دنیائے کمپیوٹر کے لئے ایک عظیم چیلنج

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍دسمبر 1998ء میں مکرم ہدایت اللہ ہادی صاحب نے کمپیوٹر کے سلسلہ میں آئندہ پیش آنے والے مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ کمپیوٹر کیلئے آج دو ہزار بَگ (Bug 2000) والا مسئلہ اس وقت بہت بڑا ہے۔ ہم اپنی زندگیوں میں رفتہ رفتہ کمپیوٹر کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اب یہ عادت ایک محتاجی کا روپ دھار چکی ہے۔ آج ذرائع نقل و حمل، ٹیلیفون کا نظام، ذرائع ابلاغ، زراعت، معاشی اور معاشرتی نظام تک کمپیوٹر کا مرہون منت ہوکر رہ گیا ہے۔
دراصل کمپیوٹر کی بنیاد ’’وقت‘‘ پر رکھی گئی ہے۔ ہر کمپیوٹر کا لازمی جزو ایک گھڑی ہوتی ہے جسے Real Time Clock کہتے ہیں۔ جس طرح جب کوئی انسان بیدار کیا جائے تو وہ پہلے گھڑی کی طرف دیکھے گا پھر دن اور تاریخ کی طرف اور پھر اپنا کام شروع کرے گا، اسی طرح جب کمپیوٹر کو On کیا جاتا ہے تو وہ بھی پہلے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتا ہے اور دن، تاریخ، مہینہ، سال اور وقت معلوم کرتا ہے۔ چند سال پہلے تک کے کمپیوٹر کے ماہرین سے غلطی یہ ہوئی کہ کمپیوٹر کو جو کیلنڈر انہوں نے فراہم کیا وہ 31؍دسمبر 1999ء رات بارہ بجے تک تھا۔ چنانچہ جب یکم جنوری 2000ء شروع ہوگی اور کمپیوٹر اپنا کام شروع کرے گا تو اُسے نئی تاریخ کی کچھ سمجھ نہیں آئے گی اور وہ بوکھلا جائے گا اور اُس کا ردّعمل کیا ہوگا اس کے متعلق ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پاگل کی حرکات کے متعلق کچھ کہنا بھی تو پاگل پن ہی ہوتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ آج ہماری سائنسی دنیا کا بیشتر نظام کمپیوٹر کے سہارے پر قائم ہے۔ ہوا اور خلا میں محو پرواز ہوائی اور خلائی جہاز بھی کمپیوٹر سے منسلک ہیں اور سمندری جہاز بھی۔ بنکوں کے نظام اور ترقی یافتہ ممالک کے دفاعی اور معاشی نظام کی بنیاد بھی کمپیوٹر ہی ہے۔ تاہم جدید کمپیوٹر میں ماہرین نے وقت کی تبدیلی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھ دی ہے اور اُس کے لئے صدی کی تبدیلی عام سی بات ہوگی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LTWjX]

اپنا تبصرہ بھیجیں