مکرم عبدالرحمٰن صاحب شہید

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 3 جولائی 2020ء)

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (شہداء نمبر۔ شمارہ2۔2010ء) میں مکرمہ مبارکہ صدیقی صاحبہ کے قلم سے ان کے ایک عزیز مکرم عبدالرحمٰن صاحب شہید (ابن مکرم محمد جاوید اسلم صاحب) کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
شہید مرحوم ایک نومبائع نوجوان تھے۔ 16؍ستمبر 1989ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ایک چھوٹی بہن ہے۔ شہید مرحوم بہت ذہین تھے اور ہر جماعت میں اوّل آیا کرتے تھے۔ بوقت شہادت میڈیکل کالج میں زیرتعلیم تھے۔ اپنی بہن کو بھی پڑھائی میں بہت مدد دیتے۔ آپ اپنی نانی کی وفات کے بعد اپنی امّی، خالہ اور بہن سمیت احمدی ہوچکے تھے لیکن ڈاکٹر بننے تک یہ بات راز میں رکھنا چاہتے تھے۔ جبکہ خداتعالیٰ کو کچھ اَور ہی منظور تھا۔
28؍مئی 2010ء کو نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے آپ اپنی یونیورسٹی سے سیدھے دارالذکر پہنچے۔جب حملہ شروع ہوا تو آپ نے اپنی والدہ کو فون کرکے بتایا کہ بہت گولیاں چل رہی ہیں، بس آپ دعا کریں اور فکر نہ کریں۔ پھر آپ کے خالہ زاد بھائی نے آپ کو فون کیا تو آپ نے کہا کہ میری ماما اور بہن کا خیال رکھنا۔ اُس نے گھبراکر پوچھا کہ ایسی باتیں کیوں کررہے ہو؟ آپ نے جواب دیا: بس ویسے ہی، اگر مَیں یہاں سے نہ نکل سکا تو مجھے ربوہ لے کے جانا۔
اس بات کے معاً بعد بم پھٹنے اور گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں جس کے بعد شہید مرحوم سے کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔ جب دہشتگرد فرار ہوگئے تو پھر فون کیا تو ایک آدمی نے فون پر جواب دیا کہ

جن سے آپ نے بات کرنی ہے وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔
اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

شہید مرحوم کو اپنی نانی محترمہ سعیدہ جمیل صاحبہ سے بہت پیار تھا جنہوں نے اس خاندان میں احمدیت کو قائم رکھنے کے لیے بہت قربانی دی۔ وہ حضرت مولوی مہردین صاحبؓ (یکے از 313؍اصحاب) کی پوتی تھیں۔ شہید مرحوم کی خواہش تھی کہ وہ اُن کے نام پر ایک ہسپتال بھی بنائے۔ شہید مرحوم کی والدہ قیصرہ صاحبہ نے بھی بہت مشکلات میں اپنے بچوں کی پرورش کی۔
شہیدمرحوم کی نمازوں میں آخری چار ماہ میں بہت باقاعدگی آگئی تھی۔ رات کو قرآن کریم پڑھ کر سوتے۔ پڑھائی کرتے تھک جاتے تو ایم ٹی اے لگالیتے۔ کبھی کوئی ضد یا فرمائش نہیں کی۔ بہت ہردلعزیز اور خوش اخلاق تھے۔ ان کے غیراز جماعت دوست ان کی شہادت پر بچوں کی طرح رو دیے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍جولائی 2010ء میں شہید مرحوم کا ذکرخیر کرتے ہوئے فرمایا کہ شہید مرحوم کی عمر شہادت کے وقت اکیس سال تھی۔ ان کے خاندان کے دیگر تین افراد بھی اُس روز شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد جب ان کے ایک غیراز جماعت خالو نے کہا کہ جنازہ ہم یہیں پڑھیں گے تو ان کی خالہ نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ نہیں، اس بچے کی خواہش کے مطابق ہم اسے ربوہ ہی لے کر جائیں گے۔ احمدی ہوجانے کا علم ہونے پر ان کی خالہ کو اُن کے شوہر نے گھر سے نکال دیا۔ بہرحال شہید مرحوم کے والد کا رویہ جو پہلے سخت تھا اب نسبتاً نرم ہے۔
شہید مرحوم کی والدہ نے شہادت سے پہلے خواب میں مجھے دیکھا کہ مَیں اُن کے گھر گیا ہوں۔ ان کی کزن نے خواب میں دیکھا کہ پانچوں خلفاء کی تصاویر لگی ہیں اور ایک راستہ بنا ہوا ہے جس پر لکھا ہے:

This is the right way.

بہرحال ان کے خاندان میں اور محلے میں بڑی سخت مخالفت ہے کہ جماعتی وفد تعزیت کے لیے ان کے گھر بھی نہیں جاسکا۔ شہید مرحوم نے باوجود نَومبائع ہونے کے جو استقامت دکھائی ہے یقینا یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے خاص تعلق کی وجہ سے تھی کہ انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہچانا اور اُن کو آپؐ کا سلام پہنچایا تو اس کے لیے اپنی جان کی بازی لگادی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

مکرم عبدالرحمٰن صاحب شہید” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں