خلافت اور ہندوستان میں جماعتی ترقی

جماعت احمدیہ بھارت کے خلافت سوونیئر میں شامل مکرم مولانا سلطان احمد صاحب ظفرؔ کا ایک مضمون خلافت احمدیہ کے ذریعہ ہندوستان میں جماعت احمدیہ کی ترقی پر روشنی ڈالتا ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ کے انتخاب پر جب بعض اکابرین جماعت نے علیحدگی اختیار کرلی تو تاریخ شاہد ہے کہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے افضال و برکات اور انوار و انعامات کی برسات پہلے سے کہیں بڑھ کر نازل ہوناشروع ہوگئی اور منکرین خلافت کا بعینہٖ وہی حال ہوا جس کی پیشگوئی حضورؓ ؓ نے 1915میں فرمائی تھی۔ کہ: ’’وہ یا تو ہم میں شامل ہو جائیں گے یا غیروں میں مل جائیں گے یاایسے کمزور ہو جائیں گے کہ انکا ہونا اور نہ ہونا برابر ہوگا۔ یہ خدا کاوعدہ ہے اور سچاوعدہ ہے-‘‘
مضمون نگار نے منکرین خلافت کی پشت پناہی سے اٹھنے والے مستریوں اور مصریوں کے فتنوں کا بھی ذکر کیا ہے اور احراریوں کی اُن تعلّیوں کا بھی تفصیل سے بیان کیا ہے جب نام نہاد امیر شریعت مولوی سیدعطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا: ’’مرزائیت کے مقابلہ کیلئے بہت سے لوگ اُٹھے لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ وہ میرے ہاتھ سے تباہ ہو‘‘۔(سوانح حیات صفحہ 100)
اور نہایت تکبر سے کہا: ’’اے مسیح کی بھیڑو! تم سے کسی کا ٹکرائو نہیں ہوا جس سے اب سابقہ ہوا ہے اس نے تم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیناہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ 93)
لیکن اللہ تعالیٰ نے خلافت کی برکت سے یہ تمام فتنے ناکام و نامراد کئے اور ہندوستان میں جماعتی ترقیات کے نئے ابواب کھلتے چلے گئے۔ چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ہی اعتراف کیا:
’’حقیقۃ ًاحراری اپنی تمام تر صلاحیتوں اور عظیم قربانیوں کے باوجود بدقسمت تھے ان کی مثال بدقسمت قوم کی سی ہے کہ جاں نثاری کے باوجود ہر معرکہ میں ہار ان کانوشتہ ہے-‘‘ (ایضاً صفحہ 163)
تاریخ احرار کے صفحہ 152 پر بھی مجلس احرار کی زبوں حالی کانقشہ یوں پیش کیا گیاہے :
’’ جانوروں کی طرح بے شعور محنت کرکے جینا اور کیڑوں کی طرح مرنا ہماری بے عمل زندگی کاعنوان ہے۔ باسی کڑی کے ابال کی طرح ہم اُٹھتے ہیں اور پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں-‘‘
شدھی تحریک کے ذریعہ 1923ء کے آس پاس آگرہ و راجستھان کے ماحول میں اور خاص ملکانہ علاقہ میں اسلام کو شدید خطرہ لاحق ہوا جس کا پس منظر یہ تھا کہ بعض ہندو تنظیموں بالخصوص آریہ سماج نے یہ تحریک چلائی کہ یہاں جتنے مسلمان ہیں وہ سارے چونکہ پہلے ہندو تھے اس لئے ان کو اپنے مذہب میں واپس لے آنا چاہئے ۔چنانچہ نہایت خاموشی کے ساتھ اندر ہی اندر یہ تحریک چلائی گئی اور ہزاروں مسلمان جن کے رسم و رواج عدم تعلیم و تربیت کی وجہ سے پہلے ہی ہندوانہ تھے اسلام کو خیر باد کہہ کرشدھ ہوگئے۔ اس سلسلہ میں جب اخبارات میں ذکر آیا تو 9 ؍مارچ 1923ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے واقفین سے آگے آنے کا مطالبہ فرمایا جو اپنے خرچ پر اس علاقہ میں جاکر تبلیغ کریں۔
اس آواز پر جماعت نے والہانہ لبیک کہتے ہوئے ایسے حیرت انگیز ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کیا جو تاریخ احمدیت میں آب زر سے لکھا جانے والا ہے۔ چنانچہ تحریک شدھی دم توڑ گئی۔ شدھی کی یہ تحریک دوبارہ خلافت رابعہ کے دَور میں بھی چلائی گئی لیکن خلافت احمدیہ کی برکت سے جماعت فتحیاب ہوئی اور آج اس علاقہ میں باقاعدہ منظم جماعتیں قائم ہوچکی ہیں۔
تقسیم ہند کے موقع پر بھی جماعت احمدیہ کے افراد نے خلافت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر ہزاروں مظلوموں کی حفاظت کی اور ایک لمبے عرصہ تک قادیان میں قربانیوں کے اعلیٰ نمونے پیش کئے جن کا ثمر آج دکھائی دے رہا ہے۔ بعد میں حضورؓ کے ارشاد پر مذہبی منافرت کو ختم کرنے کے لئے کثرت سے یوم پیشوایان مذاہب منائے گئے اور تبلیغ کا دائرہ وسیع تر کیا گیا۔ چنانچہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل اور نظام خلافت کی برکت سے ہندوستان کے ہر صوبہ میں جماعتوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ تقسیم ملک کے بعدقادیان کو چھوڑ کر پنجاب، ہماچل اور ہریانہ وغیرہ صوبہ جات میںایک بھی جماعت نہ تھی۔ جبکہ نظام خلافت کی برکت سے آج پنجاب میں 160 منظم جماعتیں اور42مساجد و دیارالتبلیغ قائم ہیں۔ ہریانہ میں 175سے زائد جماعتیں اور 10 مساجد و دیار التبلیغ ہیں۔ اسی طرح ہماچل میں 35 جماعتیں اور 7مساجد ہیں۔ تقسیم ملک کے بعد چند معلمین اور مبلغین تھے لیکن آج خداکے فضل سے 150 سے زائد مبلغین کرام اور 1100سے زائد معلمین کرام دن رات تعلیم و تربیت اور تبلیغ اسلام کافریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ خدا کے فضل سے 282 جماعتوں میں ڈش انٹینا نصب ہیں اور انفرادی طور پر افراد جماعت نے اپنے گھروں میں جو ڈش لگائے ہیں ان کی تعداد بھی 400 تک پہنچ چکی ہے۔
پہلی مرتبہ1991ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی قادیان تشریف آوری کے بعد تو عظیم انقلاب برپا ہونا شروع ہوگیا۔ 2005ء میں جب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قادیان تشریف لائے تو ستر ہزار سے زائد احمدی احباب نے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔
تقسیم ملک کے بعد ابتداء میں ہندوستان کا مالی بجٹ چند ہزار روپے تھا جو آج کروڑوں تک پہنچ چکا ہے۔ چنانچہ صدر انجمن احمدیہ قادیان کا 2008-09 کا آمد و خرچ بجٹ 5 کروڑ 44لاکھ 8ہزار روپے ہے جبکہ انجمن تحریک جدید کا اس سال کا بجٹ ساڑھے باون لاکھ سے زیادہ اور انجمن وقف جدید کا سالانہ بجٹ سوا 47لاکھ ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی فنڈ سے بھارت کی تبلیغی و تربیتی مساعی کو تیز کرنے اور بعض ترقیاتی کاموں کیلئے حضور انور نے سال رواں کیلئے قریباً گیارہ کروڑ روپے کی منظوری مرحمت فرمائی ہے۔ نیز ذیلی تنظیموں میں انصاراللہ بھارت کارواں سال کا بجٹ 27 لاکھ سے زیادہ اور خدام الاحمدیہ بھارت کا بجٹ ساڑھے 21لاکھ۔ جبکہ لجنہ اماء اللہ بھارت کا سالانہ بجٹ 14 لاکھ کا ہے۔
شعبہ اشاعت کے تحت ہر سال قریباً ایک کروڑ روپے کی کتب شائع کرکے دنیا بھر میں بھجوائی جاتی ہیں۔ حضور انور کی ہدایت پر ہندوستان کے متعدد صوبہ جات میں جماعت کی طرف سے جاری متعدد سکولوں کے علاوہ 537جماعتوں میں 7489تربیتی کلاسز کا انعقاد کیا گیا ہے جس کے ذریعہ 44914افراد جماعت نے استفادہ کیا ۔
تقسیم ملک کے بعد ہی سے قادیان میں احمدیہ شفاخانہ جاری تھا۔2005ء میں ایک وسیع عمارت احمدیہ نور ہسپتال کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی۔ جس میں 80بیڈ کی گنجائش کے علاوہ علاج معالجہ کیلئے ہر قسم کی سہولیات فراہم ہیں اور جس کااپنا کروڑوں روپے کا سالانہ بجٹ ہے جہاں روزانہ سینکڑوں مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔ اس میں ہومیوپیتھک ڈسپنسری بھی قائم ہے۔
مختلف ارضی و سماوی آفات اور فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ بنی نوع انسان کو بلا امتیاز مذہب و ملت ریلیف پہنچانے کی جماعت کو توفیق مل رہی ہے ۔ چنانچہ پنجاب ہماچل، اڑیسہ، بنگال، آسام اورآندھرا کے ساحلی علاقوں میں پچھلے چند سالوں میں آنے والے سیلابوں اور طوفانوں کے وقت اسی طرح گجرات، مہاراشٹر، کشمیر اور تامل ناڈو کے خوفناک زلازل اور سونامی اور ممبئی، بھاگلپور ، گجرات اور دیگر ملک گیر فرقہ وارانہ فسادات کے مواقع پر جماعت نے دل کھول کر دُکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کی توفیق پائی اور رقم، اجناس اور پارچات کی صورت میں ریلیف تقسیم کرنے کے علاوہ زلازل اور فسادات کے متاثرہ لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ملت عارضی ٹینٹ ہاؤسز اور پختہ کالونیاں تعمیر کرکے دیں جس پر مجموعی طور پر کروڑہا روپے کے اخراجات ہوئے۔
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ یہ خلافت ہی کی نعمت ہے جو جماعت کی جان ہے ۔اس لئے اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو خلافت احمدیہ کے ساتھ اخلاص اور وفا کے ساتھ چمٹ جائیں ۔ پوری طرح اس سے وابستہ ہو جائیں کہ آپ کی ہر ترقی کاراز خلافت سے وابستگی میں مضمر ہے۔ ایسے بن جائیں کہ خلیفہ وقت کی رضا آپ کی رضا ہو جائے۔ خلیفہ ٔوقت کے قدموں پر آپ کا قدم ہو اور خلیفہ وقت کی خوشنودی آپ کا مطمح نظر ہو جائے‘‘۔ (ماہانہ خالد ربوہ سیدنا طاہر نمبر2004ء)

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں