میرا قبولِ اسلام

انگریزی ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ امریکہ اکتوبر و نومبر 2010ء میں مکرمہ لیلیٰ اسحاق (Laila Isack) صاحبہ اپنی قبول احمدیت کی داستان بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ مَیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی لیکن مَیں نے تبدیلی مذہب کے بارے میں بارہا غور کیا۔ شاید اس لیے کہ میری والدہ نے اسلام خود قبول کیا تھا۔ وہ ایک کیتھولک گھرانے میں پروان چڑھیں اور سالہاسال تک صداقت کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے بعد وہ مسلمان ہوگئیں۔ یہ میری پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ مَیں بچپن سے ہی سُنّیوں کی مسجد میں جاتی اور نماز کے نتیجے میں اپنے اندر پیدا ہونے والی تسکین کو محسوس کرتی۔ میرے بچپن میں ہی میری والدہ نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔ چنانچہ مَیں بھی اپنی والدہ کے نقشِ قدم پر چلتی رہی۔
شعور کی منازل طے کرتے ہوئے مَیں نے سوچنا شروع کیا کہ کیا میری والدہ کا احمدیت قبول کرنے کا فیصلہ درست تھا یا پھر امریکہ کی مادیت اور دہریت سے بھری دنیا کی چکاچوند زیادہ بہتر ہے۔ مَیں جوں جوں بڑی ہوتی گئی تو میرا ایمان مضبوط تر ہوتا گیا اور مَیں نے فیصلہ کیا کہ اسلام ہی میرے ایمان کی بنیاد ہوگا۔ اگرچہ مجھے بچپن سے اسلام کے بارے میں ہی بتایا گیا تھا لیکن مَیں نے شعور کے ساتھ ساتھ مطالعہ کیا اور غور کیا اور خود احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کرنے کی توفیق پائی۔ میرے خیال میں اسلام کو قبول کرنا (Conversion to Islam) ایسا ہی ہے جیسے ایک مثبت اور ایک منفی خصوصیات رکھنے والے عناصر کو اکٹھا کیا جائے تو وہ ایک نئی چیز میں convert ہوجاتے ہیں مثلاً ہائیڈروجن گیس کو آکسیجن سے ملایا جائے تو وہ مصفّا پانی میں convert ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اسلام کی مثبت تعلیمات کو جب کسی انسان کی منفی حالت کے ساتھ ملایا جائے تو اُس انسان کی روح مصفّا پانی کی طرح پاکیزہ ہونے لگتی ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ تبدیلی دراصل کردار کی تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں مجرمانہ ذہنیت کا ایک شخص بھی ایماندار بن جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت 34 میں فرماتا ہے کہ یقینا ًاللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دُور کردے اور تمہیں اچھی طرح پاک کردے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/uN6nC]

اپنا تبصرہ بھیجیں