دینی تعلیم کے ادارے ’’جامعہ احمدیہ‘‘ کی بنیاد اور شاندار ترقیات – حصہ دوم

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2013ء)

تاریخ احمدیت کا ایک زرّیں باب
دینی تعلیم کے ادارے ’’جامعہ احمدیہ‘‘ کی بنیاد اور شاندار ترقیات
(شیخ فضل عمر)

یورپ میں پہلے جامعہ احمدیہ کا آغازاور طلبہ کو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ کی نصائح
برطانیہ کا جامعہ احمدیہ بھی اُسی مقدس درخت کا ایک اور شیریں پھل ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھوں لگایا گیاتھا جس کا افتتاح سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اکتوبر 2005ء کو فرمایا۔ اس ادارہ کی اہمیت یہ بھی تھی کہ یہ براعظم یورپ کا پہلا جامعہ احمدیہ تھا اور اسی لئے اس میں یورپ بھر سے واقفین زندگی منتخب طلباء کو داخلہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اُس وقت یہ ادارہ Colleirs Wood London کی ایک چھوٹی سی عمارت میں جاری کیا گیا تھا۔ جبکہ جون 2012ء میں اسے اس کی نئی خریدکردہ وسیع و عریض عمارت میں منتقل کردیا گیا جو Haselmere, Surrey میں واقع ہے۔
اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ قبل ازیں اخبار الفضل انٹرنیشنل میں شائع کی جاچکی ہے-
یکم اکتوبر 2005ء کو جامعہ احمدیہ یوکے کا افتتاح کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒنے جب وقفِ نو کی تحریک فرمائی تھی تو فرمایا تھا کہ ہمیں لاکھوں واقفینِ نوچاہئیں۔ اب تک تو واقفینِ نو کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن جس طرح جماعت کی تعداد بڑھ رہی ہے اور جس طرح والدین کی اس طرف توجہ پیدا ہورہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ لاکھوں کی تعداد ہوجائے گی۔ اور پھر ظاہر ہے کہ ہر ملک میں جامعہ احمدیہ کھولنا پڑے گا۔ اور یہ انشاءاللہ تعالیٰ ایک دن ہوگا۔
حضور انور نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جو طلباء دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت آئے ہیں کہ دین کا علم حاصل کرو۔آپ اس گروہ میں شامل ہوئے ہیں جنہوں نے دوسروں کو دین سکھانے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا میں پہنچانے کا عہد کیا ہے، اس کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔ دنیا میں بہت سے مسلمان فرقوں اور حکومتوں نے دینی علم سکھانے کے لئے مدارس کھولے ہوئے ہیں جن کو بہت زیادہ فنڈز بھی مہیا ہوتے ہیں، بہت ساری سہولتیں بھی میسّر ہیں جو جماعت احمدیہ کے لحاظ سے جہاں بھی جامعہ احمدیہ ہیں وہاں مہیا نہیں کی جاسکتیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہاں جہاں بھی یہ دینی علم دیاجاتا ہے ان کو کافی علم ہوتا ہے۔ جو بھی علم ہے حضرت مسیح موعودؑ کی آمد سے پہلے تفسیر کا، حدیث کا، فقہ کا، وہ سب ان کے پاس ہے۔ ہندوستان میں بھی ایک مدرسہ قائم ہے دارالعلوم دیوبند میں۔ بڑے بڑے علماء وہاں سے نکلے۔ پھر الازھر یونیورسٹی ہے۔ جامعۃالازھر بھی ایک بہت بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ تمام ادارے اور ان میں تعلیم حاصل کرکے باہر آنے والے باوجود اس کے کہ وہ سب دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لحاظ سے بے علم اور بدقسمت ہیں کہ وہ اس زمانے کے امام کو نہیں پہچان سکے۔ آنحضرتﷺ کے ارشاد کو سمجھنے کا اُن کو فہم و ادراک حاصل نہیں ہوسکا۔ بجائے اس کے کہ علم ان کے دل و دماغ کو روشن کرتا،ان میں عاجزی پیدا کرتا، اس علم نے ان میں تکبر پیدا کیا جس کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف یہ کہ زمانے کے امام کو پہچانا نہیں بلکہ اکثریت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑی غلیظ زبان بھی استعمال کی اور اپنے آپ کو علمی لحاظ سے بہت بلند سمجھا۔ اس زمانے کے حکم اور عدل کو، آنحضرتﷺ کے روحانی فرزند کو ماننے سے انکار کیا۔ لیکن آپ لوگ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کے والدین کو آبا ؤاجداد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی۔ اور پھر اس پر یقین میں اس حد تک بڑھے کہ خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے بچوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نیک اولاد کی دعا کی تاکہ اسے اللہ کے حضور پیش کر سکیں۔ بہت سی ماؤں نے حضرت مریم علیہاالسلام کی یہ دعا کی کہ جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے، اے اللہ! اسے میں تجھے پیش کرتی ہوں۔ اور یہ بھی صرف اسی وجہ سے ہے کہ ان کو حضرت مسیح موعودؑ سے ایک سچا تعلق ہے۔ اسی لئے اُن میں اپنے بچوں کو وقفِ نو میں پیش کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور اکثر جو خط آتے ہیں وقفِ نو کی اولاد کے لئے کہ ہمارے بچوں کو وقفِ نو میں شامل کریں، اکثریت ان میں سے احمدی ماؤں کے خط ہوتے ہیں۔ تویہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس زمانہ میں کہ جب مائیں چاہتی ہیں کہ بچے ہوں اور ان کے ذریعے سے دنیاوی خواہشیں پوری ہوں۔ (احمدی مائیں) انہیں دین کی خاطر وقف کرتی ہیں۔
حضور انور نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ پس آپ خوش قسمت ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسے ماں باپ عطا کئے جو اپنے بچوں کو خدا کی راہ میں پیش کرنے کے لئے، دین کی خاطر وقف کرنے کے لئے، خوشی سے تیار ہوگئے۔ پس جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اپنے ماں باپ کے لئے بھی دعا کریں کہ

رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِی صَغِیْرًا

یعنی ان دونوں پر بھی رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی، اور میں باوجود دنیا کی چکا چوند کے، اس معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں ہر طرف غلاظتیں ہیں بلوغت کی عمر کو پہنچ کر، اس تربیت اور دعا کی وجہ سے جو میرے والدین نے کی، اے اللہ! آج میں تیرے دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس ادارے میں داخل ہو رہا ہوں۔ ہمیشہ یہ دعا کریں کہ اے اللہ ہمیشہ مجھے اپنے والدین کا بھی عہد پوراکرنے کی توفیق دے اور مجھے اپنا عہد پورا کرنے کی بھی توفیق دے اور ہر موقع پر، ہر تکلیف میں، ہر امتحان میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ہی جواب دینے والے ہوں کہ تُو مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں اور ایمان پر قائم رہنے والوں میں سے پائے گا۔ اگر آپ اس طرح اپنے عہد نبھاتے رہے تو تب ہی آپ وقف کے میدان میں کامیاب اور اللہ کا پیار حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اور اس طرح اللہ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے والے ہوںگے۔ اور ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ خود آپ کو اپنا ہاتھ رکھ کر ہر مشکل سے نکالے گا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر آپ پر ہوگی۔ لیکن ہر قربانی کے لئے تیار ہونا اور ہر قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو اس روح کو قائم رکھتے ہوئے اپنے ماں باپ کا اور اپنا عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور انور نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں جو چند سال آپ نے گزارنے ہیں (تقریباً 7 سال) ان میں ہر دن آپ میں انقلاب لانے والا دن ثابت ہونا چاہئے۔ اپنے عہد کا پاس کرنے والا دن نظر آنا چاہئے۔ آپ کے اساتذہ کو بھی، آپ کے گھر والوں کو بھی، آپ کے ماحول کو بھی اور آپ کو خود بھی اپنے اندر ہر روز ایک نئی اور پاک تبدیلی پیدا ہوتی نظر آنی چاہئے۔ آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق روز بروز بڑھنا چاہئے۔ ہمیشہ یہ ذہن میں رہے کہ میں واقفِ زندگی ہوں۔ اب میرا اپنا کچھ بھی نہیں، میری ذات اب خدا کے لئے اور خدا کے مسیح کی جماعت کے لئے ہے۔ جامعہ کے ان سالوںمیں مکمل طور پر پڑھائی کی طرف توجہ دیں۔ بعض مضمون آپ کو مشکل لگیں گے۔ دعا کے ساتھ محنت کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں ان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چھوٹی موٹی تکلیفوں اور بیماریوں کی کبھی پرواہ نہ کریں، وہ تو آتی رہتی ہیں۔ بعض بچے بڑے نازک ہوتے ہیں، ذرا سی بھی سردرد ہوئی تو لیٹ جاتے ہیں۔ تو اپنے آپ کو سخت جانی کی عادت ڈالیں، ایک ایک لمحہ آپ کا قیمتی ہے۔ رات کو سوتے ہوئے اپنا جائزہ لینے کی عادت ڈالیں کہ دن کے دوران کوئی لمحہ بھی ایسا تو نہیں جو میں نے ضائع کیا ہو۔ جب آپ اسی طرح اپنا جائزہ لے رہے ہونگے تو ابھی سے آپ کو اپنے وقت کی قدر کا احساس بھی پیدا ہوجائے گا، وقت کے صحیح استعمال کی عادت بھی پڑ جائے گی۔ جب یہاں سے فارغ ہوں گے، مربی بن کر، مبلغ بن کر نکلیں گے تو اپنی زندگی ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ دین کی خاطر گزارنے والے ہوں گے۔ اور جب اس طرح وقت گزاریں گے تو تبھی آپ اپنے عہد کو پورا کرنے والے کہلا سکیں گے۔
حضور انور نے طلبہ کو روزمرہ کے پروگرام کے حوالہ سے بھی اہم نصائح فرمائیں۔ چنانچہ فرمایا کہ ایک بات اَور یاد رکھیں کہ یہاں جو بھی کلاسوں میں پڑھیںجامعہ کے وقت کے بعد اُس کی دُہرائی ضرور کریں۔ جب اپنے کمروں میں جائیں جو روز پڑھا ہو، روز کا روز دُہرا لیا کریں تاکہ جو بھی پڑھا ہے وہ آپ کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ اس کے علاوہ بعض آپ میں سے ایسے بھی ہوں گے جن کو اُردو پڑھنی نہیں آتی تو جب تک اُردو پڑھنی نہیں آتی اُس وقت تک حضرت مسیح موعود ؑ کی کوئی بھی کتاب جس کا انگلش میں ترجمہ ہوچکا ہو کیونکہ انگلش تو تقریباً ساروں کو آتی ہے، اُس کو پڑھیں یا بعض حصوں کے ترجمے ہوچکے ہیں اُن کو روزانہ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ پھر اُس کو سمجھنے کی عادت ڈالیں اور یاد رکھیں کہ ہر صورت میں آپ نے زائد مطالعہ کرنا ہے۔ (یعنی) جو جامعہ کا پڑھنا ہے اُس کی دہرائی کرنی ہے اور اُس کے علاوہ زائد مطالعہ بھی کرنا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت روزانہ کرنا آپ کی تعلیم کا حصہ ہے اور پابندی ہوگی ہوسٹل میں رہنے والوں کے لئے کہ نماز کے بعد تلاوت کیا کریں۔ لیکن اس کی تلاوت اوراس کو سمجھنا اس لئے بھی اپنے اوپر لازم کرلیں کہ ہم نے اپنی زندگی پر اس تعلیم کو لاگو کرنا ہے۔ اس پر عمل کرنا ہے۔ اُن علماء کی طرح نہیں ہونا جو دوسروں کے لئے تو علم سیکھ لیتے ہیں لیکن اپنے پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہیں ہوتی۔ جب وقت آئے تو سو بہانے تراشتے ہیں۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزانہ اخبار کا مطالعہ بھی ہونا چاہیے۔ دوسرے رسالوں کا مطالعہ بھی ہونا چاہئے۔ پھر کھیلیں ہیں اُس میں بھی آپ کو ضرور حصہ لینا چاہئے۔ اس بات کو اپنے پر فرض کرلیں کہ سوائے ان چھ سات گھنٹے کے جو آپ نے سونا ہے، باقی وقت بالکل مصروف رہنا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ آپ کو اس جامعہ کا ابتدائی طالب علم بننے کا موقعہ مل رہا ہے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور ایک ذمہ داری بھی ہے۔ طلباء کا بھی اپنا ایک مزاج ہوتا ہے جو پھر اُس ادارے کا مزاج بن جاتا ہے اور پھر آئندہ آنے والے بھی عموماً اُسی پر چلتے ہیں۔ اگر پہلے طلباء اچھے ہوں تو انتظامیہ کو بعد کے طلباء پر بھی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور طلباء کے اچھے ہونے کی وجہ سے ہی ادارہ مشہور ہوتا ہے۔ بعض دفعہ اچھی لاٹ آجاتی ہے طلباء کی، وہ کالج اُن کی وجہ سے بڑا مشہور ہوجاتا ہے حالانکہ پروفیسر یا ٹیچر یا پڑھانے والے اُسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ لوگوں نے خود بھی خاص طور پر توجہ سے اچھا بننا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جامعہ احمدیہ کا اپنا ایک تقدس بھی ہے۔ اگر آپ اُس پر پورا نہیں اتریں گے تو ہوسکتا ہے کہ انتظامیہ ایسے طلباء کے خلاف کوئی کارروائی بھی کرے جو اس تقدس اور معیار کا خیال نہیں رکھ رہے کیونکہ بُری مثالیں تو بہرحال اس ادارہ میں قائم نہیں کرنی۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو جماعت احمدیہ کا خالص دینی تعلیم سکھانے والاادارہ ہے۔ خالص وہ لوگ یہاں داخل ہونگے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔ تو اس لحاظ سے بہرحال پھر انتظامیہ کو دیکھنا بھی پڑتا ہے۔ لیکن آپ لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ جو طلباء آئے ہیں، ہر لحاظ سے اعلیٰ مثالیں قائم کرلیں تو جامعہ کی تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہمیشہ آپ کو اس نام سے یاد کیا جائے گا کہ یہ ایسے طلباء تھے جن سے بعد میں آنے والوں نے بھی راہنمائی حاصل کی۔ کیونکہ لمبی کلاسیں چلنی ہیں، ہر سال داخلے ہوں گے تو ظاہر ہے وہ آپ کے نمونے بھی دیکھ رہے ہوں گے۔
آخر میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے، نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے اور اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیشہ آپ کو اس بات پر فخر رہے اور یہ فخر عاجزی میں بڑھائے کہ ہم خدا کے مسیح کی فوج کے سپاہی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو تمام دنیا میں گاڑنا ہے۔ انشاء اللہ۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/t2toL]

اپنا تبصرہ بھیجیں