خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍جون 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جلسہ سے مقصد بڑی بڑی زمینیں خریدنا یا حاضری بڑھانا نہیں تھا، اپنے ماننے والوں کی تعداد کا اظہار کرنا نہیں تھا بلکہ تقویٰ میں ترقی کرنے والوں کی جماعت پیدا کرنا تھا۔
پاکستان نژاد احمدی اور افریقن امریکن احمدیوں میں جو ایک اکائی نظر آنی چاہئے وہ ہر سطح پر مجھے نظر نہیں آتی۔ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں شامل ہو کر یہ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ پاکستانی نژاد احمدی اپنوں اور مقامی احمدیوں میں کوئی فرق رکھیں۔
تبلیغ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہمیں اپنے اخلاق کے معیار بھی بہتر کرنے ہوں گے اور اپنی غلط فہمیوں کوبھی دور کرنا ہوگا تبھی ہم ایک حسین معاشر ہ قائم کر سکتے ہیں جو تقویٰ پر چلنے والا معاشرہ ہوگا۔
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد تو خدا تعالیٰ کی پہچان کروانا اور بندے کو بندے کے ساتھ پیار ومحبت کے تعلق کو قائم کروانا تھا اور ہے۔ اگر کسی احمدی کے دل میں یہ خیال نہیں تو اس کا خلافت احمدیہ کے قیام اور مضبوطی کے لئے قربانی کرنے کا دعویٰ بھی عبث ہے۔
پس تقویٰ میں ترقی کریں، تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھیں اور اپنی کم تعداد کو اکثریت میں بد ل دیں۔
رشتہ ناطہ سے متعلق مسائل کے حل کے لئے اہم نصائح
عہدیداران کو تربیتی فرائض کی انجام دہی کے سلسلہ میں تاکیدی ہدایات
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 20؍جون 2008ء بمطابق20؍ احسان 1387 ہجری شمسی
برموقع جلسہ سالانہ یو ایس اے۔ بمقام پینسلوینیا USA. (Pennsylvania)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ کا جلسہ سالانہ میرے اس خطبہ کے ساتھ شروع ہورہا ہے۔ ایک عرصہ سے یہ آپ کی بھی خواہش تھی اور میری بھی خواہش تھی کہ مَیں یہاں آؤں اور براہ راست جلسہ میں شمولیت اختیار کروں۔ یہ جلسہ سالانہ جو ہم دنیا کے ہر ملک میں منعقد کرتے ہیں، اس کا انعقاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر فرمایا تھا۔ یہ جلسہ اور یہ موقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کا حامل ہے، آپؑ کی دعائیں لئے ہوئے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قادیان کی بستی میں جس پہلے جلسہ کا انعقاد فرمایا تھا، جس میں حاضری گو صرف پچہتّر 75) (افراد کی تھی لیکن مسیح محمدیؐ کے تربیت یافتہ وہ لوگ تھے جن کا خداتعالیٰ سے ایک خاص تعلق قائم ہوچکا تھا۔ ایمان اور ایقان میں بڑھے ہوئے لوگ تھے۔ جن کے نور ایمان اور نور یقین نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کیا اور احمدیت کے لئے ان کی کوششوں اور قربانیوں کو
اللہ تعالیٰ نے بیشمار پھل عطا فرمائے اور برکت بخشی۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عاشق تھے۔ وہ جلسہ جو پہلا جلسہ تھا، اُن عاشقوں نے اپنے محبوب کے گرد جمع ہو کر ایک مسجد میں منعقد کرلیا تھا۔ مسیح محمدی کی وجہ سے جو اُنہیں نوربصیرت عطا ہوئی تھی، اُس کے ذریعہ وہ یقینا اس یقین پر قائم ہوگئے ہوں گے کہ یہ جلسہ مسجد سے نکل کر میدان میں پھیلنے والا ہے۔ اور پھر صرف آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی اس چھوٹی سی بستی قادیان کے میدان میں ہی نہیں، بلکہ دنیا کے اکثر میدانوں میں پھیلنے والا ہے اور پھر مسیح محمدیؐ کی یہ جماعت صرف چھوٹے چھوٹے میدانوں پر ہی اس جلسہ کے لئے اکتفا نہیں کرے گی بلکہ کئی ایکڑوں پر پھیلے ہوئے رقبوں کی ضرورت پڑے گی۔
چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی بعض جماعتیں اپنے جلسوں کے لئے سینکڑوں ایکڑ زمین خرید رہی ہیں۔ جماعت امریکہ بھی ان جماعتوں میں سے ہے جس نے 22 ایکڑ کے قریب جگہ خریدی اور آپ لوگوں نے وہاں بڑی خوبصورت مسجد بھی بنائی۔ کچھ عرصہ تک وہاں جلسے بھی منعقد ہوتے رہے۔ لیکن بعض ضروری سہولیات کی کمی کی وجہ سے کچھ عرصہ کے بعد کرائے کی جگہ پر جلسے منعقد کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس لئے آج ہم یہاں جمع ہیں، جو کرائے کی جگہ ہے۔ اب آپ لوگ بھی اس بات کو محسوس کرتے ہوئے بڑے رقبہ کی تلاش میں ہیں تاکہ اپنی جگہ پر جلسے منعقد کرسکیں۔ یہ سب باتیں ایک سوچنے والے ذہن میں یقینا یہ بات راسخ کرتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے تھے۔
یہی امریکہ جس میں جب پہلے مبلغ بھیجے گئے تو انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ تبلیغ کی اجازت نہیں دی گئی۔ لیکن خداتعالیٰ کی تقدیر کے آگے تو کوئی روک کھڑی نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے روکیں دُور فرمادیں اور آج آپ بھی جلسہ گاہ کے لئے جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا، زمین کی تلاش میں ہیں اور 200,100 ایکڑ زمین خریدنے کی باتیں کرنے لگ گئے ہیں۔ لیکن یہ بات ہمیشہ ہر ایک کو اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جلسہ سے مقصد بڑی بڑی زمینیں خریدنا یا حاضری بڑھانا نہیں تھا، اپنے ماننے والوں کی تعداد کا اظہار کرنا نہیں تھا بلکہ تقویٰ میں ترقی کرنے والوں کی جماعت پیدا کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار پیدا کرنے والوں کی جماعت بنانا تھا۔ حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والوں کی ایک فوج تیار کرنا تھا جو دنیاوی ہتھیاروں، توپ و تفنگ سے لیس نہ ہو بلکہ ایسے لوگ ہوں جن کے ماتھوں پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے نشان ظاہر ہوتے ہوں۔ جن کے دل خداتعالیٰ کی مخلوق کی محبت سے لبریز ہوں۔ جن کی راتیں تقویٰ سے بسر کی جانے والی ہوں اور جن کے دن خداتعالیٰ کا خوف لئے ہوئے ڈرتے ڈرتے گزر رہے ہوں۔
پس یاد رکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر ہم بغیر کسی عمل کے عافیت کے حصار میں نہیں آگئے بلکہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی اور جوں جوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ سے دُوری پیدا ہورہی ہے پہلے سے بڑھ کر اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ہر باپ اور ماں کو اپنی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے اپنے عملوں کی درستی کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔
اس مغربی ماحول میں خاص طور پر اور آج کل کے مادی دَور میں عموماً دنیا میں ہر جگہ اپنے بچوں کو خداتعالیٰ کے قریب لانے کا حق ادا کرنے والے اگر ہم نہیں ہوں گے تو اپنے آپ کو بھی اور اپنے بچوں کو بھی عافیت کے حصار سے نکال رہے ہوں گے۔ ہمارے منہ تو اللہ اللہ کر رہے ہوں گے مگر ہمارے عمل اس بات کو جھٹلا رہے ہوں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ جلسے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
‘’اس جلسے سے مدعا اورمطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کرلیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور ان کے اندر خداتعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خداترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں ‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل۔ اشتہار التوائے جلسہ 27؍دسمبر 1893ء صفحہ439مطبوعہ لندن)
تو یہ ہیں وہ معیار جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سوں نے یہ اقتباس کئی دفعہ سنا بھی ہوگا اور پڑھا بھی ہوگا، لیکن دنیا کے دھندے ہمیں پھر اس بات سے دُور لے جاتے ہیں، ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ بہرحال یہ انسانی فطرت بھی ہے کہ انسان بھول جاتا ہے، کمزوریاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور شیطان نے اللہ کے بندوں کو صحیح راستے سے ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ نصیحت کرتے چلے جائیں۔ مومنوں کو نصیحت فائدہ دیتی ہے۔ تاکہ کمزوریاں دُور کرنے اور شیطان سے بچنے کے نئے نئے طریقے ان کو ملتے چلے جائیں۔ اور یہی کام اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کو جاری رکھنے کے لئے بھیجا ہے اور یہی کام خلافت کا ہے تاکہ نصیحتوں سے

اَطِیْعُوا اللّٰہ َ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ (سورۃ النساء آیت:60)

کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس اقتباس میں جو مَیں نے پڑھا ہے ان باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اگر ایک احمدی سمجھ لے اور اس پر عمل شروع کر دے تو یہ دنیا جنت نظیر بن سکتی ہے۔ پھر ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے والے بن جائیں۔ پہلی بات آپ نے یہ فرمائی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تقویٰ۔ اور تقویٰ کیا ہے؟
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
‘’تقویٰ تو صرف نفس امّارہ کے برتن کو صاف کرنے کا نام ہے اور نیکی وہ کھانا ہے جو اس میں پڑتا ہے اور جس نے اعضاء کو قوت دے کر انسان کو اس قابل بنانا ہے کہ اس سے نیک اعمال صادر ہوں اور وہ بلند مراتب قرب الٰہی کے حاصل کرسکے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3 حاشیہ صفحہ503 جدید ایڈیشن)
پس پہلی بات تو یہ کہ تقویٰ ہوگا، خداتعالیٰ کا خوف ہوگا، اس کی ہستی پر یقین ہوگا تو انسان کی توجہ اپنے دل کی صفائی کی طرف رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رہے گی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس مضمون کو اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العکبوت:70)

اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔ پس تقویٰ پیدا کرنے کے لئے، اس برتن کو صاف کرنے کے لئے پہلے محنت کی ضرورت ہے۔ جب انسان خدا کی محبت اور اس کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ وہ طریقے بھی سکھائے گا جس سے یہ برتن زیادہ سے زیادہ چمک دکھا سکے۔
آج کل تو برتنوں کو صاف کرنے کے لئے دنیا میں اور اس مغربی دنیا میں خاص طور پر مختلف قسم کے صابن ہیں یا کیمیکلز ہیں۔ ان کو ہم اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ برتن چمک جائیں، ان کی اس طرح صفائی ہو جائے کہ ہر قسم کا گند صاف ہو جائے، کوئی چکناہٹ باقی نہ رہے بلکہ جراثیم بھی مر جائیں۔ بلکہ بعض ایسے کھانے جن کی بُو رہ جاتی ہے ان کی بُودُور کرنے کے لئے بھی خاص محنت کی جاتی ہے۔ بعض گھریلو خواتین انڈے یا مچھلی کے برتن علیحدہ رکھ کر دھوتی ہیں اور اس کے لئے خاص محنت کرتی ہیں کہ اکٹھے دھونے سے کہیں دوسرے برتنوں میں بونہ چلی جائے۔ تو دنیاوی برتنوں کے لئے تو ہم اتنا تردّد کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، مختلف قسم کے صابن تلاش کرتے ہیں اور یہ وہ برتن ہیں جو اکثر انسان کی زندگی میں اس کے سامنے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کے کسی کام نہیں آتے یا اگر بچ بھی جائیں تو انسان کے ساتھ نہیں جاتے۔ ان برتنوں کی خاطر تو اتنی محنت کی جاتی ہے۔ لیکن وہ برتن جو انسان کے دل کا برتن ہے۔ جس کو تقویٰ سے صاف کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جس میں رکھی گئی نیکیوں، حقوق اللہ اور حقوق العباد نے خداتعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے، جس نے مرنے کے بعد بھی ہمارے کام آنا ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اس برتن میں رکھی گئی نیکیوں نے ہماری نسلوں کے بھی کام آنا ہے۔ اگر ہمارے برتن صاف ہوں گے اور نیکیوں سے بھرے ہوں گے تو سعید فطرت اولاد بھی ان برتنوں کی صفائی کی طرف توجہ دے گی۔ خداتعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں رہے گی۔
پس تقویٰ سے صاف کئے ہوئے برتن میں رکھے ہوئے کھانے کبھی نہ خراب ہونے والے کھانے ہیں۔ اور نہ ہی وہ کھانے ہیں جن سے کسی بھی قسم کی بیماری پیدا ہو۔ بلکہ یہ وہ کھانے ہیں جن سے جسم کو طاقت ملتی ہے۔ ایسی طاقت ملتی ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی طاقت ہے، جس سے مزید نیکیاں سرزد ہوتی ہیں، مزید عمدہ کھانے اس میں پڑتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے مزید کھلتے چلے جاتے ہیں اور انسان نفس امّارہ کی وادیوں میں بھٹکنے کی بجائے خداتعالیٰ کی پناہ کے مضبوط قلعے میں آجاتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تقویٰ کے مضمون کو ایک جگہ یوں بھی بیان فرمایا ہے، آپؑ فرماتے ہیں کہ:
‘’قرآن کریم میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے۔ اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے‘‘۔ ایک مضبوط قلعہ ہے۔ ’’ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کاموقع دیتے ہیں ‘‘۔ (ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد 14صفحہ342)
پس ہم میں سے ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس درد کو محسوس کرنا چاہئے جو آپؑ نے بیان فرمایا ہے۔ سرسری طور پر آپؑ کی اس بات کو سن کر صرف یہ ردّعمل ہم نے ظاہر نہیں کرنا کہ کس عمدہ الفاظ میں آپ نے تقویٰ کی تعریف فرمائی ہے بلکہ ہمیں اپنے دلوں کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ اس ہلاکت سے بچنے کی ضرورت ہے جس کی طرف آپؑ نے نشاندہی فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس جہاد کی ضرورت ہے جس کی طرف خداتعالیٰ نے توجہ دلاتے ہوئے ہمیں فرمایا کہ تم اگر میری رضا کے حصول کے لئے کوشش کرو گے تو یقینا مَیں تمہیں اپنی پناہ میں لیتے ہوئے ان راستوں کی طرف تمہاری راہنمائی کروں گا جن پر چل کر تم دنیا و آخرت میں اپنے لئے محفوظ اور مضبوط پناہ گاہیں تعمیر کررہے ہو گے۔
پس کس قدر خوش قسمت ہیں ہم اور اس بات پر کس قدر ہمیں اپنے خدا کا شکرگزار ہونا چاہئے اُس خداکا کہ جس نے صرف اتنا ہی نہیں کہا کہ میرے راستوں کی طرف آنے کی کوشش کرو بلکہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ذریعے اُن راستوں کی صفائی کرکے، اُن پر سمتوں کے تعین کے بورڈ آویزاں کرکے، ان پر اندھیرے میں روشنی مہیا کرکے راہنمائی فرمائی ہے کہ یہاں شیطان بیٹھا ہے، اس سے کس طرح بچنا ہے۔ یہ راستے تمہیں خدا کی طرف لے جانے والے ہیں۔ جس طرح کہ جو اقتباس مَیں نے پڑھا تھا اس میں آپؑ نے فرمایا کہ تقویٰ میں سرگرمی اختیار کرو۔ اور پھر یہ کہ اس تقویٰ میں سرگرمی کس طرح اختیار کرنی ہے۔ ان نیکی کے راستوں کو کس طرح اختیار کرنا ہے۔ نفس امّارہ کے برتن کو صاف کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنے ہیں۔ فرمایا کہ نرم دل ہو جاؤ۔ اور نرم دلی کس طرح اختیار کرنی ہے۔ اس کے کیا معیار حاصل کرنے ہیں۔ اس بارے میں بھی مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ پیش کرتا ہوں۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے کہ اگر مَیں بھی دیدہ ودانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔ بلکہ مجھے چاہئے کہ مَیں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رورو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے۔ اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ مَیں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں بر جبیں ہو کر تیزی دکھاؤں یا بدنیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔ کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔ جب تک وہ اپنے تئیں ہر یک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دور نہ ہو جائیں۔ خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے۔ اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے۔ اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں۔ اور غصّہ کو کھالینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 443-442۔ مطبوعہ لندن)
پس یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہم سے خواہشات۔ فرمایا نرم دل ہو جاؤ۔ جب نرم دلی ہوگی تو وہ تمام اخلاق بھی پیدا ہوں گے جن کا آپؑ نے ذکر فرمایا۔ اُن اخلاق کا ذکر فرمایا جن کا ایک مومن کے اندر ہونا ضروری ہے۔ خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بعض ایسے نیک لوگ ہیں جواپنی انانیت اور خودپسندی کو مارنا، بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا، غصے کو دبالینا، نمازوں میں ایک دوسرے کے لئے دعا کرنا، اپنا وطیرہ بناتے ہیں اور یہ ہونا چاہئے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے برخلاف عمل کرتے ہیں۔ اب یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک مومن دوسرے بھائی کے لئے نماز میں دعا بھی کررہا ہو، اگر کوئی اس کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے بخش بھی دے اور ان دعاؤں اور بخشش کے باوجود اس کے دل میں نفرت بھی ہو۔ یہ دونوں چیزیں اکٹھی تو نہیں ہوسکتیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک دوسرے کو کمتر بھی سمجھ رہے ہوں اور پھر یہ بھی کہیں کہ دل میں عزت بھی ہے۔
اس ضمن میں مَیں ایک بات کہنا چاہتا ہوں جو میرے سامنے ان دنوں میں آئی ہے، پہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن بہرحال یہاں آنے کے بعد موقع تھا اور اس کے بعد کیونکہ دوبارہ موقع نہیں ملنا اس لئے جلسے کے دنوں میں ہی یہ باتیں کروں گا۔
یہاں امریکہ میں تین قسم کے احمدی ہیں۔ ایک پاکستانی یا ہندوستانی احمدی اور پھر ان میں آگے دو قسم کے نئے اور پرانے احمدی بھی ہیں۔ پھر مقامی افریقن امریکن احمدی ہیں جن کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ اخلاص و وفا میں بھی یہ لوگ بڑھ رہے ہیں۔ اُن میں سے کئی ایسے ہیں جو جماعتی نظام کا بہت فعال حصہ ہیں اور مختلف عہدوں پر خدمات پر معمور ہیں۔ اور تیسرے سفید فام امریکن بھی ہیں، ان کی تعداد گو بہت تھوڑی ہے لیکن یہ بھی نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرنے والوں میں سے ہیں۔ لیکن جو بات مَیں کہنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی نژاد احمدی اور افریقن امریکن احمدیوں میں جو ایک اکائی نظر آنی چاہئے وہ ہر سطح پر مجھے نظر نہیں آتی۔ مجھ تک دونوں طرف سے بعض شکوے پہنچتے رہتے ہیں۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس اقتباس کے فقرات پر غور کریں تو آپؑ کی جماعت میں شامل ہو کر یہ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ پاکستانی نژاد احمدی اپنوں اور مقامی احمدیوں میں کوئی فرق رکھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر وہ عاجزانہ راہیں اختیار کرنی ہوں گی جو آپؑ نے اختیار کیں۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نے سراہتے ہوئے، پسند فرماتے ہوئے آپؑ کو الہاماً فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں۔ اور کیونکہ پاکستانی احمدی پرانے ہیں، اس لئے ان کا فرض بنتا ہے کہ انہیں یعنی نئے آنے والوں کو خواہ وہ کسی قوم کے بھی ہوں اپنے اندر سموئیں، جذب کریں، ان کو فعال حصہ بنائیں، بھائی چارے کو رواج دیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مواخات میں ایک دوسرے کے لئے نمونہ بن جائیں اور مواخات کا اعلیٰ ترین نمونہ ہمارے سامنے کیا ہے؟ وہ نمونہ ہے انصارِ مدینہ اور مہاجرین کا نمونہ۔ ایسا اعلیٰ نمونہ کہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی تعریف فرمائی ہے۔ وہ نہ صرف ایک دوسرے کی تکلیفوں کو اپنی تکلیف سمجھتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتے تھے۔ جب انہوں نے سچائی کو اختیار کیا تو ان کے ہر عمل سے سچائی ظاہر ہونے لگی۔ ان کی عاجزی، محبت اور سچائی نے پھر وہ نمونے دکھائے کہ ایک دنیا ان کی طرف کھنچی چلی آئی۔ پس اگر دنیا کو اپنی طرف کھینچنا ہے تو ہر طرح کے تکبّر، نخوت، اور بدظنی کو دُور کرتے ہوئے ایک دوسرے کے جذبات، احساسات اور ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ دینی مہمات میں سرگرمی دکھائیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہے۔ سب سے بڑی مہم تو ہمارے سامنے تمام دنیا کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لانے کی پیش ہے جو ہم نے سرکرنی ہے۔ اگر ہم آپس میں دلوں میں دُوریاں لئے بیٹھے ہوں گے تو تبلیغ کے کام کو کس طرح سرانجام دیں گے۔ ہمارے کاموں میں برکت کس طرح پڑے گی۔ پس چاہئے کہ ایشین ہو یا افریقن امریکن ہوں یا سفید فام ہوں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں آکر ہمارے اندر پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور اگر اس کے لئے ہم نے مسلسل کوشش نہیں کی اور مسلسل کوشش نہیں کررہے تو ہم اپنے مقصد سے دور ہٹ رہے ہیں۔ تبلیغ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہمیں اپنے اخلاق کے معیار بھی بہتر کرنے ہوں گے اور اپنی غلط فہمیوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔ تبھی ہم ایک حسین معاشرہ قائم کرسکتے ہیں جو تقویٰ پر چلنے والوں کا معاشرہ ہوگا۔
گزشتہ دنوں مجھے یہاں ملاقات میں ایک خاندان ملاجسے دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی، بے اختیار دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات پیدا ہوئے۔ اس خاندان میں افریقن امریکن بھی تھے۔ سفید امریکن بھی تھے اور ایک پاکستانی بہو بھی تھی۔ تو یہ خاندان ہے جو احمدیت اور اسلام کی حقیقی تصویر ہے۔ بلکہ ان کو بھی مَیں نے یہی کہا تھا کہ تم لوگ حقیقت میں احمدیت کی صحیح تصویر ہو کیونکہ احمدیت تو دلوں کو جوڑنے کے لئے آئی ہے۔ حضرت
مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد تو خداتعالیٰ کی پہچان کروانا اور بندے کو بندے کے ساتھ پیار و محبت کے تعلق کو قائم کروانا تھا اور ہے۔ اگر کسی احمدی کے دل میں یہ خیال نہیں تو اس کا خلافت احمدیہ کے قیام اور مضبوطی کے لئے قربانی کا دعویٰ بھی عبث ہے، فضول ہے، بیکار ہے۔ پس یہ دونوں طرف کے لوگوں کا کام ہے، پاکستانی احمدیوں کا بھی اور افریقن امریکن احمدیوں کا بھی کہ اس خلیج کو پُرکریں۔ وہ معاشرہ قائم کریں جو تقویٰ پر مبنی معاشرہ ہو۔
ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں آنحضرت ﷺ کے اُن الفاظ کی جگالی ہوتی رہنی چاہئے جو آپؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمائے تھے۔ فرمایا کہ:
‘’اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے۔ یاد رکھو کسی عربی کو کسی عجمی پر اورکسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سرخ و سفید رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ و سفید والے پر کسی طرح کی کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ ہاں تقویٰ اور صلاحیت وجہ ترجیح اور فضیلت ہے‘‘۔ (مسند احمد با ب حدیث رجل من اصحاب النبی ﷺ)
تو یہ الفاظ تھے جو آپؐ نے پُرزور اور بڑی شان کے ساتھ ادا فرمائے اور پھر لوگوں سے پوچھا کہ’’کیا مَیں نے اپنا حق ادا کردیا ہے؟’‘۔
پس افریقن بھائیوں اور بہنوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان پر کسی قسم کی زیادتی ہوئی ہے، تب بھی وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ کسی طرح بھی کمتر ہیں۔ خلافت کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق ہے اور ان کے دلوں میں تقویٰ ہے تو کوئی دنیا کی طاقت ان کو کمتر ثابت نہیں کرسکتی۔ خدا اور اس کے رسول نے جس کو یہ مقام دے دیا ہے، اُس مقام کو کوئی دنیاوی طاقت چھین نہیں سکتی۔ لیکن اس مقام کے حصول کے لئے شرط تقویٰ میں ترقی ہے۔ پس تقویٰ میں ترقی کریں، تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھیں اور اپنی کم تعداد کو اکثریت میں بدل دیں اور پھر تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے پاکستانیوں کے لئے تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ شکووں سے مسئلے حل نہیں ہوتے، آپس میں مل بیٹھ کر مسئلے حل ہونے چاہئیں۔
عہدیداران سے بھی مَیں کہتا ہوں کہ وہ اِس انعام کی قدر کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خادم بنیں گے تو مخدوم کہلائیں گے۔ اپنے اندر وسعت حوصلہ اور برداشت پیدا کریں۔ ایک احمدی جب آپ کے پاس آتا ہے چاہے وہ کسی قوم کا ہو، اس کی بات غور سے سنیں اور اسے تسلی دلائیں۔ اگر مصروفیت کی وجہ سے فوری طور پر وقت نہیں دے سکتے تو کوئی اور وقت دیں اور اگر کبھی بھی وقت نہیں دے سکتے تو پھر بہتر ہے کہ ایسے عہدیدار خدمت سے معذرت کرلیں۔ مَیں خود باوجود مختلف قسم کی مصروفیات کے، کاموں کی زیادتی کے وقت نکال کر صرف اس لئے ذاتی طور پر بعض بڑھی ہوئی رنجشوں کو سن لیتا ہوں اور حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ ان میں کسی طرح آپس میں محبت اور پیار پیدا ہو۔ وہ حسین معاشرہ قائم ہو جس کے قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے تھے۔ لیکن اگر عہدیداران سننے کا حوصلہ رکھنے والے ہوں تو میرا خیال ہے کہ ان معاملات میں میرا یہ کام آدھا ہوسکتا ہے۔
ایک اور اہم بات جو یہاں امریکی احمدی معاشرے میں فکر انگیز طور پر بڑھ رہی ہے اور یہ بھی تقویٰ کی کمی ہے اور وہ یہ ہے کہ شادیاں کرنے کے بعد ان کا ٹوٹنا۔ کبھی لڑکی لڑکے کو دھوکہ دیتی ہے تو کبھی لڑکا لڑکی کو دھوکہ دیتا ہے۔ کبھی ایک دوسرے کے خاندان ایک دوسرے پر زیادتی کررہے ہوتے ہیں اور عموماً زیادتی کرنے والوں میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے جو اس مکروہ فعل میں ملوث ہوتے ہیں۔ شادیاں ہو جاتی ہیں تو پھر پسند ناپسند کا سوال اٹھتا ہے۔ اگر پسند دیکھنی ہے تو شادی سے پہلے دیکھیں۔ جب شادی ہو جائے تو پھر شریفانہ طریق یہی ہے کہ پھر اس کو نبھائیں۔ خصوصاً جب بچیوں کی زندگیاں اس طرح برباد کی جاتی ہیں تو زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ گھروالوں کے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی اور میرے لئے بھی۔ پس ہمارے لڑکوں اور لڑکیوں کا اگرپسند کا سوال ہو تو یہ معیار ہونا چاہئے کہ دین کیسا ہے؟ مَیں یہ نہیں کہتا کہ کفو نہ دیکھیں یہ بھی ضروری ہے۔ مگر کفو میں بھی دینی پہلو کو نمایاں حیثیت ہونی چاہئے۔ آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہی فرمایا ہے کہ جب شادیوں کی پسند دیکھنی ہو تو بہترین رشتہ وہ ہے جس میں دینی پہلو دیکھا جاتا ہے۔
پس ایک تو بہت اہم چیز یہی ہے اس کو دیکھیں اورایسے رشتے قائم کریں جو پھر قائم رہنے والے رشتے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ بچیوں کو بھی مَیں کہتا ہوں کہ وہ دین میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اپنی روحانیت کو بڑھائیں تاکہ کسی بچی پر یہ الزام نہ لگایا جائے کہ یہ بے دین ہے اس لئے میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا۔ دوسرے دین پر ترقی سے لڑکی میں اتنی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو جاتا ہے اور اس تعلق کی وجہ سے پھر اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے اور مشکل حالات سے انہیں نکالتا ہے۔
پس جیسا کہ مَیں نے کہا آج کل یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور امریکہ میں خاص طور پر یہ بنتا جارہا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ ابتدا میں قصور لڑکی کا ہوتا ہے یا لڑکے کا۔ کچھ نہ کچھ قصور دونوں کا ہوتا ہوگا۔ لیکن جو باتیں سامنے آتی ہیں، آخر میں لڑکا اور اس کے گھر والے عموماً زیادہ قصور وار ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ بچے ہو جاتے ہیں اور پھر میاں بیوی کی علیحدگی ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو بچوں کے ذریعے سے جذباتی تکلیف پہنچا کر تنگ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ خداتعالیٰ کا بڑا واضح حکم ہے کہ نہ باپ کو اور نہ ماں کو بچوں کے ذریعہ سے تنگ کرو، تکلیف پہنچاؤ۔ اور پھر یہ نہیں کہ پھر تنگ ہی کرتے ہیں بلکہ بعض ماؤں سے بچے چھین لیتے ہیں اور جب مَیں نے اس بارے میں کئی کیسز میں تحقیق کروائی ہے تو مجھے پھر جھوٹ لکھ دیتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ لکھ کر مجھے دھوکہ دے بھی دیں تو خداتعالیٰ کو تو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ وہ تو عالم الغیب ہے۔ تو یہ سب کچھ بھی صرف اس لئے ہوتا ہے کہ تقویٰ میں کمی ہے اور اس میں بعض ماں باپ بھی اکثر جگہ قصووار ہیں اور جیسا کہ مَیں نے کہا یہ تعداد بڑھ رہی ہے جو مجھے فکر مند کررہی ہے۔ آپ کے کسی عہدیدار نے مجھے کہا کہ لڑکیوں سے کہیں کہ جماعت میں ایسے ہی لڑکے ہیں ان سے گزارا کریں۔ تو ایک تو ایسے عہدیداروں سے یہ مَیں کہتا ہوں کہ جب فیصلے کے لئے آپ کے پاس کوئی آئے تو خالی الذہن ہو کر فیصلہ کریں۔ نہ لڑکے کو مجبور کریں نہ لڑکی کو مجبور کریں اور نہ کسی پر کسی قسم کی زیادتی ہو۔
دوسرے میرے نزدیک یہ بات ہمارے احمدی نوجوانوں پر بھی بدظنی ہے کہ نہ ہی ان کی اصلاح ہوگی اور نہ ہوسکتی ہے۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ یہ خداتعالیٰ پر بھی بدظنی ہے کہ اُس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ان کی اصلاح کرسکے۔ مَیں نے تو نصیحت اور دعا سے کئی معاملات میں مختلف قسم کی طبائع میں بڑی واضح تبدیلیاں ہوتے دیکھی ہیں۔ مَیں کس طرح بچیوں سے کہوں کہ تمہارے معاملات کا کوئی حل نہیں ہے، زیادتیوں کو برداشت کرتی چلی جاؤ۔ یا لڑکوں کے بارہ میں یہ اعلان کردوں کہ وہ قابل اصلاح نہیں ہیں۔ مَیں نے تو یہاں آکر نوجوانوں میں، لڑکوں میں بھی، مردوں میں بھی، جو اخلاص دیکھا ہے مَیں تو ان صاحب کی بات پہ یقین نہیں کرسکتا۔ مجھے تو بہت اخلاص سے بھرے ہوئے نوجوان نظر آرہے ہیں۔ اگر چند ایک لڑکے جماعت میں زیادتی کرنے والے ہیں تو اس اعلان کے بعد گویا پھر لڑکوں کو تو کھلی چھوٹ مل جائے گی، مَیں کھلی چھوٹ دے رہا ہوں گا کہ تم بھی تقویٰ کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے نقش قدم پر چلنے والے بن جاؤ۔
پس عہدیدار بھی اپنے سر سے بوجھ اتارنے کی کوشش نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے تربیت کا جو کام ان کے سپرد کیا ہے اسے سرانجام دیں۔ اور لڑکوں اور لڑکیوں سے بھی مَیں یہ کہتا ہوں کہ اپنے اپنے جائزے لیں اور جس کی طرف سے بھی زیادتی ہے وہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہوئے اس حسین معاشرے کو جنم دینے کی کوشش کرے جس سے یہ دنیا بھی ان کے لئے جنت بن جائے۔ نرم دلی اور نیک اعمال اور عبادت کی طرف توجہ پیدا کریں جو تقویٰ کی اساس ہیں، بنیاد ہیں۔ اگر ہر احمدی اس کی اہمیت کو سمجھ لے تو حقیقی معنوں میں ایک انقلاب ہوگا جو ہم اپنی زندگیوں میں پیدا کرنے والے ہوں گے۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس کے لئے کوشش کرنی ضروری ہے۔ ان تمام نیک اعمال پر عمل کرنے کی کوشش کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بیان فرمائے ہیں۔ ان کی ایک لمبی فہرست ہے اور آئندہ بھی مَیں دو دن ان تربیتی امور پر بھی آپ سے کچھ کہوں گا۔
اللہ تعالیٰ سب شاملین جلسہ کو توفیق دے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں اور حقیقت میں اس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آکر ہمیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/J8lJR]

اپنا تبصرہ بھیجیں