حضرت مولانا عبدالرحیم صاحبؓ درد

حضرت ماسٹر قادر بخش صاحبؓ حضرت مسیح موعودؑ کے 313؍ اصحاب میں شامل تھے اور 1891ء میں حضرت اقدسؑ کے مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ ہونے والے مباحثہ کے دوران آپؓ بھی موقعہ پر موجود تھے جس کا ذکر حضورؑ نے اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں بھی فرمایا ہے۔
1892ء میں جب حضور علیہ السلام دوبارہ لدھیانہ تشریف لائے تو حضرت ماسٹر صاحبؓ نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ قبولِ احمدیت کی پاداش میں آپؓ کے والد صاحب نے آپؓ کو سخت سزائیں دیں اور بعض دفعہ اس قدر مارا جاتا کہ آپؓ بے ہوش ہو جاتے لیکن اس ظلم کو سہتے ہوئے بدستور اپنے والد کی خدمت میں مصروف رہتے۔ آخر حضورؑ کی دعاؤں سے آپؓ کے والد کی طبیعت میں نرمی پیدا ہونے لگی اور پھر آپؓ کی ہمشیرہ سے حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحبؓ کی شادی بھی انجام پائی۔
1894ء میں حضرت ماسٹر قادر بخش صاحبؓ کے ہاں لدھیانہ میں پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام رحیم بخش رکھا گیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مزید تین بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی عطا فرمایا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے مذکورہ بیٹے کا نام رحیم بخش سے بدل کر عبدالرحیم کردیا اور ’’درد‘‘ تخلص عطا کیا۔
حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحبؓ نے ابتدائی تعلیم لدھیانہ میں حاصل کی ۔ بچپن میں آپؓ کی صحت کمزور تھی مگر حضرت اقدسؑ کی دعاؤں سے آپؓ تندرست ہوگئے۔ 1914ء میں آپؓ نے لاہور سے B.A. کا امتحان پاس کیا۔ لاہور میں آپؓ کا قیام احمدیہ ہاسٹل میں بھی رہا۔ پھر آپؓ مشن سکول ہوشیار پور میں ملازم ہوگئے۔ 1916ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے عربی میں M.A. کیا اور 1919ء میں مقابلہ کے امتحان میں شامل ہوکر کامیاب قرار پائے۔ اسی سال آپؓ نے اپنی زندگی خدمتِ دین کے لئے پیش کردی۔ پہلے آپؓ اس کمیٹی کے ممبر مقرر ہوئے جس نے مدرسہ احمدیہ کی ترقی کیلئے سکیم تیار کرنی تھی۔ 1920ء میں آپؓ کو افسر ڈاک مقرر کیا گیا اور بعد ازاں آپؓ ہی کے دور میں یہ عہدہ پرائیویٹ سیکرٹری کہلایا۔ 1924ء میں آپؓ کو حضرت مصلح موعودؓ کی معیت میں لندن آنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ 19؍ اکتوبر 1924ء کو مسجد فضل لندن کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شریک معززین سے آپؓ نے مختصر خطاب کیا۔ نومبر 1924ء میں حضورؓنے ہندوستان واپس تشریف لانے سے پہلے حضرت درد صاحبؓ کو حضرت مولوی عبدالرحیم نیر صاحبؓ کی جگہ لندن مشن کا انچارج مقرر فرمایا۔
حضرت درد صاحبؓ کے لندن مشن کا انچارج بننے کے بعد رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ قادیان کی بجائے لندن سے شائع ہونے لگا نیز آپؓ کی زیر ادارت ایک ہفت روزہ اخبار ’’مسلم ٹائمز‘‘ بھی شائع ہوتا رہا۔ آپؓ کے زیر نگرانی ہی مسجد فضل لندن کی تعمیر مکمل ہوئی اور اس کا افتتاح سر عبدالقادر کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ آپؓ ہی مسجد فضل لندن کے پہلے امام مقرر ہوئے۔ بعض یورپی ممالک کا بھی آپؓ نے تبلیغی دورہ فرمایا اور 22؍اکتوبر 1928ء کو جب آپؓ واپس قادیان تشریف لائے تو حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان سے تین میل باہر جاکر آپؓ کا استقبال فرمایا۔
25؍جولائی 1931ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی دعوت پر مسلمان راہنما شملہ میں اکٹھے ہوئے تاکہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی جائے۔ اس موقعہ پر حضرت مصلح موعودؓ کو بااصرار آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت پیش کی گئی اور حضرت درد صاحبؓ اس کمیٹی کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ حضورؓ کے ارشاد پر حضرت درد صاحبؓ نے متعدد حکام سے ملاقاتیں کیں اور کئی وفودبھی آپؓ کی سربراہی میں بھجوائے گئے۔ چنانچہ یکم فروری 32ء کو لاہور میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں آپؓ کی خدمات کے اعتراف میں قرارداد منظور کی گئی۔
2؍ فروری 1933ء کو حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحبؓ دوبارہ قادیان سے انگلستان کیلئے روانہ ہوئے۔ اپنے اس قیام کے دوران آپؓ کا ایک اہم کام حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد کے مطابق قائد اعظم محمد علی جناح کو واپس جاکر ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کی راہنمائی کرنے کیلئے آمادہ کرنا تھا۔ 9؍ نومبر 38ء کو حضرت درد صاحبؓ واپس قادیان تشریف لائے اور پھر نظارت تعلیم و تربیت اور نظارت دعوت و تبلیغ آپؓ کے سپرد رہیں۔ جلسہ خلافت جوبلی کے انعقاد کے لئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی آپؓ اس کے سیکرٹری تھے۔ ہوشیارپور کے جلسہ میں آپؓ نے پیشگوئی مصلح موعود پڑھ کر سنائی۔ یہ اعزاز آپؓ کو اس لئے دیا گیا کہ آپؓ کے پھوپھا اور خسر حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب سفر ہوشیارپور میں حضرت مسیح موعودؑ کے ہمراہ تھے۔
1947ء میں قادیان سے مسلمانوں کے باحفاظت انخلاء میں حضرت درد صاحبؓ نے دونوں مملکتوں کے حکام سے روابط رکھنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد آپ بیک وقت ناظر امور عامہ و خارجہ اور ناظر تعلیم و تربیت کے طور پر خدمت سرانجام دیتے رہے۔
حضرت درد صاحبؓ کی وفات 7؍ دسمبر 1955ء کو ہوئی۔ اگلے روز حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین عمل میں آئی۔ حضورؓ نے آپؓ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا ’’درد صاحبؓ جب سلسلہ کی خدمت کیلئے آئے تو ان کی عمر زیادہ نہ تھی لیکن اس عمر میں بھی ان کے وقار کا یہ حال تھا کہ ہم انہیں بڑے سے بڑے افسر سے بھی ملنے کیلئے بھیج دیتے تو وہ نہایت کامیابی کے ساتھ جماعت کی نمائندگی کرکے آ جاتے تھے‘‘۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اپنے ایک مضمون میں فرمایا ’’درد صاحبؓ کا خاص وصف یہ تھا جس میں مجھے بھی اکثر اوقات ان پر رشک آتا تھا کہ اگر کبھی حضرت صاحب کی طرف سے یا انجمن کی طرف سے ان کی کسی بات پر گرفت ہوتی تھی (اور گرفت سے کون انسان بالا ہے) تو وہ اسے انتہائی صبر اور ضبط کے ساتھ برداشت کرتے تھے اور اپنی بریت کا معاملہ بھی صرف خدا پر چھوڑتے تھے۔‘‘
حضرت درد صاحبؓ کی تبلیغی و انتظامی خدمات کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق و تصنیف کا سلسلہ بھی آخر دم تک جاری رہا۔ آپؓ نے متعدد کتب اردو اور انگریزی میں تحریر فرمائیں۔ آپؓ شعر بھی کہتے تھے۔ نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:

سر میں ہے جوشِ جنوں دل میں ہے نور ایماں
کفر و بدعت کے فنا کرنے کو تیار ہیں ہم
مال کیا چیز ہے اور جاں کی حقیقت کیا ہے
آبرو تجھ پہ فدا کرنے کو تیار ہیں ہم
………………………
کروں غمِ ستم کا میں کیا بیاں ، نہیں ملتی مجھ کو کہیں اماں
کوئی لے چلے مجھے قادیاں کوئی لے چلے مجھے قادیاں
ہے جہاں میںایسا وہ گلستان ، نہیں آئی جس پہ کبھی خزاں
ہے مسیح کا بھی وہی مکاں ، کوئی لے چلے مجھے قادیاں

آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے دو بیویوں سے چھ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں عطا کیں۔
آپؓ کی سیرۃ و سوانح پر ایک تفصیلی مضمون ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جون 1997ء میں شاملِ اشاعت ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/XwbT9]

اپنا تبصرہ بھیجیں