خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 19؍مئی 2006ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
اس سفر میں بھی ہمیشہ کی طرح ہر قدم پر اللہ تعالیٰ نے اپنی تائیدات کے نظارے دکھائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدے پورے ہوتے نظر آئے۔
ہرملک میں جماعت کے تربیتی امورکے علاوہ اہم شخصیات تک مؤثر رنگ میں اسلام کا پُرامن پیغام پہنچانے کے مواقع عطا ہوئے۔
آج اگر دلائل اور براہین سے کسی بھی دوسرے مذہب پر اسلام کی فوقیت ثابت کرنی ہے تووہ آنحضرتﷺ کے غلام صادق کی پیروی میں ہی ہوسکتی ہے جس نے جرأت کے ساتھ اسلام کی خوبیوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
سنگاپور، آسٹریلیا، فجی، نیوزی لینڈ اور جاپان کے نہایت کامیاب و بابرکت دورہ سے واپسی پر مسجد بیت الفتوح میں خطبہ جمعہ میں ان ممالک اور دیگر ہمسایہ ممالک سے آنے والے احمدیوں کے اخلاص اوروفا اور خلافت سے وابستگی کا ایمان افروز تذکرہ
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 19؍مئی 2006ء (19؍ہجرت 1385ہجری شمسی)بمقام مسجد بیت الفتوح،لندن۔ برطانیہ

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج مَیں اپنے سابقہ طریق کے مطابق جومیں رکھتا رہا ہوں، سفر کے مختصر حالات بیان کروں گا۔ یہ دَورہ جیسا کہ آپ نے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دیکھا سنگاپور، آسٹریلیا، جاپان اور پیسیفک کے بعض جزائر پر مشتمل تھا جن میں فجی اور نیوزی لینڈ وغیرہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سفر میں بھی ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر اپنی تائیدات کے نظارے دکھائے اور ہر قدم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے ہمیں نظر آئے۔
ہمارے سفر کی پہلی منزل سنگا پور تھی۔ یہاں چھوٹی سی جماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص رکھنے والی جماعت ہے۔ یہاں کیونکہ بعض ایسی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے باہر سے کسی جانے والے کے لئے حکومتی اداروں سے تقریر وغیرہ کرنے کی اجازت لئے بغیر کوئی پبلک گیدرنگ (Public Gathering)میں تقریر نہیں ہو سکتی اس لئے وہاں جلسہ تو نہیں ہوا لیکن جو چند دن ہم وہاں ٹھہرے اس میں جلسے کا ہی سماں تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، شہر بھی ہے ملک بھی ہے، ملائشیا کے ساتھ لگتا ہے۔ سمندر سے ایک کلو میٹر کا فاصلہ ہے اس پر ملائشیا سے جوڑنے کے لئے پل بنا ہوا ہے۔ اس لئے ملائشیا سے بھی کافی لوگ وہاں آ گئے تھے اور ملائشیا میں بھی کیونکہ جماعت پر پابندی ہے وہاں جایا تو نہیں جا سکتا تھا لیکن آنے والوں کے چہروں سے جو حسرت تھی کہ آپ ہمارے ملک میں حالات کی وجہ سے نہیں آ سکتے وہ ایک جذباتی کیفیت پیدا کر دیتی تھی۔
بہرحال پہلے مَیں سنگا پور کے بارے میں مختصر بتا دوں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ سنگا پور کی جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔چند ایک پاکستانی گھروں کے علاوہ تمام مقامی احمدی ہیں اور جس طرح سے انہوں نے اپنے کام کو سنبھالا ہوا ہے ان کے جماعت اور خلافت سے اخلاص و وفا کا جو تعلق ظاہر ہوتا ہے وہ ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی د لیل نظر آتا ہے۔ وہاں اس ملک میں انہوں نے ایک خوبصورت چھو ٹی سی مسجد بنائی ہوئی ہے، چھوٹی تو نہیں خیر، ہمارے اس لحاظ (مسجدبیت الفتوح) سے چھوٹی ہے لیکن کافی بڑی مسجد ہے، دو منزلہ ہے اس میں دفاتر بھی ہیں، لائبریری وغیرہ بھی ہے۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ وہاں گئے تھے تو آپ نے اس کا افتتاح فرمایا تھا۔ اب وہاں اسی پلاٹ میں جگہ تھی جہاں مَیں مشن ہاؤ س کا سنگ بنیاد رکھ کے آیا ہوں۔ ملائشیا کا تو میں نے ذکر کیا ہے کہ بعض پابندیاں ہیں اور مخالفت ہے جس کی وجہ سے وہاں کی خاصی تعداد ملاقات کے لئے سنگاپور آ گئی تھی، ان کی عاملہ بھی آ گئی تھی، ان سے بھی میٹنگ وغیرہ ہوتی رہی۔ انڈونیشیا میں بھی آجکل جوحالات ہیں جیسا کہ آپ سب کو علم ہے کہ جماعت کی مخالفت زوروں پر ہے اور فی الوقت وہاں جانا بھی مشکل ہے۔ وہاں سے بھی کافی تعداد میں انڈونیشین احمدی آئے ہوئے تھے اور اس بات پر ان کی بھی جذباتی کیفیت ہو جاتی تھی کہ آپ فی الحال وہاں دورہ نہیں کر سکتے۔ انڈونیشین طبعاً جذباتی بھی ہیں لیکن اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے بھی ہیں۔ جب مَیں نے خطبے میں ان کے موجودہ حالات کا ذکر کیا اور صبر کی تلقین کی تو بلا استثناء ہر ایک جوان، بوڑھا، مرد، عورت سخت جذباتی ہو گئے تھے، اس کا نظارہ آپ نے شاید ایم ٹی اے پر کچھ حد تک دیکھا ہو گا، ایم ٹی اے کا کیمرہ پوری طرح ہر چیز کی تصویرنہیں لے سکتا۔ مَیں عموماً اپنے جذبات پر کنٹرول رکھتا ہوں لیکن میرے سامنے جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان کی حالت دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنے پر قابو پا رہا تھا۔ یہ نظارے ہمیں آج صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیاری جماعت میں نظر آتے ہیں جو دینی تعلق اور اخوت کی وجہ سے ایک دوسرے سے اس حد تک منسلک ہیں کہ جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سب آج مسیح محمدی کی قوت قدسی کا اثر ہے جو اس نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پائی ہے کہ ہر ملک میں مختلف قومیتوں اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے بعد خلافت سے سچی وفا کا تعلق رکھنے والے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا؟ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے دیکھا۔ وہ خداتعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیساکہ صحابہؓ نے اٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے حاصل کی۔ بہتیرے اُن میں سے ایسے ہیں کہ نمازوں میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے اُن میں سے ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خداتعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے ہیں اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے۔ اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، جیسا کہ صحابہؓ کو کھینچتا تھا۔غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خداتعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا‘‘۔ (ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد 14صفحہ307-306)
پس یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا یہ ہمیں آج دنیائے احمدیت کی ہر قوم میں نظر آتا ہے۔ مَیں انڈونیشینز کا ذکر کر رہا تھا، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ان کے سینوں کو اللہ تعالیٰ ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور ہر جگہ یہی نظارے دیکھنے میں آئے۔ مَیں سنگاپور کے خطبے کا ذکر کر رہا تھا، اس خطبے کے بعد یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے تھے اور اس بات پرقائم تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حالت بدلے گا اور وہ مزید تائیدات کے نظارے دیکھیں گے، انشاء اللہ۔
سنگاپور میں ملائیشیا اور انڈونیشیا کے علاوہ، جن کی بڑی تعداد وہاں آئی ہوئی تھی، بعض دوسرے ملکوں کے بھی چند لوگ آئے تھے۔ فلپائن، کمبوڈیا، پاپوانیوگنی، تھائی لینڈ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب اخلاص و وفا کے نمونے دکھانے والے تھے۔ بعض چند سال پہلے کے احمدی تھے، مرد بھی اور خواتین بھی لیکن خلافت سے تعلق اور وفا کے جو اظہار تھے وہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ وہاں آنے کے لئے ان کو کافی خرچ کرنا پڑا، کافی دور کے بھی علاقے ہیں۔ کرایہ خرچ کرکے آئے تھے۔ ٹکٹ کافی مہنگا ہے۔ ان کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان الفاظ کی سچائی ثابت ہوتی ہے کہ وہ خدا کا گروہ ہیں جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان دور دراز کے ملکوں کے لوگوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہیں ایسا تعلق پیدا کر دیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا گو کہ سنگاپور میں جلسہ نہیں ہوا ان ملکوں کے آنے والوں سے ملاقاتیں اور جماعت کی ترقی کے لئے آئندہ پروگرام بنانے اور ان کے جائزے لینے کے لئے جو میٹنگز ہوئیں ان سے مجھے بھی براہ راست معلومات لے کر آئندہ پروگرام بنانے کی طرف ان کی رہنمائی کا موقع ملا اور ان کو بھی نظام کو صحیح سمجھنے اور کام کو آگے چلانے کا علم ہوا۔ کیونکہ بعض بالکل نئی جماعتیں ہیں، اور بہت سی باتوں سے لاعلم تھیں۔ بہرحال الحمدللہ کہ سنگا پور جانا بڑا فائدہ مند ثابت ہوا۔جانے سے پہلے تو میرا خیال تھا کہ وہاں چھوٹی سی جماعت ہے، دو دن کافی ہیں۔ لیکن ان باہر سے آئے ہوئے نمائندگان کی وجہ سے اچھا مصروف وقت گزر گیا۔
سنگاپور کے تعلق میں یہ بھی بتا دوں کہ وہاں تبلیغ کی کھلے عام اجازت نہیں ہے، ہاں دکانوں پر لٹریچر یا کتابوں وغیرہ کو رکھ کر بیچا جا سکتا ہے۔ اور اس اجازت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں کی تبلیغ پر وہاں مسلمانوں نے بہت شور مچایا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا تو حکومت نے ہر مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگا دی اور صرف اپنا لٹریچر بیچنے کی اجازت دی۔ دوسرے مسلمانوں کو تو فرق نہیں پڑتا، نہ ان کے پاس اسلام کا حقیقی علم ہے اور نہ ہی ان کو تبلیغ سے کوئی دلچسپی ہے۔ اس کا اثر صرف جماعت پر پڑا، اس کی تبلیغ میں روک پیدا ہوئی۔ کاش مسلمان یہ سمجھ جائیں کہ آج اگر دلائل اور براہین سے کسی بھی دوسرے مذہب پراسلام کی فوقیت ثابت کرنی ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی پیروی میں ہی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپؑ نے ہی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست رہنمائی حاصل کرکے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کیونکہ آپؑ کے ذریعہ سے ہی ہم وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو صحابہؓ سے ملانے والا ہو۔ کاش مسلمان اس حقیقت کو سمجھ جائیں اور آج دنیا میں تمام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کے لئے آپؐ کے غلام کی مخالفت کی بجائے تائید کرنے والے ہوں۔
اس ضمن میں یہ ذکر کر دوں، پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں کہ اب عرب دنیا میں عیسائیت کے مقابلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور سنا ہے مختلف حکومتوں نے یہ پابندی لگائی ہے کہ عیسائیت کے جو بھی وہاں حملے ہو رہے ہیں ان کا جواب نہیں دینا۔ یہ کیونکہ جواب دے نہیں سکتے اور ان کے پاس دلیل کوئی نہیں۔اس لئے بہتر ہے کہ جواب نہ دو۔ ہمارے عرب احمدی بھائیوں نے جن میں مصطفی ثابت صاحب ہیں اور دوسرے عرب احمدی جو اچھے پڑھے لکھے ہیں، علم رکھنے والے ہیں، انہوں نے یہاں MTA سے خاص طور پر عیسائیت کے اس حملے کے ردّمیں جو کہ آجکل عرب دنیا پہ بہت زیادہ ہو رہا ہے بعض عربی پروگرام کئے اور کر رہے ہیں اس سے عرب تو بہت خوش ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ذریعہ سے بہت سی بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن ہمارے احمدی بھائی جو اس پروگرام کے لئے عرب ملکوں سے آتے ہیں ان کو وہاں انتظامیہ اور حکومت یا حکومتی ادارے کافی تنگ کر رہے ہیں۔ ضمناً یہ ذکر آ گیا ہے اس لئے ان کے لئے بھی جماعت کو کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔
سنگا پور کے بعد آسٹریلیا کا دورہ تھا۔ یہ ایک وسیع ملک ہے، براعظم ہے، اس لئے یہاں دو ہفتے کا پروگرام بنایاگیا تھا لیکن میر ے خیال میں یہ دو ہفتے بھی کم تھے۔ آسٹریلیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ بھی ہوا۔ اور اس دفعہ تو وہاں باہر سے بھی کافی لوگ آ کر شامل ہوئے تھے۔ وہاں ہماری سڈنی میں جو مسجد ہے، بڑی خوبصورت اور بہت بڑی مسجد ہے اور مین روڈ کے اوپر ہی تقریباً واقع ہے اس کا نظارہ بڑا خوبصورت نظر آتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت جب روشنی ہو۔ بلند مینار ہے اور ساتھ گنبد۔جماعت کو یہ بہت اچھی جگہ مل گئی ہے اور اس جگہ کا رقبہتقریباً 28 ؍ایکڑ ہے۔ اس مسجد کا افتتاح بھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔
اب جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے آسٹریلیا جماعت کا اس پلاٹ میں ایک ہال تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کا سنگ بنیاد بھی مَیں نے رکھا۔ ان کا ارادہ یہ خلافت جوبلی سے پہلے تیا ر کرنے کا ہے۔ اور اس کا نام بھی انہوں خلافت سینٹینری ہال (Khilafat Centenary Hall) رکھا ہے۔ اس عمارت میں گیسٹ ہاؤس بھی ہو گا، ہال بھی ہوں گے، ذیلی تنظیموں کے دفاتر بھی ہوں گے اور دیگر ضروریات بھی ہوں گی۔یہ کافی بڑا منصوبہ ہے۔ پھر بریسبن میں دس ایکڑ زمین کا ایک رقبہ خریدا گیا اس میں بھی نمازوں کے لئے ہال اور مشن ہاؤس اور گیسٹ ہاؤس وغیرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ اس سارے کمپلیکس کا بھی افتتاح ہوا۔ اسی طرح ایڈیلیڈ میں بھی جماعت نے جگہ حاصل کی ہے۔ تقریباً 20؍ایکڑ جگہ ہے۔ یہاں فی الحال عارضی تعمیر کی گئی ہے، آئندہ انشاء اللہ یہاں بھی مسجد کا منصوبہ ہے لیکن جگہ اچھی ہے۔ یہاں پر اولِو (Olive) کا پرانا باغ لگا ہوا تھا۔ پلا پلایا زیتون (Olive)کا باغ بھی ان کو مل گیا۔ پھر سڈنی میں اور کینبرا میں ریسیپشن (Reception)بھی ہوئی۔ سڈنی کی Reception مسجد کے احاطے میں ہی تھی۔ وہیں مہمان آئے تھے اور کینبرا کی Reception وہاں کے نیشنل میوزیم نے آرگنائز کی تھی۔ ایم ٹی اے پر آپ نے کچھ دیکھا بھی ہو گا۔ دونوں جگہ اچھے پڑھے لکھے لوگ، سیاستدان اور مختلف ملکوں کے ایمبیسیڈرز آئے ہوئے تھے۔ آسٹریلیا میں کافی تعداد میں فجیئن احمدی بھی اب آ کر آباد ہو گئے ہیں اور اسی طرح دوسر ے فجیئن بھی جن میں لاہوری یا پیغامی جماعت کے ہمارے سے ہٹے ہوئے دوست بھی کافی آباد ہوئے ہیں۔ تو اس Reception میں بھی دو خاندان لاہوری احمدیوں کے آئے ہوئے تھے، اچھے شریف لوگ تھے۔ جماعت کے افراد سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ صرف ایک جھجک ہے۔ ان کے چہروں سے لگتا ہے کہ اب یہ مانتے ہیں کہ یہ جماعت اصل جماعت احمدیہ ہے، یہی حق پر ہے۔ لیکن قبول کرنے میں جھجک ہے۔ تو مَیں نے تو ان میں سے ایک دو کو کہا تھا کہ جھجک توڑیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکمل دعاوی پر ایمان لائیں۔ بظاہر تو انہوں نے غور کرنے کو کہا۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بھی دے۔
Reception میں اسلام کی امن کی تعلیم کے بار ے میں بھی کچھ کہنے کی توفیق ملی۔ اس کے بعد پھر کئی ملنے والے ملے اور بہت ساری غلط فہمیاں دور کرنے کا شکریہ ادا کیا۔ اس Reception میں وہاں کے اٹارنی جنرل بھی آئے ہوئے تھے انہوں نے مجھے بعد میں کہا کہ مَیں سمجھتا تھا کہ مجھے اسلام کے بارے میں بہت کچھ پتہ ہے لیکن تم نے بعض بالکل نئی باتیں بتائی ہیں۔ ان لوگوں سے کافی باتیں بھی ہوتی رہیں۔
کینبر ا وہاں کاکیپیٹل (Capital)ہے کینبرا (Canbra)میں جس میوزیم میں Reception کا انتظام کیا گیا تھا وہ وہاں کا نیشنل میوزیم ہے وہاں مختلف ملکوں کے ایمبیسیڈرز بھی آئے ہوئے تھے، امریکہ کے بھی شاید ایمبیسیڈر نمبر دو موجود تھے اور اس طرح دوسرے ملکوں کے سفراء بھی تھے، آسٹریلیا کے امیگریشن منسٹر بھی تھے اور سینٹ کے ممبر بھی تھے، مختلف چرچوں کے بڑے پادری بھی تھے تووہاں بھی امن کے بارے میں اسلام کی تعلیم بتانے کا موقع ملاکہ کیا ہے۔ اس میں مَیں نے بتایا، کہ ہر مسلمان کا عمل چاہے وہ اسلام کے نام پر کرے یا ذاتی حیثیت سے کرے اگر اس کاکوئی بھی فعل معاشرے کے امن کو نقصان پہنچانے والا ہے تو تم لوگ فوراً اس کو اسلام کے کھاتے میں ڈال کر اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کر دیتے ہو۔ اگر کوئی عیسائی ایسی حرکت کرے یا دوسرے مذاہب والے کریں تو اس کو اس کے مذہب سے منسوب نہیں کیا جا تا کہ یہ اس مذہب کے ماننے والے نے حرکت کی ہے۔ بعدمیں وہاں پر امیر جماعت آسٹریلیا محمود احمد بنگالی صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک سفیرجو ایک اسلامی ملک کے سفیر ہیں اور جہاں احمدیت کی مخالفت بھی آجکل زوروں پر ہے وہ محمود صاحب کوکہنے لگے کہ یہ بات جو انہوں نے کی ہے۔ (جو وہاں مَیں نے Reception میں تقریر کی تھی، مختصر سا خطاب کیا تھا۔) بڑی سچی بات ہے لیکن ایسے مجمع میں جہاں بڑے بڑے ملکوں کے نمائندے ہوں تم لوگ ہی یہ کہہ سکتے ہو،ہم میں تو اتنی جرأت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور سمجھ دے اور یہ اس زمانے کے امام کے انکاری ہونے کی بجائے اس کو ماننے والے بن جائیں جس نے اسلام کی خوبیوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے ماننے والوں کے ایمان میں ترقی کاذریعہ بنے ہیں۔ جب اس غلام صادق کو مان لیں گے تو یہ جرأتیں اور ہمتیں خود بخود پیدا ہو جائیں گی او رکسی کو جرأت نہیں رہے گی کہ اسلام پر اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہودہ اور لغو حملے کر سکیں۔ تو جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا ہے کہ وہاں پادری بھی آئے ہوئے تھے وہ وہاں کے بڑے چرچوں کے نمائندے تھے انہوں نے بھی مجھے بعد میں یہ کہا کہ بات تو تم نے ٹھیک کی ہے کہ مسلمان کی ہر غلط حرکت اسلام کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے اور باقی مذہب والوں سے ایسا سلوک نہیں ہوتا۔ ان کے دلوں پر اس وقت کیا بیتی ہے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ لیکن بہرحال کافی دیر اچھے ماحول میں میرے ساتھ احمدیت اور جماعت کے حالات اور اس طرح کے دوسرے موضوعات پر باتیں کرتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف طبقوں میں اور مختلف ملکوں کے نمائندوں تک بھی اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملتی رہی اور تربیتی کاموں کی بھی توفیق ملتی رہی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہتر نتائج ظاہر فرمائے۔
آسٹریلیا کے بعد فجی کا دورہ تھا۔ یہاں بھی جلسہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ میں جماعتی تربیتی ا مور پر باتیں ہوئیں۔ یہاں مختلف جگہوں پر چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں۔ جزائر فجی میں جو ایک بڑا مین جزیرہ ہے وہ فجی کہلاتا ہے، اس میں چار جماعتوں میں جانے کی توفیق ملی اور اس کے علاوہ دو جزیروں میں (VANUALEVU)وانوالیُو اورتاوے یونی۔اگر میں صحیح تلفظ بول رہا ہوں تو) بہرحال وہاں بھی میں گیا۔ پھر ماروؔ جو فجی میں ناندی کے قریب جگہ ہے یہاں بھی لجنہ ہال کا افتتاح تھا۔ چھوٹی مسجد کے احاطے میں ہے،یہاں بھی گیا۔ فجی بھی ایک بہت خوبصورت ملک ہے اور قدرتی حسن اور خوبصورتی کے لحاظ اس کا مقابلہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں کے لوگوں کو بھی حقیقی حسن کی پہچان کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کا حسن ہے اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیم کا حسن ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن ہے۔ یہ فجی کے رہنے والے احمدیوں کا کام ہے کہ اس پیغام کو،ا س حسن کو، اس خوبصورتی کو اپنے ہم قوموں تک پہنچائیں۔
جیسا کہ مَیں ذکر کر رہا تھا ایک اور جزیرے میں بھی چھوٹے جہاز پر جانے کا موقع ملا، لمباسہ ان کا ایک شہر ہے وہاں پہنچے جہاں سے پھر تقریباً 45-40منٹ کی ڈرائیو (Drive) پر ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ یہاں جماعت نے تین سال پہلے ایک ہائر سیکنڈری سکول قائم کیا تھا۔ ماشاء اللہ عمارت وغیرہ بڑی اچھی ہے اور طلباء کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے بالکل ریموٹ (Remote) علاقے میں دور دراز علاقے میں ہے۔یہاں نئے ہوم اکنامکس بلاک کا بھی افتتاح کیا۔ اس دور دراز علاقے کے احمدیوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن کا فجی آنا مشکل تھا۔
پھر تاوے یونی جہاں ڈیٹ لائن گزرتی ہے وہاں بھی گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے کو پورا ہوتے دیکھا۔ وہاں جو بورڈ لگایا ہوا ہے اس میں ڈیٹ لائن کو جس طرح نقشے پر سے گزارا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ اس جزیرے کو جہاں سے ڈیٹ لائن گزرتی ہے وہ کل یعنی گزری ہوئی کل Yesterdayلکھا ہوا ہے اور جہاں ابھی سورج چڑھنا ہے یعنی مغرب اس کو Todayلکھا ہوا ہے یعنی آج۔ ہمارے ساتھ ہمارے ایک احمدی جغرافیہ دان تھے۔ ان سے مَیں نے پوچھا کہ یہ کس طرح ہو گیاکہ آج کی تاریخ تو سوائے اس جگہ کے اور کہیں نہیں ہے اس کو آپ Yesterdayکہہ رہے ہیں اور جہاں یہ تاریخ ابھی شروع ہونی ہے اس کو Todayلکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پہلے بڑی دلیلیں دیں لیکن بعد میں چپ کر گئے۔ پتہ نہیں کہ واقعی ان کو سمجھ آ گئی تھی اورچپ کر گئے تھے یا لحاظ میں چپ کر گئے تھے یا کنفیوژن تھی۔ بہرحال مَیں نے انہیں کہا۔ جو بھی ہے آپ خود پہلے اس پر کلیئر (Clear)ہوں پھر مجھے بتائیں کہ کیا وجہ ہے۔ یہ ضمنا ً اس لئے مَیں نے ذکر کر دیا کہ مجھے تو اس کی سمجھ نہیں آئی۔ جغرافیہ دان یا جو دوسرے اس کاعلم رکھنے والے ہیں اگر وہ اس کی مجھے کوئی وضاحت کر سکیں جس سے اس کا جواز سمجھ آ سکے تو وہ علم میں اضافے کا موجب ہو گا۔ بظاہر تو میرا خیال ہے یہ مغرب والوں کا چکر ہے کہ اپنے آپ کو Todayبنایا ہوا ہے اور دوسروں کو پیچھے کر دیا۔
اس جزیرے میں بھی یہاں شہریوں کے مختلف طبقات اور چرچ کے پادری جو بنیادی طور پر نیوزی لینڈ کے رہنے والے تھے ان کوبھی اسلام کے امن اور بھائی چارے کا پیغام پہنچایا۔ فجی میں صووا جو ان کا کیپٹیل ہے،اس میں بھی ایک پڑھے لکھے طبقہ میں جس میں سرکاری افسران بھی تھے بعض ملکوں کے سفیر بھی تھے Receptionپر بلایا ہوا تھا بلکہ اس ملک کے نائب صدر جو آجکل قائمقام صدر بھی ہیں وہ بھی اس میں آ گئے۔ اس میں بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم اور محبت اور بھائی چارے کے بارے میں بیان کیا۔ برطانیہ کے سفیر بھی اس میں شامل ہوگئے تھے، اسی طرح آسٹریلیا اور دوسرے ملکوں کے بھی۔ اچھی گیدرنگ (Gathering) تھی۔ ہوتے تو یہ لوگ سیاستدان اور مذہب سے لاتعلق ہیں لیکن ان کا شاید اس حد تک فائدہ ہو جاتا ہو کہ اسلام کی کسی حد تک صحیح تصویر ان کے سامنے آ جاتی ہے اور پھر بلاوجہ جو دل کے بغض اور کینے اسلام کے خلاف ان کے دلوں میں ہوتے ہیں وہ اگر ختم نہیں ہوتے تو کم از کم،کم ہو جاتے ہیں اور یہ بھی ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے والی جماعت ہے۔
فجی میں ہی ایک دن مَیں صبح اٹھا ہوں۔فجر کی نماز کی تیاری کر رہا تھاتو پاکستان سے ناظر صاحب اعلیٰ کا فون آیا کہ خیریت ہے۔ خبر آئی ہے کہ بڑا سخت سونامی (Tsunami)کا خطرہ ہے۔ اس دن نیوزی لینڈ بھی جانا تھا وہاں بھی کچھ علاقوں میں خطرہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ زلزلے کا سارا اثر پانی کے اندر ہی دب کر رہ گیا۔ خبروں میں جو بی بی سی کے ذریعہ سے مَیں تفصیل سن رہا تھا اس سے لگتاتھا کہ ٹونگا،جس کے قریب یہ زلزلہ آیا تھا وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ نماز پر جب مَیں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ ٹونگا کا کیسا علاقہ ہے تو انہوں نے بتایا کہ بالکل پلین (Plain)ہے۔تو یہاں ہماری نئی نئی جماعت ابھی قائم ہوئی ہے۔ فجی کے جلسے پر بھی یہ لوگ آئے ہوئے تھے اور بڑے مخلص لوگ تھے۔ اس بات پر کہ قریب ہی زلزلہ بھی ہے، سونامی کا خطرہ بھی ہے، پہاڑی علاقہ بھی نہیں اونچا پہاڑی علاقہ ہو تو محفوظ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ تو ان کے لئے فکر پیدا ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا نماز پڑھ کر جب واپس آئے تو خبر تھی کہ سب محفوظ ہے اور ٹونگا سے ہی کسی عورت کا پیغام بی بی سی والے سنا رہے تھے کہ یہ ختم ہو گیا۔ اللہ کرے کہ دنیا اب وقت کے امام کو پہچان لے اور ان آفات سے محفوظ ہو جائے۔ ورنہ آج یہاں اور کل وہاں جو طوفان آ رہے ہیں اور بظاہر جو بعض جگہوں کو بڑا نقصان نہیں ہو رہا تویہ وارننگ ہے۔ اگر آج بھی خدا کو نہ پہچانا تو جو تباہیوں کے نمونے ہم نے دیکھے ہیں وہ دوبارہ بھی نظر آ سکتے ہیں۔ اللہ رحم کرے۔ آج ہر ملک کے احمدی کو چاہئے کہ اپنے ملک کے لوگوں کو یہ پیغام پہنچانے میں لگ جائیں ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نہ جزائر محفوظ رہیں گے، نہ یورپ محفوظ رہے گا، نہ امریکہ محفوظ رہے گا، نہ ایشیا محفوظ رہے گا۔ خدا ان لوگوں کو عقل اور سمجھ دے اور وہ اپنے خدا کو پہچاننے والے ہوں۔
فجی میں قریب کے جزائر میں طوالو ہے، کریباتی ہے، ٹونگا ہے جس کا مَیں نے ذکر کیا اورونواٹو ہے۔ یہاں سے بھی نمائندے آئے ہوئے تھے۔ مالی لحاظ سے ان لوگوں کے اتنے اچھے حالات نہیں ہیں ، غریب لوگ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض خاندان وہاں آئے ہوئے تھے۔ چند سال پہلے وہ احمدی ہوئے ہیں۔ لیکن جذبات اور اخلاص کا اظہار بہت زیادہ تھا۔ ان ملکوں کے نمائندوں سے بھی میٹنگ ہوئی اور تبلیغی اور تربیتی منصوبوں کے بارے میں ان کو سمجھایا۔ اللہ تعالیٰ اپنا نور مکمل طور پر ان چھوٹے چھوٹے جزیروں میں پھیلا دے جہاں چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں اور مکمل طور پر ان کو احمدیت اور حقیقی اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حقیر کوششوں میں برکت ڈالے اور قبول فرمائے۔
فجی کے بعد نیوزی لینڈ کا دورہ تھا۔ اللہ کے فضل سے یہاں کی جماعت کافی بڑھ گئی ہے اور اکثریت فجین احمدیوں کی ہے۔ فجی سے لوگ مائیگریٹ (Migrate)کرکے یہاں نیو زی لینڈ آگئے ہیں۔ گو کہ یہاں ابھی تک مبلغ نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں نے اپنے آپ کو سنبھالا ہوا ہے۔ اچھا انتظام کیا ہوا تھا۔یہاں بھی Reception تھی۔ یہاں بھی وہی اسلام کی تعلیم بیان کرنے کی توفیق ملی۔
وہاں کے مقامی ماؤری قبیلے کے جو بڑے سردار تھے اور پارلیمنٹ میں ایم پی بھی ہیں وہ بھی آئے ہوئے تھے اور ایک منسٹر بھی آئے ہوئے تھے۔ ابھی تک مقامی جماعت مسجد کی باقاعدہ شکل بنانے اور مبلغ بلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ اور زیادہ تر ان کے نزدیک حالات کی وجہ سے، مصلحت کے چکر میں وہ پڑے ہوئے تھے۔ جو وزیر آئے ہوئے تھے ان موصوف سے مَیں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بظاہر تو کوئی روک نہیں ہے آپ مسجد بھی باقاعدہ بنا سکتے ہیں اور بنائیں۔ اس و قت وہاں آکلینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے اڑھائی ایکڑ زمین خریدی ہوئی ہے اور اس میں تعمیر بھی ہوئی ہے۔ دو بڑے ہال ہیں، گو جماعت پوری کی پوری اس میں نماز پڑھ سکتی ہے دفتر ہے لائبریری وغیرہ ہے، گیسٹ ہاؤس ہے لیکن مسجد کی باقاعدہ شکل یعنی مینارے وغیرہ کے ساتھ مسجد نہیں بنائی گئی گو کہ ہال قبلہ رخ ہے۔ جس طرح مَیں نے کہا، مشنری کی بھی ان سے بات کی تو انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ مدد کریں گے۔ اب وہاں کے نیشنل پریذیڈنٹ صاحب کا کام ہے کہ ان سے رابطہ کریں۔ اور مشنری بلوانے کی کوشش کریں۔ اگر مبلغ آ جائیں تو تربیت میں بہت فرق پڑتا ہے۔اللہ کرے کہ یہ وزیر صاحب بھی اپنے وعدے کے پابند رہیں اور جماعت کسی مصلحت کا مزید شکار نہ ہو۔ ویسے ماشاء اللہ اچھی مخلص جماعت ہے اور بڑی ہمت اور اخلاص سے سب نے ڈیوٹیاں وغیرہ بھی دیں۔ نوجوانوں نے بھی، ان کے لئے پہلا موقع تھا اتنے بڑے انتظام کا اور ذمہ داری کے ساتھ انتظام کو نبھانے کا اور انہوں نے نبھایا اور اچھا نبھایا۔
جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا کہ آسٹریلیا میں فجین لاہوری احمدی تھے جو یہاں بھی ہیں۔ فجی سے نیوزی لینڈ میں بھی آ کر آباد ہوئے ہیں۔ اور تین چار نسلوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ان لاہوری فجین میں سے بہت سارے جماعت میں داخل بھی ہو چکے ہیں اور خلافت سے کامل اطاعت رکھتے ہیں۔ وہاں ایک دو خاندان،ویسے توکئی ہوں گے، ابھی ایک دو خاندان ایسے ہیں جو جماعت کے مزید قریب آ رہے ہیں یا کم از کم تعلق کی وجہ سے آ جاتے ہیں، جلسے پر بھی آئے ہوئے تھے۔ ایک فیملی نے ان میں سے مجھ سے بعد میں وقت لیا۔ کوئی آدھ گھنٹے تک ان کو مَیں نے سمجھایا۔ ان کا بیٹا احمدی ہو گیا تھا۔ اچھا مخلص نوجوان ہے اس نے بڑے درد سے مجھے کہا تھا کہ دعا کریں کہ میرے ماں باپ بھی احمدیت قبول کر لیں۔ تو بہرحال ان کے ماں باپ سے بھی کافی تفصیلی بات ہوئی۔ باپ کچھ زیادہ اکھڑ تھے، بوڑھے زیادہ نہیں تھے۔ 60سال کے تھے لیکن اکھڑ پن بعض طبیعتوں میں آ جاتا ہے۔ اسی بات پر اڑے ہوئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی نہیں ہیں اور لٹریچر انہوں نے پڑھا نہیں ہوا تھا۔ ان کو مَیں نے کہا کہ آپ اور کچھ نہ پڑھیں، ایک چھوٹی سی کتاب ہے’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘وہ پڑھ لیں۔اور بھی کئی جگہ پہ (یہ بحث)ہے لیکن اس سے آپ کی تسلی ہو جائے گی۔ تو بہرحال انہوں نے کہا اچھا مَیں دیکھوں گا، پڑھوں گا۔ بیٹے نے کہا میرے پاس ہے۔ باپ کہنے لگے کہ مجھے سوچنے کا موقع دیں۔ ویسے وہاں مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ان (پیغامیوں)کی جو انتظامیہ ہے اس کی طرف سے یہ (ہدایت) ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لٹریچر سارا نہیں پڑھنے دیتے یا شائع نہیں کرتے تاکہ ان کو نبوت کے بارے میں صحیح حقیقت نہ پتہ لگ جائے۔ لیکن ان سے ملاقات کے دوران میں یہ دیکھ رہا تھا کہ ان کی اہلیہ کے چہرے پر ایک تبدیلی آ رہی ہے۔ اور وہ تبدیلی چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔ اگلے دن پھر وہ اپنے بیٹے کے ساتھ آئیں اس سے پہلے انہوں نے بیعت فارم بھی بھیج دیا اور آنسوؤں سے رونے لگیں اور کہا کہ میرا میاں تو احمدی ہوتا ہے یا نہیں۔ آپ میری بیعت لے لیں مجھے آپ کی باتیں سن کر تسلی ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو استقامت عطا فرمائے اور ان سب بچھڑے ہوؤں کو عقل اور سمجھ عطا کرے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام دعاوی کو ماننے والے ہوں اور حقیقت کو پہچاننے والے ہوں۔
Reception کا مَیں نے ذکر کیا تھا۔ ماؤری قبیلے کے لوگ بھی آئے ہوئے تھے جیسا کہ مَیں نے کہا، جو لیڈر بھی ہیں اور پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں انہوں نے بھی اس کے بعد مجھے کہا کہ(آپ نے) اسلام کی بڑی خوبصورت تعلیم بیان کی ہے۔ یہی انصاف ہے اور یہی ہم چاہتے ہیں کیونکہ وہ لوگ بڑا محروم طبقہ ہے اس لحاظ سے کہ مقامی لوگ ہیں لیکن ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ باہر والوں نے ان جزیروں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اچھا کہنے والے نہ بنائے بلکہ حقیقت کو سمجھنے والا بھی بنائے۔ اس کو قبول کرنے والے ہوں۔
آسٹریلیا کے ضمن میں ایک بات رہ گئی تھی۔ وہاں سالومن آئی لینڈز سے چھ مقامی احمدیوں کا ایک وفدجلسے پر آیا تھا ماشاء اللہ وہ لوگ بھی اخلاص میں بڑی ترقی کر رہے ہیں۔ ان میں ایک وہاں کے رائل خاندان کے ہیں جس میں سے ایک شخص چیف چنا جاتا ہے، نو احمدی ہیں۔ ان کے آئندہ چیف چنے جانے کے بھی امکانات ہیں۔ اچھے پڑھے لکھے ہیں اپنے پورے خاندان کے ساتھ احمدی ہوئے تھے۔ وہاں اللہ کے فضل سے کافی خاندان احمدی ہو گئے ہیں۔ اب سالومن آئی لینڈز میں جماعت نے گزشتہ سال زمین خرید کر مشن ہاؤس بھی خرید لیا ہے۔ گھانا سے معلم بھی بھیجے ہوئے ہیں۔ ان چیف کے ماتحت وہاں کچھ جزیرے بھی ہیں اور کشتیوں پر ہر جزیرے سے رابطہ ہے اور ان کا آپس میں کئی گھنٹوں کا سفر ہوتا ہے۔ بہرحال اس احمدی نے اپنے چیف بننے کے لئے دعا کے لئے بھی کہا۔ اللہ کرے کہ جب وقت آئے تو اللہ تعالیٰ ان کو موقع دے اور پھر ان کے ذریعے تمام جزائر کو احمدیت میں شمولیت کی توفیق بھی دے۔ کیونکہ بہت سارے لوگ چیف کو بھی دیکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہ نو احمدی اخلاص میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ان کی شکل دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ یہ نو احمدی ہیں اس طرح اخلاص، وفا، ادب، احترام، حیا آنکھوں میں تھی اور ہر عمل سے ٹپک رہی تھی کہ دیکھ کے حیرت ہوتی تھی حالانکہ وہاں کے مقامی لوگ ہیں اور پھر انہوں نے وصیت کے نظام میں بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔ تو یہ جوعجیب عجیب نظارے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے کئے گئے وعدے کے مطابق ہیں کہ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا، ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ اور خود اللہ تعالیٰ اس کا انتظام فرما رہا ہے۔ ان کے دلوں میں احمدیت اور حقیقی اسلام کی محبت گڑتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص و وفا میں مزید بڑھاتا چلا جائے۔
نیوزی لینڈ میں ڈاکٹر کلیمنٹ ریگ کے پوتے اور پوتی سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ ان سے رابطہ بھی اللہ کے فضل سے اتفاق سے ہو گیا۔ پہلے تو مجھے نصیر قمر صاحب نے چلنے سے پہلے لکھا تھا کہ اس طرح یہ وہاں رہتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں بتاتا ہوں کہ کون تھے۔ پھر نیشنل پریذیڈنٹ کو ہم نے لکھا انہوں نے انٹرنیٹ پر مختلف آرگنائزیشن سے رابطہ کرکے پتہ کروایا کیونکہ یہ ایک مشہور سائنسدان تھے، ان کے خاندان کا پتہ لگ گیا۔ یہ ڈاکٹر کلیمنٹ صاحب جو ہیں یہ 1908ء میں ہندوستان آئے تھے اور یہ مختلف جگہوں پر لیکچر دیتے رہے۔ نیوزی لینڈ کے رہنے والے تھے اور آسٹرانومی کے ماہر تھے۔ لاہور میں جب انہوں نے لیکچر دئیے تو وہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو پتہ چلا انہوں نے ان کا لیکچر سنا اوراس کے بعد ان سے رابطہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بتایا تو ڈاکٹر کلیمنٹ نے حضرت مسیح موعودؑ کو ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پہلے تو کہا کہ ابھی چلیں میرے ساتھ۔ انہوں نے کہا ابھی تو نہیں چل سکتے، وقت لے کے۔ تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وقت لیا اور 12مئی 1908ء کو پہلی ملاقات ہوئی اور پھر 18مئی 1908 کو دوسری ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وقت لے کے انہوں نے کی اور بڑی تفصیل سے مختلف موضوعات پر سوال و جواب ہوئے۔ کائنات کے بارے میں روح کے بارے میں، مذہب کے بارے میں، خداتعالیٰ کے بارے میں۔ تو بہرحال ان سوالوں کی ایک لمبی تفصیل ہے، جو ملفوظات میں بھی اور ریویو کے انگریزی حصے میں بھی چھپی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس گفتگو کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عرض کیا۔ میں تو سمجھتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے جیسا کہ عام طور سے علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تو اس تضاد کو بالکل اٹھا دیا ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بالکل اختلاف نہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا شکریہ ادا کیا اور اس گفتگو کے بعدجوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ دو سٹنگز (Sittings)ہوئی تھیں ڈاکٹر صاحب کی طبیعت پر جو اس کے اثرات تھے۔ اس کا ذکر حضرت مفتی صادق صاحب نے پھر ایک اور مجلس میں حضورؑ کی خدمت میں کیا۔یہ 23مئی وفات سے چند دن قبل کا واقعہ ہے کہ اس کی طبیعت میں اتنا فرق پڑ گیا ہے کہ بالکل خیالات بدل گئے ہیں۔ کہیں تو وہ حضرت عیسیٰؑ کی مثالیں دیا کرتا تھا اور کفارہ کا ذکر کیا کرتا تھا مگر اب اپنے لیکچروں میں خدا کی کبریائی اور بڑائی بیان کرتا ہے۔ اور پہلے ڈارون کی تھیوری کا قائل تھا مگراب کیفیت یہ ہے کہ’ ڈارون کا قول ہے‘ اس طرح ذکر کرکے بات کرتا ہے۔ اور اپنے لیکچروں میں یہ شروع کر دیا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے اس کو سمجھایا تھا کہ حقیقت میں انسان اپنی حالت میں خود ہی ترقی کرتا ہے۔ تو یہ ڈاکٹر صاحب بعد میں حضرت مفتی صاحب سے رابطہ میں رہے گو کہ صحیح ریکارڈ نہیں ہے لیکن غالب امکان ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت کی وجہ سے ایمان لے آئے تھے اور مسلمان ہو گئے تھے۔ ان کے پوتے اور پوتی کو جب پتہ چلا ان سے رابطہ کیا ان کو بتایاکہ مَیں اس طرح آ رہا ہوں اور ملنا بھی ہے تو انہوں نے بھی ملنے کا اظہار کیا اور Receptionمیں آئے اور بعد میں دونوں بیٹھے بھی رہے باتیں ہوتی رہیں دونوں کافی بڑی عمر کے ہیں۔ یعنی بڑی عمر سے مراد 60-55سال کے۔ پوتے کو زیادہ علم نہیں تھالیکن پوتی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مسلمان ہو گئے تھے اور ہندوستان سے واپس آنے کے بعد پہلی بیوی نے علیحدگی لے لی تھی۔ انہوں نے دوسری شادی ہندوستا ن میں کی تھی اور بتایا کہ ہم اس دوسری بیوی کی نسل میں سے ہیں۔ مزید مَیں نے استفسار کیا کاغذات کے بارے میں کہ کس طرح مسلمان ہوئے، کب بیعت کی، کس طرح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بہت سارے کاغذا ت تھے لیکن آگ لگنے کی وجہ سے وہ سارا ریکارڈ ضائع ہو گیا، کوئی خط و کتابت محفوظ نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اس بات پر انہوں نے یقینی کہا کہ ان کی موت اسلام کی حالت میں ہوئی تھی اور وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے رہے تھے۔ اور اس لحاظ سے قیاس کیا جاسکتا ہے کیونکہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے اس لئے احمدی ہوئے ہوں گے۔ بہرحال ان کی قبربھی وہاں قریب ہی آکلینڈ میں ایک جگہ پرہے۔ ان کے پوتے اور پوتی کو بھی لٹریچر دیا۔ نیوزی لینڈ کے پریذیڈنٹ صاحب کو بھی کہا کہ ان سے رابطہ رکھیں۔ اللہ کرے کہ ان لوگوں کے دل میں بھی حق کی پہچان کی طرف توجہ پیدا ہو جائے۔
پھر اس سفر کا آخری ملک جاپان تھا یہاں کا بھی دورہ تھا۔ یہاں بھی اللہ کے فضل سے جاپانی جو مقامی ہیں اس وقت 12-10ہیں، جنہوں نے رابطہ کیا تھا یا رابطے میں کچھ نہ کچھ رہتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے اور تربیتی امور پر توجہ دلانے اور اس طرح باقاعدہ باقی جماعت کو بھی تربیتی امور کی طرف توجہ دلانے کی توفیق ملی۔ جلسہ بھی ہوا۔ جاپانی احمدیوں میں ان دنوں میں جتنے دن میں وہاں رہا پہلے دن جو ان کا رویہ تھا وہ مَیں دیکھتا رہا ہوں ہر روز اس میں ایک تعلق اور وفا کی کیفیت بڑھتی رہی، تبدیلی محسوس ہوتی رہی۔ اللہ کرے کہ یہ لوگ بھی اپنی قوم میں اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی خواہش کو پورا کرنے والے ہوں جو آپؑ نے جاپان کے بارہ میں کہی تھی کہ ان لوگوں میں مذہب کی طرف رجحان ہے۔ یہاں جاپان میں بھی کئی منسٹرز اور ایم پی وغیرہ ملنے کے لئے آئے تھے، Reception میں بھی آئے تھے۔ اچھا اثر لے کر گئے ہیں۔ ایک ممبر پارلیمنٹ نے تو مجھے کہا کہ ہمیں اسلام کے بارے میں زیادہ پتہ نہیں ہے اس لئے ہم جلد ہی مغرب کے معترضین کے زیراثر آ جاتے ہیں ہمیں اسلام کے بارے میں بتائیں۔ ان سے علیحدہ بھی کافی لمبی گفتگو ہوتی رہی۔ اللہ کرے کہ وہاں کی جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسلام کا پیغام پہنچانے کا حق ادا کرنے والی بنے۔
سب دعا کریں کہ اس سفر کے بہترین نتائج نکلیں اور جلد سے جلد ہم اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کوہر ملک میں لہراتا دیکھیں اور حضرت مسیح موعودد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ کے مطابق ہر روز خداتعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تاثیرات سے نور اور یقین پانے والے ہوں۔ آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/KdAFk]

اپنا تبصرہ بھیجیں