حضرت فاطمہ بیگم صاحبہؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جولائی 2007ء میں ایک مختصر مضمون حضرت فاطمہ بیگم صاحبہؓ اہلیہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے بارہ میں شامل اشاعت ہے۔ پہلے بھی آپؓ کا ذکرِخیر 19؍ستمبر 1997ء کے شمارہ میں ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں ہوچکا ہے۔
حضرت فاطمہ بیگم صاحبہؓ تقریباً 1850ء میں پیدا ہوئیں اور حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ کے نکاح میں اس وقت آئیں جب آپؓ ہندو عرب سے تحصیل علوم کرکے قریباً تیس سال کی عمر میں واپس بھیرہ تشریف لائے تھے۔ دونوں قریباً 37 سال تک رشتۂ ازدواج میں منسلک رہے۔
حضرت فاطمہ بیگم صاحبہؓ صلہ رحمی کی صفت میں کمال رکھتی تھیں۔اپنے نواسے اور نواسیوں کی پرورش مرتے دم تک اپنے ذمہ لی ہوئی تھی۔ لمبی بیماری کے باوجود گھر کا سب کام خود کرتی تھیں۔ رشتہ داروں کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرتی تھیں اور سب کی خبرگیری کرتی تھیں۔ آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ سچا اخلاص اور ایمان تھا۔ کہا کرتی تھیں کہ یہ حضرت مولوی صاحب (خلیفۃ المسیح الاولؓ) کا احسان ہے کہ ہم نے خدا کے مسیح کو شناخت کر لیا لیکن اب تو میرے دل میں خدا کے مامور کی اس قدر محبت ہے کہ اگر کوئی بھی اس سے پھر جائے تو بھی میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتی۔
آپ نے اپنی عمر میں بہت شدائد اور مصائب اٹھائے۔ کئی بچوں کی وفات پر نہایت صبر سے کام لیا۔ جب حضرت مصلح موعودؓ پیدا ہوئے تو حضرت مسیح موعودؑ نے آپؓ سے فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے۔ اس واسطے آپؓ کو حضرت مصلح موعودؓ سے خاص محبت تھی۔
آپؓ نے 28 جولائی 1905ء بروز جمعہ رحلت فرمائی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جنازہ پڑھایا اور بہت لمبی دعا کی۔ بعد ازاں قادیان کے شمال مشرقی جانب قبرستان میں دفن کیا گیا۔ اُسی روز بعد از عشاء حضرت مسیح موعودؑ نے ازخود فرمایا: ’’وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ میرا جنازہ آپ پڑھائیں اور میں نے دل میں پختہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ کیسا ہی بارش یا آندھی وغیرہ کا بھی وقت ہو، میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ آج اللہ تعالیٰ نے ایسا عمدہ موقع دیا کہ طبیعت بھی درست تھی اور وقت بھی صاف میسر آیا اور میں نے خود جنازہ پڑھایا‘‘۔
پھر فرمایا: ’’ چند روز ہوئے … ایک دن سخت بیمار ہوگئیں اور قریب موت کے حالت پہنچ گئی تو کہنے لگیں کہ آج تو منگل ہے اور ہنوز جمعہ دُور ہے اور ابھی عبد الحئی کی آمین بھی نہیں ہوئی۔ قدرت خدا اس وقت طبیعت بحال ہوگئی اور پھر خواہش کے مطابق عبدالحئی کی آمین کی خوشی بھی دیکھی اور آخر جمعہ کا دن بھی پایا‘‘۔
آپؓ کی وفات کے قریباً ایک ماہ بعد آپؓ کے فرزند صاحبزادہ عبد القیوم صاحب نے 21؍اگست 1905ء کو وفات پائی۔ حضرت فاطمہ بیگم صاحبہؓ بھی حضور کے 313 کبار صحابہ میں شامل ہیں کیونکہ حضور نے 21 نمبر پرمولوی حاجی حافظ حکیم نور دین صاحب معہ ہر دو زوجہ لکھا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/3f9Jh]

اپنا تبصرہ بھیجیں