Tuesday, 18th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 31؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ

محترم احمد حسین شاہد صاحب

August 19, 2019 2 مناظر الفضل ڈائجسٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9 جولائی 2009ء میں مکرم عثمان ناصر صاحب کے قلم سے آپ کے والد محترم احمد حسین شاہد صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔
محترم احمد حسین شاہد صاحب کی وفات 4؍ اگست 2007ء کو ہوئی۔ آپ جامعہ احمدیہ کے شاہد ہونے کے علاوہ عربی فاضل اور اردو فاضل بھی تھے۔ دفتر اصلاح و ارشاد مرکزیہ میں انسپکٹر تھے۔ مسجد اقصیٰ کی عمومی نگرانی کا کام بھی ان کے سپرد ہوتا تھا جو آخری روز تک انجام دیتے رہے۔ ہر کام توجہ اور محنت سے کرنا ان کا شیوہ تھا۔ نمازوں کی پابندی کرتے خواہ آندھی ہو یا بارش مسجد مبارک تشریف لے جاتے۔ بہشتی مقبرہ روزانہ جانا ان کا معمول تھا۔ جس دن وفات ہوئی اُس دن صبح بہشتی مقبرہ سے آ کے کہنے لگے کہ میں تو سب کو سلام کر آیا ہوں۔
آپ اگرچہ بہت شفیق تھے لیکن نماز میں کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔ نہایت صابر و شاکر، متقی اور متوکّل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *