مکرم پروفیسر سید سلطان محمود شاہد صاحب

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 30؍اپریل 2021ء)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍مئی2013ء میں مکرم ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کے قلم سے محترم ڈاکٹر سید سلطان محمود شاہد صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
ڈاکٹر سید سلطان محمود شاہد صاحب ایک نیک نفس، متواضع، مخلص، نافع الناس اور متوکّل وجود تھے۔آپ کالج کے قدیمی اساتذہ میں سے تھے اور قادیا ن کے زمانہ سے کالج کے سٹاف پر آگئے تھے۔ پھر ربوہ میں تو کالج کے قومیائے جانے تک سٹاف پر رہے اور اسی جرم کی سزابھی پائی مگر ان کے پائے استقلال میں کو ئی لغزش نہیں آئی۔
ہم نے آپ کو کالج میں داخل ہو نے کے پہلے کے زمانے سے جاننا شروع کیا کیونکہ آپ کی سائنس کی درسی کتابیں یونیورسٹی کے نصاب میں شامل تھیں۔ تعلیمی حلقوں میں ایس ایم شاہد کا نام بڑا نام تھا اور سارے پنجاب میں واحد یونیورسٹی میں ان کی درسی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھائی جاتی تھیں۔ ہم نے پہلی بارآپ کو ربوہ میں دیکھا تو ذرا یقین نہ آیا کہ یہ وہی مشہور و معروف پروفیسر ہے جس کی کتابیں یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہیں۔ہم نے یہ دیکھا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان سا آدمی ننھی منی بیٹی کی انگلی پکڑے سبزی خرید رہا ہے۔ کوئی اکڑفوں اس میں نہیں کہ مشہور پروفیسر ہے۔
قبلہ شا ہ جی اپنے لباس کی طرف سے لاپروا تھے۔ جو ملا پہن لیا  محلّے میں تو آپ کا یہی چلن تھا البتہ کالج میں بشرٹ اور پتلون پہنتے تھے۔کبھی کبھارسوٹ بھی زیب تن فرماتے تھے۔ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے کا لج میں سے سب سے پہلے شاہ جی ہی لندن گئے۔ واپس آئے تو خیال تھا کہ ڈاکٹر ایس ایم شاہد اب تو سوٹ بوٹ میں ملبوس رہا کریں گے۔ مگر نہیں، شاہ جی وضع دار تھے اپنی وضع پر قائم رہے۔ اپنے خرچ پر پی ایچ ڈی کرنے گئے تھے۔ وہاں ولایت میں بھی مشن ہاؤس سے رابطہ استوار رکھا اور باقاعدہ وقت دیتے رہے۔
کا لج کے سٹاف میں آپ خاصے سینئر سٹاف ممبر تھے۔ کبھی کبھار پر نسپل کی قائمقامی کرنا پڑتی توپرنسپل کی کر سی پر یو ں بیٹھتے جیسے زبردستی بٹھائے گئے ہیں۔کا لج کے قومیائے جانے کے بعد شاہ جی پر بہت سختیوں کے زمانے آئے، اِدھر اُدھر تبادلے اور ان کے مرتبے سے فروتر جگہوں پر تعیناتی ہوتی رہی مگر جھیل گئے۔حالانکہ پنجاب کے سینئر ترین اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ اسی زمانے میں آپ نے سکول کی بنیاد رکھی اور اس کو محکم ادارہ بنا دیا۔ایک انٹرکالج بھی۔یہ ادارے کسی مالی منفعت کے لیے نہیں کھولے گئے۔ ان کے اندر کام کرنے کی جو لگن اور کچھ کر گزرنے کی جو دُھن تھی یہ سب اس کا کرشمہ تھا کہ ضعیف العمری میں بھی چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔
شاہ جی طبیعت کے دھیمے تھے۔ جو نیئر سٹاف سے بات کرتے وقت تو لہجہ اَور زیادہ مر بیانہ اور دوستانہ ہو جاتا تھا۔ طلباء تو ان کے ساتھ یک گونہ بے تکلّفی بھی برت لیتے تھے مگر ان کے ماتھے پر کبھی کوئی شکن نہ آتی۔یو نین کے انچارج بھی رہے۔ طلباء کے بارے میں سختی کا رویہ کبھی نہ اپناتے۔ اگر کو ئی طالب علم کسی قصور کے سلسلہ میں ان کے سامنے پیش ہو تا تو پہلے تو اس کے ساتھ ہمدردی کرتے کہ ’بَلّی!تم نے یہ کا م کیوں کیا؟‘ بَلّی کا پنجابی لفظ بڑا پیار آمیز ہے جس میں باپ کی شفقت بھی شامل ہے بڑے بھائی کا پیارا ور سر پر ست کی سر زنش بھی۔ پھر بڑے پیار سے اسے سمجھاتے اور وہ شرمندہ ہو کر معافیاں مانگنے لگتا۔ ہم نے شاہ جی کو جرمانوں سے اصلاح کر تے نہیں دیکھا پیار سے بے راہ رووں کو سیدھی را ہ پر لاتے دیکھا ہے۔ سائنس ہم نے پڑھی نہیں اس لیے ان سے یا ان کی درسی کتب سے استفادہ کا موقع نہیں ملا۔ ہاں ان سے طلباء کو رام کرنے کا ہنر سیکھا ہے۔ بچوں کو محبت دوگے تومحبت پاؤگے۔
شاہ جی سے ہمارے تعلقات محلّہ داری کے رہے یا سینئر سٹاف کے، یو نین کے ناطے سے بھی۔ ادب کا بڑا صاف ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ مضمون وغیرہ بھی لکھتے تھے مگر ان کا میدان اَور تھا۔ کالج کے میگزین ’’المنار‘‘ میں قبلہ شاہ جی کا ایک مضمون چھپا جو مددگار کارکن شادیؔ کے بارے میں تھا۔ شادیؔ کو معلوم ہوا تو وہ آگ بگولہ ہونے لگا کہ شاہ جی کو ہمت کیسے ہوئی کہ وہ میرے بارے میں ’’لکھیں‘‘۔ وہ پر انے خیالات کا اَن پڑھ آدمی تھا۔اس کو ناراض کر نے کو اتنی بات ہی کا فی تھی کہ کسی نے اس کے بارے میں لکھاہے اور وہ چھپا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ چھپتی وہی بات ہے جو اچھی نہ ہو۔ ہم نے اسے بہتیرا سمجھایا کہ شاہ جی نے تمہاری بہت تعریف کی ہے۔ اس کا جواب تھا کہ کاغذ کالا کر کے میرا منہ کالا کر نے کی کیا ضرورت تھی؟ اس معاملہ نے بہت طول کھینچا۔ شاہ جی کئی دن شادی سے منہ چھپاتے پھرے۔ پھر ایک دن حضرت پرنسپل صاحب نے شادیؔ کا غصہ رفع کیا اور شاہ جی کا قصور معاف کر وایا مگر شادیؔ کا دل بہت بعد کو جاکر صاف ہوا۔
سرگودھا بورڈ کے سینئر ممتحن اور پر چے بنانے والے شاہ جی بھی تھے اور ہم بھی۔ آپ تو اتنے سینئر تھے کہ امتحانی مراکز کی انسپکشن کے لیے بھیجے جاتے۔ آپ بسوں پر سفر کرتے ہو ئے مراکز میں جا پہنچتے۔ کسی کو سان گمان بھی نہ ہو تا کہ یہ سادہ سے لباس میں خراماں خراماں آنے والا شخص انسپکٹر ہے۔ ایک بار اپنے ہی کالج کے امتحانی مرکز کے انسپکٹر بھی مقررہوئے۔ فیصل آباد کے ایک کیمسٹری کے استاد امتحانی مرکز کے نگران تھے۔ انہوں نے آپ کو دیکھا تو سمجھا ازراہ مروّت اپنے کیمسٹری کے رفیق کا ر کو ملنے آئے ہیں۔ مگر جب آپ نے آکر ریکارڈ مانگاتو و ہ حیران رہ گئے۔ شاہ جی نے پورا پورا معائنہ کیا اور کوئی رُورعایت روانہیں رکھی۔
عملی امتحانات میں شاہ جی طلبا ء پر مہربان رہتے تھے۔ فرماتے تھے ہماری ایک آدھ نمبر کی خِست سے بچے کی ڈویژن متأثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے مگر ناجائز رعایت نہ کر تے تھے، نہ اپنے کالج میں آنے والے ممتحنوں سے اپنے طلباء کے لیے ناجائز رعایت کی توقع رکھتے تھے۔
تعلیم الاسلام کالج ربوہ اُن کالجوں میں تھا جو ہمیشہ سے پوسٹ گریجوایٹ کلاسوں کے شروع کر نے میں دلچسپی رکھتے تھے چنانچہ عر بی، فزکس اور کیمسٹری تین مضامین ایسے تھے جن میں پو سٹ گریجوایٹ کلاسوںکے آغازکے انتظامات ہو رہے تھے۔ نئے کیمپس میں فزکس کے ساتھ اوپر کی منزل کیمسٹری کی پوسٹ گریجوایٹ کلاسوںکے لیے بنائی گئی تھی۔ یو نیورسٹی یا حکومت کی جانب سے جتنے بھی کمیشن کالج کی مو زونیت کے معائنہ کے لیے آتے تھے ان میں عربی، فزکس اور کیمسٹری تینوں مضامین کے ماہرین شامل ہوتے تھے اور ہر کمیشن کی متفقہ رپورٹ یہی ہو تی تھی کہ کالج میں مناسب عمارت، تربیت یافتہ سٹاف، لائبریری اور لیبارٹریاں موجود ہیں اور تینوں مضامین کا سٹاف اپنے مر تبہ میںاعلیٰ درجہ کا ہے۔ عر بی اور فزکس کی کلاسیں شروع ہوگئیں مگر کیمسٹری کی کلا سوں میں کوئی روک پڑگئی اور پھر کالج قومی تحویل میں آگیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صرف تعلیم الاسلام کالج ہی ایسا ادارہ ہے جس کو محض تعصب کی بنا پر قومی تحویل سے رہا نہیں کیا جاتا ورنہ کئی ادارے واپس کیے جا چکے ہیں۔بہرحال محترم شاہ جی کا اٹھ جانا صرف کالج کے طلباء کے لیے ہی نہیں پاکستان کے نظام تعلیم کے لیے ایسا صدمہ ہے جسے مدتوں بھلایا نہیں جاسکے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں