نومولود بچوں کی صحت کے چند مشاہدات – جدید تحقیق کی روشنی میں

نومولود بچوں کی صحت کے چند مشاہدات – جدید تحقیق کی روشنی میں
(عبادہ عبداللطیف)

نومولود کی آمد کے ساتھ اس کی صحت کے حوالے سے کئی مسائل سامنے آجاتے ہیں اور خاندانوں کی بڑی بوڑھیاں اس کے تمام مراحل پر اپنے تجربات کی روشنی میں اپنی مستند رائے پیش کرتی چلی جاتی ہیں- تاہم نئی تحقیقات کی روشنی میں بھی اس بارے میں کئی رپورٹس منظرعام پر آتی رہتی ہیں جن میں سے چند منتخب رپورٹس درج ذیل ہیں:
٭ سائنسی تحقیق سے متعلق جریدے ’’کرنٹ بیالوجی‘‘ میں شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں، فرانس اور جرمنی میں مشترکہ طور پر کی جانے والی ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اب تک سمجھا جانے والا یہ خیال غلط ہے کہ بچوں کا رونا کسی ذہنی کاوش کا نتیجہ نہیں ہوتا۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نومولود بچے درحقیقت اپنے مادری لہجے میں ہی روتے ہیں۔ یہ تحقیق ایک جرمن یونیورسٹی، انسانی ذہانت پر تحقیق کرنے والے جرمن ادارے اور انسانی ذہانت، زبان اور نفسیات پر تحقیق کرنے والے فرانسیسی ادارے نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ سینکڑوں بچوں پر کی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نومولود بچے جن کا تعلق مختلف زبانیں بولنے والی ماؤں سے ہوتا ہے، مختلف انداز میں روتے ہیں لیکن ایک ہی زبان بولنے والی ماؤں کے بچوں کے رونے کا انداز ایک سا ہوتا ہے۔
یہ بات پہلے ہی ثا بت ہوچکی ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے پیدائش سے تین مہینے پہلے نہ صرف اپنی ماں کی آواز پہچاننا شروع کردیتے ہیں بلکہ وہ اپنی مادری اور دیگر زبانوں میں تمیز بھی کرسکتے ہیں۔
٭ برطانوی طبی ماہرین نے نومولود بچوں کو انتہائی نگہداشت کے ’’انکوبیٹرز‘‘ میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکوبیٹر میں برقی فیلڈ کی موجودگی کے باعث بہت چھوٹے بچوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں اور خاص طور پر بچوں کے دل کو سخت خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس نئی طبی تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انکوبیٹرز میں لگی ہوئی موٹر کے آن اور آف ہونے سے جو الیکٹرانک فیلڈ پیدا ہوتا ہے اُس کے نتیجے میں نومولود بچوں کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے کے علاوہ دیگر طبی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں جن کے باعث انکوبیٹرز میں رکھے جانے والے بچے بڑے ہوکر عارضۂ قلب میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے تحقیق کے دوران 43 نومولود بچوں کے دل کی دھڑکن اُس وقت نوٹ کی جب موٹر چل رہی تھی۔ اُس وقت الیکٹرانک فیلڈ کی وجہ سے بچوں کے دل غیرمعمولی طور پر تیز دھڑک رہے تھے۔ جس کے بعد اُن میں سے 27 بچوں کے دل کی دھڑکن اُس وقت چیک کی گئی جب موٹر بند تھی۔ اُس وقت الیکٹرانک فیلڈ کی عدم موجودگی کے باعث اُن بچوں کے دل کی حالت قدرے بہتر ہوچکی تھی۔
٭ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ حمل سے پہلے اور دوران حمل جو خواتین فولک ایسڈ استعمال کرتی ہیں، اُن کے پیدا ہونے والے بچے دل کی بیماری سے زیادہ محفوظ دیکھے گئے ہیں۔ کینیڈا میں ہونے والی اِس طبی تحقیق میں نومولود بچوں میں دل کی بیماریوں کا جائزہ لیا گیا تھا اور اِس تحقیق کے نتائج کو برٹش میڈیکل جرنل نے شائع کیا ہے۔ اس تحقیق کو انسٹیٹیوٹ آف فوڈ ریسرچ کے ڈاکٹر سیانا آسٹیلے نے مکمل کیا ہے اور اس میں فولک ایسڈ کو ایک اہم عنصر کے طور پر نوٹ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما کے دوران فولک ایسڈ جہاں دیگر اعضاء کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے وہاں دل کی ساخت کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور خاص طور پر دل کی شریانوں کے نظام کو درست رکھتا ہے۔
٭ امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق نومولود بچوں میں وٹامن سی کی کمی اُن کی ذہنی نشو و نما میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔ چنانچہ دوران حمل ماں میں اس وٹامن کی کمی سے متأثر ہوکر پیدا ہونے والے بچوں میں نہ صرف بے حسی کی شکایت دیکھی گئی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسے بچے دوسروں کی نسبت یادداشت کے حوالے سے بھی 30 فیصد صلاحیت کے ساتھ ترقی کرتے ہیں۔ کوپن ہیگن لائف سٹائل سائنسز یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق کے دوران وٹامن سی کی کمی کے نتیجے میں حمل کے عرصے کے دوران اور بعد میں پیدا ہونے والے اچھے اور برے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ جس کے بعد ماہرین نے زور دیا ہے کہ حمل وضع ہونے سے لے کر چھاتی سے دودھ پلانے کے عرصے تک بچوں میں وٹامن سی کی کمی واقع نہیں ہونی چاہئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Sh20z]

اپنا تبصرہ بھیجیں