آنحضورﷺ کا عفوو درگزر

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 30 اکتوبر2020ء)

ماہنامہ ’’مشکوٰۃ‘‘ قادیان جون، جولائی 2012ء میں مکرم مبشر احمد خادم صاحب نے رسول اکرمﷺ کے عفو و درگزر پر روشنی ڈالی ہے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا ہے: میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم کرے مَیں اس کو قدرتِ انتقام کے باوجود معاف کردوں۔ جو مجھ سے قطع تعلق کرے مَیں اس کو ملاؤں۔ جو مجھے محروم رکھے مَیں اس کو عطا کروں، غضب اور خوشنودی دونوں حالتوں میں حق گوئی کو شیوہ بناؤں۔
تاریخ انبیاء شاہد ہے کہ اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ دکھ اور مصائب اٹھانے والے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰﷺ تھے۔ آپؐ نے توحید کی خاطر مکّہ والوں کا ہر ظلم برداشت کیا لیکن فتح مکّہ کے دن اپنے جانی دشمنوں کو معاف کرکے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ڈاکٹر گستاویل لکھتے ہیں:
’’محمدؐ نے اپنے لوگوں کے لیے ایک روشن نمونہ قائم کیا، آپؐ کے اخلاق پاک اور بے عیب ہیں۔ آپؐ کی سادگی، آپؐ کی انسانی ہمدردی، آپؐ کا مصائب میں استقلال، آپؐ کا طاقت کے وقت فروتنی اختیار کرنا، آپؐ کی مضبوطی، آپؐ کی کفایت شعاری، آپؐ کا درگزر، آپؐ کی متانت، آپؐ کا قوّت کے وقت عاجزی کا اظہار کرنا، آپؐ کی حیوانوں کے لیے رحم دلی، آپؐ کی بچوں سے محبت، آپؐ کا انصاف اور عدل کے اوپر غیرمتزلزل ہوکر قائم ہونا۔ کیا دنیا کی تاریخ میں کوئی اَور ایسی مثال ہے جہاں اس قدر اعلیٰ اخلاق ایک ہی شخص کی ذات میں جمع ہوں۔ ‘‘
(اُسوۂ انسان کامل صفحہ 830)
اسی طرح گیانی ترلوک سنگھ طوفان نے آنحضور ﷺ کی مدح یوں کی:
’’اسلام دھرم کے بانی حضرت محمدؐ کو اپنی زندگی میں بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ عرب جیسے غیراخلاقی معاشرے میں ایک نیا مذہب شروع کیا جو کہ توحید اور لوگوں کی بھلائی کا مذہب ثابت ہوا۔ انہوں نے لوگوں کو بُت پوجا، چوری، جؤا، ڈکیتی، قتل اور برے اخلاق سے نجات دلاکر زندگی کے اچھے راستوں کی طرف چلایا۔ جہاں گھر کے آدمیوں نے اسلام پر بھروسہ کیا تھا وہیں ہزاروں ہی نہیں بلکہ ان کے آخری ایّام تک کوئی ڈھائی تین لاکھ عورت اور مرد اسلام کے لیے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے اس میں شامل ہوچکے تھے اور عرب کے ہر شہر اور گاؤں میں ایک اللہ کا نام گونجنے لگا۔ یہ سب کچھ آپؐ کے اچھے اخلاق کی وجہ سے ہی ہوا۔ آپؐ کو ایک خدا پر کامل یقین تھا اس لیے آپ اپنے مقصد سے کبھی ڈگمگاتے نہیں تھے۔ پیغمبری صفات کے ساتھ ساتھ آپؐ کے اندر انسانی صفات کی بھی بہتات تھی۔ ‘‘
(پوتر جیون حضرت محمد صاحب جی مہاراج صفحہ 184)
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ مشرکوں پر بددعا اور لعنت کیجیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں لعنت کرنے والے کی حیثیت سے مبعوث نہیں ہوا بلکہ رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں۔
غزوۂ احد میں آنحضورﷺ کے چار دانت شہید ہو گئے، سر اور چہرۂ مبارک بھی زخمی ہوگیا۔ صحابہ نے رنج اور اضطراب کی حالت میں گزارش کی: یا رسول اللہ! کاش آپؐ ان دشمنان دین پر بددعا کرتے۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں لعنت اور بددعا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
اس کے باوجود جب قریش کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اُن کے مظالم کا سلسلہ حد سے بڑھ گیا تو صحابہؓ نے پھر عرض کیا کہ ان ظالموں کے حق میں بددعا کیجیے۔ مگر حضورؐ نے قریش کے حق میں یہ دعا کی کہ الٰہی! میری قوم کو بخش دیجیے کہ یہ لوگ بے خبر ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/H2Siz]

اپنا تبصرہ بھیجیں