بس اسی بات پہ قاتل مرا شرمندہ ہے – نظم

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 11 ستمبر 2020ء)

مجلس انصاراللہ جرمنی کے سہ ماہی ’’الناصر‘‘ اپریل تا جون 2012ء میں ایک محفل مشاعرہ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں شامل مکرم طاہر مجید صاحب کا نمونہ کلام پیش ہے:

بس اسی بات پہ قاتل مرا شرمندہ ہے
قتل کے بعد بھی مقتول ابھی زندہ ہے
کیسے نفرت کو مساجد میں ہے بانٹ رہا
وہ جو ابلیس کا بھیجا ہوا کارندہ ہے

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/npkiJ]

اپنا تبصرہ بھیجیں