خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 5؍ستمبر2003ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ہر احمدی کو آنحضرت ﷺپر درود بھیجنے پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے
یہی وسیلہ ہے جس سے اب ہمارے ذاتی اور جماعتی فیض اور برکات اور ترقیات وابستہ ہیں
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۵؍ستمبر ۲۰۰۳ء بمطابق ۵؍ تبوک ۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام احمدیہ مشن، فرانس

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
الحمدللہ رب العٰلمین- الرحمٰن الرحیم- مٰلک یوم الدین- إیاک نعبد و إیاک نستعین-
اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-
اِنَّ اللہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب:۵۷)۔

اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یقینا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں- اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو درود شریف پڑھنے کی اس قدر تاکید فرمائی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟۔کیا آنحضرت ﷺکو ہماری دعاؤں کی حاجت ہے۔نہیں ہے۔بلکہ ہمیں یہ طریق سکھایا ہے کہ اے میرے بندو تم جب اپنی حاجات لے کر میرے پاس آؤ، میرے پاس حاضر ہو تو اپنی دعاؤں کو قبول کروانے اور اپنی حاجات کو پوری کرنے کا اب ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ میرے پیارے نبیﷺ کے ذریعہ سے مجھ تک پہنچو۔ اگر تم نے یہ وسیلہ اختیار نہ کیا تو پھر تمہاری سب عبادتیں رائیگاں چلی جائیں گی کیونکہ مَیں نے یہ سب کچھ،یہ سب کائنات اپنے اس پیارے نبی کے لئے پیداکی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’ اگرچہ آنحضرتﷺ کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں- لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔ جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ بباعث علاقہ ذاتی محبت کے اس شخص کے وجود کی ایک جزو ہو جاتا ہے۔ پس جو فیضان شخص مد عولہٗ پرہوتا ہے وہی فیضان اس پر ہو جاتا ہے۔ اور چونکہ آنحضرتﷺ پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرتﷺ کے لئے برکت چاہتے ہیں، بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔ مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے۔ ‘‘(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۲۴۔۲۵)
اس اقتباس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں جو باتیں سمجھائی ہیں جن سے درود شریف پڑھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ فرمایاپہلے تو تم سب یہ یاد رکھو کہ آنحضرت ﷺکو تمہاری دعاؤں کی ضرورت نہیں-یہ نہ سمجھو کہ تمہارے درود پڑھنے سے ہی آنحضرت ﷺکا مقام بلند ہو رہاہے۔وہ توپہلے ہی ایک ایسی ہستی ہے جو خداتعالیٰ کو بہت پیاری ہے۔فرمایاکہ اس میں گہرا رازہے اور وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے سے ایک ذاتی تعلق اور محبت کی وجہ سے اس دوسرے شخص کے لئے رحمت اور برکت چاہتاہے تو وہ اس کے وجود کا ہی حصہ بن جاتاہے یعنی وہ محبت اور تعلق میں ایک ہو جاتے ہیں مثلاً دنیاوی رشتوں میں اب دیکھیں مثال دیتاہوں ، ماں بچے کی محبت ہے، بعض دفعہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچہ جب چلنا شروع کرتاہے ،ذرا سی ہوش اس کو آتی ہے،اگراس کو کوئی کھانے کی چیز ملے تو وہ بعض دفعہ اس میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا جو اکثر ٹکڑے کی بجائے ذرّات کی شکل میں ہوتاہے- وہ اس پیار اور تعلق کی وجہ سے جو اس بچے کو اپنی ما ں سے ہے، اپنی ماں کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتاہے۔تو اس چھوٹے سے ٹکڑے کی وجہ سے ماں کا پیٹ تو نہیں بھر رہا ہوتا لیکن ایک پیار کا اظہار ہو رہاہوتاہے اور اس حرکت کی وجہ سے ماں کو بھی اس بچے پر اتنا ہی پیار آتاہے اور بڑھتاہی چلا جاتاہے اور وہ اس کو پہلے سے بڑھ کراپنے ساتھ چمٹاتی ہے اس کی ایک چھوٹی سی معصوم سی حرکت پر، اس کا خیال رکھتی ہے۔ تو اس طرح کی مثالیں کم وبیش آپ کو اوربھی دنیاوی تعلقات میں ، دنیاوی رشتوں میں ملتی رہیں گی۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اقتباس میں فرمارہے ہیں کہ جب محبت میں ایک ہی وجود بن جائیں توجو فیض اس کو ملتا ہے اورجو برکتیں اس کو ملتی ہیں، جس کے لئے آپ دعا کررہے ہوتے ہیں وہی آپ کو بھی مل رہاہوتاہے۔ فرماتے ہیں :کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ء رحمتیں اور برکتیں ہیں ،اور بے انتہاء فیض ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺپر نازل فرمائیں اور فرما رہاہے اورفرماتا چلاجائے گا جب تک یہ دنیا قائم ہے۔ تو آپ کو بھی درود بھیجنے کی وجہ سے، اس ذاتی تعلق کی وجہ سے،جو ہمیں آنحضرت ﷺکی ذات سے ہے اور ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺپر نازل ہونے والے فیض سے اُن لوگوں کو بھی حصہ ملتارہے گاجو ایک سچے دل کے ساتھ آپ پر درود بھیج رہے ہوں گے۔ مگر شرط یہی ہے کہ ایک جوش، ایک محبت ہوجو درود پڑھتے وقت آپ کے اندر پیدا ہو رہاہو۔ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے اس کثرت سے درود شریف پڑھنے پر آپ پر جو بے انتہاء برکتیں ناز ل ہوئیں اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں :
’’ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے میں ایک زمانے تک مجھے استغراق رہا۔ کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں- بجز وسیلۂ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں- جیسا کہ خدا بھی فرماتاہے

وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ (مائدہ آیت ۳۳)۔

تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو سقّے آئے ہیں اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راستے سے میرے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے کاندھوں پر نورکی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں

ھٰذا مَاصَلَّیْتَ عَلٰی مُحَمَّدٍ‘‘۔ ﷺ۔

(حقیقۃالوحی۔ حاشیہ صفحہ ۱۲۸۔ تذکرہ۔ صفحہ ۷۷۔ مطبوعہ ۱۹۶۹ء)
تو اس میں آپ فرمارہے ہیں کہ کیونکہ مَیں اپنے پیدا کرنے والے خالق کو، مالک کو حاصل کرنا چاہتا تھا اور مجھے یہ پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنااتنا آسان کام نہیں-اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا راستہ کوئی آسان راستہ نہیں- بڑا مشکل اور کٹھن راستوں سے گزر کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتاہے۔تواس قرب کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی، آپ فرماتے ہیں کہ اب مجھ تک یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا اب ایک ہی ذریعہ ہے، ایک ہی وسیلہ ہے اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں- تو آپ یہ فرمارہے ہیں کہ مَیں نے اس سے سبق لیتے ہوئے آپ ﷺپر بہت زیادہ درود بھیجا۔ اور گویا اس طرح تھاکہ مَیں ہر وقت اس ایک خیال میں ڈوبارہتاتھا اور آپ ؐپر درود بھیجتا رہتاتھاتو نتیجتاً اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بتانے کے لئے کہ تم بھی اب اس وسیلہ سے میرا قرب پا چکے ہومجھے کشفی حالت میں یہ نظارہ دکھایا کہ دو آدمی جن کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں ، اندرونی اور بیرونی راستے سے میرے گھر میں داخل ہوئے اور کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺپر درود بھیجنے کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ حاصل ہواہے۔ تو اندرونی اور بیرونی راستوں سے داخل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اب اس برکت سے آپ پرہر طرح کی برکتیں اور فضل نازل ہوتے رہیں گے اور آپ پربھی آنحضرت ﷺکا فیض جوہے وہ پہنچتارہے گا۔ تویہ ہیں درود کی برکات۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ وُلْدِ اٰدَم وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ۔

درود بھیج محمد ؐ اور آل محمد ؐ پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے ﷺ۔ ‘‘
’’یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفضلات اور عنایات اسی کی طفیل سے ہیں- اور اسی سے محبت کرنے کا صلہ ہے۔ سبحان اللہ اس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے۔ کہ اس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے‘‘۔ (یعنی آپ ﷺکے اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کا مرتبہ کتنا بلند ہے کہ جو آنحضرت ﷺسے محبت کرنے والاہے وہ اللہ تعالیٰ کا بھی محبوب بن جاتاہے۔اور اس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے‘۔تو فرماتے ہیں کہ :’’ اس مقام پر مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نُور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں- اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجے تھے۔ ﷺ۔
اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا۔ جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلی کے لوگ خصومت میں ہیں- یعنی ارادہ الٰہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔(اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ دین کا ازسرنو سے احیاء ہو، دین پھیلے ) لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص مُحیی کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اسی اثنا میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا۔ اور اشارہ سے اس نے کہا

ھٰذَا رَجُلٌ یُحِبُّ رَسُوْلَ اللہِ

یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے‘‘۔ یعنی سب سے بڑی شرط یہی ہے کہ دین کو زندہ کرنے والا کون ہوگا، وہی جو اللہ تعالیٰ کے رسول سے محبت رکھتاہے ’’سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔یعنی یہ شرط حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام میں پائی جاتی ہے۔یہ اشارہ کررہے ہیں وہ فرشتے۔
’’اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے۔ سو اس میں بھی یہی سرّ ہے کہ افاضہ انوار الٰہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے۔ اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے۔ اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے‘‘۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص ٗ روحانی خزائن جلد ۱صفحہ۵۹۷ تا ۵۹۹)
حدیث شریف میں آتا ہے۔ حضر ت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا :قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہو گا جو ان میں سے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا‘‘۔ (ترمذی کتاب الصلاۃ باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبیؐ)
پھر ایک روایت آتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت نبی کریم ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی وہی الفاظ دہراؤ جووہ کہتاہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس گنا رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر فرمایا:میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ مانگو یہ جنت کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک کو ملے گا اورمَیں امید رکھتاہوں کہ وہ مَیں ہی ہوں گا۔ جس کسی نے بھی میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگا اس کے لئے شفاعت حلال ہوجائے گی۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ ثم یصلی علی النبیؐ)
تواس سے مزید یہ واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی رحمتیں اور اس کی بخشش اگر چاہتے ہو تو وہ اب صرف اور صرف آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ہی ملے گی اور یہ بھی آپ ؐ کا بہت سے احسانوں میں سے ایک احسان ہے کہ اس کا طریق بھی سکھا دیا، اذان کے بعد کی دعا بھی سکھا دی کہ اس طرح میراوسیلہ تلاش کرو۔تویہ دعا بھی ہرایک کو یاد کرنی چاہئے۔
پھر ایک حدیث ہے۔حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا : مجھ پر درود بھیجا کرو۔ تمہارا مجھ پر درود بھیجنا خود تمہاری پاکیزگی اور ترقی کا ذریعہ ہے۔ (جلاء الافہام بحوالہ کتاب صلوٰۃ علی النبیؐ اسماعیل بن اسحاق)
پس کس شخص کی خواہش نہیں ہوتی کہ وہ نیکی اور پاکیزگی میں ترقی کرے۔ توہمارے محسن، ہمارے آقا،محمد مصطفی ﷺنے ہمیں یہ راستہ دکھادیاکہ مجھ پر درود بھیجو، تمہارا مجھ پر درود بھیجنا خود تمہاری پاکیزگی کاباعث بنے گا۔ لیکن کیا صرف خالی درود پڑھنے سے ہی تمام مراحل طے ہوجائیں گے-کئی تسبیح پھیرنے والے آپ کو ملیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ذکرالٰہی کررہے ہیں اور اتنی تیزی سے تسبیح چل رہی ہوتی ہے کہ اس میں درود پڑھا ہی نہیں جا سکتا، بلکہ کوئی ذکر بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ان کی حالت دیکھ کر دل بے چین ہوجاتاہے کہ یہ کس طرح درود پڑھ رہے ہیں-تویہ کس قسم کے لوگ ہیں جو اللہ اور رسول کا نام لے رہے ہیں-اور آدمی کو بعض دفعہ خیال بھی آتاہے کہ یہ ان کے ظاہری اعمال ہیں اور یہ ان کی حالت ہے جو نظر آرہی ہے۔تسبیح پھیر رہے ہیں- تو یہ تضاد کیوں ہے۔تو اس مسئلے کو اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اس طرح حل فرمایا ہے اور ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اس زمانہ کے امام کو پہچاننے کی توفیق ملی۔
آپ فرماتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ کی محبت کے ازدیاد اور تجدید کے لئے ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا تا کہ اس دعا کی قبولیت کے لئے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے۔ درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو۔ مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ ﷺ کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے‘‘۔آپ کی کامیابیاں کیا ہیں-یہی کہ اسلام کو ساری دنیامیں غلبہ حاصل ہو’’ اس کا نتیجہ یہ ہو گا قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔ قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں

اول: اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ۔ دوم : یٰـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ اور سوم : موہبت الٰہی ‘‘۔

(سلسلہ کلمات طیبات حضرت امام الزمان نمبر 1حضرت اقدس کی ایک تقریر صفحہ ۲۲رسالہ ریویو اردوجلد ۳ نمبر 1صفحہ ۱۴۔۱۵)
تو پہلی دو تو یہی ہیں جو آنحضرت ﷺکی ذات سے تعلق رکھتی ہیں کہ اللہ تعا لیٰ کی محبت بھی آنحضرت ﷺکی پیروی میں ملے گی۔ اور جو لوگ ا یمان لائے ہیں وہ بھی آپ پر درود شریف بھیجیں- توجب تک دردکے ساتھ، جوش کے ساتھ آپ کے احسانوں کو سامنے رکھتے ہوئے درود شریف نہیں پڑھا جائے گا اوردل میں وہ جوش نہیں پیدا ہوگا جس سے آپ ؐپر درود بھیجنے کا حق ادا ہوتواس وقت تک یہ درود صرف زبانی درود ہی کہلائے گا اور آپ کے دل سے نکلی ہوئی آواز نہیں ہوگی۔ تو درود شریف پڑھنے کے بھی کچھ طریقے ہیں ، کچھ اسلوب ہیں ،ان کو اپناتے ہوئے اگر ہم درود پڑھیں گے تویقینا یہ عرش تک پہنچے گا اور بے انتہاء رحمتیں اوربرکتیں لے کر پھر واپس آئے گا۔
ایک حدیث میں آتاہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مجھ پر درود بھیجا کرو۔ کیونکہ مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لئے ایک کفارہ ہے۔ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اس پر اللہ تعالیٰ دس بار رحمت بھیجے گا۔
(جلاء الافہام بحوالہ کتاب الصلوٰۃ علی النبی ﷺ لابن ابی عاصم)
انسان خطاؤں کاپتلاہے، غلطیاں کرتاہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو پتہ نہیں کیا سلوک ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کو اپنے بندوں پر نازل کرنے کا بھی طریق آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہمیں بتا دیا کہ آپ ﷺپر درود بھیجو، آپ ؐ کے حسن واحسان کو یاد کرتے ہوئے آپ پر درود بھیجو اور بھیجتے چلے جاؤ،تو اللہ تعالیٰ کی دس گنا زیادہ رحمتوں کے وارث بنتے چلے جاؤ گے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

پھر ایک حدیث میں آتاہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺپر درود بھیجنا اس سے بھی کہیں بڑھ کر گناہوں کو نابود کرتاہے جتنا کہ ٹھنڈا پانی پیاس کو۔ اور آپ پر سلام بھیجنا گردنوں کوآزاد کرنے سے بھی زیادہ فضیلت رکھتاہے۔ اورآپ کی محبت اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے یا جہاد کرنے سے بھی ا فضل ہے۔(تفسیر در منثور بحوالہ تاریخ خطیب و ترغیب اصفہان)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز اس دن کے خطرات سے اور ہولناک مواقع سے تم میں سے سب سے زیادہ محفوظ اور نجات یافتہ وہ شخص ہو گا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا۔ فرمایا کہ (میرے لئے تو) اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں کا درود ہی کافی تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ثواب پانے کا ایک موقع بخشا ہے۔ (تفسیر درمنشور بحوالہ ترغیب اصفہانی و مسندد یلمی)
تو اس حدیث سے مزید بات کھل گئی کہ اللہ تعالیٰ موقعے تلاش کررہاہے مومنوں کو اپنی رحمتوں اور فضلوں کی چادر میں لپیٹنے کا کہ تم میرے پیارے نبی ﷺپر درود بھیجو، مَیں تمہاری نجات کے سامان پیدا کرتا چلا جاؤں گا۔تو یہ بھی ایک احسان ہے آپﷺکا کہ آپ نے اُخروی نجات کے حصول کا طریق بھی ہمیں سکھادیا۔
حضرت عمرؓ بن خطاب فرماتے ہیں کہ دُعا آسمان اورزمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک اپنے نبی ﷺپر درود نہ بھیجے اس میں سے کوئی حصہ بھی( خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے اوپر نہیں جاتا)۔
(ترمذی کتا ب الصلاۃ باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی ا لنبیؐ)
توجیساکہ مَیں نے پہلے بھی کہا ہے اس حدیث نے مزید واضح کیا کہ اگر تم دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہو توایک دلی جوش اور محبت کے ساتھ جس سے بڑھ کر محبت کسی مومن کو کسی دوسرے شخص سے نہیں ہوسکتی اور نہیں ہونی چاہئے، آنحضرتﷺ پردرود کے ذریعہ سے اپنے مولا کے حضور پیش کرو تو تمہاری ساری دعائیں قابل قبول ہوں گی اور راستے میں بکھر نہیں جائیں گی۔
ایک روایت ہے۔عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے کعب بن عجرہ ملے اور کہنے لگے کیا مَیں آنحضرت ﷺ سے سنی ہوئی ایک بات بطور ہدیہ تمہیں نہ پہنچاؤں؟ مَیں نے کہا آپ ضرور مجھے یہ ہدیہ دیں- انہوں نے کہا ہم لوگوں نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ !ہم آپ لوگوں یعنی آپ کے گھر کے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام لوگوں پر درود کس طرح بھیجاکریں؟ سلام بھیجنے کا طریق تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا۔مگر درود بھیجنے کا طریق ہم نہیں جانتے۔تو آپ ؐ نے فرمایا یوں کہا کرو:

’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیۡتَ عَلٰی اِبۡرَاھِیۡمَ وعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ وَبَارِکۡ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکۡتَ عَلٰی اِبۡرَاھِیۡمَ وعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ۔

(ترمذی کتاب الصلاۃ باب ماجاء فی صفۃ الصلاۃ علی النبی ﷺ)
اے اللہ !محمد ﷺپر محمدؐکی آل پر درود بھیج جیساکہ تو نے حضرت ابراہیم اور ابراہیم کی آل پردرود بھیجا۔ تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والاہے۔ اے اللہ !محمدؐپر اورمحمد ؐکی آل پر برکتیں بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم پر اور حضرت ابراہیم کی آل پر برکتیں بھیجیں- تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والاہے۔
تو دیکھیں اس میں صحابہ کی نیکیاں ،کہ ایک تو وہ یہ تڑپ دل میں رکھے ہوئے ہیں کہ میرا دوسرا مومن بھائی بھی ان فضلوں سے محروم نہ رہ جائے جو اللہ تعالیٰ مجھ پر کررہاہے۔ اور پھر یہ تڑپ کہ مَیں زیادہ سے زیادہ مومنوں تک یہ بات پہنچاؤں کہ میرے پیارے نبی ﷺپر درود بھیجیں- تو یہ ہیں مومنوں کے طریق۔لیکن یاد رکھیں کہ دنیاوی دکھاوے کے لئے، جیساکہ مَیں نے پہلے بھی عرض کیا ہے، محفلیں جما کر، طوطے کی طرح رٹ لگاتے ہوئے بغیر غورکے درود پڑھنے کا طریق صحیح نہیں ہے۔
ایک حدیث میں آتاہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم پر درو دبھیجو تو بہت اچھی طرح سے بھیجا کرو۔ تمہیں کیامعلوم کہ ہو سکتاہے وہ آنحضرت ﷺکے حضور پیش کیا جاتاہو۔ راوی کہتاہے کہ سامعین نے ان سے کہا آپ ہمیں اس کا طریقہ بتائیں- انہوں نے کہا یوں کہا کرو۔ اے اللہ ! اپنی جناب سے درود بھیج، رحمت اور برکات نازل فرما، سیدالمرسلین اور متقیوں کے ا مام اور خاتم النبیین، محمد اپنے بندے اور اپنے رسول پر جو ہرنیکی کے میدان کے پیشوا اور ہر نیکی کی طرف لے جانے والے ہیں اور رسول رحمت ہیں- اے اللہ !تو حضرت محمد ﷺکو ایسے مقام پر فائز فرما جس پر پہلے اور پچھلے سب رشک کریں-
(سنن ابن ماجہ کتا ب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا)
پھر ایک حدیث ہے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے فرمایا :جو مسلمان بھی مجھ پر درود بھیجتاہے۔جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتاہے اس وقت تک فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں- اب چاہے تو اس میں کمی کرے، چاہے تو اس کو زیادہ کرے۔(سنن ابن ماجہ کتا ب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا)-
تو یہ دیکھیں کیا طریقے ہمیں سمجھائے فضلوں کو حاصل کرنے کے۔
پھر ایک روایت آتی ہے۔روای بیا ن کرتے ہیں کہ ایک دن مَیں نے حضرت رسول کریمﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ مَیں اپنی دعا کے وقت ایک بڑا حصہ حضور پر د رود بھیجنے میں صرف کرتاہوں-بہتر ہو کہ حضور ارشاد فرمائیں کہ مَیں اپنی دعا کے وقت میں سے کس قدر حصہ حضور پر درود بھیجنے میں مخصوص کردوں- آنحضرت ﷺ نے فرمایا :جتنا چا ہو۔ مَیں نے عرض کی کیا ایک چوتھائی؟ فرمایا :جتنا چاہو۔اگر اس میں اضافہ کرو توتمہارے لئے اور بھی بہتر ہے۔مَیں نے عرض کیا کہ آئندہ مَیں اپنی دعا کا سارا وقت حضور پر درود کے لئے مقرر کرتاہوں- حضور اقدسﷺنے فرمایا :اس صورت میں تمہاری سار ی ضرورتیں اور مرادیں پوری ہو ں گی اور سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔(ترمذی)
اس زمانہ میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ اس روایت سے پتہ چلتاہے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’ مَیں لاہو ر کے دفتر اکاؤنٹنٹ جنرل میں ملازم تھا۔ ۱۸۹۸ء کا یہ اس کے قریب کا واقعہ ہے کہ مَیں درود شریف کثرت سے پڑھتا تھا اور اس میں بہت لذت اور سرور حاصل کرتاتھا۔ انہی ایام میں مَیں نے ایک حدیث میں پڑھا کہ ایک صحابی نے رسو ل اللہﷺ کے حضور میں عرض کیا کہ میری ساری دعائیں درود شریف ہی ہوا کریں گی۔ یہ حدیث پڑھ کر مجھے بھی پرزور خواہش پیدا ہوئی کہ مَیں بھی ایسا ہی کروں- چنانچہ ایک روز جبکہ قادیان آیاہوا تھا اورمسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا، مَیں نے عرض کیا کہ میری یہ خواہش ہے کہ مَیں اپنی تمام خواہشوں اور مرادوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے درود شریف ہی کی دعا مانگا کروں- حضور ؑ نے اس پر پسندیدگی کا ا ظہار فرمایا اور تمام حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کر اسی وقت میرے لئے دعا کی۔کہتے ہیں تب سے میرا اس پرعمل ہے کہ ا پنی تمام خواہشوں کو درود شریف کی دعا میں شامل کرکے اللہ تعالیٰ سے مانگتاہوں ‘‘۔
ایک روایت ہے،حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺگھر سے باہر تشریف لائے تو مَیں آ پ کے پیچھے پیچھے ہو گیا۔آپ ؐکھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور سجدہ ریز ہوگئے۔ کہتے ہیں رفتہ رفتہ انتظار کرتے کرتے اتنا لمبا عرصہ گزر گیا کہ مَیں دیکھ رہا تھا کہ اس عرصہ میں آپ ؐسجدہ کی حالت میں ہیں- اور سجدہ میں چونکہ مَیں مُخل نہیں ہونا چاہتاتھا اس لئے مَیں آگے نہیں بڑھا۔لیکن اتنا لمبا عرصہ گز را تو مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ نعوذباللہ من ذٰلک رسول اللہ ﷺکی روح قفس عنصری سے پرواز نہ کر گئی ہو،اسی سجدہ کی حالت میں آپ فوت نہ ہوگئے ہوں- اس غم اور فکر سے مَیں دوڑا۔ قریب آیاتو رسول اللہ ﷺ نے میرے آنے کی آواز سنی اور سجدہ سے سر اٹھایا اور پوچھا :اے عبدالرحمن!کیا بات ہے؟ مَیں نے آپ ؐ سے اپنے خدشے کا اظہار کیا یا رسول اللہ !یہ وجہ ہے جو مَیں آپ کے قریب آ گیاہوں- آنحضرت ﷺنے فرمایا :جبرائیل نے مجھے کہاہے کہ کیا مَیں تجھے خوشخبری نہ دو ں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس شخص نے تجھ پر درود بھیجا مَیں اس پر رحمت نازل کروں گا۔ اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا مَیں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔(مسند احمد بن حنبل)
پھر ایک حدیث میں روایت ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا :جو شخص مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا اس نے جنت کا رستہ کھو دیا،یاوہ جنت کے راستے سے ہٹ گیا۔
(سنن ابن ماجہ کتاب اقاعۃوالسنۃ فیھا باب الصلوٰۃ علی النبیؐ)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’دنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گزرے ہیں اورآگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تراس مردِخدا کو پایاہے جس کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم۔

اِنَّ اللہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا-(الاحزاب : ۵۷)

(چشمہ معرفت،روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۰۱۔۳۰۲)
پھر آپ ؑ فرماتے ہیں :
’’ رسول اللہﷺ کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ہو کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آکر کیا کیا تو انسان وجد میں آجاتاہے‘‘۔ یعنی کہ اس زمانہ میں جب آنحضرت ﷺمبعوث ہوئے۔دنیا کی کیا حالت تھی،کس قدر گراوٹ تھی اور … اور کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں آپ ؐکے آنے سے۔)تو آپ فرماتے ہیں کہ انسان کی روح وجد میں آجاتی ہے۔اور ’’وجد میں آ کر

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

کہہ اٹھتا ہے- میں سچ سچ کہتا ہوں یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔ قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم نے کیا کیا۔ ورنہ وہ کیا بات تھی جو آپ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا

اِنَّ اللہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب : ۵۷)

کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔ پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محمد کہلایا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‘‘(الحکم جلد ۵نمبر ۲مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۳)
آپ فرماتے ہیں کہ: خداکے کلام سے پایا جاتاہے کہ متقی وہ ہے جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں ، وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہئے جس سے ہماری فلاح ہو۔ اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں-وہ خاص تقویٰ کو چاہتا ہے۔جو تقویٰ کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔ آنحضرتﷺ یا حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے کسی نے وراثت سے عزت نہیں پائی۔ گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺکے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے لیکن اس نے نبوت تو نہیں کی۔ یہ تو فضل الٰہی تھا، ان صدقوں کے باعث جو ان کی فطرت میں تھے، یہی فضل کے محرک تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابو الانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔ خود آگ میں ڈالے گئے۔ہمارے سیدو مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا ہی صدق وصفا دیکھئے۔ آپ ؐنے ہرایک قسم کی بدتحریک کا مقابلہ کیا۔ طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پرواہ نہ کی۔ یہی صد ق و وفا تھاجس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

اِنَّ اللہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

اللہ تعالیٰ اوراس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں- اے ایمان والو! تم بھی نبی پر درود سلام بھیجو۔
فرماتے ہیں کہ:
’’اس آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ رسول اکرم ؐکے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہیں فرمایا‘‘۔ یعنی ایسے اعما ل اللہ تعالیٰ کو پسند تھے کہ ان کو محدود کرنے کے لئے کوئی لفظ ایسا نہیں تھا جس سے وہ اوصاف محدود ہو جائیں ، یعنی ان کی کوئی حد نہیں تھی۔ فرماتے ہیں :یعنی آپ کی روح میں وہ صد ق ووفا تھااور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکرگزاری کے طورپر درود بھیجیں-آپ کی ہمت و صدق و وفا کا کہاں تک اثر آپ کے پیروؤں پر ہواتھا۔ ہر ایک سمجھ سکتاہے کہ ایک بد روش کو درست کرنا کس قدر مشکل ہے۔عادات راسخہ کو گنوانا کیسا محالات سے ہے۔ یعنی جو عادات پکی ہوجائیں ان کو چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ہمارے مقد س نبیﷺنے تو ہزاروں انسانوں کو درست کیا، جو حیوانوں سے بدتر تھے۔یعنی بعض ماؤں اور بہنوں میں حیوانوں کی طرح فرق نہ کرتے تھے۔یتیموں کا مال کھاتے تھے۔مُردوں کا مال کھاتے تھے۔بعض ستارہ پرست تھے۔بعض دہریہ تھے۔بعض عناصر پرست تھے۔جزیرہ عرب کیا تھا ایک مجموعہ ٔمذاہب اپنے اندر رکھتاتھا۔اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن کریم ایک قسم کی تعلیم اپنے اندر رکھتاہے،ہرایک غلط عقیدہ یابری تعلیم جو دنیا میں ممکن ہے، اس کے استحصال کے لئے کافی تعلیم اس میں موجود ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی عمیق حکمت اور تصرف ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے، اُسے قبول کرے۔ اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرتﷺ کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجاؤ۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے

قُلْ یٰعِبَادِیَ الََّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلیٰ اَنْفُسِھِمْ

اِس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم ﷺ کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپؐ پر درود پڑھو اور آپؐ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو، سب حکموں پر کاربند رہو۔‘‘(البدر۔ جلد ۲، نمبر ۱۴۔ بتاریخ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء۔ صفحہ ۱۰۹)
بعض دفعہ یہ سوال اٹھتاہے کہ کتنی دفعہ درود پڑھنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں :
’’کسی تعداد کی پابندی ضروری نہیں- اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے۔ اوراس وقت تک پڑھتے رہیں جب تک ایک حالت رِقّت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہوجائے۔اور سینے میں انشراح اور ذوق پایا جائے‘‘۔
نیز آپؑ نے فرمایا :اس قدر پڑھا جائے کہ کیفیت ِ صلوٰۃ سے دل مملُو ہو جائے اور ایک انشراح اور لذّت اور حیاتِ قلب پیدا ہو جائے۔ (مکتوبات حصہ اول صفحہ ۲۶)۔محسوس ہوکہ دل میں ایک جوش ہے،لذت ہے۔ تو اب ان لوگوں کے سوال کا جواب اس میں آگیا جو یہ کہتے ہیں کہ کتنی دفعہ پڑھنا چاہئے۔ ایک تو اخلاص اورمحبت دکھاؤ۔جس کو محبو ب بنایا ہے اس کا نام لینے میں، اس کی تعریف کرنے میں، اس کی خوبیاں بیان کرنے میں، اس کے محاسن گنوانے میں، اس کا ذکرکرنے میں انسان گنتی کی قید تو نہیں لگاتا۔ دنیاوی محبوبوں کے لئے بھی یہ طریق استعمال نہیں ہوتا۔ یہ تو وہ محبوب ہے جس پر درود بھیجنے سے ہماری دنیا وآخرت دونوں سنور رہے ہیں- اور پھر ایسی کیفیت طاری ہو جائے کہ جذبات اپنی انتہا کو پہنچ جائیں اور پھر اس ذکر سے، اس درود بھیجنے سے ایک سرور اور ایک لطف آنا شروع ہو جائے، مزا آنا شروع ہو جائے اور دل یہ چاہے کہ انسان ہروقت درود بھیجتارہے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں- یہ بھی ایک خط ہے جو تحریر فرمایا آپ نے۔ کہ:
’’ آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں- اور جیسا کہ کوئی اپنے پیارے کے لئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے۔ ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے حضرت نبی کریم ﷺ کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں- اور اس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو۔ بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریمﷺ سے سچی دوستی اور محبت ہو۔ اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرتﷺ کے لئے مانگی جائیں کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں …… اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ ملول ہو۔ اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو۔ اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرتﷺ پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں-(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۲۴۔۲۵)
پھر آپ فرماتے ہیں کہ:
’’ایک مرتبہ مَیں سخت بیمار ہوایہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ ک مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورۃ یٰسین سنائی۔ جب تیسری مرتبہ سورۃ یٰسین سنائی گئی تو مَیں دیکھتاہوں کہ بعض عزیز میرے جو اَب وہ دنیا سے گزر بھی گئے، دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور باربار دم بدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔ سولہ د ن برابر ایسی حالت رہی اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا وہ آٹھویں دن راہی ٔ ملک بقا ہوگیا حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔ جب بیماری کو سولہواں دن چڑھا تو اس دن بکلی حالات ِ یاس ظاہر ہوکر(یعنی بالکل مایوسی کی حالت طاری ہو گئی) تیسری مرتبہ مجھے سورۃ یٰسین سنائی گئی اور تمام عزیزوں کے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہوگا۔ تب ایسا ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کرکے ایک دعا سکھلائی۔ اور وہ یہ ہے :

’’سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّد‘‘۔

(نزول المسیح۔نشان نمبر ۷۷۔تاریخ ۱۸۸۰ء)
حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓتحریر فرماتے ہیں :
’’ایک بار میں نے خود حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ درود شریف کے طفیل اور اس کی کثرت سے یہ درجے خدا نے مجھے عطا کئے ہیں- اور فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت ﷺ کی طرف جاتے ہیں- اور پھر وہاں جا کر آنحضرت ﷺ کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں- اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں- اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں ‘‘۔(یعنی جو جو لوگ درود شریف بھیج رہے ہیں اورجس جس جوش سے بھیج رہے ہیں ان تک وہ اتنا حصہ پہنچتا رہتاہے۔ یقینا کوئی فیض بدوں و ساطت آنحضرت ﷺ دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا‘‘۔یعنی اب کوئی بھی فیض جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل ہونے ہیں بغیر آنحضرت ﷺکی وساطت کے کسی شخص تک نہیں پہنچ سکتے۔
فرمایا: درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے اس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں- جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔
(اخبار الحکم جلد ۷نمبر۸صفحہ ۷پرچہ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء)
ایک دفعہ حضرت نوا ب محمد علی خان صاحب کو اپنی بعض مشکلات کی وجہ سے دعا کی تلقین کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ:
’’آپ درویشانہ سیرت سے ہر ایک نماز کے بعد گیارہ دفعہ

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

پڑھیں اور رات کو سونے کے وقت معمولی نماز کے بعد کم سے کم اکتالیس دفعہ درود شریف پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھیں اور ہر ایک سجدہ میں کم سے کم تین دفعہ یہ دعا پڑھیں

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث۔

پھرنماز پوری کرکے سلام پھیر دیں اور اپنے لئے دعا کریں ‘‘۔
(مکتوبات احمدیہ جلدہفتم حصہ اول صفحہ ۳۳)
تو یہاں کسی کو یہ خیال نہ آئے کہ پہلے تو حد نہیں لگائی تھی یہاں تو گنتی بتا دی ہے۔ تو واضح ہوکہ پہلے حضر ت نواب محمد علی خا ن صاحب ؓ کے مخصوص حالات کی وجہ سے دعا کا ایک طریق بتایا۔ دوسرے اس میں ’کم سے کم‘ کہاہے کہ اتنی دفعہ ضرور پڑھیں-اصل بات وہی ہے کہ درود میں قید کوئی نہیں کہ زیادہ سے زیادہ کتنا پڑھا جائے۔ جتنی توفیق ہے پڑھتے چلے جائیں اور اتنا ہی فیض پاتے چلے جائیں-
حضر ت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات میں بھی درود کا کثرت سے ذکر ملتاہے۔ اعجازالمسیح میں درج ہے کہ

’’فَصَلُّوْا عَلٰی ھٰذَاالنَّبِیِّ الْمُحْسِنِ الَّذِیْ ھُوَ مَظْہَرُ صِفَاتِ الرَّحْمٰنِ الْمَنَّانِ۔

(اے لوگو!) اس محسن نبی پر درود بھیجو جو خداوند رحمن ومنّان کی صفات کا مظہر ہے کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے۔ اور جس دل میں آپ کے احسانات کا احساس نہیں اس میں یا تو ایمان ہے ہی نہیں اور یا پھر وہ اپنے ایمان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ اے اللہ ! اس امّی رسول اور نبی پر درود بھیج جس نے آخرین کو بھی پانی سے سیر کیاہے جس طرح اس نے اوّلین کو سیر کیا۔ اورانہیں اپنے رنگ میں رنگین کیا اور انہیں پاک لوگوں میں داخل کردیا ‘‘۔
(اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۔۶)
ایک یہ الہام ہے:

’’وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَنْہٗ عَنِ الْمُنْکَرِ وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔اَلصَّلٰوۃُ ھُوَالْمُرَبِّی۔

کہ نیک کاموں کی طرف رہنمائی کر اور برے کاموں سے روک۔اور محمد اور آل محمد ﷺ پر درود بھیج۔درود ہی تربیت کا ذریعہ ہے۔
(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۷)
حضرت اقد س مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کثرت سے اپنے آقا پر درود بھیجنے کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر نوازا کہ آپ ؑ کو الہاماً فرمایا:
’’تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے۔ زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے‘‘۔ (تذکرہ۔ صفحہ ۱۶۲۔ مطبوعہ ۱۹۶۹ء)
پھر الہام ہواایک لمبا عربی الہام ہے، کچھ حصے کا ترجمہ پیش کرتاہوں- کہ خدا عرش پر سے تیری تعریف کررہاہے۔ ہم تیری تعریف کرتے اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں-لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نورکو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں- مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرلے اگرچہ منکر کراہت کریں- ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اورزمانہ ہماری طرف رجوع کر لے گا تو کہا جائے گاکہ کیا یہ سچ نہ تھا جیساکہ تم نے سمجھا‘‘۔ (تذکرہ صفحہ ۳۵۵۔ مطبوعہ ۱۹۶۹ ء)
تویہ ہیں برکات اورفیض جو آنحضرت ﷺپر درود بھیجنے سے حاصل ہوتے ہیں- پس ہر احمدی کو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔یہی وسیلہ ہے جس سے اب ہمارے ذاتی فیض بھی اور جماعتی فیض اور برکات اور ترقیات وابستہ ہیں- آج جمعہ کا دن بھی ہے اور جمعہ کے دن آنحضرت ﷺ نے اپنے پردرود بھیجنے کی مومنوں کو خاص طورپر تاکید فرمائی ہے جیسا کہ اس حدیث میں آتاہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تمہارے بہترین ایام میں سے ایک جمعہ کا دن ہے۔اسی روز آدم پیدا کئے گئے، اسی روز انہیں وفات دی گئی۔ اسی دن نفخ صُورہوگا اور اسی روز غشی ہوگی۔ پس اسی روز تم مجھ سے کثرت سے درود بھیجاکرو۔ تمہارا درود مجھ تک …پہنچایا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ جب آپ کا وجود بوسیدہ ہو چکا ہوگا یعنی کہ جسم مٹی بن گیا ہوگا اس وقت ہمارا درُود آپ کو کیسے پہنچایا جائے گا۔ فرمایا:اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے وجودوں کو زمین پر حرام کر دیاہے۔(سنن ابی داؤدکتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ)
پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے زمانے سے بھی اس کا خاص تعلق ہے۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ جماعتی ترقیات اسی سے وابستہ ہیں- اس بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کی بڑی اچھی تشریح فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں :
’’جمعہ کا مضمون بہت گہرا اوروسیع ہے ………جمعہ ایک زمانے کا نام ہے اور اس زمانے میں جمعیت کے معنے داخل ہوتے ہیں مختلف چیزوں کا آپس میں ملا دینا۔پس جب اس پہلو سے اس حدیث کا مطالعہ کریں تو بہت وسیع مضمون ہے جو اس میں بیان ہواہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس دن نفخ صور ہوگا اور اسی روز غشی ہوگی۔اگر قیامت کا دن مراد ہو تو وہاں جمعہ کے دن کی کیا بحث ہے وہاں تو ازل اور ابد اکٹھے ہو جاتے ہیں- وہاں یہ بحث ہی نہیں ہوتی کہ دن کون سا ہے۔ قیامت کا وقت تو ایک عرصے کا نام ہے اور یہ جو دن ہم گنتے ہیں ان دنوں کی بحث نہیں ہے۔ اس میں طویل زمانے کا نام ہے اور اس کو جمعہ کہناکن معنوں میں درست ہے صرف ان معنوں میں کہ اس دن تمام اگلے اور پچھلے اکٹھے کردئے جائیں گے۔……اور وہ ایک دن نہیں ہوگا کہ سورج چڑھا، دن ہوا اور سورج غرو ب ہوا تو دن غروب ہوا۔بلکہ ایک زمانہ طلوع ہوگا اور اس سارے زمانے کا نام جمعہ ہے۔
…دوسری بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ جب اس دنیا پر اس کا اطلاق کرکے دیکھیں تو ایک اور مضمون ابھرتا ہے جس کا سورہ جمعہ میں ذکر موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ اسی روز نفخ صور ہوگا یعنی تمام بنی نوع انسان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے دین کی طرف بلایا جائے گا اور یہ نفخ صور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے ہے اور اس کے متعلق بکثرت شواہد ملتے ہیں احادیث میں بھی اور گزشتہ اولیاء کے حوالوں سے بھی کہ یہ وعدہ کہ تمام دنیا کے ادیان پرمحمد رسول اللّٰہ ﷺ کا دین غالب آئے گا یہ مسیح موعود کے زمانے میں پوراہونا ہے۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ہی کا دور ہے جس کے متعلق فرمایا ہے اسی روز غشی ہوگی یعنی وہ اتناخطرناک دور ہوگا کہ پہلے لوگ مدہوش کر دئے جائیں گے، مارا مار پھریں گے، کچھ سمجھ نہیں آئے گی کہ کیا ہوگیا ہے دنیا کو۔ پھر وہ دین اسلام کی طرف راغب کئے جائیں گے۔
اور اس کے بعد فرمایا: پس اس روز تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔ پس جماعت کے لئے دیکھو کتنی بڑی خوشخبری ہے اس میں کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہماری تمام برکتیں درُود سے وابستہ ہوچکی ہیں- یہ وہ زمانہ ہے جس میں کثرت سے درود بھیجنے کے نتیجے میں ہم اُن عالمی مصیبتوں سے بچائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے درود ہی کی برکت سے دنیا میں اسلام پھیلے گا۔ظاہر با ت ہے جب رسول اللہ ﷺپر درود بھیجو گے تو رسول اللہ ﷺ پردرود بھیجنے والوں کی کثرت ہوگی۔کیونکہ آسمان سے خدا اوراس کے فرشتے بھی درود بھیج رہے ہونگے جس کے اندر ایک عددی برکت بھی شامل ہوتی ہے۔ پس کثرت سے درود بھیجو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثرت سے تم پر اور خدا کے فرشتے بھی تم پردرود بھیجیں گے اور اس کے نتیجے میں عددی برکت بھی نصیب ہو گی۔یعنی تمہاری تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔
پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔جماعت کو بہت زیادہ درود شریف پڑھنا چاہئے۔ یہاں جو اس وقت آپ بہت تھوڑے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال آپ کو بہت سی سعید روحیں ملی ہیں جنہوں نے اس زمانہ کے امام کو پہچانا اور ایمان لائے۔ پس آپ میں سے ہرایک، پرانے احمدی بھی اورنئے شامل ہونے والے احمدی بھی، اگر اپنی تعداد کو بڑھانا چاہتے ہیں ، اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو بہت درود پڑھیں- سمجھ کر پڑھیں ، دل کی گہرائیوں سے پڑھیں تا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں-(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍مارچ ۱۹۹۹ء)
آج انشاء اللہ تعالیٰ آپ کا جلسہ بھی شروع ہو رہاہے۔ ان تین دنوں میں بھی خاص طورپر اس طرف توجہ دیں اور بہت زیادہ درود پڑھیں تاکہ آنحضرت ﷺپر درود بھیجنے کے فیض آپ کو ان تین دنوں میں بھی نظر آئیں-اس جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت دعائیں کی ہیں- اللہ تعالیٰ ان تمام دعاؤں کو آپ سب کے حق میں قبول فرمائے اور آپ سب کو ان کا وارث کرے اور ہمیشہ اپنے فضلوں اور رحمتوں سے نوازتارہے۔آمین۔
اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے درود و استغفار تریاق ہیں- ایک شخص نے بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور مجھے کوئی وظیفہ بتائیں-اس پر حضور ؑ نے فرمایا کہ’’ نمازوں کو سنوار کر پڑھا کرو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اوراس میں ساری لذت اور خزانے بھرے ہوئے ہیں-صدق دل سے روزے رکھو، صدق و خیرات کرو، درود واستغفار پڑھاکرو‘‘۔ (الحکم جلد ۷ مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۳ء)
باطنی پاکیزگی، روحانی ترقی اور اعلیٰ کمالات و اعلیٰ تزکیہ ٔ نفس کے لئے درودکا کثرت سے پڑھنا اکسیر کا حکم رکھتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے یایھاالذین امنوا صلوا علیہ سلموا تسلیما کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم آنحضرتﷺ پر درود و سلام بھیجا کرو۔ پھر قرآن کریم میں ارشاد ہوا:

ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔ وَکَانَ بِاالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا ( احزاب آیت۴۴)

یعنی وہی ہے جو تم پراپنی رحمتیں بھیجتاہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں تاکہ (اس کا نتیجہ یہ نکلے) وہ تم کو اندھیروں سے نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر باربار رحم کرنے والاہے۔
اندھیروں سے نور کی طرف لے جاناہی تزکیہ ٔ نفس ہے۔
پس رمضان المبارک میں خاص طورپر بہت کثرت سے درود شریف پڑھیں اوراس التجا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نفس کے سارے اندھیروں کو دور کردے اور اپنے نور کی شعاؤں سے اسے منورکردے اور اس کو اپنے پیار سے ہمیشہ کے لئے بھردے۔
اللہ تعالیٰ اس رمضان کی برکت سے ہمارے دلوں کے سب اندھیرے ہمیشہ کے لئے دور کر دے، اورہمیں اُس نور کی طرف لے جائے جس کی طرف جانا ہی تزکیہ ٔ نفس ہے۔آمین
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
شیطان کبھی کبھی نیکی کے رنگ میں بھی انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ایسے اوراد و وظائف بتائے جاتے ہیں کہ انسان باجماعت نماز سے رہ جاتاہے۔ پس انسان کو نیکیوں کا گمان اور غرور نہیں کرنا چاہئے اور چونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قویٰ دئے ہیں اس لئے جو با ت اس کو نہیں دی گئی ا س کو چاہئے کہ دوسروں سے لے کر اس کا فائدہ اٹھاوے۔ اور اس میں اپنی کسر شان نہ سمجھے۔ اس لئے فرمایا ہے:

فَاسْئَلُوْااَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ-
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/RGmVH]

اپنا تبصرہ بھیجیں