محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24دسمبر 2008ء میں مکرم حافظ احمد خان جوئیہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ جنوری 1997ء میں خاکسار کی تقرری بطور مربی میرپور خاص ہوئی تو امیر ضلع محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کو بہت تعاون کرنے والا اور شوق سے خدمت کرنے والا پایا۔ دعوت الی اللہ سے بہت لگاؤ تھا۔ عاجز کو آپ کے ساتھ ساڑھے سات سال کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ عرصہ خاکسار کی زندگی کا یادگار دَور ہے۔
مرض کی تشخیص کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص ملکہ عطا فرمایا ہوا تھا۔ مختلف بیماریوں میں مبتلا مریض آتے اور شفایاب ہو کر دعائیں دیتے ہوئے جاتے۔ مختلف سرکاری اور نجی ادارے میڈیکل رپورٹ کے لئے اپنے کارکنان کو آپ کی طرف ریفر کرتے اور آپ کی رپورٹ کو انتہائی اہمیت دیتے۔ آپ کو کسی احمدی کی تکلیف کا علم ہوتا تو اُسے دُور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ اگر کسی احمدی کا پتہ چلتا کہ وہ کسی تکلیف میں ہے تو فوراً اُسے بلا لیتے یا خود اس کے پاس چلے جاتے۔ وسعت حوصلہ آپ کے اندر کمال کا تھا اور بلند عزم و ہمت کے مالک تھے۔ اپنے خلاف بات سننے کا وسیع حوصلہ تھا۔ اگر کوئی مریض شکایت کرتا تو بڑے حوصلہ سے اس کی شکایت سنتے اور اس کا ازالہ کرتے۔ میں نے کئی ایسے مریضوں کو دیکھا جو کہ محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب کے وقت سے مستقل مفت علاج کروارہے تھے۔ جس مریض نے بھی آکر یہ کہا کہ مجھے آپ کے والد صاحب مفت چیک کرتے تھے تو آپ نے اسے فری چیک کیا۔ کسی نے آکر کہا کہ مجھے تو آپ کے والد صاحب مفت ادویات دیا کرتے تھے تو آپ نے اس کو مفت ادویات دیں۔ کسی نے اگر یہ کہا کہ ہمیں تو ڈاکٹر صاحب کرایہ کے پیسے بھی دیتے تھے تو آپ نے اسے کرایہ کے پیسے بھی دے دیئے۔
آپ نے خدمت انسانیت کے دائرہ کو بہت ہی وسعت بخشی۔ میڈیکل کیمپ ہر ماہ لگاتے جس کے لئے ایک بہترین ٹیم تیار کرلی تھی۔ جس علاقہ میں میڈیکل کیمپ لگانا ہوتا تھا تو پہلے تو اس علاقہ کے بااثر زمیندار کے ساتھ رابطہ کرکے ان کا تعاون حاصل کیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک جگہ میڈیکل کیمپ رکھا گیا تو کسی طرح ایک مخالف کو پتہ چل گیا اور اُس نے بہت شور ڈالا اور لوگوں کو کیمپ میں آنے سے روکا۔ لیکن وہاں کے بااثر زمیندار نے حالات کو خود کنٹرول کیا اور اللہ کے فضل سے یہ کیمپ بہت ہی کامیاب رہا اور لوگ بھی کثرت سے آئے۔ اس مخالف کے شور ڈالنے کا اثر یہ ہوا کہ اگلے دن اس علاقے کے دو نوجوان ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لئے تشریف لائے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے اخلاق اور خدمت خلق کے جذبہ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ہم نے مخالف سے سوال کیا کہ کبھی آپ نے بھی اس طرح کا خدمت انسانیت کا سوچا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کا جو بھی مذہب ہے وہ خدمت انسانیت تو کررہے ہیں۔ غریبوں کو فری دوائی دے کر گئے ہیں۔ تم نے کونسی خدمت کی ہے!۔ بعد میں اسی علاقہ میں محترم ڈاکٹر صاحب نے سندھی شعراء کا پروگرام رکھا جوکہ MTA کی ٹیم نے فلم بند کیا اور بعد میں MTA کی زینت بنا۔ اس پروگرام سے شعراء کے علاوہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ تعلقات اور رابطوں میں وسعت پیدا ہوئی۔
محترم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جو بھی ایک مرتبہ ملاقات کرلیتا اس کے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا ہو جاتی اور دوبارہ ملاقات کی خواہش کرتا بلکہ کوشش کرکے آتا اور ملاقات کرتا۔ ڈاکٹر صاحب دوسروں کی دعوتوں پر بھی محض دعوت الی اللہ کے لئے تعلقات کو وسیع کرنے کی خاطر ضرور جاتے ۔
ایک مرتبہ آپ گاڑی پر اپنے ہسپتال جارہے تھے تو سول ہسپتال میرپور کے قریب کچھ نومبائعین کو پریشانی کے عالم میں کھڑا دیکھا۔ گاڑی روک کر وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ بچے کو نمونیہ ہو گیا ہے، حالت بہت خراب ہے۔ آپ نے بچے کو اپنے ہسپتال میں داخل کرکے علاج کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفا ہوگئی اور آپ نے اِس علاج کا کوئی پیسہ بھی نہیں لیا۔
آپ عملاً دو اضلاع کے امیر تھے اور ہر جماعت کے ساتھ ایک قریبی تعلق تھا۔ بلکہ ہر جماعت کے ہر ایک فرد کے ساتھ آپ کا ذاتی تعلق تھا۔ہر احمدی کے لئے آپ کے گھر، دفتر اور ہسپتال کے دروازے ہر وقت کھلے ہوتے تھے۔ ہر ہفتے کسی نہ کسی جماعت کادورہ رکھتے تھے اور اکثر نماز فجر اس جماعت میں جاکر ادا کرتے۔ نماز باجماعت اور دعوت الی اللہ کو ہمیشہ اوّلیت دیتے۔ آپ کی آمد کا سن کر بہت سے احمدی اور غیراحمدی بھی ملاقات کے لئے جمع ہو جاتے۔ آپ ہر ایک کو وقت دیتے۔ مریضوں کو بھی چیک کرتے اور نسخہ تجویز فرماتے اگر کوئی زیادہ بیمار ہوتا تو اس کو ہسپتال میں آنے کا مشورہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے وقت میں غیرمعمولی برکت رکھی ہوئی تھی۔ بعض اوقات ہم زیادہ لوگوں کو دیکھ کر گھبرا جاتے کہ ڈاکٹر صاحب نے واپس ہسپتال بھی پہنچنا ہے لیکن آپ بالکل نہ گھبراتے اور تمام مریضوں کو دیکھتے۔
آپ میں مہمان نوازی کا وصف بہت ہی اعلیٰ درجہ کا تھا۔ میٹنگز میں بھی ضیافت کا اہتمام کرتے۔ اراکین عاملہ کو محبت کی لڑی میں پرویا ہوا تھا۔ آپ کے اندر کا حسن آپ کے ہر عمل سے عیاں ہوتا تھا۔ اکثر مقامات پر تبلیغ کے حوالہ سے آپ کو بطور مثال کے پیش کیا جاتا تھا۔ جماعتی وفود کے لئے اپنی گاڑی بھی پیش فرمادیتے اور سپیشل گاڑی کا انتظام بھی کروادیتے۔ تبلیغ کے لئے رابطے وسیع کرنے کا فن خوب آتا تھا۔ آپ کے والد کے سندھ کے اہم سیاسی راہنماؤں، وڈیروں اور بااثر زمینداروں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ مکرم ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف ان تعلقات کو قائم رکھا بلکہ ان کو مزید وسیع کیا۔ عیدین کے موقعہ پر آپ ایک وفد مبارکباد دینے کے لئے تشکیل دیتے اور اہم افراد کی طرف بھجواتے۔ مکرم محمد خان جونیجو صاحب سابق وزیراعظم پاکستان کی فیملی کے ساتھ بھی آپ کا قریبی تعلق چلا آرہا تھا اور آپ اُن کے فیملی ڈاکٹر بھی تھے۔ ایک دن آپ جونیجو صاحب کی والدہ صاحبہ کا معائنہ کرنے ان کے گھر تشریف لے گئے جہاں جونیجو صاحب کے بیٹے مکرم اسد جونیجو صاحب سابق MNA بھی موجود تھے۔ اُس وقت جونیجو صاحب کی والدہ صاحبہ نے محترم ڈاکٹر صاحب کا ہاتھ پکڑا اور پھر اپنے پوتے مکرم اسد جونیجو صاحب کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ ’’اسد! منان کو کبھی نہ چھوڑنا‘‘۔
ایک دن خاکسار آپ کے ہسپتال گیا تو فرمانے لگے کہ ایک نوجوان مریضہ کی انتڑیوں سے بلیڈنگ رُک نہیں رہی۔ حیدرآباد ریفر کرنے پر خطرہ ہے شاید مریضہ وہاں نہ پہنچ سکے۔ اگر آپ کے علم میں حضور کا کوئی ہومیوپیتھی نسخہ ہے تو بتائیں۔ خاکسار نے ایک نسخہ بتایا جس کی صرف تین خوراکیں دس دس منٹ کے وقفہ سے دیں تو بلیڈنگ رک گئی۔ ڈاکٹر صاحب بہت خوش ہوئے اور حیران بھی۔ پھر آپ نے ہومیوپیتھی کا مطالعہ شروع کردیا اور اس میں باقاعدہ کورس کیا اور DHMS کی ڈگری حاصل کی۔
میرپور خاص سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک وسیع ہال اور خوبصورت گیسٹ ہاؤس اور مربی ہاؤس کی تعمیر بھی آپ کا کارنامہ ہے۔ رمضان المبارک میں غربا کیلئے بہت سا راشن ذاتی طور پر پیک کرکے بھجواتے۔ ہر پیکٹ کا وزن پندرہ بیس کلو ہوتا جس میں چینی، تیل، چاول، چائے، سویاں، آٹا، دالیں اور صابن وغیرہ بھی ہوتا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9yZwi]

اپنا تبصرہ بھیجیں