حضرت ڈاکٹر عطرالدین صاحبؓ

ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ دسمبر 2008ء میں مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب کے قلم سے حضرت ڈاکٹر عطرالدین صاحبؓ آف شکرگڑھ سے متعلق ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت ڈاکٹر عطرالدین صاحب قوم بھٹی قصبہ چھمال تحصیل شکر گڑھ میں میاں بھولا اور مائی کاکو کے ہاں 1888ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد امرتسر میں ایم او ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ 1898ء میں معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ امرتسر سے بذریعہ ٹرین گزریں گے۔ شوق زیارت میں سٹیشن پر پہنچے۔ ٹرین رُکنے پر دیکھا کہ حضورؑ سیٹ پر لیٹے ہوئے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب سرہانے بیٹھے تھے۔ آپ نے زیارت کے لئے جب کھڑکی سے اندر جھانکا تو خواجہ صاحب نے کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ لیکن حضورؑ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مت روکو یہ خدا کے حکم سے آیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے نورانی چہرہ دیکھا تو من بول اٹھا کہ یہ چہرہ سچوں کا ہے۔ چنانچہ گاڑی روانہ ہونے تک وہیں کھڑے رہے۔
اُنہی دنوں مصری شاہ نامی ایک مجذوب امرتسر آیا اور جلد مشہور ہوگیا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب بھی اُس کی شہرت سن کر اس کی خدمت حاضر ہوئے۔آپ کو دیکھتے ہی مجذوب کہنے لگا :’’جس نے ولی بننا ہے وہ قادیان جائے‘‘۔ اس واقعہ کے فوراً بعد 1899ء میں آپؓ نے بیعت کا خط لکھ دیا اور 1900ء کے آخر میں حاضر ہوکر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا اور پھر مستقل قادیان ہی چلے آئے۔ یہاں دوسری تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم بھی خوب حاصل کی۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؓ 1906ء میں وٹرنری کالج لاہور میں داخل ہوکر 1910ء میں فارغ ہوئے اور پھر ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ مسقط، بصرہ، بغداد، برما میں متعین رہ کر آخر کار قادیان آگئے۔ پیشہ ورانہ سروس کے دوران بھی حضرت ڈاکٹر صاحبؓ مذہبی جذبہ سے سرشارر ہے۔ بمبئی میں تین سال تک صدر جماعت رہے اور نماز جمعہ بھی آپؓ کے مکان پر ہوتی رہی۔ اسی طرح بغداد کے فوجی کیمپ میں چند احمدی احباب تھے جن کے آپ ہی امام الصلوٰۃ تھے۔ تقسیم ہند کے وقت حفاظت مرکز کے لئے 35 مخلصین کا قافلہ دو ٹرکوں پر قادیان گیا جس میں آپؓ بھی شامل تھے۔ قریبی دیہات سے غیر مسلم آپ کے فن ڈاکٹری سے فائدہ اٹھانے کے لئے حاضر ہوتے اور آپؓ بھی بلاخوف و خطر میلوں دُور چکر لگا آتے اور مفت خدمت کرتے۔ اس خدمت خلق کا ماحول پر گہرا اثر ہوا۔
آپؓ کی پہلی شادی محترمہ فضل النساء صاحبہ کے ساتھ 1907ء میں امرتسر میں ہوئی جو ایک بیٹی چھوڑ کر وفات پاگئیں تو دوسری شادی حضرت سید عزیزالرحمن صاحب بریلوی کی صاحبزادی محترمہ سیدہ نصرت بانو صاحبہ سے ہوئی جن سے دو بیٹے ہوئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت آپؓ وٹرنری کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے۔ خبر سن کر احمدیہ بلڈنگ پہنچے، زیارت کی اور پیشانی مبارک پر بوسہ دینے کی سعادت پائی۔ پھر جنازہ کے ساتھ قادیان پہنچے اور جسد مبارک کو کندھا دینے کا موقع بھی حاصل ہوا۔
1920ء میں آپؓ نے وصیت کی توفیق پائی اور حصہ وصیت بعد میں بڑھا کر نواں حصہ کر دیا۔ 85 سال کی عمر میں 14دسمبر1974 ء کو آپؓ کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/z2rLe]

اپنا تبصرہ بھیجیں