حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا دورہ افریقہ سے مراجعت پر لجنہ اماء اللہ UK کی ریسیپشن سے خطاب

افریقہ کے احمدیوں میں اتنا جوش اور ایمان اور خلافت سے ایسی محبت ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
پھر اس یقین سے دل بھرجاتاہے کہ یہ واقعی خداتعالیٰ کی جماعت ہے اور خداتعالیٰ نے ہی ان کے دلوں کو پھیرا ہے-
مغربی افریقہ سے واپسی پر لجنہ اماء اللہ UK کی ریسیپشن کے موقع پر

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب (بتاریخ یکم مئی 2004ء)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضور اقدسؑ کو بتایا کہ اب آپ کا واپسی کا وقت قریب ہے اور ایک مقبرہ قائم کیا جائے جس میں اعلیٰ معیار اور قربانی کرنے والے لوگوں کی تد فین ہو گی۔ اس وقت آپ نے ایک رسالہ لکھا ’’ رسالہ الوصیت‘‘ کے نام سے۔ اس میں آپ فرماتے ہیں کہ:
’’ اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلادے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کردیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جومَیں نے تمہاری پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہوجائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک مَیں نہ جاؤں ۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی‘‘۔
ہم نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے اس ارشاد کو، اس خوشخبری کو،ہمیشہ گذشتہ سو سال میں سچا ہوتے دیکھا اور دیکھتے رہے۔ خلافت اولیٰ کے وقت لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ہو گئی ہے اب احمدیت چند دن کی مہمان ہے۔ پھر خلافت ثانیہ میں جب اندرونی فتنہ بھی اٹھااور ایسے لوگ جو خلافت کے منکر تھے ان کو پیغامی بھی کہا جاتا ہے اور لاہوری بھی اور غیر مبائعین بھی۔ انہوں نے بہت زور لگایا کہ انجمن اب حقدار ہونی چاہئے نظام جماعت کو چلانے کی اور خلافت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ حضرت مصلح موعودؓ کی عمر اس وقت صرف چوبیس سال تھی اور بڑے بڑے پڑھے لکھے علماء اور دین کا علم رکھنے والے اور جو اس وقت اسلام کے، احمدیت کے،نظام جماعت کے ستون سمجھے جاتے تھے اس قت علیحدہ ہوگئے اور کچھ لوگ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ساتھ رہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کا باون سالہ دورِ خلافت ہر روز ترقی کی ایک نئی منزل طے کرتا تھا۔ آپ کے دور میں افریقہ میں مشن کھلے، یورپ میں مشن کھلے اور خلافت کے دس سال بعد ہی یہاں لندن میں آپ نے اس مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔
پھر خلافت ثالثہ کا دور آیا۔ اس میں بھی خاص طورپر افریقن ممالک میں اور ان افریقن ممالک میں جو انگلستان کی ایک کالونی رہی کسی زمانے میں، ان میں احمدیت خوب پھلی اور کافی حد تک establish ہوگئی۔
پھر خلافت رابعہ کے دور میں ہم نے ہر روز ترقی کا ایک نیا چکردیکھا۔ افریقہ میں بھی یورپ میں بھی اور ایشیاء میں صرف ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا کے کونے کونے تک جماعت کی آواز پھیلی۔
تو یہ ترقیات جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ دوسری قدرت کا آنا ضروری ہے کیونکہ وہ دائمی ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اور ہمیشہ وہی چیزیں رہا کرتی ہیں جو اپنی ترقی کی منازل بھی طے کرتی چلی جائیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت کی وابستگی کی وجہ سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔ اور خلیفۃالمسیح الرابع کی وفات کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ منصب دیا تو باوجود اس خوف کہ جو میرے دل میں تھا کہ جماعت کس طرح چلے گی، اللہ تعالیٰ نے خود ہر چیز اپنے ہاتھ میں لے لی اور ہر طرح کی تسلی دی۔ اور جو ترقی کا قدم جس رفتار سے بڑھ رہا تھا اسی طرح بڑھتا چلا گیا اور چلتا چلاجارہا ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ سے خدا کا وعدہ ہے کہ ’’ مَیں تیری جماعت کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمین کے کناروں تک پہنچ رہی ہے اور لوگ جوق در جوق اس میں شامل بھی ہورہے ہیں ۔ تو اس سے اللہ تعالیٰ کو اپنے پیاروں کے عزت کا بڑا خیال رہتاہے۔ اصل میں تو اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک کام ہے جو بعض لوگوں کے ذریعہ سے کرواتا ہے۔ اور انبیاء کو جو اس دنیا میں بھیجتا ہے وہ اپنے پیارے، جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، ان کے ذریعہ سے وہ دنیا میں اپنی تعلیم اور اپنا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اور پھر انبیاء کے بعد ان کے ماننے والوں کے ذریعہ اور پھر خلافت کے ذریعہ سے وہ نظام جاری رہتا ہے اور ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
اب پھر افریقہ کے ممالک ہیں ۔ دو وہ ممالک ایسے ہیں جن میں گزشتہ دس پندرہ سال میں احمدیت قائم ہوئی اور ایک عام آدمی سوچ سکتا ہے کہ ٹھیک ہے غریب لوگ ہیں اور انہوں نے ان کی بات کو مان لیا ہے، شائد بھیڑ چال میں مان لیا ہو۔ لیکن جب آپ وہاں جا کر دیکھتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ جس فراست سے اور روشن دماغی سے اور پورے یقین کے ساتھ انہوں نے جماعت کو، احمدیت کو، قبول کیا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہی اگردی جائے تو یہ حالت میسر آسکتی ہے۔ بعض عورتیں بچے مختلف طبقات میں سے، جماعت میں شامل ہوئے ہیں ۔ کچھ احمدیت میں شامل ہونے سے پہلے Pagan تھے، لامذہب تھے۔ کچھ عیسائیت میں سے آئے، کچھ مسلمانوں میں سے آئے۔ غرض مختلف مذاہب میں سے احمدیت میں شامل ہوئے۔ اور اتنا جوش اور ایمان ہے ان کے اندر کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اور پھر اس یقین سے دل بھر جاتا ہے اور تسلی ہوتی ہے کہ واقعی خدا تعالیٰ کی جماعت ہے اور خدا تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں کو پھیرا ہے۔ ایک جوش، ایک جذبہ، ایک محبت ان کی آنکھوں میں سے ٹپک رہی ہوتی تھی خلیفہ وقت کے لئے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ عورتوں میں خاص طور پر ایسے طبقے کی عورتوں میں جو ان پڑھ ہو ان میں مذہب کا اتنا خیال نہیں ہوتا۔ لیکن اُن عورتوں میں بھی اس قدر مذہب کی عزت و احترام تھا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش اس حد تک وہ کرتی تھیں کہ کوئی بھی ذریعہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ضائع ہو،جس سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔ اسی طرح خلیفۂ وقت سے جو محبت کا اظہار ان کی آنکھوں میں نظر آتا تھا، کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ ان پڑھ لوگ ہیں ۔ یا بہت Remoteعلاقے کے، دور دراز گاؤں کے، جہاں سڑکیں بھی نہیں پہنچی ہوئیں تکلیفیں اٹھا کرسفر کر کے یہاں آئے ہیں صرف دیکھنے کے لئے۔ تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے کہ مَیں تیری جماعت قائم کروں گا جو نیک لوگوں کی جماعت ہوگی اور دنیا پر غالب آئے گی۔ بچوں کے اندر بھی وہی روح تھی۔ مختلف ممالک میں مختلف طریقہ تھا اظہار کا،لیکن ہر جگہ یونہی جذبات ظاہر ہوتے تھے لگتا کہ جس طرح ان کو ایک ہمیشہ سے، ایک ہوتا ہے ایک تعلق ایسا پیدا ہو جاتا ہے، آدمی بہت قریب رہے تو تعلق پیدا ہوجاتا ہے، پہلی دفعہ یکھنے کے باوجود بھی ان کووہ تعلق ان کی نظروں میں نظر آرہا تھا اور اظہار ہورہا تھاکہ حیرت ہوتی تھی۔ بچوں میں، چھوٹے چھوٹے بچوں ہیں وہ اتنی محبت کا اظہار کرتے تھے کہ حیرت ہو تی ہے۔ اب کسی بچے کو اگر مَیں نے پیار کردیا تو خلافت سے محبت کی وجہ سے وہ عورتیں اردگرد کی جتنی کھڑی ہو تی تھیں وہ اس بچے کو پیا ر کرنے لگ جاتی تھیں۔ تو یہ ان کے اظہار تھے محبت کے۔ حضور نے فرمایا کہ سیکورٹی کا گورنمنٹ کی طرف سے بھی بڑا انتظام تھا لیکن اس کے باوجود چھوٹے چھوٹے بچے ان کو ڈاج دے کر دائیں بائیں سے نکل کر آکے چمٹ جایا کرتے تھے اور لوگ دیکھتے رہ جاتے تھے۔ تو یہ محبت ہے ان کی اور اس سے دل کو تسلّی ہوتی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ الٰہی وعدے جو ہیں وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے۔ اور ایک دن تمام دنیا پر احمدیت کا اور اسلام کا غلبہ ہو گا۔ لیکن یہ سب کچھ تبھی ہوگا جب ہم خلافت کے نظام سے وابستہ رہیں گے اور خلافت کے ہر حکم پر لبیک کہنے کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیں گے-

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں