مکرم ڈاکٹر انعام الرحمٰن انور صاحب شہید

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل یکم مئی 2020ء)

لجنہ اماء اللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (شمارہ 2۔ 2010ء) میں مکرمہ امۃالحفیظ شوکت صاحبہ نے اپنے مرحوم شوہر محترم ڈاکٹر انعام الرحمٰن صاحب شہید کا ذکرخیر کیا ہے۔ قبل ازیں شہید مرحوم کا مختصر تذکرہ 31؍جنوری 2020ء کے شمارے کے کالم ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں کیا جاچکا ہے جسے ویب سائٹ میں بھی سرچ کیا جاسکتا ہے۔
مکرم ڈاکٹر انعام الرحمٰن صاحب 14؍جون 1936ء کو قادیان میں محترم عبدالرحمن انور صاحب (سابق پرائیویٹ سیکرٹری و انچارج تحریک جدید) کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا حضرت محمد عبداللہ بوطالوی رضی اللہ عنہ تھے جنہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر ربوہ کی بنیاد رکھنے کے وقت ربوہ کے ایک کونے پر بکرا ذبح کرنے کی سعادت بھی ملی تھی۔
مکرم ڈاکٹر صاحب صرف 49 سال کی عمر میں سکھر کے نواحی قصبے میں شہید کردیے گئے۔ آپ اس قصبے میں اکیلے احمدی تھے۔ بہت عرصے سے آپ کو دھمکی آمیز خطوط مل رہے تھے کہ اس جگہ کو چھوڑ دو ورنہ مار ڈالیں گے۔ گھر کی دیوار پر بھی بارہا گالیاں اور دھمکیاں لکھ دی جاتیں۔ شہید مرحوم کی والدہ نے گھبراکر کبھی آپ سے قصبہ چھوڑ دینے کو کہا تو آپ نے کہا کہ اگر سندھ کی زمین میرا خون مانگتی ہے تو مَیں ہنس کر دوں گا اور اگر مَیں یہ علاقہ چھوڑ دوں تو یہاں کوئی احمدی نہیں ہوگا۔
ایک روز آپ کے ملازم نے بتایا کہ مولویوں نے اُن لوگوں کی ایک لسٹ تیار کی ہے جنہیں قتل کرنا ہے، اُس لسٹ میں آپ کا بھی نام ہے۔ آپ نے ہنس کر کہا کہ جو رات قبر میں آنی ہے وہ قبر میں ہی آئے گی۔
ایک روز اسکوٹر پر اپنے بیٹے کے ساتھ جب آپ جمعہ پڑھنے سکھر جارہے تھے تو ایک ویران جگہ پر سڑک بلاک کرکے آپ کو روک لیا گیا۔ درختوں میں سے تین نوجوان لڑکے (جن کی عمریں تقریباً اٹھارہ برس تھیں) کلہاڑیاں اور پستول لیے آپ کی طرف بڑھے تو آپ نے اُن کو للکار کر کہاکہ تم مجھے نہیں جانتے۔ وہ گھبراکر پیچھے ہٹے تو اسی اثناء میں آپ اسکوٹر بھگا کر وہاں سے نکل گئے۔ پولیس میں رپورٹ درج ہوئی۔ وہ لڑکے گرفتار ہوئے اور پھر رہا کردیئے گئے۔ اس پر جماعت کی طرف سے آپ کو حفاظت کے لیے خدام مہیا کرنے کی پیشکش بھی ہوئی لیکن آپ نے کہا کہ مَیں تو ڈاکٹر ہوں اور مجھے ہر جگہ جانا ہوتا ہے اس لیے یہ مشکل ہوجائے گی۔ پھر آپ نے ایک مقامی زمیندار سے پوچھا کہ کیا مجھے قتل کرنے کی کوئی سازش ہورہی ہے؟ اُس نے کہا کہ میرے قصبے میں یہ کبھی نہیں ہوگا لیکن باہرکا مجھے معلوم نہیں۔
کچھ عرصے بعد جب سکھر میں جمعہ ادا کرکے واپس آتے ہوئے آپ نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ دو احمدی احباب ملازمت سے ریٹائر ہوکر ربوہ جارہے ہیں، اُن کی دعوت کرنے کے لئے بازار سے کچھ خرید لیتے ہیں۔ پھر آپ نے بازار پہنچ کر ایک بیکری سے سٹول لے کر اپنی اہلیہ کو کہا کہ تم کھڑی کھڑی تھک جاؤگی اس پر بیٹھ جانا۔ اور خود گوشت خریدنے چلے گئے۔ جب کافی دیر تک واپس نہ آئے تو آپ کی اہلیہ کو گھبراہٹ ہوئی۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ اسی اثناء میں وہاں سے دو تین آدمی باتیں کرتے ہوئے گزرے کہ عبدو کے معزز ڈاکٹر کو قتل کردیا گیا ہے۔ میرے منہ سے نکلا کہ وہ میرے شوہر ہیں، مجھے وہاں لے چلو۔ وہ کچھ دُور مجھے لے گئے جہاں میرے شوہر خون میں لت پت گرے ہوئے تھے۔ مَیں نے اُن کو اٹھایا، ہلایا، آوازیں دیں مگر شاید وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔ میرے شور مچانے پر صرف ایک سبزی فروش میرے پاس آیا اور میرے شوہر کو پہچان کر کہنے لگا کہ یہ تو بڑے اچھے انسان ہیں۔ اُس کے پوچھنے پر مَیں نے کہا کہ مجھے احمدیہ مسجد پہنچادو۔ مسجد قریب ہی تھی۔ مَیں مربی صاحب کے سامنے اس حالت میں گئی کہ میرے ہاتھ پاؤں اور برقعہ پر جگہ جگہ میرے شوہر کا خون لگا ہوا تھا۔ مربی صاحب نے پریشانی سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ صدمے سے مَیں بول نہیں سکی صرف خون سے بھرے ہوئے ہاتھ اُن کے سامنے کردیئے۔ سبزی والے نے ساری بات اُن کو بتائی تو وہ مجھے اپنی بیوی کے حوالے کرکے بازار کی طرف بھاگے۔ پھر کئی احمدی بھی وہاں اکٹھے ہوگئے۔ ڈاکٹر صاحب کی نعش کو ربوہ لاکر پہلے شہداء کے قبرستان میں اور تین سال بعد بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔
شہید مرحوم نے شہادت سے پہلے زخمی ہونے کی حالت میں اپنے خون سے سامنے والی دیوار پر

’’لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ‘‘

لکھا اور قاتلوں سے کہا کہ اسی کلمے کی وجہ سے تم مجھے مارتے ہو، یہ مجھے اتنا عزیز ہے کہ آج مَیں اسے اپنے خون سے لکھتا ہوں۔ پولیس نے اس واقعہ کی رپورٹ تو درج کرلی لیکن کسی کو نہیں پکڑا گیا۔ اخباروں میں ڈاکٹر صاحب کی شہادت کی خبریں شائع ہوئیں تو کئی غیرازجماعت معززین بھی تعزیت کے لئے گھر آئے۔
شہید مرحوم کی اہلیہ مزید بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر کی شہادت سے تین ماہ قبل میری بیٹی کی شادی ہوئی تھی جبکہ بیٹے محمودالرحمٰن انور کی عمر14سال تھی۔ میرے شوہرصوم و صلوٰۃ کے پابند اور تہجد گزار تھے۔ ہماری ازدواجی زندگی 23سال رہی۔ اس عرصے میں مجھے کبھی انہوں نے نہ ڈانٹا نہ اونچی آواز میں بات کی۔ہماری خوشگوار ازدواجی زندگی کی مثال دے کر وہ کہتے تھے کہ اللہ کرے کہ سب کی ایسی ہی ہو۔ شہادت سے قبل اُن کو کچھ احساس ہوگیا تھا۔ ایک دن سودا خرید کرلائے جو موٹرسائیکل پر رسّی سے بندھا ہوا تھا۔ حسب سابق ملازم اس کو کھولنے لگا تو انہوں نے کہا کہ آج بیگم صاحبہ کھولیں گی۔ مجھ سے رسّی نہ کھلی تو مَیں نے قینچی سے کاٹ دی۔ آپ ہنس کر کہنے لگے ایک رسّی تو تم سے کھلتی نہیں میرے بعد تم کیا کروگی؟ مَیں نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں؟ کہنے لگے: زندگی کا کیا پتہ!۔ پھر شہادت سے کچھ پہلے چاول خرید کر لائے تو کہا کہ پتہ نہیں یہ میرے نصیب میں ہیں کہ نہیں۔ مَیں نے کہا کہ آپ کی ایسی باتوں سے مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے اور خوف آتا ہے۔
شہید مرحوم کی والدہ نے بہت صبر کے ساتھ بیٹے کی شہادت کا صدمہ برداشت کیا۔ وہ رات کو تہجد میں بہت روتی تھیں لیکن کسی کے سامنے نہیں روتی تھیں بلکہ دوسروں کو بھی کہتیں کہ کیوں روتے ہو، میرا بیٹا تو زندہ ہے۔
شہید مرحوم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بہت حسن سلوک کرتے تھے۔ غریب، بیوائیں اور یتیم اُن کی مدد سے حصہ پاتے جنہیں وہ اپنی گرہ سے دوائیں بھی خرید کردے دیتے۔ شہادت کے بعد اُن کی ڈائری سے معلوم ہوا کہ انہوں نے چار بے سہارا بوڑھوں کا وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔ آپ موصی تھے لیکن ہمیشہ زائد ادائیگی کرتے تھے۔ بچوں کو جیب خرچ دے کر کہتے کہ اپنا چندہ خود ادا کرو۔ آپ سکھر میں قائد ضلع خدام الاحمدیہ بھی رہ چکے تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/wLaZ5]

اپنا تبصرہ بھیجیں