سیرۃ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ مارچ 2011ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ سیرۃ سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ چند روایات (مرتّبہ مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب) شامل اشاعت ہیں ۔ قبل ازیں الفضل انٹرنیشنل (19؍مارچ 2004ء، 2؍جولائی 2004ء، 4 اور 11؍فروری 2005ء، 4؍نومبر 2005ء اور 30؍اگست 2013ء کے کالم ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں اسی حوالہ سے مضامین شامل اشاعت کئے جاچکے ہیں ۔
=… حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب بوجہ بیماری مسجد تشریف نہ لے جاسکتے تھے تو اکثر مغرب اور عشاء کی نماز گھر میں باجماعت ادا فرماتے تھے اور عشاء کی نماز میں قریباً بلاناغہ سورۃ یوسف کی آیت 84 تلاوت اس قدر دردناک لہجہ میں فرماتے کہ دل بیتاب ہوجاتا تھا۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ روٹی کھاتے وقت ایک چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیتے اور اُس وقت تک کہ دانت اس کو چباسکیں اچھی طرح چباتے رہتے۔ اس دوران روٹی کا ایک اور ٹکڑا لے کر اپنے ہاتھ میں ملتے چلے جاتے اور ساتھ ہی سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے جاتے۔ آپ بمشکل ایک پھلکا کھاتے تھے۔ یہ نہیں کہ بھوکے رہ کر ایسا کرتے تھے بلکہ آہستہ آہستہ رغبت سے استغناء پیدا ہوتے ہوتے یہ عادت ہوگئی تھی۔ آپ ایک چمچہ چائے کا سالن لے لیتے تھے اور روٹی کھالیتے تھے۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام عصر کے وقت سیر کو تو چلے جاتے تھے مگر مسجد میں نہ آسکتے تھے۔ وجہ یہ کہ دل کی کمزوری کی وجہ سے دل کا دورہ ہو جاتا تھا۔ اس بیماری والا آدمی چل پھر تو سکتا ہے مگر مجمع میں بیٹھ نہیں سکتا۔
=… باوجود کہ آپؑ دنیا سے متنفّر تھے مگر سست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کا دلدادہ ہونے کے بوجود مشقّت سے نہ گھبراتے تھے۔ اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کبھی کسی سفر پر جانا پڑتا تھا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کردیتے اور آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے۔ ستّر سال سے زیادہ عمر تھی تو بھی پانچ سات میل روزانہ ہواخوری کے لئے جاتے تھے۔
باوجود بیماری کے دن رات محنت میں لگے رہتے تھے اور ایک اشتہار دیتے تو اس کا اثر دُور نہیں ہوتا تھا اور مخالفت کا جوش ابھی کم نہ ہوتا تھا کہ دوسرا دے دیتے۔ بعض لوگ کہتے کہ ایسے موقع پر اشتہار دینا طبائع پر بُرا اثر ڈالے گا مگر آپ فرمایا کرتے کہ لوہا گرم ہی کُوٹا جاسکتا ہے۔ اگر ہم یہ ذریعہ اختیار کرلیں تو کامیاب ہوسکتے ہیں ۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ایک کہانی سنائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکّل اور بھروسہ کرنا اور سچّا تقویٰ انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ خداتعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طور سے اُس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے کہ کسی خبر بھی نہیں ہوتی۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی نے کسی شخص کی دعوت کی اور اپنی طاقت کے مطابق اس کی تواضع میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ جب مہمان جانے لگا تو اُس سے معذرت کی اور کچھ مجبوریاں بتلائیں کہ اس لئے آپ کی پوری طرح خدمت نہیں کرسکا۔ یہ سن کر مہمان کہنے لگا کہ تمہارا منشاء ہے کہ مَیں تمہاری تعریف کروں اور تمہارا احسان مانوں لیکن تم مجھ سے یہ اُمید نہ رکھو بلکہ تمہیں میرا احسان ماننا چاہئے کیونکہ جب تم میرے لئے کھانا لینے اندر گئے تھے تو مَیں تمہارے کمرہ کے سامان کو دیاسلائی دکھاکر سب کچھ جلا سکتا تھا لیکن مَیں نے ایسا نہیں کیا۔ … دیکھو ایک تو انسان ایسا بھی ہوتا ہے کہ بجائے محسن کا احسان پہچانے اور اس کا شکریہ ادا کرے، یہ سمجھتا ہے کہ مَیں احسان کر رہا ہوں ۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ قصّہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے سفر پر جانے سے پہلے اپنا کچھ روپیہ قاضی کے پاس امانتاً رکھوایا۔ جب عرصہ بعد وہ واپس آیا تو قاضی کی نیت بدل گئی کیونکہ کوئی تحریر وغیرہ نہیں لی تھی اور کوئی گواہ بھی نہیں تھا۔ آخر اُس شخص نے بادشاہ کے پاس شکایت کی۔ بادشاہ کہنے لگا کہ عدالت میں تو مَیں تمہارے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ تحریر اور گواہ کوئی نہیں ۔ ہاں ایک ترکیب ہے کہ فلاں دن ہمارا جلوس نکلے گا۔ تم کہیں بھی قاضی کے پاس کھڑے ہوجانا۔ مَیں تم سے بے تکلّفی سے بات چیت کروں گا اور پوچھوں گا کہ اتنے دن کیوں نہیں آئے۔ تم کہہ دینا کہ کچھ پریشان تھا اس لئے حاضر نہیں ہوسکا۔ مَیں کہوں گا کہ اب جلدی جلدی ملنے آیا کرو وغیرہ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بادشاہ نے اُس شخص سے کچھ باتیں کیں ۔ جب قاضی نے بادشاہ کو اُس شخص سے اس طرح بے تکلّفی سے باتیں کرتے دیکھا تو بادشاہ کے آگے جاتے ہی وہ اُس شخص کے پاس پہنچا اور بولا کہ مَیں اب بوڑھا ہوگیا ہوں ۔ تم اُس دن آئے تھے ذرا کچھ اَور بتاؤ۔ اُس شخص نے پرانی نشانیاں ہی بیان کیں تو قاضی نے وہ تھیلی لاکر دے دی۔
حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی مخالفت سے کیا ڈرنا۔ بندہ کو اللہ تعالیٰ سے دوستی کرنی چاہئے۔ ترقی کی یہی راہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ میں دے دے اور جس طرف وہ لے جانا چاہے، چلتا جائے۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک نائی کو زخموں کو اچھا کرنے کا ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نسخہ معلوم تھا مگر وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنے بیٹے کو بھی وہ نسخہ نہ بتایا۔ بیٹے نے بہتیری منّتیں کیں مگر وہ یہ جواب دیتا کہ مرتے وقت بتاؤں گا۔ جب وہ مرنے سے پہلے بیمار ہوا اور حالت نازک ہوتی چلی گئی لیکن پھر بھی وہ نسخہ بیٹے کو بتانے پر آمادہ نہ ہوا اور یہی کہتا ہوا مرگیا کہ ابھی مَیں اچھا ہوجاؤں گا۔ … یہ چیز اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔ اسلام کہتا ہے کہ تم علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھو بلکہ اسے پھیلاؤ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض علم اور بعض پیشے ایسے ہیں جن میں ایک حد تک اخفاء جائز ہوتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے اخفاء جائز نہیں ہوتا۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بار منشی اروڑے خان صاحبؓ سے وعدہ کیا کہ آپؑ کبھی اُن کے پاس کپورتھلہ تشریف لائیں گے۔ ایک بار آپؑ کسی کام سے لدھیانہ تشریف لے گئے تو اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے بغیر اطلاع دیئے کپورتھلہ روانہ ہوگئے۔ منشی صاحب ایک دوکان پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ سلسلہ کے ایک شدید دشمن نے (جو اُن کے ساتھ تمسخر کیا کرتا تھا) اُن سے کہا کہ تمہارے مرزا صاحب اڈّہ پر آئے ہیں ۔ منشی صاحب کہتے تھے کہ مجھے اُس کے پرانے تمسخر کی وجہ سے خیال گزرا کہ یہ مذاق کر رہا ہے۔ اگر حضورؑ تشریف لاتے تو مجھے اطلاع نہ دیتے!۔ چنانچہ مَیں نے اُس کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا۔ لیکن ساتھ ہی خیال آیا کہیں اس نے سچی بات نہ کہی ہو چنانچہ مَیں ننگے سر اور ننگے پاؤں وہاں سے اڈّہ کی طرف بھاگا۔ مگر تھوڑی دُور جاکر مجھے پھر خیال آیا کہ اس نے مذاق ہی نہ کیا ہو چنانچہ ٹھہر گیا اور اُسے بُرابھلا کہنا شروع کیا۔ اُس نے کہا سچ کہتا ہوں آپ کے مرزا صاحب اڈّے پر پہنچ چکے ہیں … چند ایک بار اسی طرح ہوا کہ کبھی مَیں اڈّہ کی طرف بھاگتا اور کبھی رُک کر اُس کو بُرا بھلا کہنے لگتا۔ مگر پھر راستہ میں ہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لارہے ہیں اور مَیں خدا کا شکر بجا لایا۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ طبّ کے تمام اصول قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں ۔ ہو سکتا ہے مجھے اس طرح قرآن مجید پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اور ممکن ہے میرا عرفان ابھی تک اس حد تک نہ پہنچا ہو مگر بہرحال اپنا عرفان اور اپنے بڑوں کا تجربہ ملاکر مَیں کہہ سکتا ہوں کہ قرآن مجید سے باہر ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک مولوی آیا اور کہنے لگا کہ مَیں آپ کا کوئی نشان دیکھنے آیا ہوں ۔ آپؑ ہنس پڑے اور فرمایا: میاں ! تم میری کتاب ’’حقیقۃالوحی‘‘ دیکھ لو۔ تمہیں معلوم ہوگا کہ خداتعالیٰ نے میری تائید میں کس قدر نشان دکھائے ہیں ۔ تم نے ان سے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ اَور نشان دیکھنے آئے ہو۔
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ خدا کے گھر ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں ۔ جب قادیان میں مسجد اقصیٰ کے پاس ایک اونچا مکان ہندوؤں کا بننے لگا تو بعض دوستوں کو بہت بُرا محسوس ہوا اور انہوں نے کہا کہ ایسا مکان مسجد کے ساتھ نہیں بننا چاہئے جو اِس کی ترقی میں روک ہو۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مسجد خدا کے فضل سے ترقی کرے گی اوریہ مکان بھی مسجد کے ساتھ شامل ہوجائے گا۔ اس مکان کا ایک حصہ خرید لیا گیا تھا اور باقی حصہ بھی اسی ماہ میں خرید لیا گیا ہے۔ اب یہ مکان یا تو مسجد کے ساتھ شامل کرلیا جائے گا یا سلسلہ کے اَور کاموں کیلئے استعمال ہوگا۔
(ماخوذ از خطبہ جمعہ 24؍اپریل 1931ء)
=… حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اپنے وصال سے قبل لاہور گئے ہیں تو ایک دن مجھے فرمایا: محمود! دیکھو یہ دھوپ کیسی زرد سی معلوم ہوتی ہے۔
چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا اس لئے مَیں نے کہا نہیں اُسی طرح کی ہے جس طرح ہر روز ہؤا کرتی ہے۔ آپؑ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے، قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔
چونکہ آپؑ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپؑ کی محبت اور الفت کا پتہ لگتا ہے۔
=… پشاور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں بیٹھے تھے اور دروازہ کے پاس جوتیاں پڑی تھیں ۔ ایک آدمی سیدھے سادے کپڑوں والا آگیا اور جوتیوں میں بیٹھ گیا۔ مَیں نے سمجھا کہ یہ کوئی جوتی چور ہے۔ چنانچہ مَیں نے جوتیوں کی نگرانی شروع کردی۔ کچھ عرصہ بعد جب حضورؑ فوت ہوگئے اور مَیں نے سُنا کہ کوئی شخص خلیفہ بن گیا ہے اس پر مَیں بیعت کرنے کے لئے آیا۔ دیکھا تو یہ وہی شخص تھا جس کو مَیں نے اپنی بیوقوفی سے جوتی چور سمجھا تھا۔
=ز… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے آخری جلسہ سالانہ (منعقدہ 1907ء) میں سات سو آدمی آئے تھے۔ اُس وقت جب آپؑ سیر کے لئے نکلے تو ہجوم ساتھ تھا۔ کئی بار حضورؑ کی جوتی کسی کی ٹھوکر سے اُتر گئی اور کسی نے پہنائی۔ ایسے میں ایک عاشق زمیندار اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ جاکر حضورؑ سے مصافحہ کرلے۔
اُس کا ساتھی کہنے لگا کہ یہ مصافحہ کرنے کا کونسا موقع ہے یہاں تو کوئی قریب بھی نہیں آنے دیتا۔
اس پر پہلے نے کہا کہ تجھے یہ موقع پھر کب نصیب ہوگا۔ بے شک تیرے جسم کے ٹکڑے ہوجائیں ، پھر بھی لوگوں کے درمیان سے گزر جا اور مصافحہ کر آ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں