محترم مولانا عبد الحق فضل صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم فاروق احمد فضل صاحب مربی سلسلہ کے قلم سے اُن کے والد محترم عبدالحق فضل صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ آپ کا مختصر تذکرہ قبل ازیں 27؍اکتوبر 2006ء کے شمارہ کے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں کیا جاچکا ہے۔
محترم مکرم عبد الحق صاحب فضل موضع گنج ضلع سیالکوٹ میں احمد دین صاحب کے ہاں 4اپریل 1924ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے پانچ بھائی اور ایک بہن تھی۔ نوجوانی میں ہی ایک احمدی دوست سے احمدیت کی سچائی آپ پر کھل گئی اور 1946ء میں آپ نے باقاعدہ بیعت کرلی۔ اس کے نتیجہ میں شدید مخالفت ہوئی۔ لیکن آپ ہر مخالفت کا مقابلہ کرتے ہوئے تبلیغ بھی کرتے رہے۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ سے ملاقات کے لئے قادیان تشریف لائے اور یہیں کچھ عرصہ دعا کی غرض سے رک گئے۔ اسی دوران تقسیم ہند ہوگئی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تحریک پر آپ نے حفاظت مرکز کے لئے لبّیک کہہ دیا۔
آپ شروع سے علم دوست آدمی تھے۔ جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو آپ نے جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی اور لمبا عرصہ میدان تبلیغ میں گزارا۔ تقریر اور تحریر کا عمدہ ملکہ رکھتے تھے اور ان دونوں ذرائع کو تبلیغ و تربیت کے لئے استعمال کیا۔ آپ نہایت ملنسار اور خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے۔ عزیز و اقارب کا خیال رکھنے والے تھے۔ مشکل حالات کے باوجود پاکستان میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے ملنے جاتے اور ان کو تبلیغ بھی کیا کرتے تھے۔
آپ کی شادی محترم قاضی ظہیر الدین صاحب عباسی ساکن یوپی کی بیٹی سے 1952ء میں ہوئی۔ آپ کی چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے دونوں بیٹے اور پانچوں داماد سلسلہ کے خادم ہیں ۔ آپ کو قادیان سے عشق تھا اور یہ دعا کیا کرتے تھے کہ آپ کی اولاد بھی قادیان میں رہ کر خدمت دین کرنے والی ہو۔
قریباً 30سال میدان تبلیغ میں بہترین خدمات بجا لانے کے بعد1982ء میں آپ کو قادیان بلالیا گیا۔ یہاں آپ ایک لمبا عرصہ بطور استاد جامعہ احمدیہ، ایڈیٹربدر اور زعیم اعلیٰ مجلس انصار اللہ کے طور پرخدمات کی توفیق پاتے رہے۔ نہایت شفیق اور محنتی استاد تھے۔ 13مئی 1993ء کو قادیان میں آپ کی وفات ہوئی اور تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔
محترم مولانا عبدالحق صاحب کو اللہ تعالیٰ پر بے انتہا توکّل تھا اور مخالفت سے کبھی نہیں گھبراتے تھے۔ایک بار دارالعلوم دیوبند بھی بغرض تبلیغ تشریف لے گئے۔ اسی طرح ایک جگہ غیر احمدی مولوی نے لاجواب ہوکر کہا کہ اگر مسیح موعود ؑ کا دعویٰ سچا ہے تو فلاں آم کے درخت میں میٹھے آم لگا کر دکھائیں۔ احمدیوں نے بتایا کہ اس درخت میں تو آج تک کبھی میٹھے آم نہیں لگے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری عزت کی خاطر اس میں میٹھے پھل لگا دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اگلے سال جو پھل آیا وہ میٹھا تھا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/TDLJv]

اپنا تبصرہ بھیجیں