ماریشس میں احمدیت

جامعۃ المبشرین ربوہ میں 2 دسمبر 1955ء کو ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی رپورٹ ایک پرانی اشاعت سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3 مارچ 1997ء میں منقول ہے۔ اس تقریب میں ماریشس کے جن مہمانوں نے شرکت کی ان میں محترم محمد عظیم سلطان غوث صاحب بھی شامل تھے جو ان تین خوش قسمت…

نئی مملکت کا نام رکھنے کا مقابلہ – تنزانیہ

ماہنامہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ برطانیہ مارچ،اپریل 1995ء کے انگریزی حصہ میں یہ دلچسپ خبر شائع ہوئی ہے کہ ایک احمدی نے 1964ء میں دنیا میں قائم ہونے والی ایک نئی مملکت کا نام تجویز کیا تھا۔ یہ مملکت دو ممالک ٹانگانیکا اور زنجبار کے ادغام سے قائم ہوئی تھی۔ نام تجویز کرنے کے لئے ایک عالمی…

افریقہ کی ایک قدیم سلطنت – غنا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍اکتوبر 1996ء میں مکرم نسیم سیفی صاحب نے مغربی افریقہ میں ایک قدیم سلطنت کے آثار کا ذکر کیا ہے جس کا نام سلطنت ’’غنا‘‘ تھا اور جو اپنی خوشحالی اور سونے کی افراط کی وجہ سے سنہری سلطنت کہلاتی تھی۔ آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے سلطنت غنا قائم ہوئی…

ہنگری

ہنگری ایک ایسا ملک ہے جسے کوئی سمندر میسر نہیں۔ روسی گھڑسوار خانہ بدوش قوم Magyars نے 896ء میں اس کے کچھ علاقہ پر قبضہ کر کے ہنگری مملکت کی بنیاد ڈالی۔ سولہویں صدی میں ترکوں نے اس پر قبضہ کرلیا اور 1699ء میں آسٹرین اس ملک پر قابض ہوگئے لیکن کچھ عرصہ بعد مقامی…

ماریشس

جزیرہ ماریشس کا رقبہ صرف گیارہ سو مربع میل ہے۔ مؤرخین کے مطابق ماریشس اور ہمسایہ جزیرہ مڈغاسکر کو ساتویں صدی میں عربوں نے دریافت کیا اور اِن کے نام بالترتیب ’’اروبی‘‘ اور ’’قمری‘‘ رکھے لیکن ویران ہونے کی وجہ سے اس کی طرف زیادہ توجہ نہ کی۔ 1507ء میں ایک ڈَچ جہاز ران نے…

البانیہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 21؍اگست 1995ء میں یورپ کے پسماندہ ملک البانیہ کے بارے میں ایک مضمون مکرم محمد محمود طاہر صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ البانیہ کی لمبائی 207 میل اور 50 میل کے درمیان ہے اور کثیر تعداد میں جھیلیں اور دریا اسے قدرتی حسن سے مالا مال کئے ہوئے ہیں۔ یہاں کی…

جمہوریہ ازبکستان

جمہوریہ ازبکستان کی آبادی قریباً دو کروڑ ہے اور یہاں ایک سو سے زیادہ قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ مسلمانوں کا تناسب 80 فیصد ہے۔ دارالحکومت تاشقند ہے اور سمرقند ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس علاقہ میں کئی عظیم مسلمانوں نے جنم لیا ہے۔ …روس کی 60 فیصد کپاس ازبکستان میں پیدا ہوتی…

سیرالیون میں احمدیت کا نفوذ

سیرالیون میں احمدیت کا نفوذ جماعتی لٹریچر کے ذریعہ سے ہوا اور 1921ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیرؓ صحابی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام پہلے مبلغ کی حیثیت سے وہاں پہنچے۔ 1937ء میں باقاعدہ مشن حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب کے ذریعہ قائم ہوا اور 1940ء میں محترم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری بھی…

انڈونیشیا میں نفوذ ِاحمدیت

انڈونیشیا میں احمدیت کے نفوذ کے بارے میں محترمہ نور جمیلہ صاحبہ کا ایک خطاب مجلہ ’’النساء‘‘ کینیڈا سہ ماہی اول 1995ء کے انگریزی حصہ میں شائع ہوا ہے۔ موصوفہ جامعہ احمدیہ جکارتہ کی گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1922ء میں انڈونیشیا سے تین نوجوان دینی تعلیم کے حصول کے لئے ہندوستان گئے اور…