خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍اکتوبر 2008ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی جو بارش برسائی وہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہمیشہ برسنے والی بارش ہے۔ اللہ تعالیٰ آج آپ کی وفات کے سو سال گزرنے کے بعد بھی اپنے فضلوں سے ہر آن آپ کی جماعت کو نو از رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ نوازتا رہے گا۔
(فرانس اور جرمنی میں مساجد کے افتتاح، ہالینڈ کے جلسہ سالانہ اوربیلجیم میں انصاراللہ کے اجتماعات کی تقریبات میں شمولیت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید اور قبولیت کے غیر معمولی نشانات اور افضال کاایمان افروز تذکرہ)
مسجد فضل کے علاقہ کی ممبر پارلیمنٹ کی طرف سے برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس میں خلافت جوبلی کے حوالہ سے منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کا مقصد، خلافت کے اہم کام، اسلام کی امن پسند تعلیم، دنیا میں قیام امن کے سلسلہ میں بڑی طاقتوں کی ذمہ داریوں، آج کل کے عالمی اقتصادی بحران کے اسباب اور سودی نظام کی تباہ کاریوں جیسے اہم موضوعات پر حضو رانورکے نہایت پُر مغز اور جامع خطاب کا تذکرہ۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں اسلام کا پیغام سننا اور دلچسپی سے سننا ان لوگوں کی بدلتی ہوئی سوچوں کی عکاسی کرتاہے۔ اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہی یہ کام ہو رہا ہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 24؍اکتوبر 2008ء بمطابق24؍اخاء 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی اولاد کی آمین پر کہا گیا ایک طویل منظوم کلام ہے یا ایک کہی گئی نظم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا ذکر ہے اور ان فضلوں کے ذکر کے ساتھ ہر بند اس طرح بند ہوتا ہے یا اس کے آخر پر اس طرح مصرعہ آتا ہے کہ

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

یعنی پاک ہے وہ جس نے میرے دشمنوں کو پکڑا، یا انہیں ذلیل و رسوا کیا۔ اس کلام کا ایک شعر یہ بھی ہے کہ ؎

ہوا مَیں تیرے فضلوں کا منادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی جو بارش برسائی وہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہمیشہ برسنے والی بارش ہے۔ اللہ تعالیٰ آج آپؑ کی وفات کے سو سال گزرنے کے بعد بھی اپنے فضلوں سے ہر آن آپؑ کی جماعت کو نواز رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ نوازتا رہے گا اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی منادی رہے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں اس یقین پر قائم فرما گئے ہیں کہ یہ فضل جو تم پر برستے ہیں یا برستے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ یہ آخری نتیجہ تک پہنچیں گے۔ ہاں راستے کی روکیں آتی رہیں گی لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے دور بھی فرماتا رہے گا اور ترقی کرتے چلے جانا اور آگے بڑھتے چلے جانا اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کا مقدر ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں :’’وہ اس سلسلے کو پوری ترقی دے گا کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد‘‘۔ (رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 304۔ مطبوعہ لندن)
پھر آپ دشمن کے ہنسی ٹھٹھے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے…‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پھر دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے…’’اور ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے۔ جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں ‘‘۔ (رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 304۔ مطبوعہ لندن)
پس اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کام کو کمال تک پہنچانا ہے اور یقینا پہنچانا ہے تواس کے لئے خداتعالیٰ نے نظام خلافت آپ کی جماعت میں قائم فرمایا ہے تاکہ آپ کے سپرد جو کام کیا گیا تھا اس کی اللہ تعالیٰ تکمیل فرمائے اور جماعت کو ایک ہاتھ پر اکٹھا رکھ کر وحدت پیدا کرے تاکہ وہ ایک جان ہو کر کام کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں اور ہمیشہ بنتے چلے جائیں۔ شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے منادی بنیں اور پھر ترقی کی منازل پھلانگتے ہوئے طے کرتے چلے جائیں۔ پس جماعت کی ترقی جو ہم ہرآن دیکھتے ہیں اس بارہ میں کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ ہم نے یہ یہ قربانیاں دیں تو ہمیں کامیابی ملی یاہم نے یہ سکیم بنائی جس سے ہم نے یہ مقاصد حاصل کئے۔ جماعت کی جو یہ سب کچھ ترقیات ہم ہر جگہ دیکھ رہے ہیں، بعض ملکوں میں باوجود مخالفتوں اور مشکل حالات کے یہ ترقی نظر آتی ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور وعدوں کے مطابق ہے۔ اس میں ہلکا سا بھی کسی انسانی کوشش کا کمال یا دخل نہیں ہے۔ اور جب تک ہم ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کے شکرگزار بندے بنے رہیں گے یہ ترقیاں ہمیں نظر آتی رہیں گی۔ خدا کرے کہ ہم صدق سے خدا تعالیٰ کے شکرگزار بندے بنے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے اُن تمام فضلوں سے حصہ لیتے رہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے لئے مقدر ہیں۔ ہر قسم کی بڑائی سے ہمارے دل و دماغ پاک ر ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں میں، جو میرے سفر کے تھے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے عاشقِ صادق کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے جو حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق دی اس کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، گزشتہ دنوں مَیں سفر پہ رہا ہوں اور اس دوران فرانس اور جرمنی میں مسجدوں کے افتتاح ہوئے۔ ہالینڈ کا جلسہ تھا، بیلجیم میں انصاراللہ کا اجتماع تھا ان میں شمولیت کی توفیق ملی۔
فرانس میں پیرس کے بالکل قریب بلکہ پیرس شہر کا ایک حصہ ہی کہنا چاہئے شہر کا نام سینٹ پیری (Saint Prix) ہے، جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق ملی اور یہ فرانس میں ہماری پہلی مسجد ہے۔ اس بارہ میں آپ سن چکے ہیں۔
1924ء میں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ انگلستان اور یورپ کے دورے پرآئے تھے تو یہاں تو مسجد فضل لندن کی بنیاد رکھی تھی اور کانفرنس بھی ہوئی تھی جو ویمبلے کانفرنس کے نام سے مشہور ہے۔ بہرحال اس وقت جو بات مَیں کہنی چاہتا ہوں کہ اس دورہ کے دوران حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیرس بھی گئے تھے وہاں جماعت تو تھی نہیں لیکن بہرحال اس زمانہ میں غیر احمدی مسلمانوں کی ایک نئی مسجد حکومت کی مدد سے تعمیر ہوئی تھی اور آپؓ وہاں تشریف لے گئے تھے اور اُس وقت اس کی تازہ تازہ تعمیر مکمل ہوئی تھی اور اس مسجد میں آپؓ نے پہلی نماز ادا کی تھی یا اس مسجد کی جو پہلی نماز تھی وہ آپؓ نے پڑھائی تھی۔ وہاں آپؓ کے ساتھ جو بہت سارے جماعتی بزرگ تھے، اس قافلے میں صحابہ ؓ بھی تھے، جن میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓ بھی تھے تو آپؓ نے ان سب کے کچھ گروپ بنائے کہ فرانس میں تبلیغ کے لئے مختلف لوگوں اور طبقوں سے رابطے کریں۔ بہرحال وہاں آپ ؓ کا مختصر قیام تھا۔ ہر ایک کو جو جو کام سپرد کیا گیا تھا وہ انہوں نے کیا۔ کچھ رابطے بڑھے۔ لوگ ملنے بھی آتے رہے لیکن باقاعدہ جماعت تو قائم نہیں ہوئی۔ بہرحال ایک جماعت کے تعارف کی وہاں بنیاد پڑ گئی۔ وہاں بعد میں ہمارا مشن بھی کھلالیکن اپنی عمارت نہیں تھی۔ خلافت رابعہ میں وہاں جگہ خریدی گئی جس میں ایک گھر بھی بنا ہوا تھا اور شروع میں وہی جماعت کی مسجد تھی، وہی مشن ہاؤس تھا۔ اس کے ایک ہال میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش تو نہیں رکتی۔ پھر جماعت نے اس دَورمیں ہی چند سالوں بعد اس گھر کے صحن میں ایک عارضی ہال یا مسجد بنائی۔ نماز اور جمعہ پڑھنے کے لئے جماعت کی تعداد زیادہ بڑھ رہی تھی۔ یہاں اس وقت اس علاقہ میں جماعت کی مخالفت کی رو بھی چلی۔ اس وجہ سے کہ عموماً مسلمانوں کا تاثر غلط تھا اوران کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور ایک وقت ایسا آیا جیسا کہ پہلے بھی میں بتا چکا ہوں کہ اس علاقہ کے جو میئر تھے وہ ہماری اس عارضی مسجدمیں جوتوں سمیت آگئے اور جماعت کے افراد کو بڑا بُرا بھلا کہا۔ وہاں صفوں پرجہاں نمازیں پڑھی جاتی تھیں ان لوگوں کا جوتوں سمیت آنا جماعت کے لئے بڑا تکلیف دہ تھا۔ بہرحال صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
2003ء میں اس گھر کے ساتھ ہی ایک اور گھر خریدا گیا اور پھر 2006ء میں ساتھ ہی ایک اور خریدا گیا۔ اب یہ کافی بڑی جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے پاس ہے۔ تین گھر اکٹھے ہیں اور ان کے پیچھے کافی بڑا صحن ہے یا جگہ ہے اور اسی وسیع جگہ میں اب جماعت نے مسجد بنائی ہے۔ یہاں باقاعدہ مسجد ہے جس میں رہائش کا انتظام بھی ہے، گیسٹ ہاؤس بھی ہے، مشنری کا گھر بھی ہے اور بڑے فنکشنز کے لئے اب وہاں بڑا کچن اور بڑا ڈائننگ ہال بھی انہوں نے بنا لیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ خوبصورت مسجد وہاں بن گئی۔ وہی میئر صاحب جو غیظ و غضب کی حالت میں ہماری مسجد میں آئے تھے اتنے پیار اور محبت سے جماعت کا اب ذکر کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہی شخص ہے؟ اور اگر ذکر ہو تو اپنے سابقہ رویّہ پر ان کے چہرے سے شرمندگی بھی ٹپکتی ہے، افسوس بھی ہوتا ہے۔ اس دن جس دن جمعہ پر مسجد کا افتتاح ہوا ہے، باجود اس کے کہ غیروں کو، مہمانوں کو شام کو فنکشن پہ بلایا گیا تھا۔ یہ میئر صاحب جمعہ کے وقت تشریف لے آئے اور جب مَیں نے تختی کی نقاب کشائی کی اس وقت وہ بھی وہاں رہے۔ پھر انہوں نے خطبہ بھی سنا اور دوسرے کمرے میں جمعہ کے دوران بھی رہے اور اخباری نمائندوں کو انٹرویو دیا کہ اب مَیں ضمانت دیتا ہوں کہ یہ جماعت ایسی ہے کہ نہ صرف جس سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس طرح ہے جس طرح ہم میں سے ہی ہیں اور ان کا دنیا کو خداتعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے اور امن قائم کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ دلوں کو بدلتا اور پھیرتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے وہاں اپنے خطبہ میں بھی کہا تھا کہ اب تبلیغ کا میدان کھلے گا اس لئے تیار ہو جائیں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ لوگ مسجد دیکھنے آرہے ہیں۔ تیونس کے ایک مسلمان جو قریب ہی رہتے ہیں مسجد دیکھنے آئے وہ بڑے حیران تھے کہ آپ کو مسجد بنانے کی اجازت کس طرح مل گئی۔ یہاں کا یہ میئر اور کونسل مسلمانوں کے بارے میں بڑے سخت لوگ ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جو مسلمانوں کے حق میں ظالم میئر مشہور ہے اس نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اخبار میں اپنا یہ پیغام بھی شائع کرایا۔
وہاں کا ایک اخبار ہے Le’ Parisien اس کی 10؍ اکتوبر کی اشاعت میں لکھا ہے کہ (انہوں نے اپنا بیان دیا کہ) یہ غیرمعروف جماعت ایک امن پسند اور بہت قابل احترام اسلام کو پیش کرتی ہے۔ وہی جو اسلام کے خلاف نظریہ تھا وہ ’’ایک قابل احترام اسلام کو پیش کرتی‘‘ کا فقرہ استعمال کیا۔ کہتے ہیں کہ’ مَیں ان کے امن پسند ہونے کا گواہ ہوں۔ یہ لوگ مکمل طور پر معاشرے میں گھل مل گئے ہیں اور شہری فلاحی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے تمام ہمسایوں کو ڈنر پہ مدعو کیا ہے جس میں بعض سفارتکار اور دیگرملکوں کے مہمان شرکت کریں گے‘‘۔
اسی اخبار نے جماعت کا تعارف بھی کرایا ہے کہ یہ 1889ء میں انڈیا میں قائم ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ اور کئی ملینز میں دنیا کے 190ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اورتشدد کے خلاف ہے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں ‘ ان کا ماٹو ہے۔ تو اس طرح کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ (اخبارLe’ Parisien۔ 10؍اکتوبر 2008ء)
خداتعالیٰ اسی طرح سوچیں بدلتا ہے۔ اب مختلف اخباروں کے ذریعہ جیسا کہ مَیں نے کہا چرچا بھی ہو رہا ہے لوگ مسجد دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور پھر یہ لوگ اور اخبارات اور میڈیا اسلام کی تعلیم، مسجد کا مقصد اور احمدیت کا پیغام دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ امیر صاحب تو وہاں اس دن اخبار والوں اور آنے والے مہمانوں کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے۔ بعد میں جو رپورٹ آئی کہ بہت زیادہ تعداد میں لوگ آرہے ہیں تو وہ لوگ تو کبھی یہ توقع نہیں کر سکتے تھے کہ اس قدر ہماری مشہوری اور پبلسٹی ہو گی اور یوں لوگوں میں دلچسپی پیدا ہو گی۔ یہ سب اُس خدا کے کام ہیں جو وقت آنے پر اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا ہے۔
فرانس کے نیشنل ٹی وی نے جمعہ والے دن شام سات بجے کی خبروں میں پہلی بار جماعت کے حوالے سے کوئی خبر نشر کی ہے اور کافی تفصیل سے خبر دی، جہاں مجھے نقاب کشائی کرتے ہوئے دکھایا اور خطبہ کی جھلکیاں دکھائیں۔ ایم ٹی اے کا تعارف بھی کرایا کہ ان کا ایم ٹی اے کا چینل بھی ہے۔ مسجد کے مختلف مناظر دکھائے۔
اسی طرح TV24 ان کا ایک چینل ہے۔ اس نے بھی افتتاح کی ساری تقریب دکھائی اور پھر اس کے بعد اس نے ڈاکو مینٹری پروگرام بنایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارہ میں بتایا، جماعت کے بارے میں بتایا، تعارف پیش کیا، ٹی وی چینل کے بارے میں بتایا۔ مسجد مبارک فرانس کے اندر اور باہر کے مناظر دکھائے اورپھر آخر میں برلن مسجد کے بارے میں بتایا کہ وہاں بھی اسی طرح 17؍ اکتوبر کو افتتاح ہو گا۔
یہ ٹی وی چینل فرانس 24، یہ بی بی سی کی طرح کا چینل ہے اور انگلش، فرنچ، عربی میں ساری دنیا میں دیکھا جاتا ہے، پانچوں براعظموں میں۔ تو اس ٹیلیویژن چینل نے چار بار یہ پروگرام نشر کیا۔ دو مرتبہ انگریزی زبان میں اور ایک مرتبہ فرنچ میں اور عربی زبان میں اورپھر اس نے آخر میں یہ کہا کہ آج دنیا کے سارے احمدی کہہ سکتے ہیں کہ فرانس میں Saint.prix کے مقام پر ہماری مسجد موجود ہے۔
اوّل تو ہمارے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ کروڑوں خرچ کر سکیں اور اگر ہوتے بھی تو اس طرح کوریج نہ ملتی جس طرح خود میڈیا نے آکے کوریج دی ہے اور اس تعارف کی وجہ سے جتنے فرانکوفون ملک ہیں خاص طور پر افریقہ کے وہاں کے ٹی وی چینلز نے بھی یہ افتتاح دکھایا اور اس طرح ماریشس میں بھی۔ گویا اس ایک مسجد نے دنیا کے کئی ممالک میں جماعت کا تعارف کروایا اور تبلیغ کے نئے راستے کھلے۔
شام کو اس دن وہیں مسجد کے احاطہ میں ریسیپشن بھی تھی جس میں سرکاری افسران، سفارتکار اور ہمسائے وغیرہ آئے ہوئے تھے۔ اخباری نمائندے بھی تھے۔ وہاں مجھے اسلام کی تعلیم پیش کرنے کا موقع ملا اور بعض عورتیں اور مرد جب اسلام کے ابتدائی دنوں میں مظالم کا حال سنتے تھے جس کا مَیں نے ذکرکیا تو بعد میں بعضوں نے جذباتی ہو کر اس کا اظہار کیا کہ ہمیں تو آج تک کبھی بتایا ہی نہیں گیا کہ مسلمانوں پر بھی ظلم ہوا ہے۔ ہمارے سامنے تو جو اسلام کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ صرف اور صرف ظالم اسلام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
ایک جرمن سفارتکار وہاں آئے ہوئے تھے، ان سے باتیں بھی ہوتی رہیں۔ کہنے لگے کہ جرمنی میں بعض نوجوانوں میں اسلام قبول کرنے کی رَو چلی ہوئی ہے اور کہتے ہیں کہ میری تو یہ دعا ہے کہ اگر ان جرمنوں نے مسلمان ہونا ہے تو وہ احمدی مسلمان ہوں تاکہ کم از کم حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والے تو ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مَیں مڈل ایسٹ کے بعض ممالک میں بھی رہا ہوا ہوں۔ وہ پروٹسٹنٹ ہیں لیکن کہتے ہیں کہ مَیں نے قرآن کریم بھی رکھا ہوا ہے اور بڑی عزت اور احترام قرآن کریم کا بھی کرتا ہوں۔ بہرحال یہ تبلیغ کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور نئے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتائج بھی پیدا فرمائے۔
فرانس کے بعد ہالینڈ کا جلسہ تھا، وہاں گئے۔ یہاں بھی جوبلی جلسے کے حوالے سے بعض اخباری نمائندوں نے اس کی کوریج کی اور جماعت کا تعارف کافی اچھے طبقہ میں پھیل گیا جو ویسے ناممکن تھا۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گن گن کر زندگیاں گزار دیں تب بھی وہ فضل ختم نہیں ہو سکتے۔
ہالینڈ کے بعد پھر برلن کے لئے روانگی تھی۔ 6-5 گھنٹے کا سفر طے کرکے وہاں پہنچے۔ برلن مسجد کا افتتاح اپنی اہمیت کے لحاظ سے تو ایک اہم موقع تھا ہی۔ لیکن علاقہ کے مخالفین میں جماعت کے بارہ میں جوبڑے غلط خیالات رکھتے تھے۔ (رکھتے ہیں تو نہیں کہ اب کافی حد تک صاف ہو گیا ہے) ان کی وجہ سے امیر صاحب اور انتظامیہ بڑی پریشان تھی کہ پتہ نہیں افتتاح والے دن کیا ہو جائے گا کیونکہ ان کا ہنگامے کا پروگرام بھی تھا۔ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لئے، علاوہ مقامی لوگوں کے شور شرابے کے، انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی پریشانی ہو سکتی تھی، انہوں نے احمدیوں کو پابند کر دیا تھا کہ سوائے جن کو آنے کی اجازت دی گئی ہے یا جن کو دعوت نامے دئیے گئے ہیں، اس کے علاوہ اور لوگ نہ آئیں۔ ایک لحاظ سے ان کی یہ احتیاط صحیح بھی تھی لیکن ضرورت سے زیادہ احتیاط کی گئی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ایسے انتظامات فرما دئیے کہ دائیں بازو کی بڑی پارٹی جس نے مسجد کے خلاف افتتاح والے دن جلوس نکالنا تھا اس نے ایک دن پہلے اعلان کر دیا کہ ہم جماعت کے خلاف یا مسجد کے خلاف کوئی جلوس نہیں نکالیں گے۔ گویا اپنی طرف سے پوری یقین دہانی کرا دی۔ لیکن اخبار والوں کو اورپولیس کو باوجود اس اعلان کے یہ شک تھا کہ یہ درست بھی ہے کہ نہیں۔ ان کے خیال میں اتنی جلدی یہ فیصلہ بدل نہیں سکتے تھے۔ کہیں دھوکہ نہ ہو۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے تو ایسی ہوا چلتی ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ جماعت کے افراد اور مبلغین تو ایک عرصہ سے غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسلام کی حقیقی تعلیم، مسجد کا مقصد، عورت کی آزادی، یا اسلام کی شدت پسند تعلیم کا جوتصور مغرب میں ہے اس کے بارہ میں سوالات وہاں ہوتے ہیں ان کے مناسب جواب دئیے جا رہے تھے لیکن ان لوگوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نئی بحث چل جاتی تھی۔ ایک دم جو یہ کایا پلٹی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے علاوہ اس کو اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال جہاں مخالفین نے مظاہرے کا اعلان کیا تھا وہاں شرفاء نے بھی ہمارے حق میں مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ آخر شرافت کی فتح ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اِن شرفاء کے دل مزید کھولے اور وہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو سمجھنے والے بھی بنیں۔
افتتاح سے پہلے ایک اخبار نے لکھا (ٹائیٹل اس نے لگایا کہ’’نوتعمیر شدہ مسجد کے لئے مبارکباد‘‘) قرآن گمشدہ کناروں سے ہر ایک کو نظر آنے والی عمارتوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان جرمنی کا باقاعدہ حصہ بن گئے ہیں۔ مبصر نے کہا کہ احمدی، سُنّی اور شیعہ جو بھی مساجد بنا رہے ہیں ان کے خیالات ایسے ہیں جیسے C.C.U پارٹی کے پچاس کی دہائی کے دوران تھے۔ مثلاً اگر عورت نوکری کرنا چاہے تو پہلے شوہر سے اجازت لے۔ آج کے یورپ میں اور طرح طرح کے خیالات رواج پاچکے ہیں۔
پھر آگے لکھتے ہیں کہ مسلمان جرمنی میں جہاں کہیں بھی مسجد بنائیں ہم ان کو مبارکباد دے سکتے ہیں۔ لیکن ان کو شہری فرائض سے بری الذمہ نہیں کرنا چاہئے۔ ہم تو یہ چاہتے بھی نہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مذہبی آزادی ہونی چاہئے اور ہر مسلمان کو قانون کا پابند ہونا چاہئے۔ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا دینی جوش دیکھ کر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ بھی مذہب کی طرف زیادہ متحرک ہو رہے ہیں، مسابقت کی رو سے ترقی ہوتی ہے۔ مذہب پر بھی یہ قانون اطلاق پاتا ہے۔ کاش کہ آزادی کا یہ جو نظریہ ہے، سوچ ہے، یہ مسلمان بھی سمجھ سکیں اور جماعت کے بارے میں جو غلط قسم کی باتیں عوام الناس میں پھیلائی جاتی ہیں وہ بدلیں اور رواداری کی اپنے اپنے ملکوں میں خاص طورپر پاکستان میں فضا پیدا کریں۔
بہرحال اخبارات اور علاقہ کی مخالفت نے افتتاح سے پہلے ہی مسجد کو اتنی شہرت دے دی تھی کہ افتتاح کے لئے خود بخود ہی رابطے ہوتے چلے گئے ہیں اور لوگوں کا تجسس بھی بڑھتا چلا گیا۔ جب جمعہ پڑھ کے مَیں نکلا ہوں توکافی دور سے ایک جرمن عورت آئی کہ مَیں یہاں کی پرانی رہنے والی ہوں۔ اخباروں اور ٹیلیویژن پہ کل سے مَیں دیکھ رہی ہوں کہ ایک مسجد کا افتتاح ہے اور یہاں خلیفہ آیا ہوا ہے تو مَیں دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کیا ہے۔ اس طرح لوگوں کو تجسس پیدا ہوا خاص طورپر وہ مجھے ملنے آئی تھی۔
جمعہ سے ایک دن پہلے جمعرات کی رات کو، غیر مسلم مہمانوں کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا تھا۔ اس میں جرمن پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر بھی شامل ہوئے تھے اور بھی کئی ممبر شامل تھے۔ میئر تھے، ان کے خاص نمائندے تھے، ایمبسیڈر یا دوسرے سفارتکار تھے۔ بعض معززین کو وہاں بولنے کا موقع بھی دیا گیا۔ انہوں نے جماعت کے بار ے میں بڑے عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔ آخر پرمَیں نے بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم اور مسجد کے حوالے سے، مسجد کی کیا اہمیت ہے اور ہماری تعلیم کیاہے ان کوبتایا تو سارے سننے والوں نے، شامل ہونے والوں نے، نہ صرف غور سے سنا بلکہ ان کے چہرے کے تاثرات اور بعض موقعوں پر سر ہلانے سے لگتا تھا کہ ان کو بہت دلچسپی پید اہو رہی ہے۔ یہ باتیں عجیب بھی لگ رہی ہیں اور دلچسپی بھی پیدا ہو رہی ہے بلکہ بعض لوگ تو نوٹس بھی لیتے جا رہے تھے۔ پھر بعد میں مجھے ملے ہیں تو اس بات کا انہوں نے اظہار کیا ہے کہ اسلام کے بارے میں انہیں بہت سی نئی باتوں کا پتہ لگا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس موقع کو بھی دنیا بھر کے میڈیا نے کور (Cover) کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اور تعارف کے مزید میدان کھلے ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 148 اخبارات اور رسائل نے مسجد خدیجہ برلن کے افتتاح کے بارے میں خبر نشر کی ہے۔ جرمنی کے علاوہ 16ممالک کے اخبارات نے خبریں شائع کیں۔ ان میں امریکہ، آسٹریا، ترکی، بحرین، نیوزی لینڈ، انگلستان، پاکستان، سری لنکا، کینیڈا، کویت، فرانس، سکاٹ لینڈ، انڈیا، تائیوان، سعودی عرب اور آسٹریلیا۔ اور خبر رساں ایجنسیاں اور میگزین اور اخبارات میں C.N.N، گُوگل نیوز، گلف نیوز، ایسوسی ایٹڈ پریس، Zimbo نیوز ایجنسی، ورلڈ نیوز نیٹ ورک، نیوز ڈے ڈاٹ کام، رائٹرز، یورو اسلام، یاہو نیوز، انٹرنیشنل ہیرالڈ وغیرہ نے خبریں دیں۔ اخبارات میں گارڈینUK نے اور اڈوئچے ویلے (جرمنی میں)، آئی ٹی این، اے بی سی نیوز (یوایس اے کا)، سپیگل جرمنی کا ہے، ایم ایس این بی سی امریکہ کاہے، یوایس اے ٹوڈے، واشنگٹن پوسٹ، ٹائمز آف انڈیا ان سب نے خبریں دیں۔ بڑے وسیع پیمانے پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعارف کا میدان کھلا ہے۔ جو جرمن اور دوسری دنیا میں الیکٹرانک میڈیا میں آیا اس میں جاپان، چیک ریپبلک، پولینڈ، ہالینڈ، اٹلی، سوئٹزر لینڈ، فرانس اور اس طرح بہت سارے بین الاقوامی اخبارات ہیں جن میں یہ خبریں دی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ بہت ساری تعداد لوکل اخبارات کی بھی ہے۔
برلن کی سب سے مشہور اور زیادہ بکنے والی اخبارBerliner Zeitung نے سرخی لگائی کہ مسجد برداشت کا مادہ رکھتی ہے۔ اور پھر انہوں نے لکھا کہ افتتاح کے موقع پر برلن کے وزیر اعلیٰ نے احمدیوں کو مسجد کی مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ یہ مسجد برداشت اور بُرد باری کی علامت ہے اور اس وصف کو ترجیح دینے میں مدد دے گی۔ جرمن پارلیمنٹ کے نائب صدر نے اس علاقے کے احمدیوں میں ایک دوسرے کے لئے زیادہ برداشت اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ احمدیوں کے پانچویں خلیفہ نے اپنے خطاب میں مہمانوں کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ باوجود مخالفتوں کے مسجد بنانے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے اپنے فرقہ کے لوگوں کی جرمنی سے وفاداری پر بھی یقین دلایا اور مسجد کے مخالفین کے لئے بھی دعائیہ کلمات کہے۔ اسی طرح انہوں نے دعا بھی کی اور امید ظاہر کی کہ احمدیوں کو جرمن قوم کا حصہ سمجھا جائے گا۔ ان کی تعداد جرمنی میں 30 ہزار ہے۔
پھر ایک بہت بڑی اخبار ہےDie Nelt، یہ جرمنی کے بڑے اخباروں میں شمار ہوتا ہے اس نے لکھا ہے کہ اسلامی تنظیموں کا مسجد کی تعمیر پر اطمینان کا اظہار۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔ ویسے ہماری مخالفت ہوتی ہے، مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ لکھتے ہیں کہ اسلامی اداروں کی کانفرنسO.I.C کے جنرل سیکرٹری مسٹر احسان اوگلو نے کہا کہ مسجد کی تعمیر مسلمانوں کی جرمن معاشرے میں انیٹیگریشن کی طرف اہم قدم ہے۔ مَیں مسجد کے افتتاح پر خوش ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف اٹھنے والی آوازیں تمام جرمنی کی نمائند گی نہیں کرتیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ جرمنی ایک آزاد ملک ہے۔ اس لئے یہاں مسجد کی تعمیر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ نئی مسجد جماعت احمدیہ کی ہے جس کے افتتاح کے لئے ان کے خلیفہ لندن سے آئے ہیں۔
پھر ایک بہت بڑا اخبار ہےFocus Online، یہ کہتا ہے کہ ان کے لندن میں رہائش پذیر مرزا مسرور احمد نے اپنے ابتدائی خطاب میں تمام باہمت شہریوں کا شکریہ ادا کیا جو احتجاج کے باوجود تشریف لائے۔ احمدیہ جماعت ایک ایسی تنظیم ہے جو امن پسند ہے اور اسلام کے انتہا پسندوں سے بالکل مختلف ہے۔ آپ نے کہا محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔ MTA نے اس تقریب کو ساری دنیا میں دکھایا۔ ا ڑھائی سو مہمانوں نے شرکت کی۔ پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر، ضلعی میئر اور سب نے مذہبی آزادی کا دفاع کیا۔
ایک اور اخبار جو پورے جرمنی میں پڑھا جاتا ہے بہت مشہور اخبار ہے۔ اس نے بھی اس کی بڑی اچھی طرح خبر دی۔ آخر پر اس نے یہ بھی لکھا، یہ زائد بات ہے کہ مسجد کا نقشہ بھی ایک احمدی خاتون نے بنایاہے اور مسجد کا نام حضرت محمد اکی بیوی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ باقی اس نے مخالفت میں کچھ نہ کچھ فقرے تو لکھنے تھے، لکھتے ہیں کہ علاقہ میں جماعت کی مخالف تنظیم کا دعویٰ ہے کہ احمدیہ فرقہ کیونکہ عورتوں پہ بہت ظلم کرتا ہے لہٰذا وہ اس کے خلاف ہیں۔ اور ان کے نزدیک ظلم کی جو مثال دی ہے وہ یہی ہے کہ پردہ کی بڑی پابندی کروائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔
جرمن ٹی وی چینل نے بھی بہت اچھی طرح خبر دی۔ لکھتے ہیں جماعت نے مشرقی برلن میں مسجد تعمیر کی ہے۔ اس کے افتتاح کی تقریب جمعرات شام کو منعقد ہوئی، جس میں پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر شامل ہوئے۔ لندن سے ان کے سربراہ آئے۔ آپ نے کہا ہم جہاں بھی جائیں لوگوں کو خدشات اور تحفظات ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم ان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جماعت احمدیہ کا بیان ہے کہ ہم امن پسند جماعت ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہے اور واشنگٹن پوسٹ نے 16؍ اکتوبر کی اشاعت میں لکھا کہ سابقہ کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں پہلی مسجد کا افتتاح۔ برلن میں گنبد اور مناروں والی پہلی مسجد کا افتتاح جمعرات کے روز ہوا۔ اس موقع پرپولیس نے مخالفین کو مسجد سے کچھ فاصلے پر روکے رکھا۔ خدیجہ مسجد دو منزلہ عمارت ہے۔ اس کا مینارہ 42فٹ اونچا ہے۔ اس موقع پر کم از کم 300مخالفین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جرمنی میں مسلمان زیادہ تر مغربی جرمنی میں رہتے ہیں۔ ویسے تو برلن میں کم و بیش 70مساجد ہیں لیکن زیادہ تر چھپی ہوئی اور برلن کے مغربی علاقے میں ایسی عمارتوں پر مشتمل ہیں جو بظاہر مساجد نظر نہیں آتیں۔ جماعت احمدیہ کے ممبر نے کہا کہ یہ مسجد مشرقی برلن میں جو کہ کیپیٹل (Capital)ہے پہلی مسجد ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت کی حامل ہے۔ حکومت نے بھی اس کا خیر مقدم کیا ہے۔
برکینا فاسو سے بھی ہمارے امیرصاحب نے اطلاع دی ہے کہ فرانس کی اور برلن کی مسجد کو انہوں نے اپنے ٹی وی چینلز پر بھی دیا اور 6اخبارات نے ایڈیٹوریل میں خاص طور پر اس کی خبر دی۔
یورو نیوز جو ایک مشہور یوروپین چینل ہے اس میں بھی فرنچ، جرمن، انگلش اور عربی میں خبریں دی جاتی ہیں۔ یہ بھی بڑا مشہور چینل ہے سارے یورپ میں سنا جاتا ہے۔ اس نے بھی افتتاح کی تصویروں کے ساتھ دو تین منٹ کی خبر دی۔ بظاہر جو حالات ہیں اس چینل تک ہمارا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نشانات جو واضح اورروشن تر ہوکر اپنی شان دکھاتے ہیں انہوں نے اس کو ممکن بنا دیا۔ پھر بھی اُن لوگوں کو جو اندھے ہیں حق کو سمجھنے کا خیال نہیں آتا۔
عربوں کے مختلف چینلز میں گو بعض حقائق توڑ مروڑ کر پیش کئے گئے ہیں، خاص طور پر ہمارے عقائد کے بارے میں۔ لیکن مسجد کا نام لے کر خبر دی ہے۔ مخالفین کے اعتراضات تو وہی گھسے پٹے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ 1923ء میں بھی جب برلن مسجد بننے لگی تھی تو اس وقت بھی ہمارے مخالفین میں ایک مصری تنظیم تھی جس نے جرمن حکومت کو یہ کہہ کر ہمارے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی تھی کہ یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے اور جرمنوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح کے الزامات تھے۔
اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مولوی مبارک علی صاحب کو جو یہاں پہلے مبلغ تھے، ایک مضمون وہاں سے لکھ کے بھجوایا جس میں تفصیل سے اس بات کا رد ّکیا گیا تھا اور فرمایا تھا کہ اسے وہاں اخباروں میں بھی شائع کریں اور لوگوں تک بھی پہنچائیں۔ وہی اعتراضات آج کل بھی ہو رہے ہیں۔ یہ اتفاقاً کل ہی مجھے پرانی تاریخی بات مولانا دوست محمد صاحب نے بھجوائی تھی۔ ان لوگوں کو اس مضمون میں واضح کیا گیا تھا کہ ہم تو ہر ملک کے وفادار ہیں۔ جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے ساتھ ہماری وفاداری ہے لیکن ہر طبقے تک، ملک کے ہر فرد تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہمارا فرض ہے جو ہم پہنچاتے ہیں اور اس لئے ہم مسجد بنا رہے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کو تو جرأت نہیں ہے کہ کھل کر اظہار کرسکیں۔
عبدالباسط صاحب جو برلن میں ہمارے مبلغ ہیں انہوں نے وہاں سے جو بعد کی رپورٹ بھیجی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہفتہ، جس روز مَیں وہاں سے آیا ہوں اور اتوار کے روز مسلسل جرمن افراد خدیجہ مسجد آتے رہے۔ ان دو دنوں میں تقریباً 900افراد مسجد آئے اور ان کی خاطر تواضع کی گئی اور برلن کے مختلف حصوں سے مسجد دیکھنے کے لئے ہمسائے بھی آئے اور تصویریں بھی کھینچیں۔ برلن کے بچوں ناصرات اور اطفال نے ان کی خوب مہمان نوازی کی اور کر رہے ہیں اور مسجد کا تعارف بھی کرا رہے ہیں اور عبادت کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں۔ اور ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو کام کرتے دیکھ کر بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ جرمن زائرین اور بعض معمر زائرین نے خاکسار کے پاس آکر خصوصی طورپر حیرت کا اظہارکیا کہ کس طرح 10اور 12 سال کے معصوم بچے اور بچیاں اسلام کے بارے میں معلومات مہیا کرتے ہیں۔ خاکسار نے بتایا کہ ان کی ماؤں نے ان کو اس کی تعلیم دی ہے اور جماعت میں تعلیم و تربیت کا منظم نظام ہے۔ تو بچوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے وہاں تبلیغ کے مواقع پیدا کر دئیے۔ ایک ہمسایہ جرمن نے خاکسار کو لکھا کہ بطور ہمسائے کے مَیں آپ کو اس علاقے میں دلی طور پر خوش آمدید کہتی ہوں۔ ہم بہت خوش ہیں کہ آخر کار ہمارے پاس بھی دوسرا کلچر اور دوسرا مذہب آیا ہے۔ برلن چرچ کے ایک نمائندے نے ان کو خط لکھا کہ چرچ کی طرف سے آپ کی جماعت کے ممبران اور آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ وہی مخالفت پذیر ائی میں بدل گئی ہے۔
برلن مسجد کے افتتاح کے بعد اگلے دن ہفتہ کو جیسا کہ مَیں نے بتایا مَیں وہاں سے آگیا تھا۔ ہم بیلجیم آئے وہاں انصاراللہ کا اجتماع تھا۔ اللہ کے فضل سے وہاں بھی جماعت اکٹھی تھی اور ان کے لحاظ سے ان کو کہنے کا کچھ موقع مل گیا۔ وہاں سے پھر اسی دن شام کو، ان کے اجتماع کے فوراً بعد ہماری واپسی ہوئی۔ یہاں واپسی جلدی اس لئے تھی کہ ہمارے مسجد فضل کے علاقہ کی ایم پی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں خلافت جوبلی کے حوالے سے ایک ریسیپشن (Reception) کا انتظام کیا ہوا تھا۔ وہاں دریا کے کنارے ہاؤس آف کامن والا جوٹیرس (Terrace) ہے کے ایک ہال میں یہ تقریب تھی۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر یہ تقریب منعقد ہونے کی وجہ سے کافی تعداد میں ایم پی ایز (M.Ps) اور پارلیمنٹیرینز (Parlimentarians) اللہ تعالیٰ کے فضل سے شامل ہوئے۔ اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد، خلافت کاکیا کام ہے، اسلام کی امن پسند تعلیم اور آج کل دنیا میں کس طرح امن قائم ہو سکتاہے اور بڑی طاقتوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور آج کل کے اقتصادی بحران کی وجہ سودی نظام ہے، اس بارہ میں ان کو قرآن کریم کی روشنی میں کچھ وقت کہنے کا موقع ملا۔ یہ چیز ان کے لئے بڑی حیرت انگیز تھی اور بعض پارلیمنٹیرینز اور سفیر اور دوسرے سفارتکار بعدمیں ملنے آتے رہے، انہوں نے اچھا اثر لیا اور اس کا اظہار کیا۔ یہ صرف اچھا اخلاق دکھانے کے لئے نہیں تھا کہ وہ ریسیپشن ہے تو دکھا دیں بلکہ بعد میں جس طرح وہ مجھے ملے ہیں اور اس تقریر کا ٹیکسٹ (Text) بھی مانگ رہے تھے تو اس سے لگ رہا تھا کہ حقیقت میں وہ چاہتے ہیں کہ جو باتیں کی ہیں اس کو غور سے دیکھیں اور سمجھیں اور بعض نے وہاں بیٹھ کر نوٹ بھی لئے۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اپنے نظام کو بدلیں اور کم از کم یہ دیکھیں کہ کہاں سے انہیں اچھی باتیں مل سکتی ہیں۔ وہیں پارلیمنٹ ہاؤس میں اللہ تعالیٰ نے ظہر و عصر کی نمازیں پڑھنے کا بھی موقع دیا۔ بہرحال یہاں لندن میں ایک دو ہفتے کے دوران یہ فنکشن بھی ہو گیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں، جیسا کہ مَیں نے کہا اسلام کا پیغام سننا اور دلچسپی سے سننا ان لوگوں کی بدلتی ہوئی سوچوں کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہی یہ کام ہو رہا ہے ورنہ ہماری کوششوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ہم اگر ان فضلوں کی منادی کر کرکے زندگیاں بھی ختم کر لیں تو حق ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال اس کی رپورٹ بھی ایم ٹی اے یا اخباروں کی رپورٹس میں آجائے گی۔
یہ لوگ جیسا کہ مَیں نے جرمنی کا بھی کہا تھا کہ بعض مسلمانوں نے اعتراض کیا اور ہم پہ یہ الزام لگائے ہیں کہ یہ انگریزوں کا خود کا شتہ پودا ہے۔ کیا اسلام کا پیغام اور قرآن کریم کی تعلیم ان لوگوں کو ان کا کوئی پرور دہ بتا سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دشمنی نے ان لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔ نہیں دیکھتے کہ خدا کی تقدیر کس طرف جا رہی ہے۔ اپنا کیا برا حال ہو رہا ہے۔ کس تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن خاص طور پر جو یہ مُلّاں ہیں ان میں احمدیت کی دشمنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دشمنی بجائے کم ہونے کے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آج مسلمانوں کی بقا اسی میں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سنیں اور مانیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
‘’نادان مولوی اگر اپنی آنکھیں دیدہ و دانستہ بند کرتے ہیں تو کریں۔ سچائی کو ان سے کیا نقصان؟ لیکن وہ زمانہ آتا ہے، بلکہ قریب ہے کہ بہتیرے فرعون طبع ان پیشگوئیوں پر غور کرنے سے غرق ہونے سے بچ جائیں گے۔ خدا فرماتا ہے کہ مَیں حملہ پر حملہ کروں گا یہاں تک کہ مَیں تیری سچائی دلوں میں بٹھا دوں گا۔
پس اے مولویو! اگر تمہیں خدا سے لڑنے کی طاقت ہے تو لڑو۔ مجھ سے پہلے ایک غریب انسان مریم کے بیٹے سے یہودیوں نے کیا کچھ نہ کیا اور کس طرح اپنے گمان میں اُس کو سُولی دے دی۔ مگر خدا نے اس کو سُولی کی موت سے بچایا۔ اور یا تو وہ زمانہ تھا کہ اس کو صرف مکّار اور کذّاب خیال کیا جاتا تھا اور یا وہ وقت آیا کہ اِس قدر اُس کی عظمت دلوں میں پیدا ہو گئی کہ اب چالیس کروڑ انسان اُس کوخدا کرکے مانتا ہے‘‘۔ اب تو اور تعداد بڑھ گئی ہے۔
فرماتے ہیں :’’اگرچہ ان لوگوں نے کفر کیا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا۔ مگر یہ یہودیوں کا جواب ہے کہ جس شخص کو وہ لوگ ایک جھوٹے کی طرح پَیروں کے نیچے کچل دینا چاہتے تھے وہی یسوع مریم کا بیٹا اس عظمت کو پہنچا کہ اب چالیس کروڑ انسان اُس کو سجدہ کرتے ہیں اور بادشاہوں کی گردنیں اُس کے نام کے آگے جھکتی ہیں۔ سو مَیں نے اگرچہ یہ دعا کی ہے کہ یسوع ابن مریم کی طرح شرک کی ترقی کا مَیں ذریعہ نہ ٹھہرایا جاؤں اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خداتعالیٰ ایسا ہی کرے گا۔ لیکن خداتعا لیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔ اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔ اور ہر ایک قوم اس چشمے سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔ بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلاء آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔
سو اے سننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہو گا۔ مَیں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور مَیں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور مَیں اپنے تئیں صرف ایک نالائق اورمزدور سمجھتا ہوں۔ یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔ پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اِس مُشت خاک کو اُس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔ (تجلیات الٰہیہ۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ410-409۔ مطبوعہ لندن)
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی احمدی بنتے ہوئے یہ سب نظارے اور ترقیات دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جس کے وعدے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمائے ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9cIp7]

اپنا تبصرہ بھیجیں