خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍دسمبر 2006ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ہر احمدی کا کام ہے کہ اٹھے اور خداتعالیٰ اور اسلام کا صحیح تصورپیش کرکے لوگوں کو بھٹکی ہوئی راہ سے واپس لائے۔
جرمن ایک باعمل قوم ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ اگر آج کے احمدی نے اپنے فرائض تبلیغ احسن طور پر انجام دیئے تو اس قوم کے لوگ ایک عظیم انقلاب پیدا کردیں گے۔
ہر احمدی مرد،عورت،بوڑھے اور جوان کو حالات کے مطابق بھی اور عمومی تبلیغی لٹریچر بھی ہر جرمن تک پہنچانا چاہئے۔وقتاً فوقتاً ہر ممبر پارلیمنٹ،ہر وزیر،ہر بڑے افسر،ہراخبار، ہرلیڈرجو بھی ہے اور پڑھے لکھے تک احمدیت اور اسلام کا تعارف جو حقیقی تعارف ہے پہنچائیں۔
مخالفین اور مذہب سے ہنسی ٹھٹھا کے جو یہ مواقع پیداہوتے ہیں یہ ہمیں اپنے کام کی طرف توجہ دلانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔
اللہ کی نظر میں بہترین بات کہنے والے بن کر اسلام کا حقیقی نجات کا پیغام اپنے ملک کے ہر چھوٹے بڑے تک پہنچا دو کہ یہ آج سب سے بڑی خدمت انسانیت ہے
(مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف شدید معاندانہ پراپیگنڈا کے پس منظر میں احباب جماعت کو نہایت اہم تاکیدی نصائح)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 22؍دسمبر 2006ء (22؍فتح 1385ہجری شمسی) بمقام مسجد بیت السبوح۔فرینکفورٹ (جرمنی)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج کل مغرب میں، مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف ایک لحاظ سے بڑی شدید رو چلی ہوئی ہے، بعض کھل کر ذکر کرتے ہیں، بعض بظاہر مسلمانوں کے ہمدرد بن کر اسلام کی تعلیم کی بعض خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فی زمانہ ان پر عمل نہیں ہوسکتا اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اسلام کی تعلیم پر اس لئے اعتراض کرتا ہے کہ وہ مذہب کے ہی خلاف ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات اور وجود کے ہی وہ لوگ منکر ہیں اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ خدا کی ذات کا تصور ہی ہے جس نے دنیا میں یہ سب فساد پھیلایا ہوا ہے۔
جیسا کہ مَیں نے اپنے ایک گزشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا کہ انگلستان میں بھی ایک کتاب چھپی ہے جس کو اس سال کی بہترین کتابوں میں شمار کیا جارہا ہے اور اس کو سب سے زیادہ بکنے والی کتاب کہتے ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کی نفی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح جرمنی میں بھی اسلام اور خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق لغو اور بیہودہ باتیں کی گئی ہیں جیسا کہ یہاں جب پوپ آئے تھے تو انہوں نے یونیورسٹی میں اپنے لیکچر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام میں خدا کے تصور کے بارے میں ہرزہ سرائی کی تھی۔ ایسی باتیں کیں کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ اس مقام کے شخص بھی جو امن کے دعویٰ دار اور محبتیں پھیلانے کے دعویدار ہیں ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔
لیکن جس آزادی کے نام پر انہوں نے باتیں کیں یا بعض لیڈروں کے بیانوں میں دیکھنے میں آتی ہیں یا مختلف اوقات میں اسلام کے بارے میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہایت گھٹیا اور دل آزار باتیں اخباروں میں لکھی جاتی ہیں۔ اس آزادی نے اپنا پھیلاؤ اس حد تک کرلیا ہے کہ یہاں کے جو رہنے والے اور کچھ نہ کچھ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں اس آزادی نے ان کے مذہب عیسائیت اور حضرت عیسیٰؑ جو ان کے یعنی عیسائیوں کے تصورکے مطابق خدا ہے،کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اور یہاں گزشتہ دنوں اوپرا (Opera) میں جو ایک ایسا گھٹیا قسم کا ڈرامہ دکھایا گیا ہے جس پرعیسائیت یا مذہب سے ہٹی ہوئی اکثریت نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو جائز قرار دیا ہے اور نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ پسند بھی کیا۔ یہ ستم ظریفی اس حد تک ہے کہ بعض مسلمان تنظیموں کے لیڈروں نے بھی اس کو جائز قرار دیا اس میں ترک لیڈر بھی شامل ہیں، دوسر ے بھی ہیں۔ بہرحال مذہب سے لگاؤ رکھنے والا ایک عیسائی طبقہ ایسا بھی ہے اور بعض پادریوں نے بھی جب ہمارے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا، بات کی تو انہوں نے احمدیوں کے احتجاج کو جائز قرار دیا اور اس حرکت کو غلط اور دوسروں کے جذبات سے کھیلنے والی اور آزادی اظہار کے نام پر دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی قرار دیا اور خدا اور انبیاء کی عزت پر حملہ قرار دیا۔ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ آزادی کے نام پر دوسروں کے جذبات سے کھیل کر پھر یہ کہتے ہیں کہ اس پر اعتراض کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ مغرب کی آزادی ضمیر و اظہار کے خلاف آواز اٹھا رہے ہو اور پھر ایسا شخص جو بھی یہ آواز اٹھائے گا اس کو پھر ہمارے معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پھر جہاں تمہارا ملک ہے، وطن ہے، وہاں جاؤ۔ اپنے لئے یہ لوگ بڑے حسّاس جذبات رکھتے ہیں۔ اپنے لئے یہ اصول ہے کہ ہم جو چاہیں کریں، جس طرح آزادی سے اپنی زندگی گزارنا چاہیں گزاریں۔ جس طرح چاہیں جس کو چاہیں جو مرضی کہیں۔ اپنے لباس کا معاملہ آتا ہے تو جیسے چاہیں کپڑے پہنیں یا نہ پہنیں، بازاروں میں ننگے پھریں۔ لیکن اگر ایک مسلمان عورت خوشی سے اپنے سر کو ڈھانک لے، اسکارف باندھ لے تو ان کو اعتراض شروع ہو جاتا ہے۔ مختلف موقعوں پر ایسا شوشہ چھوڑ کے اصل میں مسلمانوں کو، نوجوانوں کو اسلام سے، دین سے بدظن کرنے کے لئے، بد دلی پیدا کرنے کے لئے یہ مختلف نوعیت کے اعتراضات اسلام پر اٹھاتے رہتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا (جس میں مغرب پیش پیش ہے) مذہب سے دُور ہٹ رہی ہے اور ہٹنا چاہتی ہے کیونکہ ان کے پاس جو بھی مذہب ہے اس میں زندگی نہیں ہے۔ زندگی دینے والا نہیں ہے انہوں نے تو بندے کو خدا بنا کر شرک میں مبتلا ہو کر آخر کو پھر اس حد تک جانا تھا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ لیکن مسلمان کہلانے والے بھی دنیا پرستی سے یا دنیا والوں کے خوف سے یا شعوری اور لا شعوری طور پر شرک خفی یا ظاہری میں مبتلا ہو کر اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو مذہب سے اور خدا سے دُور لے جانے والی منزل ہے۔
ماضی میں بھی اس قبیل کے لوگ تھے جنہوں نے انبیاء کا انکار کیا، ان سے استہزا کیا، برائیوں اور شرک میں ڈوب گئے اور پھراس کے نتیجہ میں ان پر عذاب بھی آئے۔ اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء اس لئے بھیجے تھے یا بھیجتا ہے کہ ان کو مان کر بگڑے ہوئے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اس دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔ لیکن انکار کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد باوجود وارننگ کے اور باوجود سمجھانے کے اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور عذاب کے نیچے آگئی ہے۔ بعض کی تاریخ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہم تک پہنچائی اور ان برائیوں کا ذکر کیا جو ان قوموں کے لوگوں میں رائج تھیں۔ آج دیکھ لیں وہ کونسی برائی ہے جو گذشتہ قوموں میں تھی اور جس کا خداتعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور آج کل کے لوگوں میں نہیں ہے اور انبیاء کے سمجھانے کے باوجود جیسا کہ مَیں نے کہا سوائے چند لوگوں کے وہ ان برائیوں سے نہیں رکے تھے۔ ان قوموں کے لوگ بے حیائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، اخلاقی برائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، تجارتوں کی دھوکے بازیوں میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اگر چھوٹے پیمانے پر دھوکے بازی نہیں کرتے تو بڑے پیمانے پر دھوکے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ اپنے ہم قوموں سے نہیں کرتے تو غیر قوموں سے دھوکے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ تو یہ سب کچھ یہاں بھی چل رہا ہے۔ جھوٹ میں وہ لوگ انتہا تک پہنچے ہوئے تھے جو آج بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ شرک میں وہ لوگ بڑھے ہوئے تھے جو آج بھی ہم دیکھتے ہیں۔ غرض کہ مختلف قوموں میں مختلف برائیاں ایسی تھیں جن میں وہ حد سے بڑھے ہوئے تھے اور انبیاء کے سمجھانے پر باز نہیں آتے تھے۔ تو پھر جس کی مخلوق ہو جس نے کسی خاص مقصد کے لئے انسانوں اور جنّوں کو اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اس کے مقصدکو پورا نہیں کرو گے تو اس کے عذاب کو سہیٹرنے والے بنو گے۔ یہی منطقی نتیجہ ان حرکتوں کا نکلتا تھا اور ماضی میں نکلتا رہا اور آئندہ بھی نکلے گا اور ہم نکلتا دیکھ بھی رہے ہیں۔ ورنہ پہلی قومیں حق رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں کہ ہمیں تو ان برائیوں کی وجہ سے سزا ملی اور ہمارے بعد میں آنے والے آرام سے رہے ان کو کوئی سزا نہیں ملی۔ اللہ کیونکہ مالک بھی ہے بعض کو اس دنیا میں سزا ملتی ہے بعض کو مرنے کے بعد لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ایسے لوگ پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے ضرور آتے ہیں۔ یہ جو آج کل کہتے ہیں نا کہ خدا تعالیٰ ظالم ہے۔یہ خدا تعالیٰ نہیں ہے جو انبیاء کے ذریعہ سے لوگوں کی ایسی حالت کردیتا ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں بلکہ یہ اس قماش کے وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلموں کی وجہ سے سزا پاتے ہیں۔ اگر انسانی قانون کو حق ہے جو انسان کا بنایا ہوا قانون ہے جو اکثریت کے ردّ کرنے سے توڑا بھی جا سکتا ہے، بدلا بھی جا سکتا ہے، کم و بیش بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف چلنے والے کو سزا ملے۔ ویسے تو کہتے ہیں ہم انسانیت کے بڑے ہمدرد ہیں مثلاً یورپی ممالک میں عمر قید تو کسی شخص کو دیتے ہیں۔ایک انتہائی سزا انہوں نے اپنے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ عمر قید ہی دینی ہے۔ بہرحال قانون ہے کہ کسی کو پھانسی نہیں دینی کیونکہ انسان کی جان لینا انسانیت نہیں ہے۔ بہر حال جب قتل کیا جائے تو جو قتل کردے اس کو سزا نہیں دینی اور جو قتل ہوا، مقتول کا خاندان چاہے ساری زندگی اس کے بد نتیجے بھگتتا رہے۔
تو بہر حال مَیں یہ کہہ رہا تھا کہ جب ان لوگوں کو اس بات کا حق ہے کہ مجرم کو سزا دیں، کم دیں، زیادہ دیں، جس کو بہتر سمجھتے ہیں دیں، لیکن سزا دیتے ہیں۔ تو وہ جو مالک کل ہے اس کو کیوں حق نہیں ہے کہ اس کا قانون توڑنے والے کو سزا دے۔لیکن یہ لوگ جو مذہب کا مذاق اڑانے والے ہیں ان کے پاس اس بات کے رد ّکی کوئی دلیل نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے یا نہیں حاصل، اس لئے کچھ تو اس قسم کے لوگ انجانے میں اور اکثریت جان بوجھ کر مذہب کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔ مذہب کی وہ بگڑی ہوئی شکل پیش کرتے ہیں جو انسان کی خود ساختہ ہے، نہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بعضوں پر اتارے گئے احکامات ہیں اور اس غلط تصویر کو پیش کرکے پھر کہتے ہیں کہ یہ وہ تعلیم ہے جو انبیاء لاتے ہیں اور یہ تعلیم ہے جو ان انبیاء کے خدا نے ان پر اتاری ہے۔ پھرکہتے ہیں کہ پس ثابت ہوگیا کہ انبیاء بھی نعوذ باﷲ فتنہ فساد و ظلم کرنے والے تھے اور خدا بھی ایسا ہی ہے۔
اب یہاں جو اوپیرا (Opera) کا مَیں ذکر کر رہا تھا اس میں ڈرامہ رچایا گیا ہے جس میں انبیاء کی ہتک کی گئی ہے اس میں کہانی یہ بیان کی گئی کہ ایک جہاز سمندر کے طوفان کی زد میں آگیا۔ بادشاہ نے سمندر کے دیوتا کو کہا اس نے یہ دعا کی کہ اگر وہ محفوظ طریقے پر خشکی پر پہنچ گیاتو سب سے پہلے جس شخص کو دیکھے گا اس کی قربانی پیش کرے گا۔ اتفاق سے سب سے پہلا شخص جس پر اس کی نظر پڑی وہ اس کا اپنا بیٹا تھا۔ تو اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ سنا ہے یہ کہانی تین سال پہلے بھی دوہرائی گئی ہے۔ تو پہلے جو کہانی تھی اس میں یہ تھا کہ اس پر خدا ناراض ہو جاتا ہے اور دیوتا ناراض ہوجاتا ہے، قوم پر بڑی تباہی آتی ہے۔ اس پر بادشاہ اپنی قربانی پیش کرتا ہے تو عذاب ٹلتا ہے۔ اب کیونکہ مذہب کا بھی مذاق اڑانا تھا اور خاص طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانا تھا، نشانہ بنانا تھا۔ اس لئے اب کہانی میں ذرا سی تبدیلی کرکے ایک یونانی دیوتا اور ایک حضرت بدھ، حضرت عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط قسم کی منظر کشی کرکے نہایت ظالمانہ فعل کے مرتکب ہو ئے ہیں۔ بہر حال اب کہانی کو اس ظالمانہ منظر کشی کے بعد اس طرح بدلا گیا ہے کہ بادشاہ نے قربانی نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس میں اب کہتے ہیں کہ وہ ٹھیک تھا اور انسانی عقل کو خدا کے ظالمانہ فیصلے پر غالب آنا چاہئے تھے۔ اور انبیاء کو اب انہوں نے خدا تعالیٰ کے عمومی ظلموں (نعوذ باﷲ) کے اظہار کے سمبل (Symbol) کے طور پر پیش کیا ہے۔ تو یہ ڈرامہ یہاں ایک دفعہ دکھایا جا چکا ہے اور چند دن تک دوسری دفعہ بھی ان کا دکھانے کا ارادہ ہے

اِنّا لِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

ان دنیا داروں کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اندازہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے انبیاء کی بڑی غیرت رکھتا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہتک کے بھی مرتکب ہوتے ہیں،اس نبی کی ہتک کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جس عظیم نبی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگرمَیں نے تجھے پیدا نہ کرنا ہوتا تو یہ زمین و آسمان پیدا نہ کرتا۔تو جس خدا کی ربوبیت اور رحمانیت کے صدقے یہ لوگ دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہو رہے ہیں اسی پر الزام لگا رہے ہیں۔ جس درخت پر، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ تو ان کو کوئی کہے کہ ظالم اور ناشکرے تو تم ہو اے دنیا دارو! اور عقل کے اندھو!۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ اس کو زیادہ اٹھانے والے وزراء اور بڑے لوگ ہیں کیونکہ جوتھیٹر کی ڈائریکٹر جو عورت تھی شاید اس نے ایک دفعہ اس بات کو، اس چیز کو کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا کہ انبیاء کا حصہ کاٹ دیا جائے۔ لیکن ان وزراء اور بعض لوگوں نے کہا نہیں ضرور دکھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ ان کا اپنا یہ حال ہے کہ اخلاقی برائیوں کی انتہا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ غلاظت میں مبتلا ہیں اور حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تو یہ کہنا تھا کہ ایسی برائیوں کو پھیلاؤ تاکہ ان پر پردہ پڑا رہے۔ مذہب کے تو وہ خلاف ہیں۔
پھر ایک اور بات بھی اس میں عجیب ہے کہ اس میں حضرت موسیٰؑ کو کہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔ ہم قطعاً یہ نہیں کہتے کہ ان کو بھی کرنا چاہئے تھا۔ ہمارے نزدیک تمام انبیاء قابل احترام ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ لیکن ان کی نیت کا پتہ چلتا ہے کہ کیا ہے۔ بعض کا یہ خیال ہے، اخباروں والوں کا بھی، کہ یہودیوں کو اس سے ٹھیس پہنچے گی۔لیکن اتنی سی بات نہیں ہے۔ میرے خیال میں اس سے بہت آگے کی بات ہے۔ یہ اسلام کے خلاف بھی ایک بہت گہری سازش ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کو دشمن کے ہر شر سے بچائے۔
آج دشمنوں کی ان حرکتوں کا جواب دینا اور دنیا کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔ پس ان کو بتائیں، ہر احمدی اپنے ہر جاننے والے غیر کو بتائے۔ ان مسلمانوں کو بھی ہر احمدی بتائے جو فقط نام کے مسلمان ہیں کہ کیوں ان بیہودہ حرکتوں پر ہاں میں ہاں ملا کر اپنے آپ کو نجات دلانے کے بعد آگ کے گڑھے میں گرا رہے ہو۔ اور عیسائیوں اور لا مذہبوں اور دوسرے مذاہب والوں کو بھی بتائیں کہ انبیاء کا آنا دنیا کی ہمدردی کے لئے ہوتا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلموں سے نکالنے کے لئے بھیجتا ہے نہ کہ ظلم کرنے کے لئے۔ آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ خدا جو اسلام کا خدا ہے جس نے اپنی صفت رحمانیت کے جلوے دکھاتے ہوئے تمہاری ان ظالمانہ حرکتوں کے باوجود تمہیں نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اس کی طرف آؤ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ اس بات کو اپنے ذہنوں سے نکالو کہ خدا تعالیٰ نعوذ باﷲ کبھی ظلم کرسکتا ہے۔ وہ تو انبیاء کو تمہاری ہمدردی کے لئے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں برائیوں سے پاک کرے، جیسا کہ وہ خود انبیاء سے اعلان کرواتا ہے کہ

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ (الشعراء:4)

کہ شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔ ان انبیاء کی خواہش ہوتی ہے تو صرف اس قدر کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے والے ہوں، اپنے مقصد پیدائش کو جاننے والے ہوں تاکہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے صرف دنیاوی انعامات نہیں بلکہ روحانی انعامات بھی حاصل کرنے والے بنیں۔ وہ اپنی راتوں کی نیندیں لوگوں کے غم میں ہلکان کر لیتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔ پس یہ اسلام کی تعلیم ہے جس میں تمہارے لئے نجات ہے اور اللہ کی رضا بھی ہے۔ پس اگر کسی سمندر یا پانی یا ہوا کے خدا کا تصور ہے تو وہ تم انسانوں کا پیدا کیا ہوا تصور ہے۔ اسلام کا خدا تو ایک خدا ہے۔ سب طاقتوں کا مالک خدا ہے۔ جو غیب کا علم بھی جانتا ہے اور حاضر کا علم بھی جانتا ہے۔ اس خدا نے جو اسلام کا خدا ہے اپنی پاک تعلیم جو قرآن کریم میں اتاری ہے اس کے مطابق ہمیں یہ بتایا ہے کہ جب ایسے باغیانہ رویے رکھنے والے لوگ سمندری طوفانوں میں پھنس جاتے ہیں تو پھر مجھے یاد کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہم بچ گئے اور خشکی پر پہنچ گئے تو ضرور تیری عبادت کریں گے توُہمیں بچا لے۔ لیکن جب خشکی پر پہنچتے ہیں تو پھر خدا کو بھول جاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اور رحم کی وجہ سے ہی اپنے انبیاء بھیجتا ہے تاکہ اپنے بندوں کو شیطان کے چنگل سے نکالے۔ اور وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تم سے اس خدمت کا کوئی اجر نہیں مانگتے ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ

اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیْ فَطَرَنِیْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (ھود:52)

میرا اجر اس ہستی کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور یہ پیغام بھی ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس قوم کے ہر فرد تک پہنچا دے کہ اے بھولے بھٹکے ہوئے لوگو! اے اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹے ہوئے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم کرتے ہوئے اس زمانے میں بھی اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمائندگی میں اپنا ایک نبی مبعوث فرمایا ہے۔
پس بجائے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پرالزام تراشی کرنے اور اللہ تعالیٰ پر بدظنی کرنے کے اور نعوذ باﷲ اس رحمن خدا کو ظالم قرار دینے کے، اس خدا کی پناہ میں آجاؤ جو ماں باپ سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندے کو آگ سے بچانے کے لئے دوڑ کر آتا ہے بشرطیکہ بندہ بھی اس کی طرف کم از کم تیز چل کر آنے کی کوشش تو کرے۔ سنو اس زمانے کے امام اور اللہ تعالیٰ کے اس نبی نے کس پیار اور ہمدردی سے اپنے مبعوث ہونے کے مقصد سے آگاہ کیا۔
آپ فرماتے ہیں :’’ وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دُور کرکے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرکے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کردوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں ‘‘۔
(لیکچرلاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ180)
پس آج ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علم و عرفان اور دلائل کے بے بہا خزانے دے کر اس کام کے لئے کھڑا کیا ہے۔ ہر احمدی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سچا عہد بیعت ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اس عہد بیعت کو نبھاتے ہوئے بھی اور اس جذبہ ہمدردی کے تحت بھی جس کے اظہار کا ہمیں اس طرح حکم ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو، اپنے بھائی کے لئے پسند کرو اس پیغام کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سپرد فرمایا ہے اس قوم کے ہر فرد تک پہنچائیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے اور اس کے عملی نمونے ہم آج کل دیکھ بھی رہے ہیں۔ عملاً یہی کچھ ہو رہا ہے کہ اس کدورت کی وجہ سے اس بدظنی اور میل کی وجہ سے جو نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے بندے اور خدا میں پیدا کردی ہے بندے اور خدا میں دُوری پیدا ہوگئی ہے۔
ہر احمدی کا کام ہے کہ اٹھے اور خدا تعالیٰ کے تصور کی صحیح تصویر اور اسلام کا صحیح تصور پیش کرکے ان لوگوں کو اس بھٹکی ہوئی راہ سے واپس لائے اور اکثریت کے دل میں خدا تعالیٰ اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کے مقدس بندوں کے لئے محبت اور اخلاص کے جذبات پیدا کردیں تاکہ تمام انسانیت جنگوں کی بجائے سچائی پر قائم ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والی بنے اور روحانیت میں ترقی ہو اور اگر ایسا ہو جائے گا تو پھر یقینا خدا پر الزام لگانے والے اس کے آگے جھکنے والے بن جائیں گے۔ انشاء اللہ۔ چند لوگوں کی حرکتوں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس قوم میں احمدیت پھیلے گی اور جس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے جرمن احمدی اپنے ہم قوموں کے اس ظالمانہ رویے سے شرمندہ ہو رہے ہیں۔آئندہ انشاء اللہ لاکھوں کروڑوں جرمن احمدی ان لوگوں کے خدا اور انبیاء کے بارہ میں غلط نظریہ رکھنے پر شرمندہ ہوں گے۔
جرمن ایک با عمل قوم ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اگر آج کے احمدی نے اپنے فرائض تبلیغ احسن طور پر انجام دیئے تو اس قوم کے لوگ ایک عظیم انقلاب پیدا کردیں گے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ المسیح الثانی نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ جرمن قوم کا کیریکٹر بلند ہے اور انہوں نے ہمبرگ شہر کو اتنی جلدی تعمیر کرلیا کہ حیرت ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ جرمن قوم اس زندہ روح کے ساتھ ضرور جلد از جلد اسلام کو جو خود اس روح کو بلند کرنے کے لئے تعلیم دیتا ہے قبول کرے گی۔ پس ہمارا یہ کام ہے کہ پیغام پہنچانا ہے جس میں ابھی بہت گنجائش ہے۔
لٹریچرجو یہاں آپ کے پاس ہے اس کا بھی مَیں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک وقت میں چھپا اور ایک مہم کی صورت میں لگتا ہے کہ چند ہزار میں تقسیم ہوا اور پھر خاموشی سے بیٹھ گئے۔ بجائے اس کے کہ دوبارہ اس کی اشاعت کرتے۔ یا پھر سٹاک میں موجود ہے، کافی تعداد میں سٹاک میں پڑا ہوا ہے، وہ بھی غلط ہے کہ تقسیم نہیں ہوا۔ آجکل موقع کی مناسبت سے لٹریچر آنا چاہئے اور یہ جو سوال اٹھتے ہیں یہ آج کے سوال نہیں ہیں۔ یہ ہمیشہ سے اٹھ رہے ہیں۔ ان کے جواب تیار پڑے ہیں۔ صرف آگے پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ہر احمدی کے پاس یہ لٹریچر ہونا چاہئے۔ ہر احمدی مرد، عورت، بوڑھے اور جوان کو حالات کے مطابق بھی اور عمومی تبلیغی لٹریچر بھی ہر جرمن تک پہنچانا چاہئے یا پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
آجکل انٹر نیٹ اور ای میل وغیرہ کا استعمال بھی اس کام کے لئے ہورہا ہے۔ اس کے بارے میں بھی غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے غلط استعمال جو ہورہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔ وقتاً فوقتاً ہر ممبر پارلیمنٹ، ہر وزیر، ہر بڑے افسر، ہر اخبار، ہر لیڈر جو بھی ہے اور ہر پڑھے لکھے تک احمدیت اور اسلام کا تعارف جو حقیقی تعارف ہے پہنچائیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے زمانے میں ایک اشتہار شائع فرمایا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ جہاں تک بھی ڈاک کا انتظام موجود ہے وہاں میں اس کو ہندوستان میں پہنچاؤں گا۔ پھر آپ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن کی اشاعت کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور شہروں میں پھرو‘‘۔
پھر فرماتے ہیں، ’’انگریزی ولایتوں میں (اس میں تمام یورپین ممالک شامل ہیں) ایسے دل ہیں جو تمہاری مدد وں کے انتظار کر رہے ہیں اور خدا نے تمہارے رنج اور ان کے رنج میں راحت لکھی ہے۔ تم اس شخص کی طرح چپ مت ہو جو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے اور بلایا جائے اور پھر کنارہ کرے۔ کیا تم ان ملکوں میں ان بھائیوں کا رونا نہیں سنتے اور ان دوستوں کی آوازیں تمہیں نہیں پہنچتیں ؟ کیا تم بیمار کی طرح ہوگئے اور تمہاری سستی اندرونی بیماری کی طرح ہوگئی اور اسلام کے اخلاق تم نے بھلا دیئے اور تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی کو بھلا دیا؟ … تم نے مومنوں کا خُلق بھلا دیا۔ اے لوگو! قیدیوں کے چھڑانے کے لئے اور گمراہوں کی ہدایت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ ……اپنے زمانہ کے ہتھیاروں اور اپنے وقت کی لڑائیوں کو پہچانو‘‘۔
فرمایا ’’ہمارا زمانہ دلیل اور برہان کے ہتھیاروں کا محتاج ہے……۔ ہر گز ممکن نہیں جو بغیرحجّت قائم کرنے اور شبہات دور کرنے کے تمہیں فتح ہو۔ اور بلا شبہ روحیں اسلامی صداقت طلب کرنے کے لئے حرکت میں آگئی ہیں‘‘۔ (نورالحق الحصۃ الثانیۃ۔ روحانی خزائن جلد8صفحہ247تا 252عربی تحریرکا اردو ترجمہ)
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ جرمن نو احمدیوں کو بھی کہتا ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں شامل ہونے کا موقع دیا ہے پہلے سے بڑھ کر اس ہمدردی کے جذبات کے ساتھ احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام اپنے ہم قوموں تک پہنچائیں تاکہ یہ لوگ ایک خدا کو پہچان کر اپنی دنیا و عاقبت سنوار سکیں۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ اگر اہل امریکہ و یورپ ہمارے سلسلہ کی طرف توجہ نہیں کرتے تو وہ معذور ہیں اور جب تک ہماری طرف سے ان کے آگے اپنی صداقت کے دلائل نہ پیش کئے جاویں وہ انکار کا حق رکھتے ہیں ‘‘۔(ملفوظات جلد 5صفحہ151-150 جدید ایڈیشن)
پس جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا تھا لٹریچر اور تبلیغ کا ہر ذریعہ اختیار کرنا چاہئے۔ چند ہزار میں لٹریچر شائع کرکے پھر بیٹھ رہنا کہ وہ کروڑوں کی آبادی کے لئے کافی ہوگا جنت الحمقاء میں بسنے والی بات ہے۔ ٹھیک ہے ہمارے وسائل ایک حد تک ہیں لیکن جو ہیں ان کا تو صحیح استعمال ہونا چاہئے۔ ایک طرف توجہ ہو تی ہے تو دوسری طرف بھول جاتے ہیں۔ پس صرف مرکزی سطح پر نہیں بلکہ ہر ریجن میں، ہر شہر میں، ہر اُس علاقے میں جہاں احمدی بستے ہیں یا نہیں بستے ایک تعارفی پمفلٹ چھوٹا سا پہنچ جانا چاہئے اور پھر جیسا کہ مَیں نے کہا دوسرے الیکٹرانک ذرائع کا استعمال کریں۔
پوپ کی تقریر کے جواب میں انہوں نے ایک چھوٹا سا جواب تیار کیا تھا تو میرے کہنے پرکہ ایک تفصیلی کتابچہ شائع کریں جرمنی کی جماعت وہ جواب تیار کر رہی ہے۔ ان کو مرکز سے اور دوسری مختلف جگہوں سے ہم نے مواد مہیا کردیا تھا۔ یہ مرکزی طور پر تیار ہورہا ہے اور اب تک تیار ہوجانا چاہئے تھا۔ بہر حال میرے خیال میں آخری مراحل میں ہے۔ اللہ کرے کہ جلد چھپ جائے تو پوپ کو بھی اور یہاں کے ہر پڑھے لکھے شخص کے ہاتھ میں پہنچ جانا چاہئے جس سے پتہ چلے کہ اسلام کا خدا کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے اور آپ کا اسوۂ حسنہ کیا ہے۔ وہ ہستی جس کو یہ ظلم اور دہشت گردی اور شدت پسندی کا سمبل(Symbol) سمجھتے ہیں وہ تو
سرا پا رحم ہے۔ رحمۃ للعالمین کا لقب پانے والا ہے۔ جو سب سے بڑھ کر پیار محبت اور عاجزی کا علمبردار ہے اور تعصب کی نظر سے نہ دیکھنے والے غیروں نے بھی جس کی تعریف کی ہے۔ پس یاد رکھیں کہ لٹریچر اور تبلیغی مواد مہیا کرنا جہاں ملکی مرکز کا کام ہے وہاں میدان عمل میں اسے ہر گھر میں پہنچانا نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں پہنچانا ہر چھوٹے بڑے، بوڑھے،جوان کا کام ہے۔ آپ کا کام ہے مستقل مزاجی سے اس کام میں جتے رہنا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ نتائج پیدا کرنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ کی ہے لیکن اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو طریق بتایا ہے وہ بہر حال اختیار کرنا ہوگا۔ ورنہ اپنی غلطیوں اور سستیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والی بات ہوگی۔
تبلیغ کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرما دیا کہ صالح اعمال بجا لانے والے ہو اور مکمل طور پر فرمانبردار ہو۔ نظام جماعت کا احترام ہو اور اطاعت کا مادہ ہو۔ تبھی دعوت الی اللہ بھی کرسکتے ہو اورتم اس کا پیغام جوپہنچاؤ گے وہ اثر رکھنے والا بھی ہوگا۔ کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی باتوں کو پسند کرتا ہے جو ان خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ فرماتا ہے کہ

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ اِنَّنِی مِنَ المُسْلِمِین (حم سجدہ:34)

یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتا اور نیک اعمال بجالاتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
پس اپنی حالتوں کو سب سے پہلے اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہوگا جس کی آپ تبلیغ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ ہوگی تو پھر نتائج بھی نکلیں گے کیونکہ کوئی دعوت الی اللہ، کوئی تبلیغ،کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی، اس وقت تک ثمر آور نہیں ہوسکتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لئے اس کے حضور خالص ہو کر جھکنا اور تمام وہ حقوق جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہیں ادا کرنا ضروری ہے۔ تمام ان باتوں پر، ان حکموں پر عمل کرنا ضروری ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے۔ خدا تعالیٰ سے ہر قسم کا معاملہ صاف رکھنا ضروری ہے۔ بندوں کے حقوق ادا کرنے ضروری ہیں۔ رحمی رشتوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے اور اپنے ماحول کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ جہاں جہاں،جس وقت، کوئی احمدی جہاں کھڑا ہے اس کے ارد گرد جو بھی اس سے مدد کا طالب ہے اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔
اگر تبلیغ کرنے والے کے، پیغام پہنچانے والے کے اپنے عمل تو یہ ہوں کہ اس کے ماں باپ اس سے نالاں ہیں، بیوی بچے اس سے خوفزدہ ہیں، عورتیں ہیں تو اپنے فیشن کی ناجائز ضروریات کے لئے اپنے خاوندوں کو تنگ کر رہی ہیں، ہمسائے ان کی حرکتوں سے پناہ مانگتے ہیں، ذرا سی بات پر غصہ آجائے تو ماحول میں فساد پیدا ہو جاتا ہے تو یہ نیک اعمال نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اپنے نمونے بہر حال قائم کرنے ہوں گے۔ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ، انشاء اللہ،برکت ڈالے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی ادائیگی کرنے والے ہیں اور نیک نمونے قائم کرنے والے ہیں اور کامل اطاعت کرنے والے ہیں تو اس وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بنیں گے۔
یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں تجھے غلبہ عطا کروں گا۔ یہ غلبہ یورپ میں بھی ہے اور ایشیا میں بھی ہے، افریقہ میں بھی ہے اور امریکہ میں بھی انشاء اللہ ہوگا۔ اور جزائر کے رہنے والے بھی اس فیض سے خالی نہیں ہوں گے انشاء اللہ۔ پس آپ کا کام ہے کہ خالص اللہ کے ہو کر کامل فرمانبرداری دکھاتے ہوئے اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہوئے اس کے پیغام کو پہنچاتے چلے جائیں تاکہ ان برکتوں سے فیضیاب ہو سکیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے ساتھ منسلک رہنے والے کے لئے خدا تعالیٰ نے رکھ دی ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یورپ اور امریکہ میں اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ مَیں امید کرتا ہوں کہ کچھ تھوڑے زمانے کے بعد عنایت الہٰی ان میں سے بہتوں کو اپنے خاص ہاتھ سے دھکاّ دے کر سچی اور کامل توحید کے اس دارالامان میں داخل کر دے گی جس کے ساتھ کامل محبت اور کامل خوف اور کامل معرفت عطا کی جاتی ہے۔ یہ امید میری محض خیالی نہیں ہے بلکہ خدا کی پاک وحی سے یہ بشارت مجھے ملی ہے‘‘۔(لیکچرلاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ181-180)
پس یہ کام تو ہونا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام سعید روحوں کو اسلام کی آغوش میں لانا ہے۔ یہ مخالفین اور یہ مذہب سے ہنسی ٹھٹھا کے جو موقعے پیدا ہورہے ہیں یا ہوتے ہیں یہ ہمیں اپنے کام کی طرف توجہ دلانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں کہ آخری فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے کیا ہوا ہے لیکن تمہارے میں جو سستی پیدا ہوگئی ہے اس کو دُور کرکے اللہ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے اللہ کی نظر میں بہترین بات کہنے والے بن کر اسلام کا حقیقی نجات کا پیغام اپنے ملک کے ہر چھوٹے بڑے تک پہنچا دو کہ یہ آج سب سے بڑی خدمت انسانیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/q4HMS]

اپنا تبصرہ بھیجیں