مکرم سید عبدالرحیم شاہ صاحب پھگلہ

مکرم سید عبدالرحیم شاہ صاحب پھگلہ ضلع ہزارہ میں 1901ء میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد سید حسین شاہ صاحب کے اکلوتے بیٹے تھے جن کی جلد ہی وفات ہوگئی اور آپ اپنے دادا کی کفالت میں آگئے جو بڑے نیک فطرت انسان تھے اور امام مہدی کے ظہور کے منتظر تھے۔ دادا کی وفات کے بعد جلد ہی آپ کی والدہ بھی وفات پاگئیں اور آپ پہلے اپنی دادی صاحبہ اور پھر اپنے چچا کی کفالت میں آگئے۔ ابتدائی تعلیم جابہ کے پرائمری سکول سے حاصل کی، کسی قدر اردو، عربی اور فارسی بھی سیکھی اور گھریلو حالات کی بنا پر آپ لاہور آگئے جہاں قرآن شریف شاہی مسجد کے خطیب سے پڑھا۔ آپ کو قرآن کریم سے بہت لگاؤ تھا کئی سورتیں حفظ تھیں۔ ایک خواب کی بناء پر الٓرٰ سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں (یوسف، یونس، ہود، ابراہیم، حجر) حفظ کرلیں۔ طبیہ کالج لاہور میں داخل ہوکر طب کی تعلیم بھی حاصل کی۔
محترم شاہ صاحب کی طبیعت میں صوفیانہ رنگ تھا اور گاؤں میں ہونے والی رسومات کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ اپنے ایک دوست سے جو مفتی بھی تھے ایک احمدی عالم کی تعریف سنی تو آپ کو مفتی صاحب کے قول و فعل کے تضاد پر حیرت ہوئی کیونکہ وہ بظاہر احمدیت کے مخالف نظر آتے تھے۔ اور اسی بات نے آپ کو احمدیت کی طرف مائل کردیا۔ جب مفتی صاحب کا واقعہ آپ کے چچا نے سنا تو وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مفتی کو بلاکر سخت برا بھلا کہا اور مجبور کیا کہ شاہ صاحب پر کفر کا فتویٰ لگائیں۔ آخر مفتی کو فتویٰ دینا پڑا۔ اور 1923ء یا 1924ء میں محترم شاہ صاحب برفانی علاقہ سے چل کر مانسہرہ پہنچے جہاں سے قادیان چلے گئے۔ قادیان میں جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور بیعت کی سعادت حاصل کرکے واپس گاؤں آگئے۔ اب چچا نے شدید مخالفت کی اورایک دن تو غصہ میں آکر پتھر دے مارا۔ خدا تعالیٰ نے بچالیا اور رات کو خواب میں یہ آیت زبان پر جاری ہوئی:

سَاُورِیکُم اٰیَاتِی فَلاَ تَستَعجِلُونِ۔

1931ء میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے پھگلہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی سے مناظرہ کیا۔ اس دوران مشتعل ہجوم نے حملہ کردیا۔ایک لاٹھی حضرت مولوی صاحب کی بجائے محترم عبدالرحیم شاہ صاحب کو لگی اور آپ شدید زخمی ہوگئے۔ آپ بہت عبادت گزار اور مالی جہاد میں حصہ لینے والے تھے۔ علم طب کو مخلوق کی بھلائی کے لئے استعمال کرتے رہے۔ 12؍جولائی 1974ء کو پھگلہ میں وفات پائی۔ آپ کا مختصر ذکر خیر مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب کے قلم سے ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ اپریل 1998ء میں شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں