خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 06 ؍جولائی 2007ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ہر شخص کا انفرادی امن بھی اور معاشرے کا امن بھی اور دنیا کا امن بھی اس ذات کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہے جو امن دینے والی ذات ہے جس کا ایک صفاتی نام اَلْمُؤْمِنْ ہے۔
مساجد بھی اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں۔ یہاں سے بھی امن کا پیغام دنیا کو پہنچتاہے اور پہنچنا چاہئے۔ لیکن آج دیکھیں مسیح محمدی کو نہ ماننے والے ان کا کیا استعمال کر رہے ہیں۔ بظاہر مسجد ہے اور اندر دہشت گردوں کا اڈّہ بنا ہواہے۔
(لفظ مومن کے مختلف معانی کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی صفت اَلْمُؤْمِنْ کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
(فرمودہ مورخہ 06 ؍جولائی 2007ء(06؍ وفا 1386ہجری شمسی)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّاھُوَ۔ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ۔سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (الحشر:24)

فرمایا۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے اور کبریائی والا ہے۔ پاک ہے اللہ اس سے جو شرک کرتے ہیں۔
جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک نام مُؤْمِن ہے۔ جو ترجمہ مَیں نے پڑھا ہے، اس میں مُؤْمِنْ کے معنی امن دینے والے کے کئے گئے ہیں۔ پس ہر شخص کا انفرادی امن بھی اور معاشرے کا امن بھی اور دنیا کا امن بھی اُس ذات کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہے جو امن دینے والی ذات ہے جس کا ایک صفاتی نام جیسا کہ آپ نے سنا اَلْمُؤْمِنْ ہے۔ پس اس نام سے فیض بھی وہی پائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم صِبْغَۃَ اللّٰہ کہ اللہ کے رنگ میں رنگین ہو، پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اِس سے دُور ہو کر ہر امن کی کوشش رائیگاں جائے گی۔ہر کوشش کا آخری نتیجہ ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش ہو گا نہ کہ امن۔اور یہ امن اسی کو مل سکتا ہے جن کا ایمان کامل ہو۔ اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل تب ہوگا جب اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء پر بھی ایمان ہو جیسا کہ اس نے فرمایا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ جو خاتم الانبیاء ہیں آپ پر ایمان لانا بھی اصل میں ایک مومن کو کامل الایمان بناتا ہے۔آپؐ کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم اتارا اور ایک مسلمان کو اِس کا پابند کیا۔ اور پھر آنحضرت ﷺ نے ایک مسلمان کو اس بات کابھی پابند فرمایا کہ تاریک زمانے کے بعد جب میرا مسیح و مہدی مبعوث ہو گا تو اسے ماننا، اسے قبول کرنا، اس کی بیعت میں شامل ہونا، یہ بھی تم پر فرض ہے اور وہ کیونکہ حَکَم اور عدَل بھی ہو گا اس لئے قرآن کریم کے معارف اور احکامات کی جو تشریح وہ کرے، جووضاحت وہ کرے اس کو ماننا اور اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہی ہے جس نے تمام مسلمانوں کو بھی اور غیر مسلموں کو بھی میرے نام پر ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا اور اُمّت واحدہ بنانا ہے۔
پس آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونے والے ہی اللہ تعالیٰ کی صفت مومن سے حقیقی فیض پانے والے ہیں، ایمان میں بڑھنے والے ہیں، امن میں رہنے والے ہیں اور امن قائم کرنے والے ہیں اور ہونے چاہئیں۔یہ خصوصیات ہر احمدی میں ہونی چاہئیں۔ پس ہر احمدی کو اپنے ایمان میں ترقی کرتے ہوئے اس اہم بات کو ہمیشہ اپنے پلّے باندھے رکھنا چاہئے کہ صرف منہ سے مان لینا کافی نہیں ہو گا بلکہ ایمان میں بڑھنا اس میں ترقی کرنا،یہی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی صفت مومن سے حقیقی رنگ میں فیضیاب کرنے والا بنائے گا۔ ورنہ اگر تعلیم پر عمل نہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ایک حصہ کو تو مان لیا کہ ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہمیں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ملے اور جنہیں اس زمانے میں آپؐ کے غلام صادق نے پھر خوبصورت انداز میں پیش کرکے ان پر عمل کرنے کی ہمیں نصیحت فرمائی، اس پر ہم پوری طرح کار بند ہونے کی کوشش نہ کرکے عملاً اپنے ایمان کو کمزور کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کے ایمان کو مضبوط کرتا چلا جائے، اسے اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذات میں بھی اور اپنے معاشرے میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کا حقیقی پر تو نظر آئے۔
مومن کے مزید معانی جو اہل لغت اور مفسرین نے بعد میں پیش کئے ہیں، اب مَیں وہ بیان کرتا ہوں۔ لسان العرب کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفت اَلْمُؤْمِن کا ایک معنی یہ کیا گیا ہے کہ مومن وہ ہستی ہے جس نے اپنی مخلوق کو اس بات سے امن عطا کیا کہ ان پر ظلم کرے۔بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مومن وہ ذات ہے جس نے اپنے اولیاء کو اپنے عذاب سے امن بخشا ہے۔ پہلے معنی وسعت کے لحاظ سے زیادہ وسیع دائرے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو ہر چیز پر حاوی ہے، اس لئے ظلم کا تو سوال ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو عذاب کا سوال کیا ؟ وہ تو خود بخود امن میں آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء پر جو ابتلاء آتے ہیں،حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے فرمایا ہے کہ وہ تو ان کا ایک امتحان ہوتا ہے جس میں سے وہ گزرتے ہیں اور بجائے شکوہ کے اللہ تعالیٰ کی مدد اور دعاؤں سے اس میں سے گزر جاتے ہیں۔
ابو العباس کہتے ہیں کہ عربوں کے نزدیک اَلْمُؤْمِنُ کا معنی اَلْمُصَدِّق ہے اور مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اُمّتوں سے رسولوں کی تبلیغ سے متعلق سوال کرے گا تو وہ کسی بھی رسول کی بعثت کا انکار کر دیں گے اور اپنے انبیاء کی تکذیب کریں گے۔ پھر امت محمدیہ لائی جائے گی اور ان سے یہی سوال کیا جائے گا تو وہ سابقہ انبیاء کی بھی تصدیق کریں گے، اس پر اللہ تعالیٰ ان کی تصدیق کرے گا۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کو مومن یعنی اَلْمُصَدِّق کہا گیا ہے نیز محمد ﷺ اپنی امت کی تصدیق کریں گے اور یہی مضمون اس آیت کریمہ کا ہے جو فرمایا

فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ۔ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَآءشَہِیْدًا (النساء:42)

یعنی پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔
پھر کہتے ہیں کہ… اور جو قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کے لئے آیا ہے کہ

وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْن

تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مومنوں کی تصدیق کرتا ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ اللہ کی صفت اَلْمُؤْمِن کے معنی ہیں جو اپنے بندوں سے کئے ہوئے وعدے سچ کر دکھائے۔ جیسا کہ مَیں نے شروع میں کہا تھا، مومن وہ ہیں جو کامل ایمان والے ہیں۔ تمام انبیاء پر ایمان لانے والے ہیں اور یہ تمام انبیاء پر ایمان لانے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے دی۔
ابو العباس کے اس اقتباس نے اسے مزید کھولا ہے لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ ایک احمدی جو دراصل تمام انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کو ماننے والا ہے۔ وہی ہے جو حقیقی رنگ میں مومن ہے۔ آنحضرت ﷺ کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے پہلے انبیاء پر بھی اور بعد میں آنے والے پر بھی۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ جلشانہ‘ نے اسلامی امت کے کُل لوگوں کے لئے ہمارے نبیﷺ کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا

اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاہِدًا عَلَیْکُمْ (المزّمل:16)

اور فرمایا

وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَآءشَہِیْدًا (النساء:42)

مگرظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت ﷺ صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے، پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی اُمّت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطوراستخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دئیے اور خلیفوں کی شہادت بعینہٖ آنحضرت ﷺ کی شہادت متصور ہوئی…۔ غرض شہادتِ دائمی کا عقیدہ جونص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیاجائے‘‘۔ (شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ363)
پس ہم احمدی اس ایمان پر قائم ہیں، ایک تو آخرت میں تصدیق ہونی ہے جو ایمان بالغیب پر یقین کرتے ہوئے ہونی ہے۔ دوسر ے آنحضرت ﷺ کے بعد کے زمانے کی تصدیق بھی آنے والے کو ماننے پر ہونی ہے جو خاتم الخلفاء ہے۔ یہ مُہر ہے جو کامل الایمان پر آنحضرت ﷺ کی تصدیق کی لگے گی۔ احمدی کی تصدیق اس اعزاز کے ساتھ ہو گی کہ ہاں اس نے پہلوں کو بھی مانا اور بعد میں آنے والوں کو بھی مانا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا تھا۔ اس نے کچھ کہا تھا تو آپؐ نے فرمایا بس کر اب تو مَیں اپنی ہی امت پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں۔ مجھے فکر ہے کہ میری امت کو میری گواہی کی وجہ سے سزا ملے گی‘‘۔ (الحکم جلد 7 نمبر 9مورخہ10؍ مارچ 1903ء)
گواہی کی وجہ سے کیوں سزا ملے گی؟ اس لئے کہ ایمان لانے کا دعویٰ کرنے کے بعدبھی پھر جومصدق اعظم ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کی تصدیق کا اختیار دیا ہے ان کے عاشق صادق کو نہیں مانا۔ پس یہ آنحضرت ﷺ کی تصدیق پہلوں اور آخرین دونوں کے لئے ہے۔
اور پھر جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کے معنی ہیں کہ جو مومنوں سے اپنے کئے ہوئے وعدے سچ کر دکھائے تو یہ وعدے بھی آج اُس خلافت کی تصدیق کی وجہ سے ہیں جو جماعت احمدیہ سے ہی اللہ تعالیٰ پورے فرما رہا ہے۔ کیا مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کو دین کی تمکنت حاصل ہے؟ منہ سے بے شک ڈھٹائی سے کہتے رہیں جو چاہے کہیں لیکن صورتحال ہر ایک کے سامنے ہے۔
پھر امام راغب اپنی لغت مفردات امام راغب میں لکھتے ہیں کہ اَلْمُؤْمِن کے اصل معنی ہیں طمانیت نفس حاصل ہونا اور خوف کا زائل ہونا۔
پھر لکھتے ہیں کہ آمِن، امن پانے والا، بعض کے نزدیک اس سے مراد ہے اللہ کے حکم کے مطابق امن پانے والا اور اس لحاظ سے

وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (آل عمران :98)

کا معنی ہو گا کہ جو شخص حرم میں داخل ہو جائے نہ اس سے قصاص لیا جاتا ہے نہ اس کے اندر قتل کیا جاتا ہے سوائے اس کے کہ وہ حرم کی حدود سے باہر آجائے۔ کہتے ہیں یہی مضمون ان آیات میں ہے۔ فرمایا

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا (العنکبوت:68)

کہ کیا انہوں نے نہیں دیکھاکہ ہم نے ایک امن والا حرم بنایا ہے۔ یہ معنی جو انہوں نے کئے ہیں اس سے بھی بہت وسیع معنی ہیں۔ یہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا اعلان ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔ جو بھی مسلمانوں کے حالات ہوئے یا ہیں، اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ان کو توفیق دی ہے کہ اس کے تقدس کوقائم رکھیں بلکہ اصل میں تو کہنا یہ چاہئے کہ یہ تقدس اللہ تعالیٰ نے خود قائم کیا ہوا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی اس کا تقدس تھا۔ عربوں کی جہالت کے زمانے میں بھی اس کی حیثیت حرم کی تھی اور امن کا نشان سمجھا جاتا تھا جبکہ ارد گرد کے ماحول میں اُس جہالت کے دور میں کسی بھی قسم کے امن کی ضمانت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے اس امن والے گھر کی حفاظت بھی خداتعالیٰ نے ہمیشہ خود فرمائی ہے۔ قرآن کریم میں وہ واقعہ درج ہے جس میں اصحاب فیل سے محفوظ رکھا تھا۔ اس لشکر کے سامنے اس وقت اہل مکّہ کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی۔ دنیا کو یہ بتا دیا کہ یہ امن والا گھر میرا گھر ہے۔ اس کو دنیا کے امن کے نشان کے طور پر مَیں نے بنایا ہے۔ اس کی طرف جو بھی ٹیڑھی نظر سے دیکھے گا اس کی اپنی سلامتی اور امن کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔
پھر یہ دوسری آیت کی مثال دیتے ہیں کہ

وَاِذْ جَعَلْنَاالْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَآ اِلٰیٓ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ (البقرہ :126)

اور جب ہم نے اپنے گھر کو لوگوں کے بار بار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کے طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب گھر کو پاک صاف بناؤ۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس لفظاَمْنًا کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

وَاِذْ جَعَلْنَاالْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا

کہ اَمْنَا، یہ مقام امن والا ہو گا۔ اس کے ایک معنے یہ ہیں یعنی اسے دوسروں سے ہمیشہ محفوظ رکھا جائے گا۔ دوسرے معنے یہ ہیں کہ یہ مقام دوسروں کو امن دینے والا ہو گا اورچونکہ حقیقی امن اطمینان قلب سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے اَمْنَا کے تیسرے معنے یہ بھی ہیں کہ اطمینان قلب بخشنے والا۔
امن کے ذکر کے بعد اس آیت میں مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلًی کا جو ذکر آیا ہے اس لئے کہ اے مسلمانو! یہ لوگوں کے امن کی ضمانت بھی ہے اور ابراہیمی قربانیوں اور عبادتوں میں اس کا امن چھپا ہوا ہے۔ اس پر عمل کرکے ہی تم امن حاصل کر سکتے ہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ۔ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ‘‘۔ پھر فرمایا ’’یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرزپر بجا لاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونے پر اپنے تئیں بناؤ‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’آیت

وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی

اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب اُمّت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا‘‘۔
(اربعین نمبر3،روحانی خزائن جلدنمبر17 صفحہ421-420)
پس امن کی یہ ضمانت اس گھر سے منسوب ہونے والے کے لئے تب ہے جب عبادت کے بھی وہ رُخ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں، جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس زمانے میں کیا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی تصدیق کرنے والا ہے اور ان کو امن دینے والا ہے جوآنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی پیروی کرنے والے ہیں۔
پس احمدی کو چاہئے کہ اپنی دعاؤں میں اس امن والے گھر کو بھی ہمیشہ اس لحاظ سے پیش نظر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ پہلا گھر جو امن و سلامتی کا نشان ہے جس میں آج احمدی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، احمدی کے لئے وہاں داخل ہونے میں امن کی کوئی ضمانت نہیں ہے جو اُس ابراہیم کے پیرو ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس کے امن والے گھر میں داخل ہو، اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرمائے کہ مسیح محمدی اور اِس زمانے کے ابراہیم کے ماننے والے امن و سکون سے اس امن والے گھر میں داخل ہو سکیں اور جب وہ وقت آئے گا اور انشاء اللہ ضرور آئے گا تو پھر دنیا دیکھے گی اور تسلیم کرے گی کہ ہاں اب اس کے حقیقی وارث اس تک پہنچے ہیں اور اب اس امن کے سمبل (Symbol) کا اثر بھی دنیامیں پیار، محبت اور امن و سلامتی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
اس کا نقشہ خود امام راغب بھی پیش کر رہے ہیں۔ مسیح کی حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ نیز نزول مسیح کی حدیث میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ

تَقَعُ الْا َمَنَۃُ فِی الْاَرْض

یعنی زمین پر مسیح کے آنے سے امن و امان قائم ہو جائے گا۔ پس یہ امن اس مسیح سے وابستہ ہے جو آچکا ہے اور جس نے جنگ اور قتال کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اب اس کی آواز کو سن کر بھی مسلمان نہ سمجھیں اور اس انتظار میں بیٹھے رہیں تو ان کی بدقسمتی ہے۔ جو یہ تشریح کرتے ہیں کہ مسیح کے آنے کے بعد اس نے کیا کرنا ہے۔ اگراس کو دیکھیں گے تواُس مسیح نے کیا امن قائم کرنا ہے جو ان کے نظریہ کے مطابق آئے گا۔ اس نے تو طاقت سے صلیب کو بھی توڑنا ہے، اس نے تو قتل و غارت بھی کرنی ہے۔کیا قتل و غارت سے دنیا کے امن قائم ہوتے ہیں۔
پھر وہ کہتے ہیں کہ اٰمَن دو معنوں میں آتا ہے ایک معنی یہ ہیں کہ کسی کے لئے امن مہیا کرنا اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ کو مومن کہا جاتا ہے، یعنی امن عطا کرنے والا۔اوراٰمَن کے دوسرے معنی ہیں۔ خود امن میں آگیا۔ اسے طمانیت نصیب ہو گئی۔ اَلْاِیْمَان یہ لفظ تو کبھی اس شریعت کے لئے استعمال ہوتا ہے جو حضرت محمد مصطفیﷺ لے کر آئے ہیں۔ جیسا کہ

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصّٰبِؤنَ (المائدۃ:70)

اور مومن اس معنی کے لحاظ سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اللہ کی ہستی اور محمدﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا اقرار کرتے ہوئے اس کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدَح کے استعمال ہوتا ہے۔ تب ایمان سے مراد ہوتا ہے اپنے نفس کو اس طرح حق کا مطیع بنا دینا کہ حق کی تصدیق کرتا ہو۔
جو آیت مَیں نے تلاوت کی ہے اس کی تفسیرمیں روح المعانی میں مومن کے لفظ کے تحت لکھا ہے کہ اپنی اور اپنے رسولوں کی اس بارے میں تصدیق کرنے والا کہ انہوں نے اس کی طرف سے، یعنی اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچایا ہے وہ درست ہے، خواہ وہ یہ تصدیق اپنے قول سے کرے یا معجزات دکھانے سے کرے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس آیت کی وضاحت میں مومن کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہو سکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہو گا کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں۔ لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔ وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے‘‘۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی،روحانی خزائن جلد 10صفحہ375)
پس یہ ہے امن بخشنے والا خدا جس پر ایمان کی مضبوطی اسے ہر مخالف کے مقابل پر جرأت دلاتی ہے۔ روح المعانی میں مومن کے لفظ کی مزید وضاحت میں لکھا ہے کہ اَلْمُوْمِن کا معنی ہے وہ جو اپنے بندوں کو سب سے بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت کے دن سے امن بخشنے والا ہے۔ پھر بندوں کو اس سب سے بڑی گھبراہٹ سے اس طرح امن بخشنے والا ہے کہ ان کے دلوں میں طمانیت پیدا کر دے یا انہیں اپنی جناب سے خبر دے کر امن بخشے کہ ان پر کوئی خوف نہ ہو گا۔
ثعلب نے بیان کیا ہے کہ اَلْمُوْمِن کا معنی مصدق ہے اور اللہ تعالیٰ مومنوں کے دعویٔ ایمان کی تصدیق کرنے والا ہے۔ بعض نے اَلْمُوْمِن کا معنی کیا ہے وہ جو کہ زوال کے عیب سے خود امن میں ہے کہ خداتعالیٰ پر کسی قسم کا زوال آنا محال ہے۔
پس یہ ہیں لفظ مومن کے چند معانی جو اللہ تعالیٰ کی ذات میں استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ امن دینے والا بھی ہے، امن میں رکھنے والا بھی ہے اور ایمانوں کو مضبوط کرنے والا بھی ہے۔ اس لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس اللہ تعالیٰ کی ہر صفت پر اپنے کامل ایمان کے ساتھ عمل کرنے والے ہوں۔
خانہ کعبہ کا پہلے ذکر چل رہا تھا، یہ اللہ کا گھر ہے۔مساجد بھی اسی طرح اللہ کا گھر ہیں اور عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ یہاں سے بھی امن کا پیغام دنیا کو پہنچتا ہے اور پہنچنا چاہئے اور مساجد کی یہی حقیقی روح ہے۔ لیکن آج دیکھیں مسیح محمدی کو نہ ماننے والے ان کا کیا استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں جو امن و سکون برباد ہوا ہے وہ کیا ہے؟ بظاہر مسجد ہے لیکن اندر دہشت گردوں کا اڈا بنا ہوا ہے، حکومت کے مقابلے پر کھڑے ہیں۔جنگ کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ احمدیوں پر یہ الزام لگتا تھا کہ ربوہ کوسٹیٹ کے اندر سٹیٹ بنایا ہوا ہے اور اب خود لال مسجد اور جامعہ حفصہ وغیرہ کے حوالے سے یہ بیان دے رہے ہیں کہ انہوں نے قانون کو اتنا اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے کہ حکومت کے مقابلے پر کھڑے ہیں، سٹیٹ کے اندر سٹیٹ ہے اور یہ کبھی برداشت نہیں ہوسکتی تو خود ان کے مونہوں سے ہی اللہ تعالیٰ یہ باتیں نکلواتا ہے۔ ان لوگوں نے امن قائم کرنا ہے؟ ان لوگوں کے دعویٔ ایمان کی اللہ تعالیٰ تصدیق کرے گا؟ ہم مومن اور دوسرے الفاظ کی جو تعریف سن کے آئے ہیں اس زمرے میں تو یہ نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ تو ان کی تصدیق کرتا ہے جو اپنے نفس کو حق کا مطیع بناتے ہیں اور ان کا دعوی حق کا ہوگا۔ لیکن اِن کا عمل کیا ہے،؟حکومت سے ٹکر لے رہے ہیں۔ جو قطعاً کھلے طورپر بغاوت ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی ہے۔ لیکن اگر یہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو جب حکومت نے ایکشن لیا تو پھر حق بھول گئے۔ پھر عورتوں میں شامل ہو کر برقعہ پہن کر نکل گئے۔ تو یہ ان کا حق ہے۔ کیا یہ ایمان کی مضبوطی ہے۔
ایمان دیکھنا ہے تو آج احمدیوں میں دیکھیں جنہوں نے کلمے کو اپنے سینے سے لگایا اور کلمے کو اپنے سینے سے اترنے نہیں دیا اور اس وقت جیلیں بھر دیں۔ مردوں، عورتوں اور بچوں نے ایمان کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئیے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دنیا میں طمانیت قلب عطا فرمائی تھی اور اپنے وعدے کے مطابق ان کو ہمیشہ خو ف سے امن کی حالت میں بدلنے کے نظارے دکھائے تھے اور اس بات نے ان کے ایمانوں کو مزید مضبوطی بخشی کہ جس خدا نے یہاں وعدے پورے کئے ہیں اگلے جہان میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وعدے پورے کرے گا۔
پس احمدی کو ہمیشہ اپنے ایمانوں پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور جس کے حصول کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے تعلیم دی ہے اور اس کے حصول کے لئے ہم نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے۔ اللہ کرے کہ ہر احمدی اس تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنے والا ہو۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ZJjmU]

اپنا تبصرہ بھیجیں