سیرت محترم سیٹھ محمد یوسف صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍اکتوبر 2008ء میں مکرم انور ندیم علوی صاحب لکھتے ہیں کہ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاکسار نے 1975ء میں ضلع نوابشاہ سے وکالت کا آغاز کیا تو محترم سیٹھ صاحب کی راہنمائی میں جماعتی خدمت کا آغاز بھی کیا۔ آپ میرے محسن، مربی، اور بڑے بھائی کی طرح تھے۔ تنظیمی امور میں انہوں نے گویا انگلی پکڑ کر مجھے چلنا سکھایا۔ سکول والی تعلیم کم تھی مگر علم بہت زیادہ تھا۔ سلسلہ کے لٹریچر کا وسیع اور عمیق مطالعہ تھا، اس پر خداتعالیٰ نے آپ کو حافظہ کی دولت سے بے پناہ نوازا تھا۔ تحریر بہت خوبصورت اور جامع تھی۔ اعلیٰ درجے کا ادبی ذوق تھا۔ نامور مصنفین کی کتابیں ہمیشہ زیر مطالعہ رہتی تھیں۔ مختلف شعراء کے برمحل اشعار سے گفتگو اور تقریر کو سجادیتے۔ مزاج بڑا دھیما تھا ہمیشہ نرم لہجے میں گفتگو کرتے۔ میں نے تیس سالہ رفاقت میں آپ کو کسی سے لڑتے یا تلخ لہجے میں بات کرتے نہیں سنا۔ ناراض ہونا یا لڑنا انہیں آتا ہی نہ تھا۔ دل کشادہ اور دسترخوان وسیع تھا۔ اکرام ضیف ان کا محبو ب مشغلہ تھا۔ طبیعت کے سادہ و مسکین محترم سیٹھ محمد یوسف جماعتی امور کے لئے اپنی جیب سے بادشاہوں کی طرح خرچ کرتے اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کے گواہ میرے علاوہ کئی دوسرے احباب بھی ہیں۔
آپ اکثر رات گئے دیر تک پروگرام ترتیب دیتے رہتے کہ اگر اتنے پیسوں کا بندوبست ہوجائے تو فلاں مسجد کی توسیع ہو سکتی ہے یا فلاں سنٹر میں لجنہ کا ہال بن سکتا ہے۔ مساجد کی تعمیرمیں کشادگی اور نفاست کا خاص خیال رکھتے۔ آپ نے صدر جماعت، قائد ضلع، قائد علاقہ، نائب امیر ضلع، امیر شہر اور امیر ضلع کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ قائد علاقہ کی حیثیت سے رحمن آباد میں مرکزی اجتماع کی طرز پر بڑے بڑے اجتماعات منعقد کئے۔ اپنے رفقاء کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنے کام کا کریڈٹ بھی ساتھیوں کے کھاتہ میں ڈال دیتے۔
احمدی بھائی دور دراز علاقوں سے اپنے مسائل کے حل اور مشورہ کے لئے آپ کے پاس آتے۔ آپ بڑی خندہ پیشانی سے پہلے موسم کے مطابق ان کی تواضع کرتے۔ کھانے کا وقت ہوتا تو کھانے کا انتظام کراتے۔ مسائل بڑی توجہ سے سنتے۔ پیرانہ سالی کے باوجود جواں سالوں کی طرح متحرک تھے۔ مسئلہ حل کرنے کی مقدور بھر کوشش کرتے۔ حقیقتاً آپ کا وجود حالات کی تپتی ہوئی دوپہر میں ایک ٹھنڈے سایہ دار شجر کی مانند تھا ؎

اس بار جو ایندھن کیلئے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اُس بوڑھے شجر سے

1984ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہجرت کی وجہ سے سیٹھ صاحب بہت اداس رہتے۔ پھر جب حضورؒ کا خطبہ سیٹلائٹ کے ذریعے نوابشاہ میں دیکھنے کا موقع پیدا ہوا تو بڑے پُر جوش انداز میں دوستوں کو جمع کرتے اور تمام انتظامات کی خود نگرانی کرتے رہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/y447U]

اپنا تبصرہ بھیجیں