محترم چوہدری عبدالسلام صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان 15؍مارچ 2007ء میں محترم چودھری عبدالسلام صاحب درویش ابن مکرم چودھری عبدالحکیم صاحب کا ذکر خیر شائع ہوا ہے۔ آپ کی وفات 18؍ستمبر 2006ء کو قادیان میں بعمر 83 سال ہوئی۔
محترم چودھری عبدالسلام صاحب درگانوالی ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور وہیں ابتدائی تعلیم پائی۔ پیدائشی احمدی تھے۔ والدہ بچپن میں فوت ہوگئیں تو چھوٹے بھائی بہن کی پرورش کے لئے آپ روزگار کی تلاش میں گھر سے نکل پڑے اور پھر والد صاحب سے اُن کی زندگی میں دوبارہ ملاقات نہ ہوسکی۔ تقسیم ملک کے وقت مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر آپ کے تایا نے آپ کی بہادری اور بعض خوبیوں کے پیش نظر آپ کو خود کو پیش کرنے کے لئے کہا۔ چنانچہ آپ نے ابتدائی 313 درویشان میں شامل ہونے کی سعادت پائی اور تادم وفات عہد درویشی کو نہایت صبر، شکر اور وفا سے نبھایا۔
7جون 1948ء کو 24 سال کی عمر میں آپ وصیت کے نظام میں شامل ہوگئے۔ 1950ء میں آپ کی شادی مکرمہ سلیمہ اختر صاحبہ سے ہوئی۔ آپ نہایت جری، جفاکش، بہادر اور نڈر انسان تھے۔ سلسلہ احمدیہ کی طرف سے جو کام بھی سپرد ہوا اطاعت اخلاص اور محنت سے سر انجام دیا اور مختلف رنگوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ قادیان میں فضل عمر پریس لگائے جانے پر اس کے پہلے مینجر مقرر ہوئے۔ ایک حادثہ میں آپ کی بائیں بازو مشین میں آکر کچلی گئی تو آپ نے بڑی ہمت اور حوصلہ و صبر سے اپنے آپ کو سنبھالا اور مشین میں پھنسی ہوئی اپنی بازو خود اپنے دوسرے ہاتھ سے کاٹ دی۔ اور یہ تکلیف نہ صرف خود برداشت کی بلکہ دیکھنے اور علاج کرنے والوں کو بھی حوصلہ دیا۔ اس کی وجہ سے آپ کی صحت کمزور ہوگئی اس کے باجود آپ نے پریس اور بعد میں دفتر تعمیرات میں خدمات سر انجام دیں۔ آپ کو نظام جماعت، خاندان حضرت مسیح موعود ؑ اور خلفاء کرام سے بہت محبت و عقیدت تھی۔ نہایت مخلص، دعاگو، صابر، شاکر، صوم وصلوٰۃکے پابند قرآن مجید کی تلاوت باقاعدہ کرنے والے اور مخلوق خدا کی ہمدردی کرنے والے شریف النفس وجود تھے۔ آپ جلسہ سالانہ کے لئے جلسہ گاہ اور پنڈال تیار کرنے کے لئے سالہا سال تک ڈیوٹی دیتے رہے۔ دیوار بہشتی مقبرہ بنانے، منارۃالمسیح میں سنگ مرمر کے سلیب لگانے اور دیگر تعمیراتی کاموں میں انتھک محنت سے خدمت انجام دی۔ باوجود ایک ہاتھ نہ ہونے کے ہر طرح کا کام خود کر لیتے اور کسی قسم کی مجبوری کا اظہار نہیں کیا۔ بہت شفیق اور ملنسار تھے۔ آپ نے دو یتیم بچیوں کی پرورش کی اور ان کی شادیاں کیں۔
تقسیم ملک سے قبل جب دہلی میں جلسہ ہوا تو آپ دہلی میں ملازم تھے۔ مخالفین کے حملہ کے وقت آپ نے عورتوں کی حفاظت میں بہادری سے نمایاں کردار ادا کیا۔ تقسیم ملک کے وقت اغوا کی جانے والی مسلمان عورتوں کو تلاش کرنے میں بھی انتہائی کوشش کی۔
آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ بڑے بیٹے مکرم عبد العزیز صاحب اختر حلقہ مبارک کے صدر، انچارج سپورٹس صدر انجمن احمدیہ اور قائد صحت جسمانی انصار اللہ بھارت کے طور پر خدمات بجا لا رہے ہیں۔
بہشتی مقبرہ کے قطعہ درویشان میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے بھی اپنے خطبہ جمعہ کے آخر میں آپ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا اور آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں