نیند کے مسائل اور ان کا حل نمبر 2 – جدید تحقیق کی روشنی میں

نیند کے مسائل اور ان کا حل- جدید تحقیق کی روشنی میں
(ناصر محمود پاشا)

اگرآپ خدانخواستہ بے خوابی میں مبتلا ہیں تو جلد ہی اس کا علاج کروانا ضروری ہے کیونکہ نیند کی کمی کئی قسم کی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں‌کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے- اس حوالے سے چند رپورٹس ملاحظہ کریں:
٭ ایک تحقیق نے اِس خیال کو ردّ کیا ہے کہ اپنے فرائض کی خوش اسلوبی سے انجام دہی کے لئے پُر سکون نیند ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پُرسکون نیند لینے اور انسان کی کارکردگی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن پر سکون نیند نہ آنے کا احساس انسانی کارکردگی پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔
جریدے ’سلیپ‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم نیند کے بارے میں اپنا اندازِ فکر یا رویہ تبدیل کرلیں تو ہم کم تھکاوٹ محسوس کریں گے۔ یہ تحقیق ایری زونا سٹیٹ یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ اینڈ ہیلتھ انوویشن میں کی گئی ہے جس میں 3078 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جنہیں سونے کے دوران سانس کے مسائل کا سامنا تھا۔ پانچ برس تک اِن افراد کے معمولات پر نظر رکھی گئی، جس سے ظاہر ہوا کہ روزمرہ کے معمولات کی انجام دہی میں صرف ان لوگوں کی کارکردگی خراب تھی جو رات کے وقت پُرسکون نیند نہ آنے کی شکایت کیا کرتے تھے۔ ایسے افراد ڈپریشن اور سماجی مسائل میں بھی مبتلا تھے۔
تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نیند کے مسائل میں مبتلا افراد کے مسائل میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید خرابی آئی لیکن اس کا ان روزمرہ کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
٭ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے خوابی کے مریضوں کو بلاتاخیر اس کا علاج کروانا چاہئے کیونکہ یہ ڈپریشن اور جسمانی دردوں میں مبتلا کرنے کے علاوہ کئی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ بے خوابی سے مراد یہ ہے کہ آپ کو نیند برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہو یا صبح اٹھتے وقت آپ خود کو تازہ دم محسوس نہ کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بے خوابی کا مرض قابل علاج ہے لیکن اگر آغاز میں ہی اس کا علاج نہ کیا جائے تو پھر قابو پانا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔
’’USA-Today‘‘ کی ایک رپورٹ میں امریکی ادارے نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 30 فیصد امریکی نیند کے مسائل کا شکار ہیں۔
براؤن یونیورسٹی کے الپرٹ میڈیکل سکول کی پروفیسر کیتھرین شارکے کہتی ہیں کہ نفسیاتی طریقے اور ادویات کے ذریعے بے خوابی کے مسئلے پر قابو پانا ممکن ہے۔ لیکن دراصل بے خوابی ایک اکتسابی عمل ہے یعنی سیکھا جانے والا رویہ ہے۔ مثلاً جب آپ بستر میں جاکر سونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن سوتے نہیں ہیں تو اس وقت آپ گویا بے خوابی کا عمل سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ میں اپنے مریضوں پر سب سے پہلے کرداری طریقۂ علاج استعمال کرتی ہوں۔ تاہم میرے پاس بہت سے ایسے مریض آتے ہیں جو نیند کے لئے دوائیں استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور وہ دوائیں ان کو فائدہ بھی دے رہی ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ ایسے مریض بھی آتے ہیں جن پر نیند کی دوائیں بے اثر ہو چکی ہوتی ہیں اور وہ بمشکل چند گھنٹے سوپاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ دواؤں کے کچھ مریضوں پر سائیڈ ایفکٹس بھی ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی آف پینسلوانیا میں ماہر نفسیات پروفیسر مائیکل پرلز کا کہنا ہے کہ نیند کی ادویات سے ’اطواری طریقۂ علاج‘ زیادہ کارگر نہیں ہوتا، جسے مؤثر ہونے کے لئے آٹھ ہفتے درکار ہوسکتے ہیں۔ اِس طریقۂ علاج میں مریضوں کو ورزش، اچھی عادات، ماحولیاتی عوامل اور خود کو پُرسکون رکھنے کے طریقوں کے ذریعے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ رات بھر ایک پُر سکون نیند کیسے لے سکتا ہے۔
ایوانسٹن میں قائم نارتھ شور سلیپ میڈیسن کی میڈیکل ڈائریکٹر لیزا شائیوز کے مطابق نیند وہ عمل ہے جب جسم اپنے زہریلے مادے خارج کرتا ہے اور اپنا دفاعی نظام بحال کرتا ہے۔ چنانچہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی بے خوابی جسم اور ذہن کے درمیان تعلق میں خرابی کا باعث بنتی ہے جس سے ذیابیطس کے علاوہ دل کے امراض اور کینسر کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اور اس سے عمر میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
٭ ایک دوسری تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بستر پر جانے سے قبل اعداد اور الفاظ کے خاکے حل کرنے، تاش کھیلنے اور خوفناک فلمیں دیکھنے سے نیند میں خلل کی بیماری جنم لے سکتی ہے۔ اس تحقیق کو مکمل کرنے کے لئے 65 سال کی عمر تک کے 5ہزار 698 افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ جب ان افراد کا مذکورہ عادات سے دُور رکھنے کے بعد دوبارہ جائزہ لیا گیا تو اُن کی نیند کا دورانیہ بہتر دیکھا گیا۔ اور اِن افراد کو جب جسمانی سرگرمیوں کی طرف مائل کیا گیا تو ان کی نیند مزید بہتر ہوئی۔ اس تحقیق میں شامل لوگوں کے پیشے، تعلیمی قابلیت، آمدن اور دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا لیکن نیند میں خرابی پیدا کرنے میں جو عمل سرفہرست رہا وہ مسلسل بیٹھ کر دماغی کام کرنے کا عمل تھا۔
٭ ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق وزن کم کرنے سے نیند میں خلل، خراٹے لینے کے مرض اور ذیابیطس کی بیماری میں کمی ہوتے دیکھی گئی ہے۔ ’’آرکائیوز آف انٹرنل میڈیسن ویٹ‘‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق زیادہ وزن کے ساتھ نیند میں خراٹے اور خلل نیز ذیابیطس کا مرض بلڈ پریشر میں اضافہ کر کے نیند کی حالت میں ہی ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے۔ بلکہ نیند پوری نہ ہونے سے قوت مدافعت کم ہونے لگتی ہے اور فرد بیماریوں کے نرغے میں آجاتا ہے۔ اس لئے جن افراد کو وزن بڑھنے کے ساتھ نیند میں خرابی کی علامات سے واسطہ پڑے اُنہیں فوری طور پر وزن میں کمی سے متعلق کوشش کرنی چاہئے۔
٭ اور اب آخر میں ایک تفصیلی رپورٹ اُن افراد کے لئے جنہیں نیند نہ آنے کے مسائل درپیش ہیں۔
اِس رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر رات کی آمد کے ساتھ ہی سونے کی خواہش بیدار ہوجانی چاہئے اور بستر پر لیٹنے کے بعد پندرہ منٹ میں نیند آجانی چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو معلوماتی کتاب کا مطالعہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر نیند نہ آنے کا مسئلہ پرانا ہوجائے تو اس کے لئے عمر کے مطابق ورزش کو معمول بنالینا چاہئے تاہم سونے سے قبل کوئی ورزش نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ اِس طرح آپ کی نیند کی آمد ملتوی ہوجائے گی۔ ورزش کرنے کا بہترین وقت صبح کا ہے جس کا رات کی نیند پر عمدہ اثر پڑے گا۔
دوسری ہدایت یہ ہے کہ سونے سے قبل پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے گریز کریں۔ کیونکہ جب تک کھانا اچھی طرح ہضم نہیں ہوجاتا وہ متحرک رہتا ہے اور بے سکون نیند کا باعث بنتا ہے۔ اس کے لئے سونے سے دو گھنٹے پہلے کھانا کھالینا چاہئے البتہ سونے سے قبل ایک گلاس گرم دودھ پُرسکون نیند لانے میں مدد کرسکتا ہے۔
ماہرین کی تیسری ہدایت یہ ہے کہ اپنے رات کو سونے اور صبح جاگنے کا وقت مقرر کریں اور اپنے مقررہ وقت کی پابندی کریں۔ نیند نہ بھی آرہی ہو تو نیند کا ماحول بناکر وقت پر بستر میں چلے جائیں۔
ماہرین کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ جو لوگ زندگی میں مختلف دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اُنہیں نیند بہت کم آتی ہے۔ لیکن اگر آپ واقعی خود کو ذہنی دباؤ میں محسوس کرتے ہیں تو اُس حوالے سے کسی معالج یا ہمدرد دوست سے استفادہ کریں۔
رپورٹ میں ایک ہدایت یہ بھی ہے کہ سونے سے قبل گرم پانی سے غسل کرلیا جائے۔ اس سے جسم اور دماغ کو پُرسکون رکھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ لیکن سونے سے قبل ٹھنڈے پانی سے نہ نہائیں کیونکہ اس طرح آپ خود کو تر وتازہ محسوس کریں گے اور نیند آپ سے دُور ہوجائیگی۔
نیند لانے کے سلسلے میں ماہرین کی آخری ہدایت یہ ہے کہ اپنے بستر کے لئے آرام دہ گدے کا انتخاب کریں، کمرے کو صاف ستھرا، ٹھنڈا اور کم روشن رکھیں۔ اور اپنے سونے والے کمرے کو گہما گہمی والی تقریبات مثلاً پارٹی یا میٹنگ وغیرہ کے لئے استعمال نہ کریں۔ بلکہ اگر ممکن ہو تو بیڈروم میں ٹی وی اور کمپیوٹر بھی نہ رکھیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/8fcKR]

اپنا تبصرہ بھیجیں