سیرت حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی سیرت پر حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے جلسہ سالانہ 1979ء کے موقع پر خطاب فرمایا جو ماہنامہ ’’خالد’’ ربوہ اپریل و مئی 1998ء کے شماروں کی زینت ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے جب پہلی بار حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو دیکھا تو آپؓ کے الفاظ میں ’’میں نے دل میں کہا، یہی مرزا ہے، اس پر میں سارا ہی قربان ہو جاؤں ‘‘۔ ایک عربی تحریر میں آپؓ نے بیان کیا ’’اے ارحم الراحمین خدا تیری حمد اور تیرا شکر اور تیرا احسان ہے کہ میں نے مہدیٔ زمان کی محبت کو اختیار کرلیا اور آپ کی صدق دل سے بیعت کی یہاں تک کہ مجھے آپؑ کی مہربانی اور لُطف و کرم نے ڈھانپ لیا اور میں دل کی گہرائیوں سے ان سے محبت کرنے لگا۔ میں نے انہیں اپنی جائیداد اور اپنے سارے اموال پر ترجیح دی بلکہ اپنی جان اپنے اہل و عیال اور والدین اور دوسرے سب عزیز و اقارب پر انہیں مقدم جانا۔‘‘
حضرت اقدسؑ کی نگاہ میں آپؓ کا مقام اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ 1907ء میں آپؓ شدید بیمار ہوگئے اور بیماری طول پکڑ گئی۔ حضورؑ روزانہ آپؓ کی عیادت فرماتے۔ ایک روز عیادت سے واپسی پر خود نسخہ تیار کر رہے تھے کہ حضرت اماں جانؓ نے آپؑ کی پریشانی کو دیکھ کر بغرض تسکین دہی کہا ’’مولوی عبدالکریم صاحب فوت ہوگئے۔ مولوی برہان الدین صاحب فوت ہوگئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مولوی صاحب کو جلد تندرستی عطا فرمائے‘‘۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا ’’یہ شخص ہزار عبدالکریم کے برابر ہے‘‘۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت چودھری صاحبؓ فرماتے ہیں کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی زیارت کا شرف ساڑھے گیارہ سال کی عمر میں 3؍ستمبر 1904ء کو لاہور میں حاصل ہوا۔ اورآپؓ اُسی وقت سے خود کو احمدی شمار کرتے تھے۔… قریباً 8 ہفتے بعد حضورؑ سیالکوٹ تشریف لائے تو دوسرے روز آپکی والدہ آپکے ہمراہ حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت سے مشرّف ہوگئیں۔ حضرت چودھری صاحبؓ کے والد اگرچہ حضورؑ کی صداقت کے قائل ہوچکے تھے لیکن بیعت نہیں کر پائے تھے۔ چنانچہ اُن کی ملاقات چند روز تک مغرب کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے ساتھ ہوتی رہی۔ حضرت مولوی صاحبؓ حضورؑ کے ہمراہ سیالکوٹ تشریف لائے تھے۔ حضرت چودھری صاحبؓ بھی اس موقع پر موجود ہوا کرتے تھے اور اس وجہ سے حضرت مولوی صاحبؓ آپؓ کو پہچاننے لگ گئے۔ تین چار روز بعد حضرت چودھری صاحبؓ کے والد محترم نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اُس موقع پر بھی حضرت چودھری صاحبؓ ہمراہ تھے۔ بیعت کے بعد آپؓ اپنے والد صاحب کے ہمراہ اکثر قادیان حاضر ہوتے اور حضرت مولوی صاحبؓ کی مجلس میں بھی حاضر ہوتے۔ جولائی 1907ء میں حضرت مولوی صاحبؓ نے آپ کے والد صاحب کو فرمایا کہ اپنے بچے کی بیعت کروادیں۔ چنانچہ 16؍ستمبر 1907ء کو حضرت چودھری صاحبؓ نے دستی بیعت کی سعادت حاصل کرلی۔ اور یہ عظیم سعادت حضرت مولوی صاحبؓ کے ارشاد پر حاصل ہوئی۔
حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے وصال کے وقت خاکسار گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم تھا۔ حضورؑ کے جسد اطہر کے ہمراہ قادیان آیا اور حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی بیعت سے مشرف ہوا۔ پھر کئی بار قادیان آتا رہا۔ اپریل 11ء میں B.A. کے امتحان سے فارغ ہوکر چندہ ہفتے حضورؓ کی مجلس میں حاضر رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اُن دنوں حضورؓ کنپٹی کے ناسور کی وجہ سے بیمار تھے۔ ہر روز پٹّی ہوتی اور پھر شاگردوں میں سے کوئی کچھ دیر کے لئے آپ کا بدن دباتے تھے۔ پہلے روز جب ظہر کی نماز پر آپؓ نے ارشاد فرمایا کہ جاؤ ، مسجد میں نماز ادا کرو تو خاکسار بھی تعمیل ارشاد کے لئے کھڑا ہوگیا جس پر آپؓ نے فرمایا میاں تم یہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرو۔ … شیخ تیمور صاحب نماز پڑھاتے۔ ایک عصر کی نماز کے وقت جب وہ موجود نہیں تھے تو حضورؓ کے ارشاد پر خاکسار نے نماز پڑھائی۔ … ایک دن پٹّی ہونے کے بعد خاکسار اکیلا ہی حاضر تھا ، خاکسار کو بدن دبانے کی مشق نہیں تھی لیکن جرأت کرکے آپؓ کی پیٹھ کی طرف بیٹھ گیا اور ڈرتے ڈرتے اناڑی ہاتھوں سے آپؓ کے دائیں بازو کو دبانا شروع کیا۔ چند لمحوں کے بعد جب خاکسار نے اندازہ کیا کہ اب سو گئے ہوں گے تو دبانا بند کردیا۔ آپؓ نے دایاں بازو اٹھا کر خاکسار کی گردن کے گرد ڈال کر خاکسار کے چہرہ کو اپنے مبارک چہرہ کے قریب کرلیا اور فرمایا میاں ہم نے آپ کے لئے بہت بہت دعائیں کی ہیں۔
جب حضرت چودھری صاحبؓ نے اپنے والد محترم کے ارشاد پر حضورؓ سے مزید تعلیم کے لئے انگلستان جانے کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا ’’استخارہ کریں …‘‘۔ اور جب آپؓ کے B.A. میں پاس ہونے کی اطلاع حضورؓ کو ملی تو بہت خوش ہوئے، ہر آنے والے سے فرماتے کہ ہم آج بہت خوش ہیں، یہ پاس ہوگئے۔ آپؓ کی انگلستان روانگی سے قبل حضورؓ نے بڑی شفقت سے دعائیں اور ہدایات دیں اور فرمایا ہمیں خط لکھتے رہنا۔ چنانچہ آپؓ کے تمام خطوط کا جواب حضورؓ اپنے دست مبارک سے تحریر فرماتے رہے۔ حضورؓ کے صاحبزادے میاں عبدالحئی صاحب نے حضرت چودھری صاحبؓ کو بتایا کہ ’’تمہارا خط ملنے کے بعد جمعہ کی تیاری کے دوران فرماتے اس کا خط دے دو۔ ہم جیب میں رکھیں گے اور اس کے لئے دعا کریں گے‘‘۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کے حکمت میں مقام کا اندازہ آپؓ کے اِس ارشاد سے ہو سکتا ہے کہ ’’میں جب مطب میں بیٹھتا ہوں اور کوئی شخص باہر سے آتا ہے اور مجھے کہتا ہے مولوی صاحب سلام تو مجھے آنکھ اٹھاکر دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، میں اُس کی آواز سے ہی پہچان جاتا ہوں کہ اُسے یہ مرض ہے‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں