دعا کرنے کے بارے میں ہدایات

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا مارچ 1995ء کا شمارہ ’’مسیح موعود نمبر‘‘ ہے۔ اس کے اردو حصہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کے مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے لیکن اس کی قبولیت کے بعد یہ نہیں کہنا چاہئے کہ فلاں کام دعا سے ہوا ہے بلکہ یہی کہنا چاہئے کہ فلاں کام خدا کے فضل سے ہوا ہے۔ اسی طرح جہاں اپنے لئے خود بھی دعا کرنی چاہئے وہاں حضرت خلیفۃالمسیح کی خدمت میں ضرور دعا کی درخواست کرنی چاہئے۔ مضمون کے آخر میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا نقل کی گئی ہے:
’’اے میرے محسن! اے میرے خدا! میں تیرا ایک ناکارہ بندہ پُر معصیت اور پُرغفلت ہوں۔ تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا، انعام پر انعام کیا۔ گناہ پر گناہ دیکھا، احسان پر احسان کیا۔ تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پُرگناہ پر رحم کر۔ میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس فکر سے نجات بخش کے سوا تیرے اور کوئی قبول کرنے والا نہیں‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں