خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍اگست 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ان دنوں میں جو جلسے کے دن ہیں جہاں نمازوں اور دعاؤں کی طرف ہمیں توجہ رکھنی چاہئے وہاں آنحضرت ﷺ پر خالص ہو کر درود بھیجتے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے ہماری حالتوں کو بدلے اور ہمیں اپنا خالص بندہ بنالے۔
اپنی اپنی انتہائی استعدادوں کے مطابق اپنی عبادتوں کے معیار ہر احمدی کو بڑھانے چاہئیں نفس کی اصلاح کے لئے سب سے بہترین ذریعہ اپنے اندر سے ہی ایک مُزَکّی کو کھڑا کرنا ہے۔
اپنے جائزے لیں، اپنی نمازوں کے بھی جائزے لیں، اپنے دوسرے اخلاق کے بھی جائزے لیں۔
خلافت کے انعام سے فیضیاب ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حقیقی عابد بننا اور اس کے احکامات کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
(جماعت جرمنی کے جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمودہ خطبہ جمعہ میں جلسہ کے اغراض ومقاصد کو سامنے رکھنے
اور عبادتوں اور اعلیٰ اخلاق کے معیار کو بڑھانے کی طرف توجہ کی خصوصی نصائح)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 22؍ اگست2008ء بمطابق22؍ظہور 1387 ہجری شمسی بمقام مئی مارکیٹ۔ منہائم۔ جرمنی

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس خطبہ جمعہ کے ساتھ جماعت احمدیہ جرمنی کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ اس سال کیونکہ خلافت احمدیہ کے پہلے سو سال پورے ہونے پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے خاص اہتمام سے جلسے منعقد کررہے ہیں، اوّل تو پہلے بھی اہتمام سے ہوتے تھے لیکن لوگوں کی بھی اس طرف زیادہ توجہ ہے اس لئے اس سال کے جلسہ میں ہر ملک میں شاملین جلسہ کی تعداد اور انتظامات کے لحاظ سے اضافہ اور وسعت نظر آتی ہے۔ اور کیونکہ خلافت جوبلی کی وجہ سے مَیں بھی اس سال دنیا کے مختلف ممالک کے جلسوں میں شامل ہو چکا ہوں، اس لئے انتظامیہ اس لحاظ سے بھی زیادہ کانشس ہو گئی ہے۔ یہاں جرمنی میں بھی توجہ دے رہی ہے کہ یہاں کا جلسہ کسی بھی لحاظ سے کسی دوسرے ملک کے جلسوں سے کم نظر نہ آئے۔ اور افریقہ کے جلسوں میں گھانا کے جلسے نے خاص طور پر لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھیری۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اس سال کا میرا تو ساتواں جلسہ ہے، جس میں میں شامل ہوا ہوں۔ جرمنی کا جلسہ ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیابی سے منعقد ہوتا ہے اور امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس سال پہلے سے بڑھ کر ہو گا اور ہر فرد جو اس جلسے میں شامل ہو رہا ہے اس جلسے کی روح کو سمجھتا رہا تو خود بھی اس جلسے سے فیض اٹھانے والا ہو گا اور مجموعی طور پر جلسے کی کامیابی کا باعث بھی بنے گا۔ پس آپ میں سے ہر ایک مرد، عورت، بچہ، جوان، ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ہمارا یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟ اور یہ مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتا دیا ہے۔ آپ نے اپنی بیعت میں آنے والوں کو اس بیعت میں آنے کے بنیادی مقصد، جس کی وجہ سے ایک شخص جماعت میں شامل ہے، بتایا ہے یا جماعت میں جو نیا آنے والا شامل ہوتا ہے اس کو یہ مقصد بتایا جاتا ہے۔
آپؑ نے فرمایا کہ:’’تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول ﷺ کی محبت غالب آجائے‘‘۔ (اطلاع منسلکہ آسمانی فیصلہ۔ روحانی خزائن جلد 4صفحہ351)
پس پہلی بات ہر احمدی کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بیعت میں آنے والوں کو’’مخلصین‘‘ کے پیارے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے۔ یعنی ایسے خالص ہو کر پیار کرنے والے جن میں کوئی کھوٹ نہ ہو، جن کی دوستی بغیر کسی ذاتی مفاد کے ہو، بغیر کسی نام و نمود کے اخلاص و وفا کا تعلق ہو۔
اخلاص اس مکّھن کو بھی کہتے ہیں جو تلچھٹ سے علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔ پس یہ مقام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دیا ہے یا ہم سے توقع رکھی ہے کہ ہم یہ مقام حاصل کریں اس کو حاصل کرنے کی ہم کو کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلصین کی جو خوبیاں بیان فرمائی ہیں وہ اگر ہر لمحہ ہمارے سامنے ہوں تو یقینا ہم ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جن پر دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ان کے دلوں میں اگر کسی کی محبت قائم ہوتی ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کو عورت کے بُرائی کی طرف بلانے پر اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی ذات کے حقیقی فہم و ادراک کی وجہ سے برائی سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت یوسفؑ کے بارے میں فرماتا ہے کہ

اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ(یوسف: 25)

یعنی وہ یقینا ہمارے پاک اور برگزیدہ بندوں میں سے تھا اور اس پاکیزگی نے انہیں بچا لیا اور اگر انسان حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ہو تویہ خوف اور پاکیزگی ہی ہے جو ہر ایک کو برائی سے بچانے والی ہو گی۔
ایک دوسری جگہ فرمایا پھر جب شیطان نے کہا کہ اے اللہ! مَیں تیرے بندوں کو ضرور گمراہ کروں گا اور انہیں دنیا کی چمک دمک کے ایسے انداز دکھاؤں گا کہ ان کی اکثریت ضرور میرے پیچھے چلے گی اور تجھے بھول جائیں گے تو شیطان نے ایک جگہ اپنی ہار مانتے ہوئے یہ اعلان کیا اور کہا کہ

اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (الحجر:41)

مگر جو تیرے مخلص بندے ہیں، جن کی محبت تیرے اور تیرے رسولوں کے ساتھ ہے اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے جن کی محبت اللہ اور رسول کے ساتھ خالص ہے وہ میرے دام میں نہیں آسکیں گے۔ جن کی بیعت زمانہ کے امام کے ساتھ ان شرائط بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے خالص ہے کہ ہم اس پر ہمیشہ عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ شیطان کہتا ہے کہ وہ میرے دام میں نہیں آسکیں گے۔ ان کو مَیں جتنی بھی دنیا کی چمک دمک دکھاؤں وہ میرے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
پھر ایک جگہ قرآن کریم میں کفّار کا ذکر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک شاعر اور ایک مجنون کے کہنے پر اپنے محبوبوں کو چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقینا محمد رسول اللہ ﷺ سچے رسول ہیں اورنہ صرف خود سچے رسول ہیں بلکہ پہلے رسولوں کی سچائی بھی آپؐ کی وجہ سے آج کھل کر ثابت ہو رہی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ اگر آنحضرت ﷺ نہ آتے تو ہم پر پہلے رسولوں کی سچائی بھی ثابت نہ ہوتی۔ کیونکہ پہلے رسولوں کے ماننے والوں نے تو ان کا ایک عجیب و غریب تصور پیش کر دیا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سچے اور عظیم رسول کا انکار کرنے والو! سن لو کہ تم یقینا جہنم کا عذاب چکھو گے اور نجات یافتہ وہی ہوں گے جو خالص ہو کر رسول پر ایمان لانے والے ہوں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ پہلی قوموں کے رسولوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کی گمراہی کی وجہ سے ہم نے انہیں اس دنیا میں بھی عذاب سے دوچار کیا۔ سوائے اُن میں سے تھوڑے سے ان لوگوں کے جو

عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْن

تھے، ان لوگوں میں شامل تھے۔ یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے آج مسلمانوں اور غیر مسلموں کو بتا دیا کیونکہ قرآن کی شریعت ایک جاری شریعت ہے اور ہمیشہ رہنے والی شریعت ہے، ہمیشہ رہنے والی تعلیم ہے یہ بتا دیا کہ کیا آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام صادق کا انکار کرکے تم بچ سکو گے؟ ہرگز نہیں۔ پس یہ بھی ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے ہمیں اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرما کر اپنے انعام سے نوازا ہے۔ اب ہم پر فرض ہے کہ اس انعام کی قدر کرنے والے بنیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ ہر اس عیب سے پاک ہے جو اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے اس پر لگاتے ہیں۔ اُن لوگوں کو سوائے ناکامی اور جہنم کے کچھ نہیں ملے گا اور اللہ کی خالص عبادت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ اس زمانہ میں آج کل ان یورپین ممالک میں بھی خداتعالیٰ کی خدائی اور اس کے وجود سے انکار کرنے والے بہت سے پیدا ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں، خدا کی ذات کے ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں مختلف تصورات اور نظریات ابھرنے لگ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ ان سب کا انجام بد ہونا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین نہیں رکھتے اور کامیابی اللہ تعالیٰ کے خالص بندوں کی ہی ہے۔ پس تم ہمیشہ اس بات کویاد رکھو، یہ نہیں کہ جب تم کسی مشکل میں گرفتار ہوئے تو یا جب اپنے مطلب ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی یاد آنے لگ جائے اور عام حالات میں خدا کو بھول بیٹھیں۔ اتنے انعامات جو ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمارے پیش نظر رہے اور ہر جگہ جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کو بیان کرنا ہے اور اس کی خوبیاں بیان کرنی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود کو دنیا پر ثابت کرنا ہے وہاں ایک احمدی کو فوراً تیار ہو جانا چاہئے۔
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب یہ اعلان فرمایا کہ میرے مخلصین اللہ اور اس کے رسول کی محبت سب محبتوں پر غالب کر لیں تو ہر قسم کی دنیاوی برائیوں سے بچنے کی طرف بھی توجہ دلا دی اور یہ فرمایا کہ ہر وقت تمہیں یہ توجہ رکھنی چاہئے کہ کسی بھی قسم کی برائی تمہارے اندر کبھی پیدا نہ ہو۔
اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی توقعات پر پورا اترنے کی طرف ہمیں توجہ دینی ہو گی۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر اور سنّت پر چلنے کی کوشش کرنی ہو گی اور اس پر عمل کرنے کے لئے اس کو جاننے کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی۔ اپنے دینی اور روحانی معیار بلند کرنے کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کسی ذاتی مفاد کے بغیر ہو گی، کسی دنیاوی منفعت کے بغیر ہو گی اور تبھی ہم میں سے ہر ایک جماعت کے لئے مفید وجود ثابت ہو گا اور یہی لوگ ہیں جن کے بارہ میں خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں

عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْن

فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ خالص اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ یہ خالص ہو کر آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے والے ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ ہی وہ ذات ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا، سونا جاگنا خدا کی خاطر ہے جن کے بارہ میں خداتعالیٰ نے فرمایا کہ اعلان کر دیں یہ کہہ کر کہ

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ (آل عمران:32)

یعنی تو کہہ دے اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو پھر اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ پس آنحضرت ﷺ کی محبت نہ صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کاذ ریعہ بنتی ہے بلکہ گناہوں کی بخشش اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کا جب آغاز فرمایا تھا تو اس سے پہلے یہ اعلان فرمایا تھا کہ یہ اللہ اور رسول کی خالص ہو کر محبت کرنے کے لئے مَیں جلسے شروع کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ سال میں تین دن لوگ جمع ہوں اور محض للہ ربانی باتوں کو سننے اور دعا میں شامل ہونے کے لئے آئیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ حتی الوسع دوستوں کو آنا چاہئے۔
پس یہ بات پھر ان لوگوں کو توجہ دلانے والی ہونی چاہئے جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مخلصین کے نام سے پکارا ہے کہ جلسہ میں شامل ہونے کی بھی کوشش کریں کیونکہ یہ بھی اخلاص بڑھانے کا ذریعہ ہے کیونکہ یہاں آنا کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہیں ہے بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے ہے۔ پس یہ مقصد ہمیشہ ہر احمدی کے پیش نظر ہونا چاہئے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی تو یہ محبت خالص نہیں ہے اور جب یہ محبت خالص نہیں تو پھر ایسے لوگوں کا شماربھی مخلصین میں نہیں ہوتا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ’’مجھے ان لوگوں سے کیا کام جو سچے دل سے تمام احکام اپنے سر پر نہیں اٹھا لیتے اور رسول کریمؐ کے پاک جؤاکے نیچے صدق دل سے اپنی گردن نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور صبر اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے۔ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکّے دیتے اور اکڑ کر بازاروں میں چلتے اور تکبّر سے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں ‘‘۔
فرمایا: ’’مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹاسمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں۔ عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں، کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے ربّ کریم کو یاد رکھتے ہیں ‘‘۔ فرمایا’’سو مَیں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات تیار کی گئی ہے‘‘۔
پس یہ بڑی درد بھری نصائح ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں کی ہیں اور یہی باتیں ہیں جو اختیار کرنے سے ہم ان مخلصین میں شاملین ہوں گے جو خداتعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو اس جلسہ میں آنے کے مقصد کو پورا کرنے والے ہیں۔ ورنہ آپ نے تو صاف فرما دیا ہے کہ یہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے۔ آج آپ یہاں جمع ہیں اور اس حوالے سے کہ خلافت جوبلی کا جلسہ ہے جس کی ایک خاص اہمیت ہے یہ اللہ تعالیٰ کے ایک انعام کی یاد دلانے والا جلسہ ہے۔ تو پھر حقیقی شکر اس وقت ادا ہو گا جب ہم اپنے نفسوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب ہم نے اس طرف توجہ کی ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے آنحضرت ﷺ کے اُسوہ کی پیروی کرنی ہے کیونکہ یہ بھی خداتعالیٰ کا حکم ہے ان لوگوں کے لئے جو خالص ہو کر اس کے بندے بنتے ہیں۔ ہر میدان میں آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے اسوہ قائم فرمایا ہے۔ ہمیں نصیحت فرمائی کہ یہ اعمال ہیں اگر تم کروگے تو اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں قائم کرنے والے ہو گے۔
قرآن کریم کے تمام احکامات آنحضرت ﷺ کا اُسوہ ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے پوچھا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے اُسوہ کے بار ے میں بتائیں، آپؐ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا۔ قرآن کریم کا ہر حکم آپ نے پہلے اپنے اوپر لاگو فرمایا۔ پھر اس کی اپنی امت کو نصیحت فرمائی۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ اعمال ہیں اگر تم کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت بھی دلوں میں قائم کرنے والے ہو گے اور میری محبت کا دعویٰ بھی پھر حقیقی ہو گا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے یہ اعلان خداتعالیٰ کا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ ہے تو آنحضرت ﷺ سے بھی اس طرح محبت کرو کہ آپ کے ہر حکم اور ہر نصیحت پر عمل کرنا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی د عاؤں کو اگر قبول کروانا چاہتے ہوتو آنحضرت ﷺ پر درُود بھیجتے ہوئے میرے پاس آؤ۔ لیکن درُود اس طرح ہو کہ حقیقی عشق و محبت کی خوشبو میں لپٹا ہوا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ

اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ۔ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(الاحزاب:57)۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ترجمہ یوں فرمایا ہے کہ’’خدا اور اس کے سارے فرشتے اس نبی کریم پر درُود بھیجتے ہیں۔ اے ایماندارو! تم بھی اس پر درُود بھیجو اور نہایت اخلاص اور محبت سے سلام کرو‘‘۔
پس یہ اخلاص اور محبت سے سلام اور درُود ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے اور قبولیت دعا کے نظارے بھی ایک مومن دیکھتا ہے۔
پس ان دنوں میں جو جلسے کے دن ہیں جہاں نمازوں اور دعاؤں کی طرف ہمیں توجہ رکھنی چاہئے وہاں آنحضرت ﷺ پر خالص ہو کر درُود بھیجتے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے ہماری حالتوں کو بدلے اور ہمیں اپنا خالص بندہ بنا لے۔ ہمیں اپنی زبانیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آنحضرت ﷺ کے اُسوہ کی پیروی کرنے والے ہوں اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں۔ جن برائیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑے درد کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اُن سے بچنے والے ہوں۔
آنحضرت ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے عبد کامل تھے، آپؐ نے اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم فرمائے جس کی کوئی مثال نہیں۔ کبھی ویرانوں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر خداتعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ایک دن آپؐ کی ایک بیوی رات کو آپؐ کو بستر سے غائب پاتی ہیں تو شک کرتی ہیں کہ کہیں کسی دوسری بیوی کے گھر نہ گئے ہوں۔ لیکن جب تلاش کے بعد اُس نظارے کو دیکھتی ہیں تو اپنی سوچ پر پریشان ہوتی ہیں کہ مَیں نے آپ سے دنیاوی سوچ کے مطابق کیا توقع رکھی تھی اورآپ کے مقام کو نہ پہچان سکی لیکن آپ تو اپنے ربّ کے حضور سجدہ ریز ہیں اور اس طرح گڑ گڑا رہے ہیں جس کی کوئی مثال بیان نہیں کی جا سکتی۔ کوئی آپ کے اس طرح اپنے مولیٰ کے حضور عبادت کی گڑ گراہٹ کو ہنڈیا کے ابلنے کی آوازسے تشبیہ دیتا ہے، کوئی کسی اور مثال سے لیکن اس عبد کامل کی اپنے مولیٰ کے حضور عبادت کی گڑ گڑاہٹ سب مثالوں سے بالا ہے۔ شدید بیماری میں بھی نماز باجماعت نہیں چھوڑتے۔ آخری بیماری میں انتہائی ضعف کی حالت میں مسجد میں تشریف لاتے ہیں، اپنے سامنے اپنے ماننے والوں اور مسلمانوں کی جماعت کو نماز پڑھتا دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں کہ یہی ایک حقیقی مقصد ہے انسان کی پیدائش کا جس کو یہ مخلصین اور عبادالرحمن پورا کر رہے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں، میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہی ہے۔ یہ اُسوہ ہے جو آپ نے نمازوں کی پابندی کے بارہ میں ہمارے سامنے قائم فرما دیا۔ نوافل کی پابندی پر قائم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قائم فرمایا۔ یہ مقام تو ہر ایک کو حاصل نہیں ہو سکتا جو آپ کا تھا۔ اُس مقام تک تو صرف وہ انسان کامل پہنچا۔ تبھی تو خدا اوراس کے فرشتے آپؐ پر درود بھیج رہے ہیں۔ لیکن خداتعالیٰ نے یہ فرما کر کہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (سورۃ الاحزاب: 22)

کہ یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے، ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے۔ پس اللہ کا ذکر کرنے والوں کو اس نمونے کی پیروی کرنا ضروری ہے جو اپنے آپ کو عبادالرحمن کہتے ہیں۔ اُن کو اللہ کے رسول کی پیروی کرنا ضروری ہے جو اس زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہو کر، خالص ہو کر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس رسول کے اُسوہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ پس اپنی اپنی انتہائی استعدادوں کے مطابق اپنی عبادتوں کے معیار ہر احمدی کو بڑھانے چاہئیں تاکہ اُس محبت کا دعویٰ حقیقت کا روپ دھار لے۔ صرف دعویٰ ہی نہ رہے۔ پس ان دنوں میں اپنی عبادتوں اور اپنی نمازوں کی طرف بھی توجہ دیں۔ یہ جلسہ کے دن ہر شامل ہونے والے کی اس طرف توجہ پھیرنے والے ہوں کہ ہم نے خداتعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کی بھرپور کوشش کرنی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو کہ غیراللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی ہو، توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔ اُس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلل کی روح اور حنیف دل نہ ہو‘‘۔
فرمایا’’سنو وہ دعا جس کے لئے اُدْعُوْ نِیٓ اَسْتَجِبْ لَکُم (المومن:61) فرمایا ہے، اس کے لئے بھی سچی روح مطلوب ہے۔ اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹِیں ٹِیں سے کم نہیں ‘‘۔ (تفسیر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام زیر سورۃ المومن آیت نمبر 61)
پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’مدار اس بات پر ہے کہ جب تک تیرے ارادے ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں، انانیت اور شیخی دُور ہو کرنیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔ عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلّم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے‘‘۔
پھر آپؑ نے فرمایا: ’’مَیں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خداتعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند نہ ہو کہ تمہارا جسم، نہ تمہاری نماز بلکہ تمہاری روح کے اراد ے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں ‘‘۔
ظاہری نمازیں نہ ہوں بلکہ روح نماز پڑھ رہی ہو۔ پس یہ ہے وہ نماز کی روح جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ نماز پڑھنا اور توحید کا دعویٰ کرنا لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اعلان کرنا یہ بے مقصد ہے اور اس میں کبھی برکت نہیں پڑ سکتی جب تک دل بھی ہر قسم کے مخفی شرک سے پاک نہ ہو، جب تک انتہائی عاجزی اور تذلّل نہ ہو۔ اور جب یہ ہو گا تو پھر دعائیں بھی قبول ہوں گی کیونکہ یہی بنیادی چیز ہے جسے خداتعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کو قائم کرنے کے لئے ہمارے سامنے نمونے آنحضرت ﷺ نے قائم فرما دئیے۔ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وضاحت فرمائی کہ یہ عاجزی اور تذلل کس قسم کا ہونا چاہئے کہ ہر قسم کے ناپاک منصوبوں سے دل پاک ہو۔ کسی قسم کا تکبر نہ ہو۔ کسی قسم کی انانیت نہ ہو۔ بندوں سے بھی عاجزی دکھانے والے ہو گے تو تبھی دعائیں بھی قبول ہوں گی اور نمازیں بھی حقیقی نمازیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی حقیقی توحید کا اعلان کرنے والے کبھی یہ نہیں کرسکتے کہ اپنے مفاد کے لئے دنیا کے سہارے لے لیں۔ دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے ہوں۔ دوسروں سے تکبر سے بات کرنے والے ہوں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ حقیقی عبادت گزار وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا بھی حق ادا کرنے والا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اُسوہ پر چلنے والا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے کیا نمونے قائم فرمائے بعض مثالیں مَیں دیتا ہوں۔ عبادت کی مثال میں دے آیا ہوں۔ ایک غریب معذور عورت آپؐ کو راستے میں روک لیتی ہے اور آپؐ انتہائی توجہ سے اس کی بات کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں فکر نہ کرو مَیں تمہاری بات سن کر جاؤں گا۔ یہ عاجزی تھی آپؐ کی۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے رسول پر درودبھیجتے ہیں، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم بیعت کے لئے میرے رسول کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہو تو اصل میں وہ میرا ہاتھ ہے جو تمہارے ہاتھ کے اوپر ہے۔ لیکن پھر بھی آپؐ کی عاجزی کا یہ حال کہ صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے جب آپ نے یہ فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہو تو کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے اور صحابہ نے جب اس بات پر آپؐ سے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے عمل بھی آپ کو جنت میں نہیں لے جائیں گے؟ تو دیکھیں اللہ تعالیٰ کی خشیت، خوف اور عاجزی میں ڈوبا ہوا جواب، آپؐ نے فرمایا ہاں مجھے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ڈھانپے تو مَیں بھی جنت میں نہیں جا سکتا۔ پس یہ ہے وہ عاجزی کی اعلیٰ ترین مثال، یہ ہے وہ تکبر کے خلاف جنگ کا عظیم اعلان کہ مَیں جس کو ہر طرح کی ضمانت دی گئی، خداتعالیٰ نے یہ ضمانت دی ہوئی ہے کہ جب مَیں تم سے بیعت لیتا ہوں تو تمہارے اوپر میرا ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ خداتعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر درُود بھیجتا ہے اس کے بعد آپؐ نے فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو جنّت میں لے کے جائے گا۔ عاجزی کی مثال یہ ہے۔
تو یہ مثال دے کر آپؐ نے ہمیں یہ فرمایا، اس طرف توجہ پھیرائی کہ مَیں اگر یہ بات کر رہا ہوں کہ مجھے بھی جنت میں لے جانے والااللہ تعالیٰ کا فضل ہے تو تم لوگ جو دن میں کئی مخفی شرک کر لیتے ہو، تم جو توحید کا اس قدر فہم اور ادراک نہیں رکھتے جس قدر میں رکھتا ہوں، تم جو نمازوں کے وہ معیار قائم نہیں کر سکتے جو معیار مَیں نے قائم کئے ہیں پھر تم کس طرح اپنی نیکیوں پر تکبر کر سکتے ہو، اپنے اعمال پر تکبر کر سکتے ہو۔ پس عاجزی اختیار کرو کہ اس میں تمہاری بقا ہے۔ اس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کا راز مضمرہے۔
ایک موقع پرآپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اُسے عزت میں بڑھاتا ہے۔ جتنی زیادہ کوئی تواضع اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔ پس یہ باتیں ہیں جو ایک احمدی کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے ان کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
آج کل یہاں بھی اور دنیا میں ہر جگہ میاں بیوی کے جھگڑوں کے معاملات میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔ جن میں مرد کا قصور بھی ہوتا ہے عورت کا قصور بھی ہوتا ہے۔ نہ مرد میں برداشت کا وہ مادہ رہا ہے جو ایک مومن میں ہونا چاہئے نہ عورت برداشت کرتی ہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی کئی مرتبہ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہہ چکا ہوں کہ گوزیادہ تر قصور عموماً مردوں کا ہوتا ہے لیکن بعض ایسے معاملات ہوتے ہیں جن میں عورت یا لڑکی سراسر قصور وار ہوتی ہے۔ قصور دونوں طرف سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، گھر اجڑتے ہیں۔ پس دونوں طرف کے لوگ اگر اپنے جذبات پر کنٹرول رکھیں اور تقویٰ دل میں قائم کرنے والے ہوں تو یہ مسائل کبھی پیدا نہ ہوں۔ آنحضرت ﷺ ایسے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر تم دونوں کو ایک دوسرے کے عیب نظر آتے ہیں تو کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جو اچھی لگتی ہوں گی۔ یہ نہیں کہ صرف ایک دوسرے میں عیب ہی عیب ہیں ؟ اگر ان اچھی باتوں کو سامنے رکھو اور قربانی کا پہلو اختیار کرو تو آپس میں پیار محبت اور صلح کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ آپؐ کی بیویوں کی گواہی ہے کہ آپؐ جیسے اعلیٰ اخلاق کے ساتھ بیویوں سے حسن سلوک کرنے والا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ پس آپ ﷺ جو نصیحت فرماتے ہیں تو صرف نصیحت نہیں فرماتے بلکہ آپؐ نے اپنے اُسوہ سے بھی یہ ثابت کیا ہے۔
پس یہ دن جو آج کل آپ کو میسرہیں، ان میں جائزے لیں کیونکہ ماحول کا بھی اثرہو جاتا ہے، روحانیت کا کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے دلوں پر اثر پڑتا ہے اس لئے جائزے لینے کی طرف توجہ پیدا ہو سکتی ہے۔ اپنے جائزے لیں، اپنی نمازوں کے بھی جائزے لیں، اپنے دوسرے اخلاق کے بھی جائزے لیں۔ کسی بھی قسم کے ایک دوسرے کے حقوق کی تلفی کا کبھی کسی کو خیال نہ آئے۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ تمام بنیادی اخلاق جن کا معاشرے میں رہتے ہوئے ایک انسان کو مظاہرہ کرنا چاہئے اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک خدا تعالیٰ کا حقیقی خوف دل میں نہ ہو اور ہر قسم کی انانیت اور تکبر دل سے دور نہ ہو۔ اور جس شخص میں یہ پیدا ہو جائے تو پھر ایسا شخص تمام قسم کی برائیوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا احمدی پھر اس معیار کو حاصل کرنے والا بن جاتا ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں لانا چاہتے ہیں تو ایسا شخص پھر حقیقت میں خداتعالیٰ اور اس کے رسول سے حقیقی محبت کرنے والا بن جاتا ہے۔ پس ان دنوں میں جب آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر یہاں جمع ہوتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی جمع ہوتے ہیں اس جلسہ کے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے اس کی جگالی کرتے رہیں کیونکہ اپنے نفس کی اصلاح کے لئے سب سے بہترین ذریعہ اپنے اندر سے ہی ایک مُزَکّی کو کھڑا کرنا ہے۔ جلسہ کی تقاریر اور پروگرام باقاعدہ دیکھیں اور سنیں خلافت جوبلی کے حوالے سے بڑے علمی اور تربیتی مضامین اور تقریریں پیش کی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ مقررین کی زبان اور علم میں بھی برکت ڈالے کہ وہ ان مضامین کا حق ادا کرنے والے ہوں اور حق ادا کرتے ہوئے آپ کے سامنے اپنے مضمون کو پیش کر سکیں اور سننے والوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ جو کچھ سنیں اس سے نہ صرف علمی و ذہنی حظ اٹھانے والے ہوں بلکہ روحانی فیض پاتے ہوئے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے والے بھی ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’خوش قسمت وہ شخص نہیں ہے جس کو دنیا کی دولت ملے اور وہ اس دولت کے ذریعہ ہزاروں آفتوں اور مصیبتوں کا مورد بن جائے بلکہ خوش قسمت وہ ہے جس کو ایمان کی دولت ملے اور وہ خدا کی ناراضگی اور غضب سے ڈرتا رہے اور ہمیشہ اپنے آپ کو نفس اور شیطان کے حملوں سے بچاتا رہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ کی رضا کو وہ اس طرح پر حاصل کرے گا۔ مگر یاد رکھو کہ یہ بات یونہی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تم نمازوں میں دعائیں کروکہ خداتعالیٰ تم سے راضی ہو جاوے اور وہ تمہیں توفیق اور قوت عطا فرمائے کہ تم گناہ آلود زندگی سے نجات پاؤ۔ کیونکہ گناہ سے بچنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی توفیق شامل حال نہ ہو اور اس کا فضل عطا نہ ہو۔ اور یہ توفیق اورفضل دعا سے ملتا ہے۔ اس واسطے نمازوں میں دعا کرتے رہو کہ اے اللہ ہم کو ان تمام کاموں سے جو گناہ کہلاتے ہیں اور جو تیری مرضی اور ہدایت کے خلاف ہیں، بچا۔ اور ہر قسم کے دکھ اور مصیبت اور بلا سے جو ان گناہوں کا نتیجہ ہے، بچا۔ اور سچے ایمان پر قائم رکھ‘‘۔
اور پھرگناہوں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ’’بہت سے گناہ اخلاقی ہوتے ہیں، جیسے غصّہ، غضب، کینہ، جوش، ریا، تکبر، حسد و غیرہ۔ یہ سب بداخلاقیاں ہیں جو انسان کو جہنم تک پہنچا دیتی ہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد نمبر1صفحہ609-608)
پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف اس بات پر ناز نہ ہو کہ ہم بڑے گناہ نہیں کرتے بلکہ معمولی بداخلاقیاں بھی گناہ ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ان گناہوں سے بچو بلکہ ایک مومن کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں بلکہ قرآن کریم کے مطابق یہ حکم ہے، یہ کام ہے کہ نہ صرف گناہوں سے بچو بلکہ نیکیوں میں بڑھنے کی بھی کوشش کرو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’انسان کو چاہئے کہ گناہوں سے بچ کر نیکی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرے۔ جب وہ گناہوں سے بچے گا اور خدا کی عبادت کرے گا تو اس کا دل برکت سے بھر جائے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد نمبر 1صفحہ 610)۔ اور یہ ہے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا ارشاد۔ اگر یہ ہو جائے تو یہی ایک انسانی زندگی کامقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عباد ت کرے اور اس عباد ت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کا دل برکتوں سے بھردے۔ اللہ کرے کہ اس جلسہ میں ہم میں سے ہر ایک اس مقصد کو پانے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جوبارش جماعت پر ہو رہی ہے اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جو انشاء اللہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ہم میں سے ہر احمدی اس سے فیض پانے والا ہو اور ان دنوں میں اس کے حصول کے لئے کوشش کرنے والا دعائیں کرنے والا ہو۔
شروع میں مَیں نے گھانا کے جلسہ کی مثال دی تھی۔ اس حوالے سے مَیں خواتین سے بھی خاص طور پر کہنا چاہوں گا کہ گزشتہ سال مَیں نے عورتوں کی مارکی میں شور اور باتوں کی وجہ سے عورتوں پر کچھ پابندی لگائی تھی لیکن پھر عورتوں کے مسلسل خطوط اور معافی کی درخواستیں آنے کی وجہ سے اور جلسہ کی اہمیت کے پیش نظر یہ پابندی اٹھا لی گئی، اس سال بھی جلسہ ہو رہاہے۔ لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ آپ نے جو وعدہ کیا ہے کہ اب تمام جلسہ کی کارروائی کو غور اور خاموشی سے سنیں گی اسے پورا کرنا ہے۔ آپ سے سبق لیتے ہوئے، یہاں جرمنی کی لجنہ سے سبق لیتے ہوئے دنیا کی بہت سی لجنات کی جو تنظیمیں ہیں انہوں نے خاموشی سے اپنے پروگراموں میں شامل ہونے کا عہد کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ بہت سوں نے سبق سیکھا۔ اب آپ کا یہ فرض ہے کہ اس عہد کو پورا کریں۔ گھانا کی مَیں بات کر رہا تھا وہاں جلسے پر 50ہزار کے قریب عورتیں شامل ہوتی تھیں اور فجر کی نماز میں بھی 30-25 ہزار کے قریب عورتیں شامل ہوتی تھیں۔ بچے بھی بعض کے ساتھ ہوتے تھے۔ لیکن مجال ہے جو کوئی شور ہوا ہو۔ نمازوں کے اوقات میں بھی، جمعہ کے وقت میں بھی، خطبے کے دوران بھی، تقریروں کے اوقات میں بھی باوجود گرمی کے اور اس کے باوجود کہ بچوں کا کوئی علیحدہ انتظام نہیں تھا، مجال ہے جو کسی طرف سے کوئی آواز آئی ہو۔ بڑی خاموشی سے سب نے تمام کارروائی دیکھی اور سنی۔ پس وہ قومیں جو بعدمیں شامل ہو رہی ہیں اگر اپنے نمونے اسی طرح قائم کرتی رہیں تو آگے نکل جائیں گی اور ان کا حق بنتا ہے کہ آگے نکلیں۔ مَیں یہ باتیں عورتوں سے کہنا چاہتا تھا، کل بھی کہہ سکتا تھا لیکن اس خوف سے کہ کہیں وہ اپنے وعدے کو بھول نہ جائیں اور یہ ڈیڑھ دن جلسے میں دوبارہ شور نہ مچانا شروع کر دیں یہ یاددہانی کرو ارہا ہوں۔ پس ان باتوں کو پلّے باندھ لیں کہ تمام پروگرام آپ نے صبر اور تحمل سے نہ صرف سننے ہیں بلکہ اس لئے سننے ہیں کہ ان پر عمل کرنا ہے اور تبھی آپ لوگ خلافت جوبلی کے حوالے سے جو عہد کر رہے ہیں اور جلسے منعقد کر رہے ہیں، اس کو پورا کرنے والے ہوں گے اس سے فیض پانے والے ہوں گے۔ پس مرد عورتیں سب یہ ذہن میں رکھیں کہ خلافت کے انعام سے فیضیاب ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حقیقی عابد بننا اور اس کے احکامات کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے کوشش کریں اور اپنے معیاروں کو بلند کرتے چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/OpmkQ]

اپنا تبصرہ بھیجیں