قرونِ اولیٰ کی چند نامور خواتین

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل جنوری تا مارچ 2013ء)

قرونِ اولیٰ کی چند نامور خواتین
(شیخ فضل عمر۔ یوکے)

اس مضمون میں قرون اولیٰ کی چند ایسی نامور ہستیوں کا ذکر مقصود ہے جن کا تعلق اگرچہ صنف نازک سے ہے لیکن اُن کے عظیم الشان کارناموں اور غیرمعمولی خدمات کی وجہ سے اُن کے اسمائے گرامی اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے جائیں گے۔
امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ
حضرت عائشہؓ کا رخصتانہ نو برس کی عمر میں ہوا جس کے بعد نو سال آپؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد زوجیت میں گزارے۔ سایۂ نبوی میں اس نو سالہ عرصہ میں آپؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اَخلاقِ عالیہ کو اپنے اندر اس طرح سمولیا کہ پھر عمر بھر ان اخلاقِ نبوی کا مظہر بنی رہیں۔آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ مَیں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کہتی ہوں کہ خدا نے مجھے نو ایسی باتوں سے نوازا ہے جن میں میرا کوئی مدمقابل نہیں ہے۔ یعنی خواب میں فرشتہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری تصویر پیش کی، سات برس کی عمر میں میرا نکاح آپؐ سے ہوا، نو برس کی عمر میں رخصتانہ ہوا، صرف مَیں ہی آپؐ کی کنواری بیوی تھی، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی بیویوں سے کہا کہ صرف عائشہ کی خوابگاہ میں ہی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے، مَیں آپؐ کی محبوب ترین رفیقۂ حیات تھی، میری شان میں اور میری وجہ سے قرآن کریم کی متعدد آیات نازل ہوئیں (مثلاً سورۃالنور:12 تا 19 اور سورۃالمائدہ:7)، مَیں نے حضرت جبرائیلؑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ آپؐ کا سرِ مبارک میری گود میں تھا۔
مزید برآں حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی جو خود ایک وجہ فضیلت ہے۔
حضرت عائشہؓ کی زندگی میں ایک واقعہ افک ایسا ہے جس کا اثر آپؓ کے دل پر بہت گہرا ہوا۔ اس دوران آپؓ شدید پریشان رہیں حتیٰ کہ خدا تعالیٰ نے خود آپؓ کی براء ت فرمادی۔
سخاوت میں حضرت عائشہؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین جانشین تھیں۔ کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ ایک بار رمضان میں افطاری سے پہلے جب ایک سوالی عورت آگئی تو خادمہ کے عرض کرنے کے باوجود کہ افطار کے لئے اَور کچھ نہیں ہے، آپؓ نے اپنا کھانا اُسے دینے کا حکم دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں کسی نے بکری کے گوشت کی پوری ران بھیجی تو آپؓ نے خادمہ سے فرمایا: اب بتاؤ کہ کیا اللہ نے ہمیں بھوکا رکھا ہے؟
جب شام کا ملک فتح ہوا تو وہاں سے چکی کا پسا ہوا باریک آٹا مدینہ پہنچا۔ جب اُس کی روٹی پکاکر آپؓ کو پیش کی گئی تو پہلا نوالہ کھاتے ہی آپؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا کہ اس روٹی سے مجھے آنحضورؐ یاد آگئے ہیں کہ آخری عمر میں آپؐ کے دانت اس قدر کمزور ہوچکے تھے کہ ہم گندم کو پتھرکی سلوں پر پیس کر جب روٹی آپؐ کو پیش کرتی تھیں تو بوجہ آٹا موٹا ہونے کے آپؐ سے پوری طرح چبائی نہیں جاتی تھی اور اب اس باریک آٹے کی روٹی کا نوالہ میرے گلے میں اٹک گیا ہے کہ کاش حضورؐ کی زندگی میں ایسا عمدہ آٹا ہمیں ملتا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات (فرائض، سنن اور نوافل) میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کو حضرت عائشہؓ نے اختیار کرکے تاعمر اس پر عمل نہ کیا ہو۔ ہر سال باقاعدہ حج کرنے جاتیں کیونکہ آپؐ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سُن رکھا تھا کہ عورتوں کا حج کرنا ہی اُن کا جہاد ہے۔
حضرت عائشہؓ کے متعلق امام زہریؒ فرماتے ہیں: ’’آپؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ دینی علم رکھتی تھیں، بڑے بڑے صحابہؓ آپؓ سے مسائل پوچھا کرتے تھے‘‘۔ اسی طرح حضرت ابوسلمہؓ نے فرمایا کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا جاننے والا اور رائے میں حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر فقیہ اور آیتوں کے شان نزول اور فرائض کے مسائل کا واقف کار کسی اَور کو نہیں دیکھا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مذہب کا ایک حصہ ان (یعنی حضرت عائشہؓ) سے سیکھو۔ ایک اَور حدیث ہے کہ نصف دین اِن سے سیکھو کیونکہ یہ نصف دین کی حامل ہیں۔
امّ المومنین حضرت امّ سلمیٰؓ
حضرت امّ سلمہؓ کا تعلق قریش کے خاندان محزوم سے تھا۔ آپؓ کے والد ابوامیہ اپنے قبیلہ کے رئیس تھے اور بہت دولتمند تھے۔ حضرت سیدہؓ کا نام ہندہ اور کنیت امّ سلمہ تھی۔ آپؓ کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن الاسود ؓ سے ہوا تھا جو ابوسلمہؓ کے نام سے مشہور ہیں۔ آغاز اسلام میں ہی ان دونوں نے قبول اسلام کی توفیق پائی۔ جنگ احد میں حضرت ابوسلمہؓ زخمی ہوئے اور ان زخموں کے سبب 4ہجری میں وفات پاگئے۔ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تعزیت کیلئے تشریف لائے تو حضرت امّ سلمہؓ رو رہی تھیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو تسلّی دی، صبر اور اس دعا کی تلقین کی کہ ’’خدا تعالیٰ مجھے ان سے بہتر جانشین عطا کر‘‘۔ جب آپؓ یہ دعا کرتیں تو سوچا کرتیں کہ بھلا ابوسلمہؓ سے بہتر جانشین کون ہوسکتا ہے؟
حضرت ابوسلمہؓ کی وفات کے وقت آپؓ حاملہ تھیں۔ جب عدت گزر گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروقؓ کے ذریعہ آپؓ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ آپؓ نے چند عذر پیش کئے کہ صاحب عیال ہوں، عمر زیادہ ہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کو برضا و رغبت قبول فرمالیا تو آپؓ رضامند ہوگئیں اور اپنے بیٹے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کردو۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ مَیں نے حضرت امّ سلمہؓ کی خوبصورتی کا چرچا سنا تھا لیکن جب دیکھا تو اُس سے بڑھ کر اُنہیں حسین اور خوبصورت پایا۔ آپؓ بہت عقلمند اور صاحب الرائے تھیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپؓ بھی آنحضورؐ کے ہمراہ تھیں۔ صلح کی شرائط کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ مسلمان قربانی کردیں تو چونکہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں اس لئے مغموم مسلمانوں میں سے کوئی بھی قربانی دینے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امّ سلمہؓ سے سارا واقعہ بیان فرمایا تو آپؓ نے عرض کی کہ صحابہؓ حضورؐ کے فرمان کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے اس لئے حضورؐ خود قربانی کریں اور احرام اتارنے کے لئے بال منڈوائیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کا مشورہ قبول فرمایا اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں نے آنحضورؐ کی پیروی میں قربانیاں کیں اور احرام اتارنے شروع کردئے۔
حضرت امّ سلمہؓ بہت سادہ اور صاف گو تھیں نہایت درجہ عبادت گزار تھیں، فیاض اور سخی تھیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہؓ کے بعد آپؓ کی دینی حیثیت اور علمی قابلیت مسلّمہ ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بھی صحابہؓ کو کوئی مشکل پیش آتی تو وہ انہی دونوں ازواج مطہرات کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ حضرت امّ سلمیٰ حدیث کا درس بھی دیا کرتی تھیں جس سے بہت سے مرد اور عورتیں فائدہ اٹھاتے تھے۔ بہت سے یتیم بچوں کو آپؓ نے پالا اور اُن کی شادیاں کیں۔ بیوگان کی خبرگیری اور غرباء کی مدد اپنا فرض خیال کرتیں۔ آپؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی کام کرنا پسند نہیں فرماتی تھیں۔ ایک بار آپؓ نے ایسا ہار پہن لیا جس میں کچھ سونا بھی شامل تھا۔ جب آپؓ کو علم ہوا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا ہے تو آپؓ نے اسے اتار ڈالا۔ آپؓ کی وفات 36 ہجری میں 48 سال کی عمر میں ہوئی۔
حضرت سیدہ فاطمۃالزھراءؓ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کی رحلت کے بعد حضرت ابوطالب کی زوجہ حضرت فاطمہ نے آپؐ کی پرورش کی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیشہ ماں کہہ کر پکارا اور وہی درجہ دیا۔ اُن کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت فاطمہ الزھراءؓ پیدا ہوئیں تو آنحضورؐ نے اپنی چچی کی یاد میں ان کا نام فاطمہ رکھا۔ ایک بار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کی اولاد کو قیامت کے روز آگ سے محفوظ رکھا ہے۔ آنحضورؐ نے آپؓ کو ’’امّ ابیھا‘‘ کی کنیت عطا کی۔ سفر پر روانہ ہوتے وقت سب سے آخر میں آپؓ سے الوداعی ملاقات کرتے اور واپسی پر بھی سب سے پہلے ملاقات فرماتے۔ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہؓ ہی حضورؐ کے پاس آپؐ کی خدمت میں مصروف رہیں۔
حضرت فاطمہؓ کی پیدائش 20؍جمادی الآخر بروز جمعہ ہوئی جب قریش کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے یعنی بعثت نبوی سے چند سال قبل۔ آپؓ کی پیدائش سے قبل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا کہ جبریل نے مجھے بشارت دی ہے کہ یہ لڑکی ہے، بڑی پاک روح ہے اور اللہ تعالیٰ میری نسل اس سے قائم رکھے گا۔
روایات میں حضرت فاطمہؓ کے نو نام آئے ہیں۔ ایک نام محدثہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتے آسمان سے نازل ہوکر آپؓ سے باتیں کرتے تھے۔
حضرت امّ سلمیٰؓ بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول تمام لوگوں سے بڑھ کر شکل و صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ مَیں نے اللہ کی مخلوق میں گفتگو اور کلام میں فاطمہ سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں دیکھا۔ وہ جب بھی حضورؐ کے پاس آتیں، حضورؐ اُن کا ہاتھ تھام لیتے اور اُسے بوسہ دیتے اور اُن کو خوش آمدید کہتے، اُنہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب حضورؐ اُن کے پاس تشریف لاتے تو وہ بھی اٹھ کھڑی ہوتیں، خوش آمدید کہتیں اور آپؐ کا ہاتھ تھام کر بوسہ دیتیں۔
ایک بار حضرت علیؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم دونوں میں سے کون حضورؐ کو زیادہ پیارا ہے؟۔ فرمایا: اے علی! تُو میرے دل میں فاطمہ سے زیادہ عزت رکھتا ہے اور وہ تجھ سے بڑھ کر مجھے پیاری ہے۔
حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو حضرت امّ سلمیٰ کی تربیت میں دے دیا تھا۔ جب حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف اور حضرت سعد بن معاذ انصاریؓ نے حضرت علیؓ کو رائے دی کہ وہ اپنے لئے حضرت فاطمہؓ کا رشتہ مانگیں تو ایک روز حضرت علیؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت امّ سلمیٰؓ کے ہاں حاضر ہوئے اور زمین پر بیٹھ کر زمین کی طرف دیکھنے لگے گویا کوئی بات کہنا چاہتے ہیں مگر شرماتے ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر مدعا عرض کیا تو آپؐ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور آپؐ نے حضرت علیؓ کی زرہ کے عوض حضرت علیؓ کا نکاح حضرت فاطمہؓ سے منظور فرمالیا۔یہ زرہ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی تحفۃً حضرت علیؓ کو عنایت فرمائی تھی۔یہ زرہ چارسو درہم میں فروخت ہوئی۔ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انسؓ کے ذریعہ اپنے کئی صحابہؓ کو نام لے کر بلوایا اور اُن کی موجودگی میں خطبہ نکاح پڑھا۔ یہ 2ہجری کے آغاز کا واقعہ ہے جبکہ رخصتانہ اسی سال ذوالحجہ میں ہوا جبکہ حضرت فاطمہؓ کی عمر 15 سال اور حضرت علیؓ کی 21 سال تھی۔ رخصتی نہایت سادگی سے ہوئی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خچر پر کمبل تہ کرکے ڈال دیا اور حضرت فاطمہؓ سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجائیں۔ پھر حضرت سلمان فارسیؓ کو حکم دیا کہ سواری کے آگے آگے چلیں اور خود حضورؐ حضرت حمزہؓ، حضرت عقیل بن ابوطالبؓ اور بنوہاشم کے دیگرافراد کے ہمراہ سواری کے پیچھے چلنے لگے۔ عورتوں کو حکم دیا کہ فاطمہؓ کے ساتھ چلیں اور خوشی کے اظہار کے طور پر رجز پڑھیں، حمد کریں مگر کوئی ایسی بات نہ کریں جو خدا کو ناپسند ہو۔ چنانچہ حضرت امّ سلمیٰؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ اور انصاری عورتوں کی نمائندگی میں حضرت امّ سعد بن معاذ انصاریؓ نے اس پُروقار محفل میں ایسے اشعار پڑھے جن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے حضرت فاطمہؓ کی فضیلت بیان کی گئی تھی۔
حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا
حضرت خنساءؓ عرب کی وہ مشہور شاعرہ ہیں جنہیں اسلام کی بے مثال خدمت کی توفیق عطا ہوئی۔ قبیلہ مُضَر کے خاندانِ سُلَیْم سے تعلق تھا اور نجد کی رہنے والی تھیں۔ اصل نام تمامر تھا۔ عمرو بن الثرید بن رباح کی بیٹی تھیں۔ والد اور دو بھائی بنوسُلَیْم کے سردار تھے۔
ابتداء میں خنساءؓ کبھی کبھار شعر کہتی تھیں لیکن جب آپؓ کے دونوں بھائی ایک قبائلی جنگ میں قتل ہوگئے تو اس حادثے کے بعد آپؓ نے دونوں بھائیوں کی یاد میں کئی مرثیے کہے اور انہی مرثیوں کی وجہ سے آپؓ بہت مشہور ہوئیں۔ آپ کے اشعار میں سوز، کسک اور درد ہے۔ اکثر علماء و ناقدین کا اتفاق ہے کہ اسلام سے قبل اور اسلام کے بعد خنساء سے بڑھ کر کوئی شاعرہ نہ تھی اور نہ اس کے بعد پیدا ہوئی۔ اگرچہ بعض لوگ لیلیٰ کو فضیلت دیتے ہیں لیکن مرثیہ گوئی میں خنساء کے بلند مقام کو ضرور مانتے ہیں۔ عربی کے بہت سے مشہور شعراء نے آپؓ کو عظیم ترین شاعرہ تسلیم کیا ہے۔
جب اسلام کا ظہور ہوا تو خنساء اپنی قوم کے وفد کے ساتھ شامل ہوکر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسلام قبول کرلیا۔ آنحضورؐ کو آپؓ کی شاعری بہت پسند تھی۔ آپؓ سے شعر سنانے کی فرمائش کرتے اور داد دیتے تھے۔
حضرت خنساءؓ کی ساری زندگی دکھوں میں اسلام کی خدمت کرتے ہوئے گزری۔ حضرت عمرؓ کے دَور میں جب قادسیہ کے مقام پر جنگ جاری تھی تو آپؓ اپنے چاروں بیٹوں کو لے کر میدان جنگ میں آئیں اور اُنہیں مخاطب کرکے کہا کہ تمہارے باپ نے اپنی زندگی میں ہی ساری جائیداد تباہ کردی تھی، اُس نے میرے ساتھ کوئی حسن سلوک بھی نہیں کیا تھا۔ مَیں نے اپنی ساری زندگی نیکی سے گزاردی۔ میرے تم پر بہت حقوق ہیں۔ کل جب کفر و اسلام میں مقابلہ ہو تو تم استقلال سے دشمن کا مقابلہ کرنا۔ اس جنگ کے دوران بھی حضرت خنساءؓ اپنے بیٹوں کو میدان میں جمے رہنے پر ابھارتی رہیں۔ آپؓ کے چاروں بیٹے میدان جنگ میں شہید ہوگئے۔ لیکن آپؓ کے منہ سے آہ تک نہ نکلی بلکہ خدا تعالیٰ کا شکر کیا۔ آپؓ نے حضرت معاویہ کے عہد میں وفات پائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/WElFv]

اپنا تبصرہ بھیجیں