیتے جاؤ جو لڑ رہے ہیں ۔ اس پر وہ آدمی اپنی ڈھال وہیں پھینک کر بھاگ گیا۔ حضرت اُمّ عمّارہؓ نے وہ ڈھال اٹھالی اور لڑنے لگیں ۔ اسی دوران آپؓ کا بیٹا عبداللہ شدید زخمی ہوکر گرا اور اُس کا بہت سا خون بہہ نکلا۔ آپؓ نے اُس کی مرہم پٹی کی اور اُٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تک دَم میں دَم ہے تب تک دشمن سے لڑو۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں نے دوبارہ اکٹھا ہونا شروع کردیا اور خطرہ کچھ کم ہوا۔ تاہم اس خطرناک وقت میں حضرت اُمّ عمّارہؓ نے غیرمعمولی جرأت اور وفا کا نمونہ پیش کیا۔ اسی لئے جنگ کے اختتام پر آنحضورؐ نے فرمایا: ’’اُمّ عمّارہ نے آج وہ کیا ہے جو اَور کسی نے نہیں ‘‘۔ اس پر انہوں نے اس دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جنّت میں بھی آپؐ کا قرب عطا فرمائے۔ آنحضورؐ نے اُسی وقت یہ دعا کی تو حضرت اُمّ عمّارہؓ نے کہا کہ اب مجھے اس زندگی میں کوئی دُکھ باقی نہیں رہا۔
غزوۂ اُحد میں حضرت اُمّ عمّارہؓ کو تیرہ زخم آئے جن میں سب سے گہرا کندھے کا زخم تھا جو بڑی دیر تک مندمل نہ ہوسکا۔ جنگ کے اختتام پر آنحضورؐ اُس وقت تک گھر نہ تشریف لے گئے جب تک حضرت اُمّ عمّارہؓ کی مرہم پٹّی نہ ہوگئی۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’جتنا حوصلہ اُمّ عمّارہ میں ہے وہ اَور کس میں ہوگا!‘‘۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب مسیلمہ کذّاب نے لشکر لے کر مدینہ پر چڑھائی کی تو راستہ میں حضرت اُمّ عمّارہؓ کے بیٹے حضرت حبیبؓ اُس کو مل گئے۔ اُس نے اُن سے اپنی نبوّت تسلیم کرنے کو کہا مگر انہوں نے صاف انکار کیا اور اُس کے ہر سوال پر اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللہ کہتے رہے۔ اس پر مسیلمہ نے انہیں بڑی بیدردی سے شہید کردیا۔ یہ اطلاع ملی تو حضرت اُمّ عمّارہؓ نے قسم کھائی کہ یا تو وہ مسیلمہ کو مار دیں گی یا خود شہید ہوجائیں گی۔ آخر جنگ یمامہ میں جب آپؓ نے مسیلمہ کو دیکھا تو دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے اُس کی طرف بڑھیں ۔ زخم پر زخم کھاتے ہوئے اُس کے قریب پہنچ کر جب برچھی سے وار کرنے لگیں تو مسیلمہ دو ٹکڑے ہوکر زمین پر گرگیا۔ حضرت اُمّ عمّارہؓ نے دیکھا تو اُن کے بیٹے حضرت عبداللہؓ اور وحشی (جس نے اُحد میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا مگر اب مسلمان ہوچکا تھا) وہاں کھڑے تھے اور اُن دونوں نے ہی مسیلمہ کو واصلِ جہنّم کیا تھا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت اُمّ عمّارہؓ سے بڑی محبت تھی اور کبھی کبھی آپؓ کا حال دریافت کرنے آپؓ کے گھر بھی جایا کرتے تھے۔ ایک دن آنحضورؐ جب آپؓ کے ہاں گئے تو آپؓ نے کھانا پیش کیا۔ آنحضورؐ نے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ عرض کیا: مَیں روزے سے ہوں ۔ فرمایا: جب کوئی شخص کسی روزہ دار کے سامنے کھانا کھائے تو فرشتے اُس روزہ دار پر درود بھیجتے ہیں ۔ پھر آنحضورؐ نے آپؓ کے سامنے بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا۔
ایک روز آپؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قرآن مجید میں مَردوں کا ذکر تو بہت ہوا ہے مگر عورتوں کا اتنا نہیں ۔ اس موقع پر سورۃالاحزاب کی آیت 36 نازل ہوئی جس میں ایسے مردوں اور عورتوں کی تفصیل ہے جن کے لئے مغفرت اور اجرعظیم کا وعدہ ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت خالدؓ بن ولید بھی حضرت اُمّ عمّارہؓ کا حال دریافت کرنے آپؓ کے ہاں جایا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ تو آپؓ کو ’خاتونِ اُحد‘ کہہ کر یاد کرتے تھے۔ اُس دَور میں ایک دفعہ مال غنیمت میں بہت قیمتی ریشمی کپڑا آیا تو صحابہؓ نے کہا کہ اسے اپنی بہو صفیہؓ کو دے دیں ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں ، یہ مَیں اُس کو دوں گا جو اس کی حقدار ہے، مَیں یہ عمّارہ کو دوں گا۔ پھر فرمایا کہ مَیں نے اُحد کے دن رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ مَیں نے جب بھی اپنے دائیں یا بائیں دیکھا تو ہر طرف اُمّ عمارہؓ کو اپنے سامنے لڑتے ہوئے پایا۔ چنانچہ وہ کپڑا اُن کو بھجوادیا۔
آپؓ نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Cv8lL]

اپنا تبصرہ بھیجیں