مکرم محمد احمد فیض صاحب معلم وقف جدید

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 9؍ جولائی 2021ء تا 17؍ جولائی 2021ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم اپریل 2013ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم محمد احمد فیض صاحب معلم وقف جدید کا ذکر خیر شامل ہے۔
مکرم محمد احمد فیض صاحب 31 دسمبر1937ء کو رجوعہ ضلع منڈی بہا ؤ الدین میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں پرائیو یٹ ملازمت کررہے تھے کہ اپنے والد صاحب کی تحریک پر ملازمت چھوڑ کر 1961ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی خدمت میں زندگی وقف کی درخواست دے دی۔ جنو ری 1962ء میں آپ وقف جدید سے ایک ماہ کی کلاس کے بعد فارغ التحصیل ہوئے اور آپ کی تقرری ہڈیارہ ضلع لاہور میں بطور معلّم ہوئی۔
ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جنگی قیدی بنالیے گئے۔ چند ماہ ہندوستان کی قیدمیں رہے۔ اِ ن مشکل حا لا ت میں بھی آپ نماز باجماعت ادا کرتے رہے اور دعوت الی اللہ میں مصروف رہے۔ نومبر 1967ء میں آپ کو علاقہ نگرپارکر میں امیر المعلمین مقرر کیا گیا جہا ں آپ نے لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔
1995ء میں آپ کی تقرری نبی سر روڈ ضلع عمر کوٹ میں ہوئی۔ اس وقت خاکسار میٹرک کاطا لبعلم تھا۔ خاکسار آپ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھا۔ آپ نیک، بڑی اچھی اور پُروقار شخصیت کے مالک، نہا یت دعاگو، ملنسار اور مہمان نواز ہونے کے ساتھ بڑی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ خاکسار کو آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا بہت موقع ملتا رہا اور خاکسار نے قریب رہ کر آپ کی بے شمار خوبیوں کا مشاہدہ کیا۔ آپ احباب جماعت اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ احساس ذمہ داری بہت بڑھ کر تھا۔ بچوں کو دینی تعلیم دینے کے ساتھ دنیوی تعلیم میں بھی راہنمائی فرماتے۔
ایک بات جو آپ میں نمایاں تھی وہ وقت کی پابندی تھی۔ اگر کبھی کسی پروگرام کے لیے کہیں جانا ہوتا تھا تو ایک دِن پہلے ہی اس کی تیاری مکمل کرلیا کرتے تھے۔ قریب کی جماعتوں میں سائیکل پر دورہ کیا کرتے تھے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے بڑی محنت کیاکرتے تھے۔ آپ کی رہائش مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں تھی۔ خاکسار کو جب بھی آپ کے کمرے میں جانے کا اتفاق ہوا تو دو میں سے ایک کام میں آپ کو مصروف دیکھا یا تو آپ مطالعہ کررہے ہوتے یا عوام الناس کی خدمت کے لیے دوائیں بنا رہے ہوتے۔ کمرے کی صفائی کابہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے۔ خلافت سے بے حد محبت اور عشق تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائےکرام کی تصاویر کا فریم خود اپنے ہاتھوں سے بنا کر لگایا ہوا تھا۔
آپ کا اردو رسم الخط بہت خوبصورت اور دلکش تھا۔ بچے اور بڑے شوق کے ساتھ اپنی کتابوں کاپیوں پر آپ سے اپنا نام لکھوایا کرتے تھے اور آپ بھی بڑی محبت کے ساتھ بچوں کی یہ خواہش پوری کر دیتے۔ آپ کا یہ مشفقانہ طریق احباب جماعت اور بچوں کو مزید قریب لانے کاباعث بنتا۔ آپ کی بےلَوث خدمت اور شفقت کو دیکھتے ہوئے خاکسار بھی سوچا کرتا تھا کہ زندگی کا مقصد یہی ہے کہ اِنسان خانۂ خدا کو آباد کرے اور دین کی خاطر زندگی گزاردے۔ مَیں نے آپ سے جب اس خواہش کااظہار کیا کہ میں بھی آپ کی طرح اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کرنا چاہتا ہوں تو آپ نے بڑی محبت اورخوش دِلی کے ساتھ دعائیں دیتے ہوئے خاکسار کی درخواست لکھی اور دفتر کو بھجوائی اور پھر گاہے بگاہے خاکسار کو وقف کی برکتوں اور فیلڈ میں کام کرنے کے بارہ میں بتاتے رہتے۔ آپ کی محنت اور محبت بھری دعاؤں کے نتیجے میں آج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خاکسار بھی بطور معلّم وقف جدید خدمت دین کی توفیق پارہا ہے۔
دسمبر2003ء میں خاکسار کا تبادلہ پنجاب سے علاقہ نگرپارکر میں ہوگیا اور تب سے یہاں کے مختلف مراکز میں خدمت کی توفیق عطا ہورہی ہے۔ اس وقت طاہرنگر کے مرکز میں متعیّن ہوں جہاں کی مخلص جماعت میں کسی دَور میں مکرم محمد احمد فیض صاحب بھی خدمت کی توفیق پاچکے ہیں۔ خاکسار اپنے حلقے کے دُوردراز مقامات پر قائم مختلف جماعتوں میں جب جاتا ہےتو اکثر مقامات پر لوگ مرحوم فیض صاحب کا نہایت محبت سے ذکر کرتے ہیں اور بعض اُن کے ذاتی احسانات گنواتے ہوئے جذباتی ہوجاتے ہیں۔ طاہرنگر مرکز سے قریباً 6کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے والے ایک شخص نے آب دیدہ ہوکر مجھے بتایا کہ فیض صاحب عمررسیدہ ہونے کے باوجود کبھی پیدل، کبھی اونٹ پر اور کبھی گھوڑے پردُور دراز تک تبلیغ اور لوگوں کی بڑی خدمت کیا کرتے تھے۔ بھگوان نے اُن کے ہاتھ میں بڑی شفا رکھی تھی اوروہ اپنے نام کی طرح بلاشبہ فیض رساں وجود تھے۔
ایسے واقعات کے سامنے آنے کے بعد میرے لیے اس علاقہ میں خدمت کا میدان اور بھی زیادہ وسیع اور آسان ہوتا گیا کیونکہ اُستادِ محترم کی یادیں، اُن کے کام کرنے کا طریق اور اُن کی وہ محبت جو صحرائے تھر میں بسنے والے سینکڑوں لوگوں کے دِلوں میں دھڑک رہی تھی مجھے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے مشعل راہ کاکام دیتی رہی۔
ہندو آبادی سے گہرا تعلق ہونے کی وجہ سے ہندو مذہب کا آپ کافی علم رکھتے تھے۔ ہندو ؤں کی کتب کا بڑی محنت اور گہری نظر سے مطالعہ بھی کیا تھا اور اصل کتب کے حوالے محفوظ کیے تھے۔ تھر کے ان تپتے صحراؤں میں آپ نے قریہ قریہ پھر کرخداتعالیٰ کی توحید اور احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ دکھی اور سسکتی ہوئی انسانیت کی خدمت کی۔ اُن کے روحانی علاج کے ساتھ ساتھ اُن کی جسمانی بیماریوں کو دُور کرنے میں بھی ہمہ وقت مصروف رہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں