ٹائی ٹینک (Titanic) کی تباہی

اس صدی کے شروع میں واٹ سٹار کمپنی نے ٹائی ٹینک نامی ایک بحری جہاز تیار کیا جس کے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ یہ کبھی غرق نہیں ہوسکتا لیکن اپریل 1912ء میں یہ اپنے پہلے سفر کے دوران ہی غرق ہوگیا۔ اُن دنوں حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ انگلستان میں زیر تعلیم تھے۔ آپؓ اپنی خودنوشت ’’تحدیث نعمت‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ جہاز اُس وقت دنیا کا سب سے بڑا جہاز تھا جو ہر قسم کے سامان تعیش سے آراستہ تھا۔ توقع تھی کہ ساؤتھ ہیمپٹن اور نیویارک کے درمیان تیزرفتاری کا سہرا بھی اس کے سر رہے گا۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ غالباً یہی ہوس اس کے غرق ہونے کا باعث ہوئی۔ اس کے مسافروں میں بہت سے مشاہیر، شرفاء اور فضلاء شامل تھے۔ اس کا نچلا حصہ جو پانی کے اندر تھا اس طور پر علیحدہ علیحدہ تقسیم کیا گیا تھا کہ اگر کسی ایک حصہ کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو اسے فوراً باقی حصوں سے علیحدہ سربمہر کردیا جائے اور جہاز کے بقیہ حصوں اور اسکی رفتار پر کوئی مخالف اثر نہ پڑے۔
اخبارات اس جہاز کی خبروں اور تصویروں سے بھرے ہوئے تھے۔ جہاز کے مسافروں میں جہاز کی مالک کمپنی کے ایک ڈائریکٹر مسٹر ایمری بھی شامل تھے لیکن سینکڑوں کی تعداد میں عملہ ساؤتھ ہیمپٹن اور بورن متھ کے علاقہ سے لیا گیا تھا۔
ٹائی ٹینک نے لنگر اٹھایا تو ساؤتھ ہیمپٹن کی بندرگاہ پر لنگرانداز جہازوں نے سلامی کے بگل بجائے اور نعروں اور شادیانوں کے فلک شگاف شور میں یہ بدقسمت جہاز اپنے پہلے اور آخری سفر پر روانہ ہوا۔ اگلے دنوں میں اخبارات میں اس کی رفتار اور مختلف مقامات سے گزرنے کی ہی خبریں تھیں اور دنیا اس کی ہر حرکت سے مطلع ہو رہی تھی کہ چوتھے روز دفعتاً یہ خبر سنی گئی کہ رات کے پچھلے پہر برف کے ٹیلے کے ساتھ ٹکرا کر جہاز نصف گھنٹے کے اندر غرق ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ جہاز پوری رفتار سے جا رہا تھا۔ ٹیلے کے پاس پہنچ کر معلوم ہوا کہ ٹکر ناگزیر ہے۔ جب ٹکر ہوئی تو برفانی ٹیلے کی نوک نے جہاز کا پیٹ ایک سے دوسرے سرے تک چاک کردیا۔
موسم بہار میں شمالی برفانی سمندروں سے برف کے پہاڑ گرم پانیوں کی طرف بہتے آتے ہیں اسلئے یورپ سے شمالی امریکہ جانے والے جہاز سیدھا رُخ کرنے کے بجائے جنوب کی طرف حلقہ ڈال کر اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہیں۔ لیکن ٹائی ٹینک نے جنوبی حلقہ کا راستہ اختیار نہ کیا۔ غرض تو یہی تھی کہ سفر لمبا نہ کیا جائے اور ٹائی ٹینک تیزرفتاری کا سہرا جیت لے۔ لیکن کیا سیدھا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کپتان سمتھ نے خود کیا تھا یا مسٹر ایمری کی ہدایت پر ایسا کیا گیا تھا؟۔ … کپتان نے تو جہاز کی گود میں ہی سمندر میں دفن ہونا پسند کیا لیکن مسٹر ایمری کو سمندر کی لہروں نے قبول کرنے سے انکار کردیا چنانچہ بعد ازاں وہ تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور انہوں نے تسلیم کیا کہ اُنہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کپتان سے کیا تھا کہ ٹائی ٹینک تیزرفتاری کا سہرا جیت لے لیکن راستہ اختیار کرنے سے متعلق وہ بالکل لاعلم تھے۔
تحقیقات سے ثابت ہوا کہ جان بچانے والی کشتیوں کی جتنی تعداد قانوناً لازم تھی، اُس سے بہت کم کشتیاں جہاز پر موجود تھیں اور رات کے اندھیرے میں اچانک آفت میں گرفتار ہو جانے سے جو سراسیمگی پھیلی اس میں کئی کشتیاں غرق ہوگئیں۔ جہاز کے بینڈ والوں نے جب دیکھا کہ بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تو انہوںنے
“Nearer My God to Thee”
کی دھن بجانا شروع کردی اور اسے بجاتے بجاتے جہاز کے ساتھ سمندر کی تہہ میں چلے گئے۔
یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍مارچ 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/frBk6]

اپنا تبصرہ بھیجیں