سلطنتِ متحدہ برطانیہ اور اس کی دلچسپ تاریخ

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2013ء)

سلطنتِ متحدہ برطانیہ اور اس کی دلچسپ تاریخ
فرخ سلطان محمود

یورپ کا سب سے بڑا جزیرہ برطانیہ ہے جو دو بڑے حصوں یعنی برطانیہ عُظمیٰ(انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز) اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ متعدد چھوٹے چھوٹے آباد اور غیر آباد جزائر پر مشتمل ہے جن کی مجموعی تعداد چھ ہزارسے زیادہ ہے۔ یورپ میں برطانیہ کا قریب ترین ہمسایہ فرانس ہے اور ان دونوں ممالک کا درمیانی سمندر رُود بار انگلستان (English Channel) کہلاتا ہے۔ 1875ء میں تیراکی کے ایک ماہر Captain Webb نے اس سمندر کو پہلی بار کامیابی کے ساتھ تیر کر عبور کیا تھا۔ 1993ء میں رُودبار انگلستان کے نیچے سے ایک سرنگ Channel Tunnel نکال کر فرانس اور انگلستان کو ریل کے ذریعہ بھی آپس میں ملا دیا گیا۔
برطانیہ کا تاریخی پس منظر یوں ہے کہ چھٹی صدی قبل مسیح سے کچھ عرصہ پہلے وسطی یورپ کے کچھ قبائل جو کیلٹس (Celts) یاجنہیں کبھی کبھی سَیلٹس بھی کہا جاتا ہے برطانیہ میں آکر آباد ہوئے۔ خیال کیاجاتا ہے کہ یہی قبائل اس جزیرہ کے ابتدائی آباد کار ہیں۔ سن 54 قبل مسیحؑ سلطنت روم کے مشہور جرنیل جُولیس سیزر (Julius Caesar) کی مہمات نے برطانیہ پر رومن تسلّط کے لئے راہ ہموار کی لیکن رومنوں کی پوری توجہ اس طرف کو ئی ایک سو سال کے بعد رومن شہنشاہ کلاڈیس (Claudius) کے زمانہ میں ہوئی جب انہوں نے برطانیہ کو سلطنتِ روم کا ایک صوبہ بنانے کی کوشش کی۔ پہلی صدی عیسوی سے لے کر پانچویں صدی عیسوی تک بر طانیہ کا وہ حصہ جو انگلستان کہلاتا ہے رومنوں کے زیرِ نگیں رہا۔ جزیرہ کے شمالی علاقہ کے جنگجو قبائل کے حملوں سے بچنے کے لئے رومنوں نے 120 کلومیٹر لمبی ایک بہت مضبوط دیوار تعمیر کی جِسے اُس وقت کے رومن شہنشاہ ہیڈریان (Hadrian) کے نام کی مناسبت سے دیوارِ ہیڈریان (Hadrian’s wall) کہا جاتا ہے۔ ہیڈریان نے 122ء میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا اور اُسی کے حکم سے یہ دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ اس دیوار کے آثار ابھی تک موجو د ہیں۔ اِس دیوار کی تعمیر کے ساتھ جزیرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جنوبی حصہ انگلستان رومن تسلط میں تھا اور برطانیہ (Britannia) کہلاتا تھااب اس دیوار تک محدود ہوگیا، اور دیوار کے دوسری طرف شمالی حصہ جو سکاٹ لینڈ کہلاتا ہے کیلیڈونیہ (Caledonia) کے نام سے نمایاں طور پر الگ ہوگیا۔ برطانیہ پر آٹھ رومن شہنشاہوں نے قریباً چار سو سال تک حکومت کی، اس کے بعد متعدد مشکلات کی بِنا پر رومن برطانیہ کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ اُن کے چلے جانے کے بعد سکنڈے نیویا کے اینگلو سیکسن (Anglo-Saxons) اور جیوٹز (Jutes) قبائل نے برطانیہ پر حملہ کرکے جلد ہی اپنی مضبوط حکومت قائم کرلی۔
گیارھویں صدی عیسوی میں ڈنمارک کے وائکنگ (Viking) قبائل نے جو اپنے لمبے لمبے بحری جہازوں کے ساتھ سمندری جنگوں اور لُوٹ مار میں مہارت رکھتے تھے حملہ کرکے انگلستان کے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ 1016ء میں ان کا ایک مشہور سردارنُوٹ (Cnut) جسے کینیوٹ (Canute) بھی کہتے ہیں انگلستان کا بادشاہ بن گیا۔ اُس کے بعد اس نے 1019ء میں ڈنمارک اور 1028ء میں ناروے بھی فتح کر لیا اور عظیم ڈینش سلطنت کی بنیاد رکھی۔ برسراقتدار آنے کے بعد اُس نے ایک عہد کیا تھا جو اُس کے مذہبی عقیدہ پر روشنی ڈالتا ہے اور وہ یہ تھا کہ ’’وہ اوراُس کے ساتھی ایک خدا کی تعظیم کریں گے اور اُس سے محبت رکھیں گے اور ثابت قدمی کے ساتھ ایک ہی عیسائی دین کو پکڑے رکھیں گے اور مستعدی کے ساتھ جاہلانہ طور طریقوں سے اجتناب کریں گے‘‘۔
شاہ کینیوٹ (Canute) 12 نومبر 1035ء کو چالیس سال کی عمر میں وفات پاگیا۔ جزیرہ کے شمالی حصہ یعنی سکاٹ لینڈ میں اسوقت میلکم دوئم (Malcum II) کی حکومت تھی۔
1066ء میں ولیم ڈیوک آف نارمنڈی نے جو بعد میں ’’ فاتح ولیم‘‘ (William the Conqueror) کے نام سے مشہور ہوا، نارمن لشکر کی مدد سے انگلستان پر حملہ کر دیا اور اسے فتح کر لیا۔ ولیم جب انگلستان کے ساحل پر اُترا تو نرم ریت پر پاؤں پڑنے کی وجہ سے اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کے سہارے آگے کی طر ف گرگیا۔ یہ واقعہ اُس کے لئے نیز اس کے لشکر کے لئے اچھا شگون نہیں تھا کیونکہ اس کی وجہ سے لشکر کے اندر بد دلی کی کیفیت پیدا ہوسکتی تھی۔ اس نازک موقعہ پر اُ س نے اپنے حواس قائم رکھے اور جب وہ اُٹھا تو اس کے ہاتھوں کی مُٹھیوں میں ریت پکڑی ہوئی تھی۔ اُس نے اپنی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا ’’ دیکھوـ! انگلستان کی زمین میرے ہاتھوں میں ہے‘‘۔
1215ء میں انگلستان کے بادشاہ JHON کے زمانہ میں برطانیہ میں پارلیمانی حکومت کی بنیاد پڑی۔ بادشاہ کو اپنے امراء کی جانب سے بغاوت کے خطرہ کے پیشِ نظر مجبوراً 15؍جون کو تریسٹھ شِقوں پر مشتمل ایک اہم دستاویز پر دستخط کرنے پڑے جِسے برطانوی تاریخ میں Magna Carta یا Great Charter کہاجاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بادشاہ پر قانون کی بالا دستی قائم ہوئی اور خاص طور پر لگان، مذہب، انصاف اور غیر ملکی حکمت عملی کے معاملات میں بادشاہ کے اختیارات بہت محدود ہوگئے۔ اس موقع پر بادشاہ نے پوپ سے اس دستاویز کے خلاف اپنے حق میں فرمان بھی حاصل کر لیا لیکن پھر بھی اُسے کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس کے جلد بعد 18؍اکتوبر 1216ء کو 48 سال کی عمر میں بادشاہ بوجہ علالت انتقال کر گیا جِس کے بعد اُس کا نو سالہ بیٹا ہنری سوئم کے نام سے اِنگلستان کے تخت پر بیٹھا۔ ہنری سوئم کی بہن کی شادی سکاٹ لینڈ کے بادشاہ Alexander II سے 1221ء میں ہوئی۔
1422ء میں ہنری پنجم کا اکلوتا بیٹا ہنری ششم شاہ انگلستان اور ویلز کی حیثیت سے تخت نشین ہوا۔ وہ مذہب سے بہت لگاؤ رکھتا تھا نیز تعلیم کو فروغ دینے اور عمارات بنانے کا بہت دلدادہ تھا۔ اُس نے Eton College اور کیمبرج کے مشہور کنگز کالج کی بنیاد رکھی۔ اُسی کے زمانے میں 1453ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان صد سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا اور انگریز وں کو فرانس سے نکلنا پڑا۔ اس سے پہلے فرانس کی ایک سترہ سالہ دیہاتی لڑکی ’’ جون آف آرک‘‘ (Joan of Arc) نے انگریزی فوج کے خلاف جِس نے فرانس کے شہر Orleans کا محاصرہ کیا ہواتھا، فرانسیسی فوج کی رہنمائی کی اور 8؍ مئی 1429ء کو چار ہزار کے ایک لشکر کے ساتھ انگریزی فوج کو شکست دے کر شہر کو آزاد کروایا۔ 1431ء میں جَون آف آرک انگریزوں کے ہاتھ آگئی اور انہوں نے اُسے چڑیل قرار دے کر زندہ جلادیا۔
1509ء میں ہنری ہفتم کا اٹھارہ سالہ بیٹا ہنری ہشتم انگلستان کا بادشاہ بنا۔ اُس کے 38 سالہ دور حکومت میں بعض اہم تاریخی انقلاب ظہور میں آئے جِن میں سے ایک اصلاحِ کلیساء روم کی تحریک ہے جِس کے نتیجے میں پروٹسٹنٹ فرقہ ظہور میں آیا۔ اس تحریک کا بانی جرمنی کا ایک راہب مارٹن لُوتھر (Martin Luther) تھا جس نے1510ء میں روم کا دورہ کرنے کے بعد رومن کیتھو لک عقیدے سے انحراف اختیار کر لیا اور کیتھو لک چرچ کے خلاف مہم شروع کر دی۔ 1520ء میں اُس نے اپنے عقیدے کے 95 اصول مرتب کرکے پروٹسٹنٹ فرقہ کی بنیاد رکھی۔ 1521ء میں اُسے کلیسا ء روم سے خارج کر دیا گیا۔ ہنری ہشتم نے ایک رومن کیتھولک کی حیثیت سے مارٹِن لُو تھر کی تعلیمات کے ردّ میں ’’The Assertion of seven sacraments‘‘ نامی ایک کتاب لکھی جِس سے خوش ہوکر پاپائے روم نے اُسے Defender of Faith کا خطاب دیا۔ یہ خطاب آج تک برطانیہ کے شاہی حکمران کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مارٹِن لُوتھر کی کتب کسی نہ کسی طرح برطانیہ پہنچنی شروع ہوگئیں جِس کی وجہ سے لوگوں میں ہیجان پیدا ہوگیا۔ 12؍مئی 1521ء کو سینٹ پال چرچ کے صحن میں تیس ہزار افراد کی موجودگی میں لُوتھر کی کتب جلائی گئیں۔ 29؍فروری 1528ء کو سکاٹ لینڈ میں ایک 24 سالہ شخص Patrick Hamilton جس نے پروٹسٹنٹ فرقے میں شمولیت اختیار کرلی تھی زندہ آگ میں جلا دیا گیا۔ 1534ء میں لُوتھر کی تمام تصانیف کا مجموعہ ایک ہی جِلد میں شائع ہوا۔ اس کی ایک کتاب Table Talk بہت مشہور ہوئی۔
دوسرا اہم تاریخی انقلاب کلیساء روم کے بالمقابل چرچ آف انگلینڈ کا قیام ہے۔ ہنری ہشتم اپنی پہلی بیوی کیتھرین آف ایرا گان (Catherine of Aragon) کو طلاق دینا چاہتا تھا لیکن پاپائے روم کی جانب سے اس کو اجازت نہ ملی۔ چنانچہ 1531ء میں ہنری نے اپنے آپ کوSole Protector and Supreme Head of English Church and Clergy. قرار دے دیا۔ 1533ء میں اُس نے اپنی بیوی کیتھرین کو طلاق دے کر دوسری عورت Anne Boleyn سے شادی کرلی جس کے نتیجے میں پوپ نے اُسے رومن کیتھولک چرچ سے خارج کردیا۔ نومبر 1534ء میں پارلیمنٹ نے ’’Act of Supremacy‘‘ منظور کیا جس کی رو سے ہنری کو چرچ آف انگلینڈ کا سربراہ اعلیٰ قرا ر دے دیا گیا۔اس کے نتیجہ میں Archbishop of Canterbury کا تقرر بھی ہنری کے اختیار میں آگیا جو انگلستا ن میں چرچ کے امور کو سرانجام دینے کے لئے پوپ کی جانب سے نمائندہ اور سربراہ تھا۔ اس طرح چرچ آف انگلینڈ رومن چرچ سے کٹ کر مکمل طور پر الگ ہوگیا۔ 1560ء میں سکاٹ لینڈ نے بھی رومن چرچ سے علیحدہ ہوکر پروٹسٹنٹ فرقہ میں شمولیت اختیار کر لی اور چرچ آف سکاٹ لینڈ کی بنیاد رکھی جس کا سربراہ Moderator کہلاتا ہے۔ ہنری ہشتم نے یکے بعد دیگرے چھ عورتوں سے شادیاں کیں جِن میں سے دوسری بیوی Anne Boleyn اور پانچویں بیوی Catherine Howard کو اُس نے قتل کر وادیا۔ ایک اندازہ کے مطابق اُس نے اپنے دور حکومت میں ستر ہزار افراد کو قتل کر وایا۔ بالآخر 28؍جنوری 1547ء کو پچپن سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
1553ء میں ہنری ہشتم کی بیٹی Mary جو اس کی پہلی مطلقہ بیوی کیتھرین کے بطن سے تھی Mary I کے نام سے تخت نشین ہوئی۔ یہ بِلااختلاف انگلستان کی پہلی خاتون حکمران تھی۔ میری کٹّر رومن کیتھولک تھی اس لئے اُس کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی کلیساء روم کا تسلّط دوبارہ انگلستان میں قائم ہوگیا۔ اپنے پانچ سالہ مختصر دور حکومت میں اُس نے پروٹسٹنٹ عقیدہ رکھنے والے تین سو افراد کو زندہ آگ میں جلا دیا۔ ان مظالم کی وجہ سے تاریخ میں اُسے خونی میری (Bloody Mary) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
1557ء میں ہنری ہشتم اور اس کی دوسری بیوی مقتولہ این بولین کی بیٹی الزبتھ اوّل انگلستان کی ملکہ بنی۔ یہ پروٹسٹنٹ عقیدے کی پیروکار تھی اس لئے اس کے برسر اقتدار آنے پر پاپائے روم کا اقتدار انگلستان سے پھر رخصت ہو گیا۔ اس کے پینتالیس سالہ دورِ حکومت میں انگلستان ایک ممتاز یورپی طاقت کی حیثیت سے اُبھرا۔ سکاٹ لینڈ میں ان دنوں Mary Stuart جو Mary queen of Scotland کے نام سے مشہور ہے حکومت کر رہی تھی۔ میری رِشتہ میں الزبتھ کی بھتیجی لگتی تھی اور اپنے خیال کے مطابق انگلستان کے تخت کی بھی حقدار تھی۔ عقیدہ کے لحاظ سے وہ رومن کیتھولک تھی لیکن اُس کے مشیر پروٹسٹنٹ تھے۔ متعدد وجوہات کی بنا پر اُسے اپنے بیٹے جیمز ششم کے حق میں دست بردار ہونا پڑا اور وہ بھاگ کر انگلستان چلی گئی۔ ملکہ الزبتھ کی نظر میں وہ پہلے ہی کھٹکتی تھی اس لئے گرفتار ہوئی اور قید خانے میں ڈال دی گئی۔ انگلستان کے رومن کیتھولک حلقوں نے ایک سازش کے ماتحت اسے انگلستان کے تخت پر بٹھانا چاہا لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ چنانچہ 8؍فروری 1587ء کو پارلیمنٹ کے دباؤ کے نتیجے میں الزبتھ کے حکم سے قتل کر دی گئی۔ لندن کے ’’میڈم تساؤ‘‘ کے مومی عجائب گھر میں اُس کے قتل کا بھیانک منظر دکھایا گیا ہے۔ 24؍مارچ 1603ء کو الزبتھ انتقال کر گئی، اُس نے ساری عمر شادی نہیں کی تھی اس لئے اُس کی وفات کے ساتھ انگلستان کے ٹیوڈر خاندان (Tudor Dynesty) کا عہد ختم ہوگیا۔
اس کے بعد ’’میری کوئین آف سکاٹ لینڈ‘‘ کا بیٹا جیمز ششم جو سٹواَرٹ (Stuart) خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور سکاٹ لینڈ کا بادشاہ تھا، الزبتھ اوّل کی وصیت کے مطابق ’’ انگلستان کے جیمز اوّل‘‘ (James I of England) کے نام سے انگلستان کا بادشاہ بھی قرار پایا۔ اُس نے اپنا پایۂ تخت ایڈ نبرا سے لندن منتقل کر لیا۔ اور 20؍ اکتوبر 1604ء کو اپنے لئے ’’شاہِ برطانیہ عظمیٰ ،فرانس و آئرلینڈ‘‘ کا لقب اختیار کیا۔ اسی بادشاہ کی خواہش اور ایما پر بائبل کا مشہور انگریزی ترجمہ شائع ہوا جو King James Version کہلاتا ہے۔ بادشاہ کی یہ بھی خواہش تھی کہ انگلستان اور سکاٹ لینڈ آپس میں متحد ہو جائیں اور اس غرض کے حصول کے لئے اُس نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط سیاسی اتحاد کی تجویز بھی پیش کی لیکن دونوں ممالک کے باشندوں نے اسے پسند نہ کیا۔ خاندان سٹواَرٹ (Stuart Dynesty) کا زمانہ 1704ء تک رہا جس کے بعد 1707ء میں حالات نے پلٹا کھایا اور سیاسی لحاظ سے ایسی صورت پیدا ہوگئی کہ ان دونوں ممالک کے درمیان اتحاد ناگزیر ہو گیا۔ چونکہ سکاٹ لینڈ کا جیمز ششم (James VI) انگلستان اور ویلز کا بادشاہ بھی تھااس لئے ابتداء میں اُسی نے پورے جزیرے کے لئے برطانیہ عظمٰی (Great Britain) کی اصطلاح استعمال کی لیکن سرکاری طورپر جزیرے کو United Kingdom of Great Britainکانام اُس وقت دیا گیا جب یکم مئی 1707ء کو کو انگلستان اور سکاٹ لینڈ کا سیاسی اتحاد معرض وجود میں آیا۔ اس اتحاد کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کی الگ الگ پارلیمنٹوں کی بجائے ایک متحدہ پارلیمنٹ وجود میں آگئی جِس کے اجلاس لندن (ویسٹ منسٹر) میں ہونے لگے۔ نیز دونوں ملکوں کے جھنڈوں کو یکجا کر کے ایک جھنڈا یونین فلیگ جِسے یونین جیک بھی کہتے ہیںروشناس کر وایا گیا۔ یہ صورتحال تین سو سال تک جاری رہی جِس کے بعد یکم جولائی 1999ء کو سکاٹ لینڈ کے باشندوں کی رائے کے احترام میں سکاٹ لینڈ کی علیحدہ پارلیمنٹ کا قیام منظور کر لیا گیا اور اس کے اجلاس پہلے کی طرح پھر سکاٹ لینڈ کے صدر مقام ایڈ نبرا میں ہونے لگے لیکن بنیادی امور میں اتحاد بد ستور جاری رہا اور متحدہ جھنڈے یعنی یونین فلیگ میں بھی کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔
Wales اس سے بہت پہلے 1284ء میں انگلستان کی عملداری میں آچکا تھا جِس کی وجہ سے ان دو ممالک کے درمیان سیاسی وجوہا ت کی بنا پر اتحاد کی صورت پیدا ہوگئی تھی جو آہستہ آہستہ مستحکم ہوتی گئی یہاں تک کہ1536ء میں ان کے مابین ایک ایسا مضبوط تر سیاسی جوڑ عمل میں آیا کہ دو الگ الگ ملک ہونے کے باوجود انگلینڈ اینڈ ویلز کے نام سے گویا ایک ہی نام کی مملکت بن گئی۔ ویلز جب علیحدہ تھا تو وہاں کا حاکم اعلیٰ پرنس آف ویلز کہلاتا تھا لیکن دونوں ممالک کے یکجا ہونے کے بعد یہ نشان انگلستان کے شاہی خاندان کے ولی عہد شہزادہ کے لئے مختص ہو گیا اور تب سے یہ امتیازی نشان بدستور انگلستان کے ولی عہد شہزادہ کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے۔ ویلز کا صدر مقام Cardiff ہے۔
یکم جنوری 1801ء کو برطانیہ عظمٰی اور ہمسایہ ملک آئرلینڈ کے درمیان بھی ایک سیاسی اتحاد عمل میں آیاجِس کے نتیجہ میں سلطنت متحدہ برطانیہ عظمٰی کے نام کے ساتھ آئرلینڈ کا نام بھی شامل کر دیا گیااور مجموعی طور پر سلطنت کا نام یونائٹڈ کنگڈم آف گریٹ برِٹن اینڈ آئرلینڈ قرار پایا اور یونین فلیگ کے اندر آئرلینڈ کا جھنڈا بھی شامل کر لیا گیا۔ 1921ء میں جنوبی آئرلینڈاس اتحاد سے الگ ہو گیااور جمہوریہ آئرلینڈ کے نام سے اپنی الگ حکومت قائم کر لی لیکن آئرلینڈ کا شمالی علاقہ بدستور برطانوی سلطنت میں شامل رہاجِس کا صدر مقام Belfast قرار دیا گیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ سلطنت کے نام میں بھی تبدیلی واقع ہو گئی لہٰذا اب سلطنت کا نام یونائٹڈ کِنگڈم آف گریٹ برِٹن اینڈناردرن آئر لینڈرکھا گیا۔ جو آج تک زیر استعمال ہے۔ یونین فلیگ میں اس تبدیلی کی وجہ سے کوئی ردّوبدل نہیں کیا گیا۔
اٹھارویں صدی میں ہندوستان اور کینیڈا میں بھی برطانیہ نے اپنا تسلط جمالیا لیکن ریاستہائے متحدہ امریکہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ 1837ء سے 1901ء تک ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں برطانیہ نے صنعت و حرفت اور تجارت میں بے پناہ ترقی کی اور دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت بن گیا۔ 1914ء سے 1918ء میں پہلی جنگ عظیم ہوئی جس میں برطانیہ کو فتح ہوئی لیکن ان کی اقتصادی حالت تباہ ہوگئی۔ 1939ء سے 1945ء کی جنگِ عظیم دوئم میں برطانیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مِل کر جرمنی کو شکست دی، جرمن فضائیہ نے آدھے لندن کو تباہ کر دیا۔ اس جنگ میں برطانیہ فتحیاب ہوا لیکن اقتصادی لحاظ سے اس کی کمر ٹوٹ گئی۔ مزید برآں ایشیائی اور افریقی مقبوضات اس کے ہاتھوں سے نکلنے لگے،جن میں ہندوستان بھی شامل تھا جِس پر برطانیہ کا بالواسطہ راج اگست 1947ء میں ختم ہوا جبکہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور دو آزاد ملک بھارت اور پاکستان وجود میں آئے۔
6 ؍جون 1952ء کو جارج ششم کے انتقال پر اس کی پچیس سالہ بیٹی الزبتھ “Elizabeth the second”, “Head of the Common wealth” اور , “Defender of Faith.”کے القاب کے ساتھ تخت نشین ہوئی۔ ملکہ کے فرائض میں پارلیمنٹ کا افتتاح اور برطانوی فوج کے کمانڈرکی حیثیت سے سالانہ نمائشی تقریب ’’ ٹروپنگ آف دی کلر‘‘ (Trooping of the Colour) کا معائنہ بھی شامل ہے، نیز اُسے مجرمین کو معاف کر دینے، حکومت کے وزراء اور ججوںکے تقرر اور چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کی حیثیت سے بشپ مقرر کرنے کے اختیارا ت حاصل ہیں ، تاہم یہ سارے امور حکومت کے ساتھ مشوروں کے بعد طے پاتے ہیں۔ وزیراعظم ہفتے میں ایک بار ملکہ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوتاہے جہاں ملکہ اُسے حکومت کے معاملات کے بارہ میں مشورے دیتی ہے جو شائد ہی کبھی نظر انداز کئے جاتے ہوں۔
ملکہ معظمہ کے عہد کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر جوبلی گزشتہ سال منائی گئی ہے۔ اس عہد میں جو اہم واقعات رونما ہوئے اُن میں کئی ممالک کی آزادی بھی شامل ہے۔ چنانچہ 6؍مارچ 1957ء کو غانا (سابق گولڈ کوسٹ) ، 30 ؍ستمبر 1960ء کو نائیجریااور 16؍اگست 1960ء کو سائپرس (Cyprus) آزاد ہوئے۔ 18؍اپریل 1980ء کو افریقہ میں برطانیہ کی آخری نو آبادی رہوڈیشیا اپنے نئے نام زمبابوے کے ساتھ برطانوی تسلّط سے آزاد ہوئی۔
4؍ مئی 1979ء کو برطانوی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون مارگریٹ تھیچر (Margaret Thatcher) ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔
25؍مارچ 1957ء کو یورپ کے چھ ممالک فرانس، مغربی جرمنی، اٹلی، بیلجیم، ہالینڈ اور لکسمبرگ نے روم میں ایک معاہدہ پر دستخط کر کے E.E.C. یعنی ’’یورپین اکنا مک کمیونٹی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یکم جنوری 1973ء کو برطانیہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کرلی مگربرطانوی عوام کا ایک بڑا حصہ اس شمولیت کے خلاف ہوگیا، چنانچہ حکومت نے عوام سے براہ راست رائے حاصل کرنے کے لئے برطانوی تاریخ کا پہلا ریفرنڈم 6؍جون 1975ء کو منعقد ہوا جِس کے نتیجے میں 67.2 فیصد افراد نے شمولیت کے حق میں رائے دی۔ چنانچہ E.E.C. میں جِسے ’’ کامن مارکیٹ‘‘ بھی کہتے ہیں برطانیہ کی شمولیت قائم رہی۔
برطانیہ کی زمین نہایت زرخیز ہے مگر ملکی معیشت کا دارومدار صنعت پر ہے جس میں ملک کی تیس فیصد آبادی مصروف کا رہے۔ برآمدات میں صنعتی مشینیں، کیمیاوی اشیائ، آلات حرب، موٹر کاریں اور ٹرک شامل ہیں۔ نیز خام تیل ( جو 3 نومبر 1975ء سے سکاٹ لینڈ سے ملحق شمالی سمندر سے نکالا جاتا ہے)۔ توانائی میں ملک خود کفیل ہے۔ کوئلے سے حاصل شدہ ایندھن ملک کی پچانوے فیصد ضروریات کے لئے کافی ہے جس کی وجہ سے ملک نے صنعت و حرفت میں بڑی ترقی کی ہے۔ لوہا بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ ڈارلنگٹن ، مڈ لزبرو، برمنگھم اور شیفیلڈ میں لوہے کے بڑے بڑے کارخانے ہیں۔ مانچسٹر کپڑے کا مرکز ہے۔ گلاسگو بحری جہاز سازی کے فن میں بہت شہرت رکھتا ہے۔ زراعت میں اگرچہ ملک کے صرف دو فیصد افراد کام کرتے ہیں لیکن جتنی خوراک وہ مہیا کرتے ہیں وہ ملک کی پچاس فیصد آبادی کی ضروریات کو پورا کردیتی ہے۔
2001ء کی مردم شماری کے مطابق برطانیہ کی آبادی قریباً 5 کروڑ 88 لاکھ تھی۔ جس میں انگلستان میں قریباً پانچ کروڑ، سکاٹ لینڈ میں 50لاکھ، ویلز میں 30 لاکھ اور آئرلینڈ کی آبادی قریباً 17 لاکھ ہے۔ کُل آبادی میں عیسائی 71.6 فیصد، مسلمان 2.7 فیصد، ہندو ایک فیصد، سکھ 0.6 فیصد، یہودی 0.5 فیصد اور بدھ 0.3 فیصد تھی۔ جبکہ قریباً 23 فیصد لوگ یعنی قریباً ایک کروڑ 36 لاکھ سے زائد افراد کسی بھی مذہب سے منسلک نہیں تھے۔ برطانوی دارالحکومت لندن آبادی کے لحاظ سے پورے سکاٹ لینڈ سے بھی بڑا ہے۔ اس کی آبادی قریباً 72 لاکھ ہے۔ یہاں کا ایک عجوبہ زمین دوز ریلیں ہیں جو بعض مقامات پر 64.6 میٹر یعنی قریباً 221 فُٹ کی گہرائی تک چلی جاتی ہیں۔
برطانیہ کا کل رقبہ 24 ہزار 410 مربع کلومیٹر یا 94 ہزار 247 مربع میل پر مشتمل ہے۔ برطانیہ میں قابلِ ذکر چار زبانیں بولی جاتی ہیں جِن میں انگریزی (English) وَیلش (Welsh) ، گیلگ (Gaelic) اور آئرش (Irish) شامل ہیں۔ انگریزی ملک کی سرکاری زبان ہے۔ ویلز کی زبان وَیلش کو ویلز میں انگریزی کے ساتھ ہی سرکاری درجہ حاصل ہے۔ سکاٹ لینڈ کی زبان گیلک ہے اور شمائلی آئر لینڈ کی ’’آئرش‘‘ کہلاتی ہے۔ گیلِک اور آئرش دونوں زبانیں ایک دوسری سے اِس قدر مِلتی جُلتی ہیں کہ گیلِک جاننے والا آئرش زبان اور آئرش جاننے والا گیلِک زبان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔
برطانوی سکّہ پاؤنڈ سٹرلنگ (Pound Sterling) ہے جو مرکزی بنک ’’ بنک آف انگلینڈ‘‘ جاری کرتا ہے۔ مرکزی بنک کی اجازت کے ساتھ بعض دوسرے بنک بھی اپنے نوٹ جاری کرتے ہیں۔ بنک آف انگلینڈ زیادہ سے زیادہ پچاس پاؤنڈ کے نوٹ جاری کرتا ہے لیکن بعض دوسرے بنک سو پاؤنڈ مالیت کے نوٹ بھی جاری کرتے ہیں۔ ایک ملین یعنی دس لاکھ پاؤنڈ کے نوٹ بھی چھاپے جاتے ہیں جو بنکوں کے مابین لین دین کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں