حضرت مصلح موعودؓ کے پاکیزہ اخلاق

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ نومبر و دسمبر 2002ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے پاکیزہ اخلاق کا ذکر مکرم مولانا عبدالرحمن انور صاحب کے قلم سے (ایک پرانی اشاعت سے منقول) شامل اشاعت ہے۔
ایک بار حضرت مصلح موعودؓ نے پانچ سو روپے کی رقم حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے ذریعہ کسی دوست کو بھجوائی اور فرمایا کہ چونکہ یہ ایک قومی امانت ہے اس لئے اس رقم کو اپنے کوٹ کے اندر کی جیب میں رکھ کر اُوپر سے اسے سی لیں تاکہ جیب سے گرنے کا خطرہ نہ رہے۔ قومی رقوم کی حفاظت کیلئے ایک ذمہ دار عزیز کو اس قدر تاکیدی ہدایت سے حضورؓ کے علُوّ مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
دارالصناعت کا آغاز ہوا تو حضورؓ اس کے افتتاح کے لئے خود تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ سے رندہ کے ذریعہ لکڑی کو صاف کیا اور ثابت کیا کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرنا عزت کا موجب ہے۔
قادیان میں حضورؓ کا ایک ذاتی خادم دفتر تحریک جدید میں آیا اور کہا کہ حضورؓ نے ایک شخص سے کوئی چیز منگائی ہے، اگر دفتر کا سائیکل مل جائے تو جلدی لے کر آجاؤں گا۔ چونکہ سائیکل فارغ تھا اس لئے دیدیا گیا۔ چند منٹ کے بعد خادم واپس آگیا اور سائیکل واپس کرگیا۔ جب وہ چیز حضورؓ کی خدمت میں پیش ہوئی تو حضورؓ نے دریافت فرمایا کہ اتنی جلدی کیسے لے آئے؟ اُس نے سائیکل کے بارہ میں عرض کیا تو حضورؓ نے فوراً مجھے یاد فرمایا اور پوچھا کہ سائیکل کیوں دیا گیا؟ مَیں نے عرض کیا کہ وہ حضورؓ کا خادم تھا، حضورؓ کے کام کیلئے ہی جانا تھا اور دفتر کا سائیکل فارغ تھا اسلئے دیدیا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ ذاتی کام کیلئے دفتر کا سائیکل دینا درست نہ تھا۔
حضورؓ کی ہدایت تھی کہ جملہ واقفین زندگی روزانہ اپنی ڈائری لکھ کر سویا کریں اور دفتر تحریک جدید کے لئے ہدایت تھی کہ دفتر بند کرنے سے پہلے روزانہ کی رپورٹ ضرور بھجوائی جایا کرے جس میں یہ بھی ذکر ہو کہ حضورؓ کے جن ارشادات پر آج عمل نہیں ہوسکا اُن پر کَل کس طور پر عمل کرنا ہے۔ حضورؓ کا معمول تھا کہ یہ رپورٹ ملتے ہی اسے ملاحظہ فرمالیتے اور اگر کوئی ضروری ہدایت ہوتی تو چند منٹ بعد ہی فون کے ذریعہ دیدیتے۔ اگر پندرہ بیس منٹ تک کوئی کال نہ ہوئی ہوتی تو سمجھا جاتا تھا کہ رپورٹ کے مندرجات پر حضورؓ کو تسلّی ہے کیونکہ حضورؓ فرمایا کرتے تھے کہ میری طبیعت ایسی ہے کہ غلطی کی اصلاح کیے بغیر آگے نہیں گزر سکتی۔
ایک بار نہر میں نہاتے ہوئے طے ہوا کہ جملہ احباب تیرنا شروع کریں اور دیکھیں کہ کون زیادہ دیر تک تیرتا رہتا ہے۔ چنانچہ مدرسہ احمدیہ کی آخری کلاسوں کے طلباء اور اساتذہ اور قادیان کے دیگر نوجوان بھی تیرنے والوں میں شامل تھے۔ حضورؓ بھی تیر رہے تھے۔ جب ڈیڑھ دو میل کے فاصلہ تک پہنچے تو صرف حضورؓ ہی تیر رہے تھے باقی سب تھک چکے تھے۔
واقفین زندگی کے لئے لازمی تھا کہ ہر ہفتہ کسی نہ کسی موضوع پر مضمون لکھیں۔ کچھ ہی عرصہ میں عناوین کی تلاش میں دقت محسوس ہونے لگی۔ جب حضورؓ کی خدمت میں یہ مشکل عرض کی گئی تو آپؓ نے فرمایا کہ اخبار الفضل کے تازہ پرچہ کے پہلے صفحہ میں جتنے عناوین بنائے جاسکتے ہیں، ان پر کام کیا جائے مثلاً پہلی سطر ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ میں تین عناوین ہیں: خدا، فضل، رحم۔ اس کے بعد عناوین کی تلاش میں کبھی دقت نہ ہوئی۔
حضورؓ کا دستور تھا کہ اپنے خدام کو مخاطب کرتے وقت ’’صاحب‘‘ کا لفظ ضرور استعمال فرماتے اور ایک ادارہ کے افسر کو اس طرح پر ہدایت بھی دی کہ اپنے ماتحت کارکنوں کے نام کے ساتھ ’’صاحب‘‘ کا اعزازی لفظ ضرور استعمال کیا کریں۔
پنڈت ملاوامل کا شمار حضرت مسیح موعودؑ کے خاص دوستوں میں ہوتا تھا اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کو اُن کا بہت خیال تھا۔ اُن کی مالی حالت اچھی نہ تھی اور وہ نقد امداد لینا پسند نہ کرتے تھے۔ چنانچہ حضورؓ نے ہدایت فرمائی کہ اُن کی دکان سے جتنی معروف دوائیں مرکبات کی صورت میں ہیں، وہ خرید لی جائیں اور سائیکل سروے کرنے والے واقفین کے ذریعہ مستحقین میں تقسیم کی جائیں۔ اس طرح کئی سو روپے کی دوائیں خریدی گئیں جس سے لالہ صاحب کو بھی منافع حاصل ہوا اور بہت سے غرباء کو مفت میں دوائیں مل گئیں۔
حضورؓ کا ہر فعل (خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو) مبنی بر حکمت ہوتا تھا۔ چنانچہ چائے بنانے کے لئے فرمایا کہ پیالی میں پہلے چینی ڈالیں تاکہ اگر کمی بیشی کرنا ہو تو ہوجائے، پھر دودھ ڈال کر اس کو حل کریں اور پھر گرم قہوہ ڈالیں تاکہ چائے زیادہ سے زیادہ گرم حاصل ہوسکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں