یہ زمیں اس کی ، فلک اس کا ، ستارے اس کے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍فروری 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی نظم سے انتخاب پیش ہے:

یہ زمیں اس کی ، فلک اس کا ، ستارے اس کے
یہ دھنک رنگ سبھی حسن یہ سارے اس کے
سارے عالم میں نظر آتے ہیں اُس کے جلوے
چار سو نُور کے بہتے ہوئے دھارے اس کے
ہر مصیبت سے ہر اک غم سے بچاتا ہے وہی
یوں شب و روز گزرتے ہیں سہارے اس کے
اپنے پیاروں کی صداقت کے دکھاتا ہے نشاں
طالبو! دیدہ ورو! دیکھو اشارے اس کے

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں