محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کا کلام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍ نومبر 2011ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں مکرم پروفیسرڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کے قلم سے محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کے علم کلام کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
1952-53ء میں ربوہ میں مکرم مولوی ظفر محمد صاحب پر و فیسر جامعہ احمدیہ کی نظموں کا بہت شہرہ تھا۔ مولوی صاحب موصوف احمد نگر میں رہتے تھے۔ ویسے تعلق ڈیرہ غازیخان کے علا قہ سے تھا۔ اُن کے والد صاحب نے 1903 ء میں احمدیت قبول کی۔ وہ زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے مگر ذاتی شوق سے عربی فارسی کے علوم کی تحصیل کی۔یہی ذوق ان کے خلف رشید، مولوی ظفر محمد صاحب کو ورثہ میں ملا۔آپ عربی،فارسی اور اردو کے فاضل تھے ۔ مدرسہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہو کر سلسلہ کی خدمت میں مستعد رہے۔ ان کی اکثر نظمیں رسالہ ’’الفرقان‘‘ اور اخبار ’’الفضل‘‘ میں احترام سے چھاپی جاتی تھیں ۔
درویشان قادیان کے حوالہ سے کہی جانے والی آپ کی ایک خوبصورت نظم نے بہت شہرہ حاصل کیا ؎

بہت بڑا ہے تمہارا مقام درویشو!
کرو قبول ہمارا سلام درویشو!

اس کے ساتھ آپ کی ایک اور نظم نے بھی عوام و خواص سے قبول عام کی سند حاصل کی ؎

نہ بھر آہیں فراق قادیاں میں
نہ ہو مصروف یوں آہ و فغاں میں
خدا کے کام بے حکمت نہیں ہیں
ہوا ہے مبتلا تُو کس گماں میں

رفتہ رفتہ قادیان کی ہجرت کا کرب گوارا ہوتا گیا۔وہ زخم مندمل تو نہ ہوا مگر اس کی کسک کم ہو تی گئی۔ ربوہ میں پروانے شمع خلا فت کے گرد جمع ہو تے رہے۔ ربوہ نے مرجع خلائق ہونے کا شرف حاصل کر لیا۔ اس مرکز کے ساتھ بھی مولوی صاحب کی وابستگی اسی طرح پختہ اور مستحکم رہی۔
1973ء میں سیلاب آیا تو آغا شورش کاشمیری نے ایک نظم لکھی :

ربوہ بھی غرق ہوگا کسی وقت بالضرور
تاخیر ہو گئی ہے خدا کے عذاب میں !

اس زور دار نظم کا جواب مولوی ظفر محمد صاحب نے اس سے بھی زیادہ زوردار اور شاندار الفاظ میں لکھا:

آغا ہے آج جانئے کیوں پیچ و تاب میں
دل اس کا بے قرار ہے ، جاں اضطراب میں
کوئی یہ اس سے پوچھے کہ اے بے ادب بتا!
گستاخیاں یہ کیسی ہیں ربوہ کے باب میں !
ربوہ کے پاؤں چوم کر جاتا ہے کیوں گزر!
پاسِ ادب ہے گویا کہ آب چناب میں !
نادان تیرے دل میں تعصّب کی آگ ہے
تُو جل رہا ہے بغض و حسد کے عذاب میں !

مولوی صاحب کی یہ نظم اپنے اندر سیلاب کی سی روانی رکھتی تھی اور شورش کا شمیری کی نظم کا مسکت جواب ہے۔
مکرم مولوی صاحب کے ہاں بیانیہ نظمیں بہت ہیں ۔ اور بیانیہ نظمیں لکھنے کے لئے زبان پر قدرت کا ہونا لازمی امر ہوتا ہے۔مثلاً درج ذیل نظم جامعہ احمدیہ احمدنگر کے ان فارغ التحصیل مہمانو ں کی تقریب میں پڑھی گئی جو 1955ء میں جامعہ میں تشریف لائے تھے۔

اے طالبانِ علم دبستانِ جامعہ
دیکھو انہیں جو آج ہیں مہمانِ جامعہ
ظاہر ہیں قوم قوم میں آثارِ زندگی
جاری ہے ملک ملک میں فیضانِ جامعہ
لیکن وہ علم موت ہے جس میں عمل نہ ہو
نکتہ رہے یہ یاد ، عزیزانِ جامعہ!

کیا صاف ستھری،سادہ،شستہ اور رفتہ زبان ہے۔اسی لئے تو حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے لکھاہے: ’’ان کا اسلوب کلام ،سلاست اور روانی، محاورہ اور بندش کی خوبی اور فن شاعری کے لحاظ سے قابل قدر تصنیف ہے اور بہت سی نظمیں اپنی خوبی کے لحاظ سے سہل ممتنع ہیں !‘‘
مکرم مولوی ظفر محمد ظفر صاحب کے ہاں مقصدی شاعری کی فراوانی ہے۔بے مقصد قافیہ پیمائی یا تُک بندی نہیں ۔خود فرماتے ہیں :

یا ربّ مشاعرے کو نہ اپنا قدم چلے
جب تک دماغ لے کے نہ مضموں اہم چلے
بے سُود شاعری میں نہ اپنا گھِسے قلم
تائیدِ دینِ حق میں ہمارا قدم چلے!

آپ کو عربی،فارسی اور اردو تینوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی اس لئے ان کے ہاں تینوں زبانوں کی یکجائی کے نمونے ملتے ہیں اور تینوں زبانوں میں علیحدہ علیحدہ طبع آزمائی کے نمونے بھی۔حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے اسی لئے فرما یا تھا کہ ان کا ’’طرز بیان نہایت دل نشیں (ہے) فارسی اردو اور عربی پر برابر دسترس‘‘ (حاصل ہے)۔
مکرم حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے بھی ان خصوصیات کو سراہا ہے کہ: ’’انہیں عربی اور فارسی نظم لکھنے کا بھی ملکہ ہے‘‘۔
ان کے عربی اور فارسی کے امتزاج کا ایک نمونہ ان کی وہ نظم ہے جس کا ایک مصرعہ عربی اور دوسرا فارسی کا ہے:

شراب روح پرور بخش ساقی
تَکَادُ تَبْلُغُ النَّفْسُ التَّرَاقِی
قسم بخدا کہ صادق ہست احمد
اِلَی رَبِّ الْعُلیٰ نِعْمَ الْمُرَاقِی
پیام وصل جاناں احمدیت
تُبَشِّرُنَا بِرَیْحَانِ التَّلَاقِی
ظفرؔ گر ہوش میداری تَوَکَّلْ
عَلَی اللّٰہِ الَّذِیْ حَیٌّ وَّ بَاقِی
50% LikesVS
50% Dislikes

محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کا کلام” ایک تبصرہ

  1. خا کسار نے ۱۹۰۶ءسے تاریخ جا معہ احمدیہ کے عنوان پر ایک مفصل مقالہ لکھا ہے اگر وہ بھی اس رسالہ میں شا مل کیا جا ئے تو انشاللہ تاریخ جا معہ احمدیہ اس طر ح محفوظ ہوجا ئے گی۔خاکسار نے اپنی تمام ترصلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہو ئے اس پر تحقیق کی ہے اور اپنی بساط کے مطا بق پور ی کو شش کی ہے کہ زیا دہ سے زیادہ مواد اکٹھا کیا جا ئے ۔ خاکسار نے تقسیم ہند تک مفصل طور پر لکھا ہے اس کے بعد خا کسار نے جا معہ احمدیہ قادیان کی تاریخ کو اپنے مضمون مین شامل کیا ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں