خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 13؍اپریل 2007ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
خلافت کے ساتھ عبادت کا بڑا تعلق ہے۔ تمکنت حاصل کرنے اور نظام خلافت سے فیض پانے کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو۔
ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا،جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ افراد جماعت اور خلیفہ ٔ وقت کا دو طرفہ تعلق اس وقت زیادہ مضبوط ہوگا جب عبادتوں کی طرف توجہ رہے گی۔
دوسری بات نمازوں کے ساتھ مالی قربانی کی طرف توجہ ہے۔خلافت کا نظام بھی اطاعت رسول کی ایک کڑی ہے۔جماعت میں زکوٰۃ کا نظام رائج ہے اور جن پر زکوٰۃ فرض ہے ان کو ادا کرنی چاہئے۔
خلافت نبوّت کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے،خلفاء کے مقرر کردہ چندے اور تحریکات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہیں اس لئے ان کی ادائیگی کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔
سؤر کے گوشت کے پکانے یا بیچنے یا براہ راست اسکے کاروبار میں ملوّث لوگوں سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔
افریقن ممالک میں نائجیریا میں جماعت کے ہر شعبہ میں ترقی نظر آرہی ہے۔اللہ کرے یہ پاک تبدیلی ان میں بڑھتی چلی جائے۔دوسرے افریقن ممالک اور غریب ممالک کو بھی احمدیت کے اونچے معیاروں کی طرف توجہ کرنے کی تاکید۔
چوہدری حبیب اللہ صاحب سیال کی شہادت اور قریشی محمود الحسن صاحب کی وفات پر مرحومین کا ذکرخیر اور نماز جنازہ غائب۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 13؍اپریل2007ء (23؍شہادت 1386ہجری شمسی)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (الانفال:3-4)

اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ جب بھی خداتعالیٰ کے حوالے سے ان کے سامنے کوئی بات رکھی جائے، کوئی نصیحت کی جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اس نصیحت کا ان پر اثر ہوتا ہے اور یہ نصیحت ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے، بعض دفعہ ذاتی مصروفیات، ذاتی مسائل یا کئی دوسری وجوہات کی وجہ سے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے دئیے گئے احکامات پر پوری طرح توجہ نہیں دے سکتا۔ انسانی فطری کمزوریاں غالب آجاتی ہیں۔ بعض دفعہ شیطان سستیاں پیدا کر دیتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً یاددہانی کرانے کا اور نصیحت کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تاکہ جو حقیقی مومن ہے اس کو اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ پیدا ہو۔ اگر حقیقی عذر ہیں تب بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ان کو دور کرنے کے لئے دعا کرے۔ اگر خود ساختہ بہانے ہیں تو نصیحت اور یاددہانی اس کو جھنجوڑنے اور ہوشیار کرنے کے لئے کافی ہو جائے اور اُسے ہوشیار کرے کہ دیکھو جس رستے پہ تم چل رہے ہو یہ غلط راستہ ہے، شیطان کی گود میں گر رہے ہو، بعض حکموں پر عمل نہ کرنے کے لئے شیطان تمہیں بہکا رہا ہے تو یاد رکھو اصل پناہ گاہ خداتعالیٰ کی ذات ہے اور تمہاری ضروریات کو پوری کرنے والی اور اپنے بندوں سے پیار کرنے والی بھی خداتعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی نہیں ہے۔ پس ہرحالت میں، تنگی میں، آسائش میں، عسر میں، یسر میں، مجبوری میں یا سہولت میں اگر کسی پر توکل کیا جا سکتا ہے تو وہ خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ پس جب حقیقی مومن کو اس خدا کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو یہ بات اسے ایمان میں بڑھاتی ہے اور ظاہر ہے جب ایمان میں بڑھے گا،جب احساس پیدا ہو گا کہ اوہو! ہم دنیاوی مصروفیات اور خود ساختہ مجبوریوں کی وجہ سے خداتعالیٰ کی بجائے دنیاوی سہاروں پر توکل کرنے لگ گئے تھے تو پھر وہ اپنے حقیقی اور اصل سہارے کی طرف لوٹے گا اور تمام تر توکل اس واحد ویگانہ پر ہو گا جو ربّ ہے، رحمن ہے، رحیم ہے، اپنے بندوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ ان کی د عاؤں کو سنتا ہے، مالک یوم الدین ہے، اپنے بندوں کے نیک اعمال کی جزا دیتا ہے، اپنی راہ میں کئے گئے ہر فعل اور ہر عمل کا بہترین بدلہ دیتا ہے۔ یہی ایک مومن کی نشانی ہوتی ہے۔
یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ایمان میں بڑھنے والوں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والوں کی دو بڑی واضح نشانیاں ہیں۔ ایک تو نماز قائم کرتے ہیں، دوسرے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا یہ دو بنیادی چیزیں ہیں جو مومن کے ایمان اور توکل علی اللہ کو بڑھاتی ہیں۔
نمازوں کے ساتھ مالی قربانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ قرآن کریم کی ابتدا میں، سورۃ بقرہ کے شروع میں ہر متقی کی یہ نشانی بتائی ہے کہ نماز قائم کرتا ہے اور اس مال میں سے جو خدا نے اسے دیا ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اس طرح جیسا کہ میں نے کہا بے شمار جگہ نمازوں اور مالی قربانی کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ ایک مومن روح اور نفس کی پاکیزگی کے سامان پیدا کرے۔ ایک جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْایُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْامِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سرًّاوَّعَلَانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌفِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ۔(ابراہیم :32)

تو میرے ان بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز کو قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطاکیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی خرچ کریں، پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔
پس جو جزا سزا کے دن پر یقین رکھتے ہیں، جن کو اس بات کا مکمل فہم و ادراک ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے وہ یاد رکھیں کہ نمازیں اور خداتعالیٰ کی راہ میں کی گئی قربانیاں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک انسان کی بچت کے سامان کرنے والی ہوں گی۔ اس کے علاوہ نہ کوئی تجارت کام آئے گی،نہ مال کازیادہ ہونا کام آئے گا۔ نہ خداتعالیٰ یہ پوچھے گا کہ کتنا بینک بیلنس چھوڑاہے۔ نہ یہ پوچھے گا کہ تمہارے دوست کون کون سے بڑے لوگ تھے۔ نہ یہ دنیاوی دوستیاں کسی قسم کے بچت کے سامان کر سکتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر حقیقی مومن ہو تو ان دو چیزوں کی طرف بہت توجہ دو۔ یہ نمازیں اور قربانیاں ظاہراً بھی ہوں اور چھپ کر بھی ہوں۔ چھپ کر کی گئی عبادتیں اور قربانیاں ایمان میں مزید مضبوطی کا باعث بنیں گی اور پہلے سے بڑھ کر خداتعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والی ہوں گی اور ظاہراً کی گئی قربانیاں، نہ اس لئے کہ بڑائی ظاہر ہو بلکہ اس لئے کہ دوسروں کو بھی تحریک ہو، یہ بھی خداتعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہوتی ہیں، کیونکہ یہ نیک نیتی سے کی گئی ہوتی ہیں۔ پس ہر احمدی کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر اپنے آپ کو مومنین کی جماعت میں شامل سمجھتا ہے ان دو امور کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دینی چاہئے۔ پہلی چیزنماز کا اہتمام، باقاعدگی سے ادائیگی ہے۔ حتی الوسع باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پھر ان نمازوں کو نوافل کے ساتھ سجایا بھی جائے۔
آنحضرت ﷺ سے ایک روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ

بَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ۔

(ترمذی کتاب الایمان باما جاء فی ترک الصلوٰۃ)
کہ کفر اور صلوٰۃ کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔ پس اس بات کو معمولی نہیں سمجھناچاہئے۔ صرف اتنا نہیں کہ تارک نماز،نماز کو چھوڑنے والا یا نمازوں میں کمزوری دکھانے والا، کمزور ایمان والا ہے۔ بلکہ آپؐ نے فرمایا کہ کفر اور ایمان میں فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔پھر اس بات کا صحابہ کو اس قدر خیال تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ میں یہ بات راسخ فرما دی تھی، ان کو اس بات پر بڑا پکّا کر دیا تھا۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا اس درجہ احساس دلا دیا تھا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن شقیق عُقَیْلی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ ؓ نماز کے علاوہ کسی عمل کو بھی ترک کرنا کفر نہ سمجھتے تھے۔
(ترمذی ابواب الایمان با ب ما جاء فی ترک الصلوٰۃ)
پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا، کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کون سا ؟آپؐ نے فرمایا: ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔ پھر میں نے عرض کی کہ اس کے بعد کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پوری پوری کوشش کرنا۔
(بخاری کتاب الجہاد باب فضل الجہاد و السیر)
پھر ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پائی۔ اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔ اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں ؟ا گر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی نوافل کے ذریعہ پوری کر دی جائے گی۔ اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہو گا اور ان کا جائزہ لیاجائے گا۔
(ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ان اوّل مایحاسب بہ العبد)
پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے سِرًّا بھی عبادت اور قربانی کی طرف توجہ دلائی ہے یہ نوافل ہی ہیں۔ بعض دفعہ بعض مصروفیات کی وجہ سے نمازیں آگے پیچھے ہوجاتی ہیں یا پورے خشوع سے اد انہیں کی جا سکتیں تو فرمایا کہ نوافل کی ادائیگی کرو وہ اس کمی کو پوری کر دے گی۔
نماز باجماعت کے ضمن میں ہی ایک اہم بات یہ ہے کہ مسجد میں آکے ہم نماز پڑھتے ہیں تو مسجد کے کچھ آداب ہیں جسے ہر مسجد میں آنے والے کو یاد رکھنا چاہئے۔ نماز باجماعت جب کھڑی ہوتی ہے تو آداب میں سے ایک بنیادی چیز صفوں کو سیدھا رکھنا ہے اور اس کو آنحضرت ﷺ نے بڑی اہمیت دی ہے کیونکہ اس سے ایک وحدت کی شکل پیدا ہوتی ہے۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں آنحضرت ﷺ نمازوں کی صفوں کو سیدھا کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے صفیں سیدھی بناؤ اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف بھر جائے گا۔ میرے قریب زیادہ علم والے سمجھدار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو رتبے میں ان سے قریب ہوں۔ پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہوں۔(مسلم کتاب الصلوٰۃ باب لتسویۃ الصفوف)۔ تو صفیں سیدھی کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔ آپس میں تعلقات کے لئے بھی اور ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کے لئے بھی۔
صفیں سیدھی کرنے کے ضمن میں یہاں میں آج عورتوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں، یہ عمومی شکایت عورتوں کی طرف سے آتی ہے، یہاں بھی اور مختلف ممالک میں جب بھی میں دورے پر جاؤں عموماً عورتیں جمعہ پر اور جمعہ کے علاوہ بھی مسجد میں بعض دفعہ نماز پڑھنے آجاتی ہیں۔ لیکن شکایت یہ ہوتی ہے کہ عورتیں صفیں سیدھی نہیں رکھتیں اور لجنہ کی انتظامیہ بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتی۔ بلکہ بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عہدیداران خود بھی ٹیڑھی میٹرھی صفوں میں کھڑی ہوتی ہیں، بیچ میں فاصلہ ہوتا ہے، خاص طور پر جلسے کے دنوں میں یا کسی مارکی وغیرہ میں اگر صفیں بن رہی ہوں۔ بلکہ بعض دفعہ جب یہاں ہال میں عورتیں نمازیں پڑھتی ہیں تو یہاں بھی اب عموماً یہ شکایت ہوتی ہے کہ بعض بیماراور بڑی عمر کی عورتیں کرسیاں صفوں کے بیچ میں رکھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ کرسی پر بیٹھنے والیاں جن کو مجبوری ہے وہ یا تو ایک طرف کرسی رکھا کریں یا جس طرح یہاں انتظام ہے کہ پیچھے کرسیاں رکھی جاتی ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ نماز کے آداب میں سے صفوں کو سیدھا رکھنا انتہائی ضروری چیز ہے اور آنحضرت ﷺ اس بات کا بڑا اہتمام فرماتے تھے۔
پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ خطبہ جمعہ بھی نماز کا حصہ ہے۔ بعض عورتیں اور بچیاں جو شاید سکولوں میں چھٹیوں کی وجہ سے آجکل مسجد میں آجاتی ہیں لگتا ہے کہ وہ نماز کی بجائے اس نیت سے اس میں آتی ہیں کہ سہیلیوں اور دوستوں سے ملاقات ہوجائے گی اور یہ جو مَیں نے کہا ہے کہ ملاقات ہو جائے گی تو وہ اس غرض سے اس میں آتی ہیں۔ یہ مَیں بدظنی نہیں کر رہا بلکہ بعضوں کے عمل اس بات کا ثبوت ہیں۔ مثلاً گزشتہ جمعہ کی یہاں کی رپورٹ مجھے ملی کہ بعض بچیاں خطبے کے دوران اپنے اپنے موبائل پر یا تو ٹیکسٹ میسیجز(Text Messages) بھیج رہی تھیں اور یا باتیں کر رہی تھیں اور اس طرح دوسروں کا خطبہ جمعہ بھی خراب کر رہی تھیں جو وہ سن نہیں سکیں۔ یہی شکایت بعض چھوٹے بچوں کے بارے میں آتی ہے۔ آجکل ہر ایک کو ماں باپ نے موبائل پکڑا دئیے ہیں۔ حکم تو یہ ہے کہ اگر خطبہ کے دوران کوئی بات کرے اور اسے روکنا ہو تو ہاتھ کے اشارے سے روکو کیونکہ خطبہ بھی نماز کا حصہ ہے۔ یہ بظاہر چھوٹی باتیں ہیں لیکن بڑی اہمیت کی حامل ہیں اس لئے ان کا خیال رکھنا چاہئے۔ اگر کسی نے اتنی ضروری پیغام رسانی کرنی ہے یا فون کرنا ہے کہ جمعہ کے تقدّس کا بھی احساس نہیں اور مسجد کے تقدّس کا بھی احساس نہیں تو پھر گھر بیٹھنا چاہئے، دوسروں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہئے۔ عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ مسجد آکر دوسروں کی نمازیں خراب کی جائیں۔ نماز باجماعت کا اصل مقصد دلوں کی کجی دور کرنا اور آپس میں محبت پیدا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ہو کر جھکنا ہے تاکہ ایک ہو کر واحد خدا کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں،نہ کہ دلوں میں نفرتیں بڑھیں اور دوسروں کی تکلیف کا باعث بنیں۔ پس یاد رکھیں جہاں ایک مومن کے لئے نماز کا قیام انتہائی اہم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا ہے وہاں مسجد کا تقدس بھی بڑا اہم ہے۔
نمازوں کے حوالے سے ہی مَیں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں ہمیشہ یاد رکھیں کہ خلافت کے ساتھ عبادت کا بڑا تعلق ہے۔ اور عبادت کیا ہے؟ نماز ہی ہے۔ جہاں مومنوں سے دلوں کی تسکین اور خلافت کا وعدہ ہے وہاں ساتھ ہی اگلی آیت میں اَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ کا بھی حکم ہے۔ پس تمکنت حاصل کرنے اور نظام خلافت سے فیض پانے کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ عبادت اور نماز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہوگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس انعام کے بعد اگر تم میرے شکر گزار بنتے ہوئے میری عبادت کی طرف توجہ نہیں دو گے تو نافرمانوں میں سے ہو گے۔ پھر شکر گزاری نہیں ناشکرگزاری ہو گی اور نافرمانوں کے لئے خلافت کا وعدہ نہیں ہے بلکہ مومنوں کے لئے ہے۔ پس یہ انتباہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اپنی نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ نظام خلافت کے فیض تم تک نہیں پہنچیں گے۔ اگر نظام خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرو کہ یَعْبُدُونَنِیْ یعنی میری عبادت کرو۔ اس پر عمل کرنا ہو گا۔ پس ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا،جو خلافت کی صورت میں جاری ہے، فائدہ تب اٹھا سکیں گے جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔
گزشتہ دنوں پاکستان سے آنے والے کسی شخص نے مجھے لکھا کہ میں ربوہ گیا تھا وہاں فجر اور عشاء پر مسجدوں میں حاضری بہت کم لگی۔یہ وہاں والوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ربوہ تو ایک نمونہ ہے اور گزشتہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس طرف بہت توجہ ہو گئی تھی۔ آنے جانے والوں کی بھی بڑی رپورٹس آتی تھیں کہ ربوہ میں مسجدوں کی حاضری بڑھ گئی ہے بلکہ بازاروں میں بھی کاروبار کے اوقات میں دکانیں بند کرکے نمازیں ہوا کرتی تھیں۔ گو کہ مجھے اس شخص کی بات پر اتنا یقین تو نہیں آیا۔ مَیں تو ربوہ کے بارے میں حسن ظن ہی رکھتا ہوں لیکن اگر اس میں سستی پیدا ہو رہی ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اس طرف خود توجہ کرنی چاہئے۔ ایک کوشش جو آپ نے کی تھی، نیکیوں کو اختیار کرنے کا جو ایک قدم بڑھایا تھا وہ قدم اب آگے بڑھتا چلا جانا چاہئے۔ اللہ کرے کہ میرا حسن ظن ہمیشہ قائم رہے۔
اسی طرح عمومی طور پر پاکستان میں بھی اور دنیا کی ہر جماعت میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں، نمازوں کے قیام کی خاص طور پر کوشش کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ افراد جماعت اور خلیفۂ وقت کا دو طرفہ تعلق اُس وقت زیادہ مضبوط ہو گا جب عبادتوں کی طرف توجہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو پاک نمونے پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نمازوں کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:’’نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے، استغفار ہے اور دردو شریف۔ تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ‘‘ یعنی تمام قسم کے ورد اسی میں ہیں ’’یہی نماز ہے۔ اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اوراسی لئے فرمایا ہے

اَلَابِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب(الرعد:29)۔

اطمینان، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر او رکوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قسم قسم کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مقابل پر بنا دی ہوئی ہے۔ مجھ پر تو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مَیں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان وظائف اور اوراد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑبیٹھے ہیں۔ بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اوراد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے (حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا ہے) کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔ میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خداتعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔

(الحکم جلد 7نمبر20مورخہ31؍ مئی 1903ء صفحہ9)
دوسری بات جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے نمازوں کے ساتھ مالی قربانیوں کی طرف توجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً احمدی مالی قربانی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔لیکن اس میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جو قربانیاں کرنے والے ہیں بار بار ہر مالی قربانی میں وہی لوگ حصہ ڈالتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ایک طبقہ جن کی کشائش بہت زیادہ ہے، جن کی استطاعت زیادہ ہے، وہ اس کے مطابق اپنے چندوں کی ادائیگی نہیں کرتے۔میں نے نماز کے سلسلے میں ذکر کیا تھا کہ جہاں اللہ تعالیٰ خلافت کے ذریعہ تمکنت عطا کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہاں اسے اپنی عبادت سے مشروط کرتا ہے اور اگلی آیت میں عبادت کی وضاحت کی کہ نماز کو قائم کرنے والے لوگ ہوں گے۔ لیکن جہاں یہ ذکر ہے کہ نماز کو قائم کرنے والے ہوں گے وہ صرف نماز کے بارے میں ہی نہیں فرمایا، بلکہ ساتھ ہی فرمایا کہ

وَاٰ تُواالزَّکوٰۃ

کہ زکوٰۃ ادا کرو۔ زکوٰۃ اور مالی قربانی بھی استحکام خلافت اور تمہارے اس انعام پانے کا ذریعہ ہے۔ اور پھر آگے فرمایا

وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْ حَمُوْن

اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے مسیح و مہدی کو مانا جس کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے خلافت کی دائمی خوشخبری فرمائی تھی۔
پس خلافت کا نظام بھی اطاعت رسول کی ایک کڑی ہے اور اس دور میں اگر دین کی ضروریات کے لئے مالی تحریکات کی جاتی ہیں جو اگر زکوٰۃ سے پوری نہ ہو سکیں تو یہ عین اللہ اور رسول کی منشاء کے مطابق ہے۔ خود
رسول اللہﷺ کے زمانے میں زکوٰۃ سے بڑھ کر جو اخراجات ہوتے تھے ان کے لئے چندہ لیا جاتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ زکوٰۃ کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بہت سی ضروریات کے لئے مالی قربانی کا بھی ذکر آتا ہے۔ اس لئے ایک تو میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ جماعت میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زکوٰۃ کا نظام رائج نہیں اور ہم اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ جماعت میں زکوٰۃ کا نظام رائج ہے اور جن پر زکوٰۃ فرض ہے ان کو ادا کرنی چاہئے۔ بعض منافق طبع یا کمزور لوگ یا لاعلم کہنا چاہئے، بعض دفعہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بعض ذہنوں میں یہ سوال ڈالتے ہیں اور نئے شامل ہونے والے احمدی اس سے بعض دفعہ ٹھوکر بھی کھاتے ہیں کہ جماعت چندے کے اسلامی طریق کو رائج کرنے کی بجائے اپنا نظام چلاتی ہے۔ ایک تو زکوٰۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے،اس کی کچھ شرائط ہیں جن کے ساتھ یہ فرض ہے اور دوسرے اس کی شرح اتنی کم ہے کہ آجکل کی ضروریات یہ پوری نہیں کر سکتی۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی زائد ضروریات کو پورا کرنے کے لئے، زکوٰۃ کے علاوہ زائد چندے لئے جاتے تھے۔ زکوٰۃ کی اہمیت اور فرضیت سے کسی کو انکار نہیں۔ اس لئے جن پر زکوٰۃ فرض ہے، ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ زکوٰۃ دینی لازمی ہے وہ ضرور دیا کریں اور خاص طور پر عورتوں پر تو یہ فرض ہے جو زیور بنا کر رکھتی ہیں۔ سونے پر زکوٰۃ فرض ہے۔ دوسرے جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت نبوت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس زمانے میں خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی ہے۔ اس لئے خلفاء کے مقرر کردہ چندے اور تحریکات اللہ تعالیٰ اور رسول کے حکم کے مطابق ہیں اس لئے ان کی ادائیگی کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔ بعض لوگوں کو شرح پر اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں شرح نہیں تھی،بعد میں مقرر کی گئی تو ضرورت کے مطابق مقرر کی گئی۔
پس خلافت کے ساتھ وابستہ ہو کر جہاں قیام نماز ہو گا،زکوٰۃ کی ادائیگی ہوگی، نمونے ہوں گے جس سے دین کی تمکنت قائم ہو، وہاں اللہ اور رسول کے حکموں پر عمل کر کے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے رحم کا وارث بھی بن رہا ہو گا۔ ان دنوں میں بعض جماعتوں کو اپنے چندہ عام کے بجٹ پورے کرنے کی فکر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ پریشانی کا اظہار کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا جماعت پر ہمیشہ فضل رہا ہے اور افراد جماعت کو قربانی کے جذبے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق ملتی رہی ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کرنے والے بنے رہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب جماعت نے اپنی ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کرتے ہوئے عہدیداران کی پریشانیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ اس سال بھی انشاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی ہو گا۔ اس کی تو مجھے فکر نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے اس فرض کی طرف صحیح طور پر توجہ نہیں دیتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پوری شرح سے چندہ دینے سے ان کی آمد میں کمی آجائے گی۔ یہ خداتعالیٰ پر بدظنّی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے والے ہو اور عبادت کی طرف توجہ دینے والے ہو تو اللہ تعالیٰ پریہ بدظنی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے لئے رزق کی راہیں کھولنے والا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے، خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتا دیتا ہے اور فرمایا

وَیَرْزُقْہٗ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبْ

وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں، وعدوں کو سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔ پس خدا پر ایمان لاؤ، خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے۔

یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا

ایک وسیع بشارت ہے، تم تقویٰ اختیار کرو خدا تمہارا کفیل ہو گا۔ اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا‘‘۔
(تفسیرحضرت مسیح موعودعلیہ السلام تفسیر سورۃالطلاق جلد چہارم صفحہ402)
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ جائز ہیں یا ناجائز ہیں، ان کو چھوڑنا بڑا مشکل ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو رازق نہیں سمجھتے۔ کچھ عرصہ ہوا میں نے کہا تھا کہ جو لوگ سؤرکے گوشت پکانے یا بیچنے یا براہ راست اس کے کاروبار میں ملوث ہیں، اس سے منسلک ہیں،وہ یہ کام نہ کریں یا اگر کرنا ہے تو پھر ایسے لوگوں سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔ جس پر جرمنی کی جماعت نے ماشاء اللہ بڑی سختی سے عمل کیا ہے۔ باقی جگہ دوسرے ملکوں میں بھی یہ ہونا چاہئے۔ لیکن مجھے بعض لوگوں نے جو ایسی جگہوں پرکام کرتے تھے لکھا کہ ہماری تو روزی ماری جائے گی، یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا۔ تو میں نے کہا جو بھی ہو گا اگر براہ راست اس کام میں ملوث ہو تو پھر تم سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔ تم نے یہ روزی کھانی ہے تو کھاؤ، اللہ کے مال میں اس کا حصہ نہیں ڈالا جائے گا۔ اگر تمہاری اضطراری کیفیت ہے تو اپنے پر لاگو کر لو، اس کو استعمال کر لو لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت پر کوئی ایسی اضطراری کیفیت نہیں ہے۔ اللہ جماعت کی ضروریات کو پوری کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا چلا جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں انشاء اللہ کمی نہیں آنے دوں گا۔ حسب ضرورت انشاء اللہ جس طرح ضرورت ہوتی ہے اللہ پوری فرماتا ہے تو جماعت کو بھی میری اس بات سے بڑی فکرتھی کہ بہت سارے لوگوں سے اس طرح چندہ لینا بند ہو جائے گا۔ لیکن اب مجھے سیکرٹری صاحب مال نے وہاں سے لکھا ہے کہ اس دفعہ جو بجٹ آئے ہیں وہ اتنے اضافے کے ساتھ آئے ہیں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، پہلے کبھی اتنا اضافہ ہوا ہی نہیں۔ تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ

وَیَرْزُقْہٗ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِب۔

پس اللہ تعالیٰ دے گا اور وہم وگمان سے بڑھ کر دے گا اور دیتا ہے لیکن تقویٰ پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ عمومی طور پر دنیامیں ہر جگہ چندہ عام میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی مدّ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اخراجات پورے کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
لیکن افریقن ممالک کو میں توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ ان میں جس طرح اس طرف توجہ پیداہونی چاہئے تھی، توجہ پیدا نہیں ہو رہی۔ افریقن ممالک میں نائیجیریا میں جماعت کے ہر شعبہ میں ترقی نظر آرہی ہے اور اسی طرح چندوں میں بھی ہے، مجھے امید ہے کہ چندہ عام کی طرف بھی ان کی توجہ ہو گی کیونکہ باقی تحریکات میں بہت زیادہ ہے۔نائیجیریا میں عمومی طور پر ملکی ترقی میں انحطاط ہے، باوجود ان کے وسائل ہونے کے، ان کے پاس تیل کی دولت ہونے کے، کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ وہاں ترقی نہیں ہو رہی بلکہ ملک گرتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہی لوگ جو جماعت میں شامل ہوئے ہیں ان کے مزاج بالکل بدل گئے ہیں۔ اللہ کرے یہ پاک تبدیلی ان میں بڑھتی چلی جائے اور دوسرے افریقن اور غریب ممالک کے احمدی بھی، احمدیت کے اونچے معیاروں کی طرف توجہ کرنے والے ہوں، اپنی مالی قربانیوں کی طرف توجہ کرنے والے ہوں اور یہ احساس ان میں پیدا ہو کہ ہم نے اپنے نفس کی پاکیزگی کے لئے یہ مالی قربانیاں کرنی ہیں۔ حُبُ الْوَطَنِ مِنَ الِایْمَانِ، وطن کی محبت بھی ایمان کا حصہ ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ہر احمدی کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے، روحانیت میں بڑھتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اعلیٰ اخلاق میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے، قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ امیر ملکوں کے احمدی بھی اور غریب ملکوں کے احمدی بھی، اس بات پر عمل کرتے ہوئے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے جہاں اپنے ہم وطنوں کے لئے دعائیں کریں، وہاں یہ کوشش بھی کریں کہ ان میں بھی اخلاقی او ر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے ہوں تاکہ اپنے اپنے ملکوں میں ایک انقلاب لا سکیں۔
پس ہر احمدی اس بات کی طرف خاص توجہ کر ے کہ اس نے اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہے، اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے معیار کو بھی بلند کرنا ہے، تبھی دنیا میں حقیقی انقلاب لانے والے بن سکیں گے اور اپنے آپ کو بھی اس معیار پرلانے والے بن سکیں گے جس پر اللہ تعالیٰ ہمیں لانا چاہتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔
ایک افسوسناک اطلاع ہے کہ جماعت کے ایک بزرگ مکرم چوہدری حبیب اللہ صاحب سیال جن کی عمر 80سال تھی، اپنی زمینوں پر،ڈیرہ پر رہا کرتے تھے۔ ان کو 8؍ اپریل کی صبح چند نامعلوم افرادنے شہید کر دیا۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔

ان کا گھر نماز سنٹر تھا۔ وہیں ظہر وعصر اور مغرب کی نمازہوتی تھی۔ رات کے کسی وقت چند افراد نے ان کے گھر جا کر ان پر وار کیا، بلکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق پہلے ان کو باندھا گیا، ٹانگیں باندھیں، ان کے ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے، تکیہ دبا کر ان کا سانس روکا گیا اس سے ان کی شہادت ہوئی۔ اس کے بعد چھری کا وار بھی کیا گیا۔ خون نکلا ہوا تھا۔ بہرحال اگلے دن ان کی بہو جب گئیں تب پتہ لگا کہ اندر ان کی نعش پڑی تھی۔ انہوں نے احمدیوں کو اطلاع دی، پولیس کو اطلاع دی گئی تو بہرحال پتہ لگ رہا ہے کہ قریب کے کچھ ایسے شرپسند لوگ ہیں جو احمدیوں کے مخالف تھے، انہوں نے ان کو شہید کیا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ملک کے لوگوں کو بلکہ حکومت کو بھی عقل دے کہ جہاں ایسے قانون چل رہے ہیں جس میں کوئی انصاف نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو وہاں کے احمدیوں کے حقوق کی بھی،جو اِن کے شہری ہیں،حفاظت کرنے کی توفیق عطا کرے ورنہ اللہ تعالیٰ بھی ایک حد تک ڈھیل دیتا ہے۔
دوسری افسوسناک اطلاع ہے مکرم قریشی محمود الحسن صاحب لمبے عرصے تک نائب امیر جماعت سرگودھا رہے ہیں ان کی عمر 92سال تھی۔ یہ گزشتہ دنوں فوت ہو گئے۔

اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

انہوں نے بھی کافی لمبا عرصہ مختلف عہدوں پر جماعت کی خدمت کی۔ سرگودھا میں رہے۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب کے ساتھ انہوں نے کافی لمبا کام کیا ہے۔ موصی تھے اور بہشتی مقبرہ میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو اور اسی طرح سیال صاحب کے پسماندگان کو صبرکی توفیق عطا فرمائے۔ ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ میں ہر دو کی نمازجنازہ غائب پڑھاؤں گا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/zj2oW]

اپنا تبصرہ بھیجیں