1902ء کے اہم واقعات

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ جنوری 2002ء میں 1902ء کے حوالہ سے اہم واقعات اور تصانیف کے بارہ میں ایک مضمون مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
٭ حضرت مسیح موعودؑ کی تجویز کے پیش نظر جنوری 1902ء میں جناب مولوی محمد علی صاحب کی زیرادارت انگریزی اور اردو زبانوں میں رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ شائع ہوگیا۔ اس رسالہ نے بڑی شہرت پائی۔ کئی سعید روحوں نے حق قبول کیا۔ بعض اخبارات مثلاً ’’البیان‘‘ لکھنؤ، ’’ملّت‘‘ لاہور، ’’کریسنٹ‘‘ لورپول اور ’’ریویو آف ریویوز‘‘ لندن نے اس پر تبصرے لکھے۔ بعض معروف شخصیات نے بھی اپنے تأثرات کا اظہار کیا جن میں نومسلم محمد الیگزینڈر رسل ویب (امریکہ)، شیخ عبداللہ کوئیلم (برطانیہ)، کونٹ ٹالسٹائے (روس) اور پروفیسر ہاٹسما (ایڈیٹر انسائیکلوپیڈیا آف اسلام) شامل ہیں۔
٭ 1902ء میں جماعتی چندوں کا باقاعدہ نظام قائم ہوا۔ 5؍مارچ کو حضورؑ نے ایک اشتہار میں ہدایت فرمائی کہ ہر ایک احمدی لنگر خانہ اور مدرسہ کی ضروریات کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق ماہوار چندہ اپنے پر مقرر کرکے مولوی عبدالکریم صاحب کو اطلاع دے۔ اور اگر کوئی تین ماہ تک اس کی اطلاع نہیں دے گا تو اُس شخص کا نام سلسلہ بیعت سے کاٹ دیا جائے گا۔
٭ اخبار ’’البدر‘‘ 31؍اکتوبر 1902ء کو جاری ہوا۔ نمونہ کا پرچہ ’’القادیان‘‘ کے نام سے چھپا۔ اس کے بعد حضورؑ نے اس کا نام ’’البدر‘‘ تجویز فرمایا۔ اخبار کے مالک و مدیر مکرم بابو محمد افضل صاحب اور مینیجر مکرم منشی فیض علی صابر صاحب تھے۔
٭ 12؍ستمبر 1902ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے نکاح کی تقریب ہمراہ محترمہ سرور سلطان صاحبہ بنت مکرم مولوی غلام حسن صاحب پشاوریؓ منعقد ہوئی۔ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ نے اس نکاح کا اعلان فرمایا۔ شادی مئی 1906ء میں ہوئی۔
٭ اکتوبر 1902ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ کے پہلے نکاح کی تقریب عمل میں آئی جو مکرمہ سیدہ محمودہ بیگم صاحبہؓ بنت حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحبؓ سے طے پایا تھا۔ اس نکاح کا اعلان بھی حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ نے ایک ہزار روپیہ حق مہر پر فرمایا۔ رخصتی اکتوبر 1903ء میں ہوئی۔
٭ ستمبر 1902ء میں حضورؑ نے ڈوئی کو دعوت مباہلہ بذریعہ اشتہار دی۔ اس دعوت مباہلہ کا امریکی اخبارات میں خوب چرچا ہوا۔ آخر کار ڈوئی جلد ہی اخلاقی موت کا شکار ہوا اور پھر فالج کے حملہ کے نتیجہ میں لمبا عرصہ معذور رہنے کے بعد مارچ 1907ء میں بڑی حسرت سے موت کا شکار ہوا۔
٭ برطانیہ میں کلپٹن کے ایک پادری ہیوگ سمتھ پگٹ نے 9؍ستمبر 1902ء کو خدائی کا دعویٰ کیا۔ پگٹ شدید مخالفِ اسلام تھا۔ حضورؑ نے اس کو ایک اشتہار کے ذریعہ متنبہ کیا۔ 23؍اگست 1903ء کو ایک اَور اشتہار میں اس کی نامرادی کی پیشگوئی شائع فرمادی جس کے مطابق یہ جلد ہی موت کا شکار ہوا۔
٭ 1902ء میں ایک ہزار پانچ سو اٹھارہ احباب نے بیعت کا شرف حاصل کیا جو برصغیر اور بیرونی ممالک کے 66 مقامات سے تعلق رکھتے تھے۔
٭ 1902ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی درج ذیل تصانیف کی اشاعت ہوئی:-
1۔ دافع البلا ء وَ معیار اَھل الاصطفآ ء ۔ 2۔ الھُدیٰ وَا التّبصرۃُ لِمَن یّرٰی۔ 3۔ نزول المسیح۔ 4۔ کشتی نوح۔ 5۔ تحفۃالندوہ

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں