کرن کرن میں جہاں اک پیام پنہاں ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24مئی 2011ء میں جامعہ احمدیہ کے حوالہ سے کہی جانے والی ایک طویل نظم بعنوان ’’یہ صبحِ نو کی علامت یہ روشنی کا عَلم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ محترم رشید قیصرانی صاحب کی اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

یہ صبحِ نو کی علامت یہ روشنی کا عَلم
کرن کرن میں جہاں اک پیام پنہاں ہے
کہ سر اٹھائیں گی جب ظلمتیں زمانے میں
فلک سے برق بد امن سحاب اتریں گے
دلوں پہ روشنیوں کے نصاب اتریں گے
اور ہر مقام سے روشن ضمیر راہ نورد
چلیں گے راہِ محبت میں کارواں ہو کر
دلوں کی دھڑکنیں بولیں گی یک زباں ہو کر

خدا کرے کہ یہ مکتب قلم کے سلطاں کا
حروف تازہ کا محور رہے زمانے میں
خدا کرے کہ سبھی قافلے محبت کے
یہیں سے لے کے چلیں منزلوں کے پروانے
خدا کرے کہ اسی اک چراغ کی لَو سے
چراغ لاکھ نہیں ، صد ہزار لاکھ جلیں
خدا کرے کہ یہیں سے ہوں فارغ التحصیل
وہ طالبان ، محبت شعار ہو جن کا

خدا کرے کہ اسی کا ہو سایۂ رحمت
خدا کرے کہ اسی کی رہے نگہبانی
وہی جو قادر مطلق ہے سب نشاں اس کے
وہ اس کی قدرت اوّل یہ قدرت ثانی

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9jlt0]

اپنا تبصرہ بھیجیں