تعارف کتاب: ’’تحدیث نعمت‘‘– حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کی خودنوشت سوانح حیات

تعارف کتاب
حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کی خودنوشت سوانح حیات
’’تحدیث نعمت‘‘ کا تعارف
(قسط اول)                                                                     (محمود احمد ملک)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن ۱۲ و ۱۹ فروری ۲۰۲۱ء)

انسان نے جب سے اظہارِ خیالات کا ہنر پایا ہے تب سے ہی اپنی قلبی کیفیات اور پیش آمدہ واقعات کو محفوظ کرنے کا شغل بھی اپنارکھا ہے۔ اس کا آغاز تو اگرچہ اشکال اور تصاویر کی صورت میں ہوا تھا تاہم صدیوں کے سفر میں جب قلم کے استعمال نے اس فن کو جِلا بخشی تو کتبات اور مخطوطات کے ذریعے بھی ذاتی افکار اور تاریخِ زمانہ کو محفوظ کرنے کا سلیقہ پیدا ہوتا چلا گیا۔ ہر دَور میں تحریری نوادرات کو محفوظ کرنے اور دوسروں کو ان سے متعارف کرانے کے تعلق میں جو نت نئے ذرائع اور سہولیات میسر آتی رہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عمدہ افکار و اندازبیان کو نہ صرف مقبولیت و شہرت حاصل ہوتی رہی بلکہ انیسویں صدی عیسوی سے چھاپہ خانوں کے رواج کے بعد تو تاریخ میں مدفون کئی نامی گرامی بادشاہوں، عظیم مفکرین، بلندپایہ عسکری شخصیات، اہم سیاسی رہنماؤں، ادبی دانشوروں اور سماجی خدمتگاروں، حتیٰ کہ کھلاڑیوں اور فن کاروں تک، الغرض زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھنے والے اَن گنت افراد کی خودنوشت یا نامور شخصیات کے بارے میں رقم کی جانے والی سوانح عمریاں اتنی کثرت سے شائع ہوئی ہیں کہ اس کے نتیجے میں مذہب، ریاست، سیاست اور ادب سمیت علم و تہذیب کی ہرشاخ ہی ثمربار ہوئی ہے۔

ایک ایسی ہی خودنوشت سوانح حیات ‘‘تحدیث نعمت’’ آج ہمارے زیر نظر ہے جو حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ کی زندگی کے چند منتخب پہلوؤں اور معزز شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔ دراصل یہ سیرت کی ایک عمدہ کتاب کے علاوہ تاریخ کی بھی ایک مستند دستاویز ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ کی بلند پایہ شخصیت اور دینی و دنیاوی سطح پر آپؓ کی عظیم الشان کامیابیوں کے بارے میں ایسی بے شمار داستانیں ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں جنہیں دنیا کی نامور ہستیوں نے تحریر کیا۔ علاوہ ازیں آپؓ کے اخلاق عالیہ اور بلند روحانی مقام سے متعلق بھی ہزاروں واقعات سپرد قلم کیے جاچکے ہیں۔ نیز آج بھی ایسی کئی شخصیات حیات ہیں جنہوں نے آپؓ سے براہ راست اکتساب فیض کیا اور اُن کی زندگیوں پر آپؓ کی ہمہ جہت شخصیت کے اَن مِٹ نقوش ثبت ہوئے۔
آپؓ کی خودنوشت سوانح حیات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ اسلوب بیان اپنی سلاست و روانی کے ساتھ سادگی، سچائی اور انکسار کا نہایت خوبصورت مرقّع ہے۔ اس میں درج ہر واقعہ شاہد ہے کہ حضرت چودھری صاحبؓ کو اللہ تعالیٰ نے جن غیرمعمولی نعماء سے نوازا تھا، اُن میں حافظے کی نعمت بھی وافر عطا فرمائی تھی۔ یہ گرانقدر تصنیف آپؓ کی بےنفس شخصیت کی بھی آئینہ دار ہے۔ چنانچہ 1971ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کے ذریعے آپؓ کی شخصیت کے ایک پہلو ‘‘جذبۂ خدمت خلق’’ کی اس امر سے بھی عکاسی ہوتی ہے کہ اس کتاب کے جملہ حقوقِ اشاعت آپؓ نے ڈھاکہ کے ایک فلاحی ادارے کو عطا فرمادیے۔
اس خودنوشت سوانح حیات کے آغاز میں حضرت چودھری صاحبؓ کی ایک بہت ہی پُراثر تحریر درج ہے جو آپؓ کی اس منکسرالمزاجی کی بھی مظہر ہے جو آپؓ کی منفرد شخصیت کا جزولاینفک بن چکی تھی۔ آپؓ فرماتے ہیں :
‘‘الہ العالمین! مَیں تیرا نہایت عاجز اور پُرخطا بندہ ہوں۔ تُو میری ہر کمزوری، ہر لغزش اور تقصیر کو خوب جانتا ہے۔ مَیں تیرے بےپایاں احسانات اور اپنی لاتعداد تقصیروں اور خطاؤں کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہوں … تُو جانتا ہے کتنی بار مجھ سے کہا گیا کہ مَیں تیرے انعامات، تیری پردہ پوشیوں، تیری ذرّہ نوازیوں کا کچھ ذکر ضبطِ تحریر میں لے آؤں اور ہر بار میری کمزوریوں کا احساس اور یہ خوف کہ مَیں تیری نظروں میں کہیں بےجا نمائش کا مرتکب نہ ٹھہروں، میرے رستے میں روک بنتا رہا۔ تیرے فضلوں اور احسانوں کو مَیں شمار میں نہیں لاسکتا۔ تُو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے کرم نے مجھے بخشا وہ خالص تیری عطا ہے میرا اس میں کچھ بھی دخل نہیں۔ ذہن تُو نے عطا کیا، حافظہ تُو نے دیا، قویٰ سب تیری عنایت ہیں، وسائل سب تیری بخشش ہیں، خدمت کے موقعے تُو نے پیدا کیے، خدمت کی توفیق تُو نے عطا فرمائی۔ …’’
حضرت چودھری صاحبؓ ایک منفرد شخصیت کے حامل تھے جو دنیاوی لحاظ سے مسلم لیگ کے صدر، پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور لمبا عرصہ عالمی عدالت انصاف کے جج اور صدر کی حیثیت سے ممتاز عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے لیے آپ کی عرقریزی، عربوں اور اسلامی ریاستوں کی آزادی کے لیے آپؓ کی خدمات کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے۔ متعدد ممالک کے اعلیٰ ترین اعزازات آپؓ کی خدمات کے اعتراف میں پیش کیے گئے۔ لیکن کامرانیوں سے بھرپور ایسی زندگی گزارنے کے بعد آپؓ نے اُن لمحات کو اپنی زندگی کے بہترین لمحات قرار دیا جب آپؓ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دستی بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔ بعدازاں مہدیٔ آخرزمان پر کامل ایمان رکھتے ہوئے ساری زندگی آپؓ کا لائحہ عمل وہی رہا جو خلافت احمدیہ کے ایک ادنیٰ غلام کا ہونا چاہیے۔نہایت محبت، عقیدت اور عاجزی کے ساتھ آپؓ نے خلفائے احمدیت کی اطاعت کی اور خلفائے کرام کی دعاؤں کے خصوصی مورد بنے۔ اس خوش بختی نے آپؓ کی استعدادوں کو غیرمعمولی جِلا عطا فرمائی اور اخلاقی و روحانی مراتب کے ساتھ ساتھ بےشمار دنیاوی اعزازات بھی آپؓ کی جھولی میں ڈال دیے۔ ذیل میں اس کتاب سے اُن واقعات سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے جن کا تعلق حضرت چودھری صاحبؓ کی روحانی زندگی سے ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت سے مشرّف ہونا
حضرت چودھری صاحبؓ اپنی روحانی زندگی کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ میں 6؍فروری 1893ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ میری والدہ کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے سچے خوابوں اور بشارتوں سے نوازتا تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت بھی اپنے خوابوں کی بِنا پر کی جس کے چند دن بعد والد صاحب نے بھی بیعت کرلی۔ یہ وہ دن تھے جب ستمبر، اکتوبر 1904ء میں حضرت اقدسؑ سیالکوٹ میں جلوہ افروز تھے۔ والدہ صاحبہ اور والد صاحب کی بیعت کے وقت مَیں بھی موجود تھا۔ مجھے حضورعلیہ السلام کی زیارت کی سعادت پہلی مرتبہ 3؍ستمبر1904ء کو لاہور میں نصیب ہوئی تھی جب حضورؑ کی موجودگی میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے حضورؑ کا لیکچر پڑھ کر سنایا تھا۔ میرے والد صاحب سیالکوٹ سے یہ لیکچر سننے لاہور گئے تھے اور میری خوش نصیبی سے مجھے بھی ساتھ لے گئے تھے۔ میری نشست پلیٹ فارم پر حضورؑ کے قدموں کے قریب ہی تھی اور مَیں سارا وقت حضورؑ کے مبارک چہرے پر ٹکٹکی لگائے رہا تھا۔ مجھے اس دن سے حضورؑ کے جملہ دعاوی پر پختہ ایمان ہے اور حضورؑ کے دعاوی کی نسبت کبھی کسی قسم کی الجھن میرے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہ عَلیٰ ذٰلِک۔ حضورؑ کے قیامِ سیالکوٹ کے دوران مجھے کئی بار حضورؑ کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی اور انہی دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ کی زیارت بھی پہلی بار نصیب ہوئی۔
حضرت چودھری صاحبؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ مَیں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھ لوں۔ لیکن مَیں آشوبِ چشم کی وجہ سے اس میں باقاعدہ نہیں رہا تھا چنانچہ کالج جانے سے چند ماہ قبل جب والد صاحب کو میری رفتار کا علم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میری بڑی خواہش ہے کہ کالج جانے سے پہلے تم سارے قرآن کریم کا کم سے کم سادہ ترجمہ ضرور سیکھ لو۔ چنانچہ روزانہ سبق دیتے ہوئے انہوں نے یہ ترجمہ مجھے سکھادیا۔ اولاد پر ماں باپ کے احسانات کا سلسلہ لامتناہی ہوتا ہے۔ مجھ پر میرے والد صاحب کے بےپایاں احسانات میں سے ایک احسانِ عظیم یہ تھا کہ انہوں نے مسلسل توجہ فرماکر مجھے قرآن کریم کے سادہ ترجمے سے شناسا کرادیا اور اس کے نتیجے میں قرآن کریم کے ساتھ میری اجنبیت دُور ہوگئی اور میرے دل میں قرآن کریم کا احترام اور عظمت قائم ہوگئے۔
گورنمنٹ کالج لاہور کے ہوسٹل میں ایک کمرے میں ہم آٹھ طالب علم تھے۔ مَیں اکیلا احمدی تھا۔ دوتین اُن میں سے کبھی شرارت پر آتے تو مجھے دق کرتے۔ تعطیلات میں جب مَیں گھر گیا تو مَیں نے والد صاحب کی خدمت میں گذارش کی کہ میری رہائش کا انتظام ہوسٹل سے باہر کردیا جائے۔ وجہ معلوم ہونے پر انہوں نے فرمایا تم ابھی سے گھبراگئے ہو زندگی میں تو تمہیں اس سے بڑی مشکلوں کا سامنا ہوگا۔ اگر ابھی سے برداشت کی عادت نہیں ڈالوگے تو آگے چل کر کیا کروگے۔
حضرت مسیح موعودؑ کی دستی بیعت کا شرف
اسی سال حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کا والد صاحب کو خط آیا جس کا مضمون فقط اتنا تھا کہ اب آپ اپنے بیٹے کی بیعت کرادیں۔ مَیں صدق دل سے حضورعلیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا۔ بیعت کرنے میں مجھے کسی قسم کا تامّل نہیں تھا۔ مَیں تو اپنے تئیں اس وقت سے ہی احمدی سمجھتا تھا جب میرے والدین نے 1904ء میں بیعت کی تھی۔ یہ خط پڑھنے کے بعد مَیں والد صاحب کی عدالتوں میں تعطیلات ہونے پر اُن کے ہمراہ قادیان حاضر ہوا۔ حضورعلیہ السلام صبح سیر کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس وقت خدام کو حضورؑ کی خدمت میں حاضر رہنے اور حضورؑ کے کلماتِ طیبہ سے مستفید ہونے کا موقع میسر آجاتا تھا۔ پھر ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد بھی حضورؑ کچھ وقت کے لیے مسجد مبارک میں تشریف فرما رہتے تھے۔ اس وقت بیعت بھی ہوجاتی تھی۔ مَیں نے 16؍ستمبر1907ء کو بعدنماز ظہر مسجد مبارک میں حضورؑ کی خدمت میں گذارش کی کہ میری بیعت قبول فرمائی جائے۔ حضورؑ نے اجازت بخشی اور مَیں حضورؑ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوا۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہ عَلیٰ ذٰلِک۔ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے بےشمار احسانات میں سے جن کا یہ عاجز مورد ہوا یہ ایک بہت بڑا احسان تھا کہ آپؓ نے والد صاحب کو یہ تحریک فرمائی اور اس سے فائدہ اٹھاکر مَیں نے حضورعلیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت ہونے کی سعادت حاصل کی۔
حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کا سانحہ
مئی 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لائے اور احمدیہ بلڈنگس میں قیام فرمایا۔ کچھ عرصہ پہلے سے حضور علیہ السلام کے الہامات میں متواتر آپ کی وفات کی طرف اشارہ ہو رہا تھا۔ لیکن طبعاً آپ کے خدام میں سے کسی کا ذہن اس دردناک تصوّر کا متحمّل نہ ہوتا تھا کہ حضورؑ کے وصال کا وقت قریب ہے۔ حتٰی کہ

اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ وَالْمَوْتُ قَرِیْبٌ

جیسے چونکا دینے والے الفاظ سے بھی اکثر اذہان نے یہی مراد اخذ کی کہ اس میں ہر انسان کو انجام سے متنبہ کرنا مقصود ہے۔ حضورؑ نے بھی کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہ فرمایا اور متواتر اعلائے کلمۃاللہ کی سعی میں بشاشت اور اطمینان کے ساتھ مصروف رہے۔ گورنمنٹ کالج میں ہم پانچ چھ احمدی طالب علم تھے اور ہم سب بالالتزام حضور علیہ السلام کی قیام گاہ پر حاضر ہوتے رہتے تھے۔ 26؍مئی کو مَیں حسب معمول دوپہر کا کھانا اوّل وقت میں ہی کھاکر لیٹ گیا تھا۔ دفعۃً شیخ تیمور صاحب نے میرا پاؤں ہلایا اور پریشانی کی حالت میں کہا فوراً میرے کمرے میں آؤ۔ مَیں جلدی میں اُٹھ کر ان کے پیچھے ہولیا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر انہوں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعودؑ فوت ہوگئے ہیں۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

باقی احمدی دوست بھی ان کے کمرے میں جمع ہوگئے تھے۔ یہ دل ہلادینے والی خبر ایسی غیرمتوقع تھی کہ دل مانتا ہی نہ تھا کہ یہ صحیح ہوسکتی ہے۔ لیکن شک کی گنجائش بھی نظر نہ آتی تھی۔ جب ہوش ٹھکانے آئے تو ہم سب جلدی میں ہراساں اور پریشاں احمدیہ بلڈنگس پہنچے۔ وہاں مکان کے اندر تو وہی سماں تھا جس کی توقع کی جاسکتی تھی اور جس کا اندازہ ہر مخلص اور دردمند دل کرسکتا ہے۔ لیکن مکان سے باہر سڑک پر مخالفین سلسلہ جس قسم کے مظاہروں سے اپنے اخلاقی فقدان کا اعلان کررہے تھے وہ نہایت اندوہناک اور قابلِ افسوس تھا۔ نماز جنازہ کے بعد ہم میں سے اکثر قادیان جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے اور جو گاڑی عصر کے وقت لاہور سے بٹالہ جاتی تھی اور جس کے ساتھ ایک خاص ڈبے میں حضور علیہ السلام کی نعشِ مبارک کو لے جانے کا انتظام کیا گیا تھا، اس میں سوار ہوگئے۔ دوسرے بزرگوں کے متعلق تو مجھے پوری طرح یاد نہیں، لیکن حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے متعلق یاد پڑتا ہے کہ آپ تیسرے درجے کے ڈبے میں ہمارے ساتھ ہی سفر کر رہے تھے۔ گفتگو کا تو کوئی موقع نہیں تھا، سب لوگ دعا اور درودشریف کے ورد میں مصروف تھے۔ حضرت مولوی صاحبؓ سارا وقت سر جھکائے مراقبے کی حالت میں نظر آتے تھے۔ امرتسر پہنچنے تک مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ پلیٹ فارم کے اس حصے میں جہاں اوپر چھت نہیں تھی اور پلیٹ فارم بھی کچھ کھلا تھا حضرت مولوی صاحبؓ نے نماز پڑھائی۔ امرتسر کی جماعت کے لوگ بھی شامل ہوگئے تھے۔ کچھ رات گئے گاڑی بٹالہ پہنچی۔ یہاں جہاں کہیں کسی سے ہوسکا ایک دو گھنٹے سستالیا۔ آدھی رات کے کچھ بعد یہ محزون قافلہ پاپیادہ قادیان روانہ ہوگیا۔ چونکہ گرمی کا موسم تھا اور ہجوم کی کثرت سے گرد اُڑتی تھی اس لیے رفتار بہت دھیمی تھی تاکہ احباب کو تکلیف نہ ہو۔ اور نعش مبارک کو کندھا دینے والے آرام اور سہولت سے سفر طے کرسکیں۔ قادیان کی سڑک پر احباب ٹولیوں میں بکھر گئے تھے اور قافلہ اندازاً دو میل تک پھیل گیا تھا۔ راستے میں جہاں فجر کا وقت ہوا اور وضو کے لیے پانی میسر آسکا احباب نے باجماعت نماز ادا کرنے کا انتظام کرلیا۔ طلوع آفتاب کے وقت قافلہ قادیان پہنچا وہاں پہنچ کر نعشِ مبارک کو حضورؑ کے باغ والے مکان کے دالان میں رکھ دیا گیا۔
جوں جوں باہر کی جماعتوں کو حضورؑ کے وصال کی اطلاع ملتی گئی، احباب دُور و نزدیک سے قادیان جمع ہوتے گئے۔ اور خاموشی سے زیرلب درودشریف پڑھتے ہوئے اور دعائیں کرتے ہوئے حضورؑ کے چہرہ مبارک کی زیارت کرتے رہے۔
خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کا انتخاب
بعد مشورہ جس میں اراکین صدرانجمن احمدیہ شامل تھے۔ یہ طے پایا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ حضور علیہ السلام کے خلیفہ ہوں اور آپ کی اطاعت جماعت پر ایسے ہی واجب ہوگی جیسے حضور علیہ السلام کی واجب تھی۔ حضرت مولوی صاحب نے یہ درخواست منظور فرمائی اور ایک مختصر تقریر فرمائی جس میں جماعت کو نئے حالات میں اپنے فرائض کی طرف توجہ دلائی اور پھر جماعت کی بیعت لی۔ اور باغ کے اس حصہ میں جو آموں والا باغ کہلاتا تھا حضورؑ کا جنازہ پڑھایا۔ اور حضورؑ کی تدفین مقبرہ بہشتی میں عمل میں آئی۔

صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلیٰ سَیِّدِہٖ وَاٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَخُلَفَائِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔

27؍مئی 1908ء کی رات قادیان ٹھہر کر 28؍مئی کو مَیں لاہور واپس آگیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجالس میں حاضری
ستمبر 1904ء سے لے کر حضور علیہ السلام کے وصال تک خاکسار کو کئی دفعہ حضور علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ستمبر کی تعطیلات میں ا ور سالانہ جلسہ کے ایام میں مَیں اپنے والد صاحب کے ہمراہ قادیان حاضر ہوا کرتا تھا۔ حضور علیہ السلام جب سیر کو تشریف لے جاتے تو خاکسار بھی خدام کے زمرے میں رہا کرتا اور ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد مسجد مبارک میں بھی حضورؑ کی مجلس میں حاضر رہتا۔ کسی خاص مہمان کے آنے یا رخصت ہونے پر بھی بعض دفعہ حضورؑ باہر تشریف لاتے یا مسجد مبارک میں تشریف فرما ہوتے تو زیارت کا شرف حاصل ہوجاتا۔ جب میاں فضل حسین صاحب انگلستان سے تعلیم کی تکمیل کے بعد واپس اپنے وطن بٹالہ تشریف لائے تو ان کے والد صاحب جن کے حضورعلیہ السلام کے ساتھ خاندانی مراسم تھے، انہیں ساتھ لے کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے لیے دعا کی درخواست کی۔ خاکسار اس موقع پر بھی حاضر تھا۔ میاں فضل حسین صاحب نے آریہ سماج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نسبت کچھ تشویش کا اظہار کیا۔ جس پر حضورؑ نے فرمایا: ’’آریہ سماج مذہبی جماعت کی حیثیت سے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے گا کیونکہ اس کی بنیاد روحانیت پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عمر عطا فرمائے تو آپ اپنی زندگی میں ہی آریہ سماج کا بطور مذہبی جماعت کے زوال دیکھ لیں گے۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ میاں صاحب کی وفات 1936ء میں ہوئی، اس وقت تک آریہ سماج کی مذہبی حیثیت ختم ہوچکی تھی۔
صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب کی وفات کے وقت بھی خاکسار قادیان میں حاضر تھا۔ اس وقت مہمان خانے سے جو رستہ ڈھاب کے بند پر سے حضورؑ کے باغ اور بہشتی مقبرے کو جاتا ہے اس کے درمیانی حصے میں ڈھاب پر پُل نہیں تھا۔ صاحبزادہ مبارک احمد کا جنازہ مقبرے تک لے جانے کے لیے ایک عارضی پُل کی ضرورت پیش آئی جو جلدی میں سکول کے بنچوں اور میزوں کے ساتھ تیار کیا گیا۔ خاکسار نے بھی اس کی تیاری میں حصہ لیا۔ جنازے کے بعد تدفین میں کچھ وقفہ تھا کیونکہ قبر ابھی تیار نہ ہوئی تھی۔ اس عرصے میں حضورؑ اس قطعے میں جو بعد میں خاص صحابہ کے لیے مخصوص کردیا گیا تھا تشریف فرما رہے اور خدام کو وعظ و نصیحت فرماتے رہے۔ آپؑ کے چہرۂ مبارک پر غم کے کوئی آثار نہ تھے اور نہ آپؑ کے کلام کے انداز سے یا آواز سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ اپنے فرزند ارجمند کے جنازے کے بعد اس کی تدفین پر دعا کے انتظار میں تشریف فرما ہیں۔ آپؑ کے کلام کا انداز بالکل وہی تھا جو روزمرّہ کی مجلس میں ہوا کرتا تھا۔ حضور علیہ السلام صبر جمیل کا کامل نمونہ تھے۔
مسجد مبارک کی توسیع سے پہلے کا واقعہ ہے۔ چند مہمان جن میں حضرت سیّد حامد شاہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور والد صاحب شامل تھے، مسجد مبارک میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ خاکسار بھی کھانے میں شامل تھا۔ میری نشست اس دروازے کے عین سامنے تھی جس سے حضورؑ اپنے مکان سے مسجد میں داخل ہوا کرتے تھے۔ دروازے کی زنجیر مسجد کی طرف سے لگی ہوئی تھی۔ حضورؑ کے مکان کی طرف سے دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو مَیں نے زنجیر کھول دی۔ دروازہ کھلنے پر دیکھا کہ حضورؑ دستِ مبارک میں ایک طشتری لیے کھڑے ہیں جس میں گوشت کی بریاں ران رکھی ہوئی ہے۔ حضورؑ نے السلام علیکم فرماکر طشتری خاکسار کو دے دی اور حضورؑ واپس تشریف لے گئے۔ حضورؑ کی مشفقانہ مہمان نوازی اور خدام پروری اور اس بریاں گوشت کی لذّت زائد از ساٹھ سال کے بعد بھی خاکسار کی یاد میں ایسی ہی تازہ ہیں کہ گویا یہ کل کا واقعہ ہے۔
حضورؑ کا لباس سادہ ہوا کرتا تھا۔ عمامے کے اندر حضورؑ نرم رومی ٹوپی پہنتے تھے۔ کرتا جو عموماً ململ کا ہوتا تھا، صدری اور لمباکوٹ اور ہلکی تنگ موری کی شلوار، گرم موسم میں بھی صدری اور کوٹ عموماً گرم کپڑے کے ہوا کرتے تھے۔ جب حضورؑ باہر تشریف لے جاتے تو ہاتھ میں چھڑی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ستمبر کے مہینے میں خاکسار نے دیکھا کہ دوپہر کےو قت کھانے کے بعد اور ظہر سے پہلے حضورؑ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب والے مکان کے دروازے سے جو مسقّف گلی میں کُھلتا تھا باہر تشریف لائے اور گلی میں سے ہوکر اس زیرتعمیر مکان کے صحن میں تشریف لے گئے جس میں بعد میں سیّدہ اُمّ طاہر احمد صاحبہؓ کی رہائش رہی۔ اس وقت معمار اور مزدور کھانے کے لیے گئے ہوئے تھے اور کام بند تھا۔ حضورؑ تھوڑی دیر تک عمارت کو دیکھتے رہے اور پھر اسی راستے واپس تشریف لے گئے۔ خاکسار نے حضورؑ کو گلی میں تشریف لاتے وقت سے لے کر واپس تشریف لے جاتے وقت تک دیکھا۔ حضورؑ اس وقت صرف رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور صدری زیب تن تھی۔ حضورؑ نے کوٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔ دستِ مبارک میں چھڑی تھی۔ خاکسار کچھ فاصلے پر حضورؑ کے پیچھے پیچھے رہا، مخل نہیں ہوا۔
حضورؑ کے چچا مرزا نظام الدین صاحب حضورؑ کے سخت مخالف اور معاند تھے۔ انہوں نے طرح طرح کی تحقیر اور ایذادہی کو اپنا مسلک بنا رکھا تھا۔ حضورؑ کا ایک الہام تھا:

یَنْقَطِعُ اٰبَاءَکَ وَ یُبْدَءُ مِنْکَ۔

ان کا ایک بچہ بیمار ہوا اور بیماری زور پکڑ گئی۔ حضور مولوی نورالدین صاحبؓ معالج تھے۔ حضورؑ جب مسجد مبارک میں رونق افروز ہوتے تو بعض دفعہ حضرت مولوی صاحبؓ سے اس بچے کی صحت کے متعلق بھی دریافت فرماتے۔ ایک دفعہ جب حضرت مولوی صاحبؓ نے بچے کی حالت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ مولوی صاحب! اللہ تعالیٰ اپنی مصلحتوں کو خود جانتا ہے۔ ہمارے لیے ہمدردی اور خدمت لازم ہے، آپ پوری توجہ سے علاج جاری رکھیں اور جو کچھ بھی ضروری ہو عمل میں لائیں۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کا ذکرخیر
اوائل 1911ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کو گھوڑے سے گرنے کا حادثہ پیش آیا جس سے آپؓ کی دائیں کنپٹی پر زخم ہوگیا جو بعد میں ناسور کی شکل اختیار کرگیا۔ حادثے کے صدمے سے فوری طور پر ان کی طبیعت بہت کمزور ہوگئی۔ آپؓ نے کاغذ کے ایک پُرزے پر کچھ لکھا اور اسے ایک لفافے میں بند کرکے لفافے پر کچھ لکھا اور اسے دوسرے لفافے میں بند کرکے یہ لفافہ شیخ محمدؐ تیمور صاحب کے سپرد کردیا اور فرمایا : یہ میری وصیت ہے۔ بعدازاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپؓ کو شفا دے دی۔ بعد میں جب آپؓ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپؓ نے اپنی وفات سے دو تین دن قبل ایک باقاعدہ وصیت لکھ کر مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو دی اور فرمایا یہ پڑھ لیں اور پڑھ کر سنادیں۔ یہ وصیت شائع بھی ہوگئی۔ اندریں حالات اس لفافے کے کھولنے کی ضرورت پیش نہ آئی جو آپؓ نے 1911ء میں گھوڑے سے گرنے کے حادثے کے بعد شیخ محمد تیمور صاحب کے سپرد کیا تھا۔ لیکن آپؓ کے وصال کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب نے وہ لفافہ کھولا۔ اندر کے لفافے پر لکھا تھا کہ جس شخص کا نام اس لفافے کے اندر ہے اس کی بیعت کرنا۔ اور لفافے کے اندر کاغذ کے پُرزے پر ’’محمود‘‘ لکھا تھا۔ 1911ء کے حادثے کے وقت مَیں لاہور میں تھا قادیان میں نہ تھا اور حضرت خلیفۃالمسیح اوّلؓ کے وصال کے وقت لندن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ مندرجہ بالا روایت پختہ سماعی شہادتوں کی بِنا پر درج کی گئی ہے۔ اس بات کی شہادت خود مولوی محمد علی صاحب کی تحریروں میں بھی موجود ہے کہ 1911ء میں حضرت خلیفۃالمسیح اوّلؓ نے صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحبؓ کی بیعت کی وصیت کی تھی۔
مارچ، اپریل 1911ء میں بی اے کے امتحان سے فارغ ہوکر اور چند دن سیالکوٹ میں ٹھہر کر مَیں قادیان حضرت خلیفۃالمسیح اوّل کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ ابھی حضورؓ حادثے کے اثرات سے پوری طرح صحت یاب نہیں ہوپائے تھے اور آپؓ کا وقت زیادہ تر اپنے رہائشی مکان کے مردانہ دالان میں گزرتا تھا۔ نمازیں بھی آپؓ وہیں ادا فرماتے تھے اور وہیں درس و تدریس اور صدور احکام کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ خاکسار بھی دن کا اکثر حصہ وہیں آپؓ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا۔ مغرب کے وقت حضورؓ دالان سے صحن میں تشریف لے جاتے تھے اور مغرب کی نماز صحن میں ادا فرماتے تھے، ظہر اور عصر کی نمازوں کے وقت حضورؓ پلنگ کے ساتھ قبلہ رُخ ہوکر بیٹھ جاتے تھے اور بیٹھے ہوئے ہی نماز ادا فرماتے تھے۔ عموماً شیخ محمد تیمور صاحب کو ارشاد ہوتا کہ نماز پڑھائیں۔ اگر شیخ صاحب موجود نہ ہوتے تو اپنے کسی اَور شاگرد کو نماز پڑھانے کے لئے فرماتے۔ پہلے دن جب خاکسار حاضر ہوا اور ظہر کی نماز کی اذان ہونے پر آپؓ نے حاضرین کو ارشاد فرمایا ’’جائیں نماز پڑھیں‘‘ تو خاکسار بھی تعمیلِ ارشاد میں اٹھ کھڑا ہوا۔ آپؓ نے خاکسار کی طرف دیکھ کر فرمایا ’’میاں تم یہیں نماز پڑھ لیا کرو‘‘۔ چنانچہ عرصۂ قیامِ قادیان میں خاکسار ظہر و عصر اور مغرب کی نمازیں آپؓ کے ساتھ ہی ادا کرتا رہا۔ ظہروعصر کی نمازوں میں آپؓ کی بائیں طرف تو پلنگ ہوا کرتا تھا اور دائیں طرف خاکسار کھڑا ہوجاتا تھا اور بوجہ ادب اور اس لیے بھی کہ زیادہ قریب کھڑا ہونا آپؓ کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو، ذرا فاصلہ چھوڑ کر کھڑا ہوتا تھا لیکن آپؓ خاکسار کو اپنے قریب کھڑا کرلیا کرتے تھے۔ مقتدیوں کی تعداد چھ سات ہوا کرتی تھی۔ ایک روز عصر کی نماز کے وقت شیخ محمد تیمور صاحب موجود نہ تھے، آپؓ نے نظر اٹھاکر حاضرین کا جائزہ لیا اور خاکسار کو فرمایا ’’میاں تم نے قرآن پڑھا ہے تم نماز پڑھاؤ‘‘۔
ان ایام میں آپؓ شیخ محمد تیمور صاحب کو صحیح بخاری پڑھایا کرتے تھے۔ شیخ صاحب ایک حدیث پڑھتے اور اگر کسی بات کو وضاحت طلب سمجھتے تو آپؓ سے استصواب کرتے یا اگر آپؓ خود کچھ بیان فرمانا چاہتے تو بیان فرما دیتے۔ لیکن آپؓ کا دربار تو ہر وقت ہر کس و ناکس کے لیے کھلا ہوتا تھا۔ درمیان میں کوئی سائل یا حاجتمند آتا تو اُس کی طرف توجہ فرماتے۔ اگر دفتر سے کوئی کاغذ آجاتا تو اس پر حکم صادر فرماتے۔ غرض ایک سلسلہ تمام وقت جاری رہتا۔ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ شیخ صاحب نے ایک حدیث پڑھی اور اس کے متعلق کوئی سوال کیا۔ اتنے میں حضورؓ کی توجہ کسی اَور طرف ہوگئی تھی۔ آپؓ نے وہ سوال نہ سنا۔ جب آپؓ فارغ ہوئے اور شیخ صاحب کی طرف متوجہ ہوئے تو شیخ صاحب نے اگلی حدیث پڑھ دی۔ آپؓ نے فرمایا پچھلی حدیث میں فلاں بات قابلِ غور تھی۔ شیخ صاحب نے کچھ شکوے کے رنگ میں کہا مَیں نے دریافت تو کیا تھا آپ نے جواب نہ دیا مَیں نے خیال کیا آپ بتانا نہیں چاہتے۔ خاکسار کو شیخ صاحب کی اس حرکت پر تعجب ہوا لیکن حضورؓ مسکرادیے اور کہا شیخ خفا ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک اَور واقعہ ہوا جو بالکل اس واقعہ کی ضد اور کمال ادب کی مثال تھا۔ مولوی غلام نبی مصری صاحب جو آپؓ کے ایک ممتاز شاگرد تھے، صحن کی جانب سے داخل ہوئے اور السلام علیکم کہہ کر سامنے کی دیوار میں جو الماری تھی اس میں سے کوئی کتاب لے کر دروازے کی طرف لَوٹے۔ دروازے کے قریب پہنچے تو حضرت خلیفۃالمسیح نے آپؓ کو دیکھ کر فرمایا ’’مولوی صاحب السلام علیکم‘‘۔ مولوی صاحب نے ’’حضور وعلیکم السلام‘‘ کہہ کر کمال انکسار کے لہجے میں عرض کی ’’خاکسار نے السلام علیکم کہا تھا لیکن حضور تک پہنچا نہ سکا۔‘‘ برسوں بعد مولانا روم کا یہ شعر نظر سے گزرا۔؎

از خدا جوئیم توفیقِ ادب
بے ادب محروم ماند از فضلِ رب

آنکھیں نم ہوئیں اور دل حسرت سے بھر گیا کہ معلوم نہیں غفلت اور نادانی میں کتنے مواقع جذب فضل کے گنوادیے۔

رَبَّنَا لَاتَؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَانَا۔

دوپہر کے وقت ڈاکٹر صاحبان آپؓ کے زخم پر مرہم پٹّی کے لیے حاضر ہوتے اور مجلس برخاست ہوجاتی۔ ڈاکٹر صاحبان کے رخصت ہوجانے کے بعد آپؓ کچھ دیر استراحت فرماتے۔ اس وقت آپؓ کے شاگردوں میں سے کوئی ایک آپؓ کی پیٹھ کی طرف پلنگ پر بیٹھ جاتا اور آہستہ آہستہ آپؓ کا بدن دباتا۔ ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ ڈاکٹر صاحبان کے رخصت ہوجانے پر صرف خاکسار ہی دالان میں حاضر رہ گیا۔ شوق اور اخلاص کہتا تھا کہ یہ موقع خدمت کا غنیمت ہے۔ حجاب اور ادب روک رہے تھے۔ خاکسار کو کبھی بدن دبانے کا اتفاق بھی نہیں ہوا تھا۔ خوف تھا کہ بجائے حضور کے لیے آرام کا موجب بننے کے بیزاری کا باعث نہ بنوں۔ آخر جرأت کرکے حصولِ ثواب کی نیت سے خاکسار نے حضورؓ کا بدن دبانا شروع کیا۔ چند منٹوں کے بعد خیال آیا کہ شاید حضورؓ کی آنکھ لگ گئی ہے اور میرا بدن دباتے رہنا حضورؓ کے آرام میں مخل ہوگا۔ اس خیال سے خاکسار نے دبانا بند کردیا۔ ابھی خاکسار نے پلنگ سے ہٹنے کے لیے کوئی حرکت نہیں کی تھی کہ حضورؓ نے کروٹ پر لیٹے لیٹے ہی اپنا بازو اٹھاکر خاکسار کے چہرے کو اپنے مبارک چہرے کے قریب کرلیا اور دو تین منٹ تک اسی حالت میں رکھا۔ پھر اپنا بازو ہٹالیا اور فرمایا: میاں ! ہم نے تمہارے لیے بہت بہت دعائیں کی ہیں۔
حضرت خلیفۃالمسیحؓ صحن میں رونق افروز تھے۔ باہر سے ایندھن کی لکڑی ڈیوڑھی تک پہنچائی گئی۔ ایک دو نوجوان شاگردوں نے لکڑی کو ڈیوڑھی سے اٹھاکر باورچی خانے میں لانا شروع کیا۔ مَیں بھی ان شاگردوں میں شامل ہوگیا کہ حضورؓ کی نگاہ پڑ گئی۔ فرمایا: میاں ! یہ تمہارا کام نہیں، تم چھوڑ دو۔
ایک روز مغرب کی نماز میں تھے کہ حضورؓ کے بچوں میں سے ایک آکر گود میں بیٹھ گیا۔ جب حضورؓ نماز سے فارغ ہوئے اور بچے کی طرف شفقت سے متوجہ ہوئے تو بچے نے جوش کے ساتھ رونا شروع کردیا اور ساتھ ہی اپنے ننھے سے ہاتھ کو زور سے حضورؓ کے رخسار پر مارنا شروع کیا۔ حضورؓ ہنستے بھی جاتے تھے اور بچے کی تسکین کی کوشش بھی کرتے جاتے تھے۔ بچے کی طبیعت دیر کے بعد سنبھلی لیکن حضورؓ کی شفقت میں فرق نہ آیا۔
ایک روز مجلس میں حضورؓ نے ذکر فرمایا کہ ہمیں پیاس کی تکلیف رہتی ہے۔ حضورؓ خود اعلیٰ درجے کے طبیب تھے اور حضورؓ کے مشیروں میں ڈاکٹروں اور اطباء کی کمی نہ تھی۔ خاکسار ایک نادان نوعمر تھا۔ وفور اخلاص میں سادگی سے عرض کردیا کہ اگر حضورؓ چائے میں الائچی اور دارچینی استعمال فرمائیں تو ممکن ہے فائدہ ہو۔ مسکراکر فرمایا: میاں ! مَیں اگر دودھ یا دودھ ملی ہوئی کسی شَے کا استعمال کروں تو مجھے تکلیف ہوجاتی ہے۔ اور ساتھ ہی کسی خادم کو ارشاد فرمایا: اندر کہہ دو ہمارے لیے چائے تیار کرکے بھیج دیں جس میں الائچی اور دارچینی ہو۔
حضورؓ کی بڑی صاحبزادی آپؓ کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں بیعت ہونے سے بہت پہلے مولوی عبدالاحد صاحب غزنوی امرتسری کے عقد میں آئی تھیں۔ ان کے صاحبزادے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی آپؓ کے نواسے تھے۔ 1911ء میں مَیں قادیان میں حاضر تھا تو وہ بھی امرتسر سے تشریف لائے، پہلے بھی آیا کرتے تھے گو سلسلہ سے منسلک نہ تھے۔ اب کی بار انہوں نے آپؓ کی خدمت میں گذارش کی کہ مَیں کچھ عرصہ ٹھہر کر آپؓ سے علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا جب تک چاہیں ٹھہریں لیکن جو علم آپ پڑھنا چاہتے ہیں وہ آپ کے گھر میں بھی بہت ہے۔ اس پر انہوں نے ایک رقعہ لکھ کر آپؓ کی خدمت میں پیش کیا جس میں اپنی درخواست دہرائی اور عربی کا ایک شعر لکھا جس کا ترجمہ یہ تھا: ’’تیری بخشش سے بہت بعید ہے کہ تُو ایک نافرمان کو مایوس کرے اور اگر مَیں تیرے دروازے سے لَوٹادیا جاؤں تو کونسا دروازہ کھٹکھٹاؤں؟‘‘۔ آپؓ پڑھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ شعر تو اللہ تعالیٰ ہی کے شایانِ شان ہے۔ ہاں اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے تو جو پڑھنا چاہیں پڑھ لیں۔
انگلستان روانگی اور حضورؓ کی شفقتیں
بی اے میں کامیابی کے بعد خاکسار نے حضورؓ سے مزید تعلیم کے لیے انگلستان جانے کی اجازت چاہی تو آپؓ نے فرمایا کہ آپ بھی اور آپ کے والد صاحب بھی استخارہ کریں۔ پھر اگر اطمینان ہو تو اجازت ہے۔ چنانچہ مَیں نے قادیان میں ہی استخارہ شروع کردیا اور تیسری رات کسی نے مجھے مخاطب کرکے کہا: …تو پھر انگلستان جاؤ۔ اس سے مجھے اطمینان ہوگیا۔
انگلستان روانہ ہونے سے قبل خاکسار جب قادیان میں حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؓ نے جو ہدایات دیں اُن میں درج ذیل بھی شامل تھیں :
1۔ اس دعا کا ورد رکھنا:

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی جَلِیْسًا صَالِحًا۔

2۔ جب کسی سفر کے آخر میں منزل مقصود کے قریب پہنچو اور شہر یا بستی کی آبادی نظر آنا شروع ہو تو یہ دعا کیا کرو:

اللّٰھُمّ رَبّ السّمٰوٰت السّبع وَمَا اظْلَلْنَ وربّ الْاَرضین السّبع ومَا اقللن ورَبِّ الرّیاح وماذرین وربّ الشّیاطین وما اضللن اِنِّی اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَشَرِّ مَافِیْھَا وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ ھٰذِہ الْقَرْیۃ وَشَرِّ اَھْلِھَا وَخَیْر مَافِیْھَا۔ اللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا حیاھا وَ أَعِذْنَا من وباھا اللّٰھُمَّ حَبِّبْنَا اِلیٰ أھلھا وحَبِّب صالحی أھلھا اِلَیْنَا۔

اے اللہ! جو ربّ ہے ساتوں آسمانوں کا اور اس کا بھی جو کچھ ان کے سائے میں ہے۔ اور ربّ ہے ساتوں زمینوں کا اور ہر اُس چیز کا جو اس پر قائم ہے اور ربّ ہے ہواؤں کا اور ہر اُس چیز کا جسے وہ لیے پھرتی ہے۔ اور ربّ ہے سب سرکشوں کا اور اُن کا جنہیں وہ گمراہ کرتے ہیں۔ مَیں طالب ہوں تجھ سے اس آبادی کی ہر بھلائی کا اور اس میں رہنے والوں کی طرف سے ہر بھلائی کا۔ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کی طرف سے ہر بھلائی کا۔ اور تیری حفاظت کا طالب ہوں اس بستی کے ہر شر سے اور اس میں رہنے والوں کے ہر شر سے اور جو کچھ بھی اس کے اندر ہے اس کے ہر شر سے۔ یا اللہ! تُو اس کی ہر خوشگوار چیز ہمیں عطا فرما اور اس کی ہر ضرررساں چیز سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! تُو اس میں رہنے والوں کے دلوں میں ہماری محبت ڈال دے اور اس میں رہنے والوں میں سے نیک بندوں کی محبت ہمارے دل میں ڈال دے۔
3۔ کہا جاتا ہے کہ انگلستان چونکہ ایک سرد ملک ہے اس لیے وہاں سردی کے دفاع کے لیے شراب کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم طبیب ہیں اور ہم جانتے ہیں یہ بات بالکل غلط ہے۔ اگر تمہیں سردی کی مدافعت کی ضرورت محسوس ہو تو کوکو استعمال کریں۔ اس میں خوراکیت بھی ہے اور سردی کے اثر کو بھی زائل کرتی ہے۔
4۔ ہمیں خط لکھتے رہنا ہم تمہارے لیے دعا کریں گے۔
5۔ انگلستان میں ہندوستانی طلباء سے زیادہ میل جول نہ بڑھانا وہاں کے شریف طبقہ سے میل جول رکھنا۔
خاکسار نے حتّی الامکان آپؓ کی فرمودہ ہدایات کی پابندی کی اور بفضل اللہ ان سے بہت فائدہ اٹھایا۔
لندن کے قیام کے دوران میرے لیے یہ احساس بہت تسکین اور اطمینان کا موجب رہا کہ حضرت خلیفۃالمسیح اوّلؓ اور میرے والدین میری حفاظت اور ترقی کے لیے بہت دعائیں کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ میرے ہر عریضے کا جواب اپنے مبارک قلم سے لکھتے اور اس میں بڑی شفقت کا اظہار فرماتے۔ خاکسار بھی اپنی ہر دلچسپی کا اظہار حضورؓ کی خدمت میں بلاتکلّف گذارش کردیتا۔ ایک دفعہ میرے عزیز دوست مسٹر آسکربرنلر نے ذکر کیا کہ میرے اعصاب پر کچھ بوجھ محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے مَیں پوری توجہ سے مطالعہ نہیں کرسکتا اور نیند بھی اچھی طرح نہیں آتی۔ مَیں نے حضورؓ کی خدمت میں گذارش کردیا۔ حضورؓ نے کمال شفقت سے ان کے لیے کچھ ہدایات تحریر فرمائیں جن میں سے ایک جو مجھے یاد رہ گئی ہے وہ یہ تھی کہ پڑھتے وقت روشنی کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھیں بلکہ ایسے طور پر بیٹھیں کہ روشنی بائیں کندھے کے اوپر سے کتاب یا کاغذ پر پڑے۔ شاید یہ بھی تحریر فرمایا کہ رات کو نہ تو پیٹ بھرکر کھائیں نہ ہی خالی پیٹ سوئیں۔
حضورؓ کا خاکسار کے نام آخری شفقت نامہ وصال سے صرف چند دن پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ مَیں ایک نادان نوجوان تھا۔ 1907ء میں تو ابھی میری عمر بھی چودہ سال ہی تھی، آپؓ نے اس وقت کمال شفقت اور ذرّہ نوازی سے میرے والد صاحب کو توجہ دلائی کہ مجھے اب بیعت کرنی چاہیے اور اس دن سے حضورؓ کے وصال تک یہ عاجز آپؓ کی پیہم شفقت اور عنایات کا مورد رہا۔

فَجَزَاہُ اللّٰہ اَحْسَنَ الْجَزَاء وَجَعَلَ اللّٰہُ الْجَنَّۃ الْعلیا مثواہ۔

اور میری کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ آپؓ کے فیض کا چشمہ ہر ایک کے لیے یکساں بہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے آپؓ کو شاہانہ مرتبہ عطا فرمایا تھا اور نہایت پُرشوکت اور بارعب شخصیت عطا فرمائی تھی لیکن آپؓ کا دربار ہر کس و ناکس کے لیے کھلا رہتا تھا۔
آپؓ کا لباس وضع قطع، کھانا پینا نہایت سادہ تھے۔ آپؓ علم و عرفان کے سمندر تھے۔ طبّ میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ قادیان جیسی بستی میں رہتے ہوئے بھی غیرازجماعت امراء آپؓ کی خدمت میں طبّی مشورے کے لیے حاضر ہوتے تھے اور بڑی بڑی رقوم آپؓ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرتے تھے۔ لیکن آپؓ غریب اور امیر میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے تھے۔ آپؓ صبح جب مجلس میں رونق افروز ہوتے تو زائرین اور حاجت مند لوگوں کا تانتا بندھ جاتا۔ کوئی زبانی گذارش کرتا کوئی تحریری، درس تدریس، مطب، خلافت کے فرائض کی سرانجام دہی، وعظ و نصیحت سب جاری رہتے، ہدیے، تحائف، نذرانے پیش ہوتے رہتے۔ حاجت مندوں کی حاجت روائی ہوتی رہتی۔ جس جیب میں ہدیوں اور نذرانوں کی رقوم بغیر التفات کے رکھی جاتیں، اُس میں سے سائل اور حاجت مند کی حاجت روائی کمال فیاضی سے ہوتی چلی جاتی۔ خالی جیب ہی آکر بیٹھتے اور جہاں تک حاشیہ نشین اندازہ کرسکتے مجلس برخاست کرنے پر خالی جیب ہی تشریف لے جاتے۔
میرے جرمن دوست آسکر نے ایک دفعہ مجھ سے کہا مَیں چاہتا ہوں کہ تمہاری معاشرت کا اپنی معاشرت کے ساتھ موازنہ کروں۔ تم اپنے ذہن میں کسی ایسی زندہ شخصیت کا نام رکھ لو جو تمہارے خیال میں تمثیلی شخصیت ہو اور مَیں بھی ایک ایسی شخصیت کا نام اپنے ذہن میں رکھ لوں گا۔ مَیں تم سے سوال کروں گا کہ فلاں حالات میں تمہارے تجویزکردہ شخص کا کیا طرزعمل ہوگا؟ تم مجھے بتاتے جانا۔ مَیں تمہارے جواب سے اندازہ کرسکوں گا کہ کس کا معیار بلند ہے۔ مَیں نے حضرت خلیفۃالمسیح اوّلؓ کا انتخاب کرلیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ان صاحب کو کوئی شخص ملنے کے لیے آئے اور وہ اسے نہ ملنا چاہیں تو اطلاع ہونے پر وہ اسے کیا کہلا بھیجیں گے؟ مَیں نے کہا اوّل تو اطلاع کی ضرورت نہ ہوگی، اُن کا دربار عام ہوتا ہے لیکن اگر وہ کسی سے نہ ملنا چاہیں تو صاف کہہ دیں گے ہم آپ سے نہیں ملنا چاہتے۔ اس پر آسکر نے کہا تو پھر وہ جیتے۔ مَیں نے کہا کیسے؟ کہا اس لیے کہ جو شخصیت میرے ذہن میں ہے وہ اطلاع ہونے پر کہلوادیں گے کہ وہ گھر پر نہیں ہیں اور یہ لفظاً صحیح نہیں ہوگا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اُن کے ذہن میں اُن کے والد صاحب تھے۔
انگلستان میں میرے قیام کے دوران حضورؓ کی وفات ہوگئی اور وطن واپسی کے وقت میرے دل میں یہ بڑی حسرت تھی کہ اس ہمہ تن شفقت ہستی کا دیدار نہ ہوگا۔
(جاری ہے)

(قسط دوم)

فرزنداحمدیت حضرت چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ کی خودنوشت سوانح حیات ‘‘تحدیث نعمت’’ کا تعارف گزشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ بےشک یہ ایسی منفرد کتاب ہے جو ایک مستند تاریخ ہونے کے علاوہ سیرت کی کتب میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہے۔

حضرت چودھری صاحبؓ نے اپنی زندگی کے سفر میں ایک طرف تو دونوں عظیم عالمی جنگوں کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا تو دوسری طرف دنیا میں امن و عدل کے قیام کے لیے قائم کیے گئے عالمی اداروں (جنرل اسمبلی اور عالمی عدالت انصاف)کی سربراہی بھی کی۔ آپؓ کو دنیابھر میں مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے اور مظلوم اقوام کی حریّت و آزادی کی خاطر عملی اقدامات کرنے کی توفیق بھی ملی۔ اسی طرح آپ نےبرصغیر کے مسلمانوں کے لیے خاص طور پر ایسی عظیم الشان خدمات بجالانے کی توفیق پائی جس کے نتیجے میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے آپؓ کو اپنے بیٹوں کی طرح قرار دیا اور نوزائیدہ مملکت میں اہم ذمہ داریاں آپؓ کے سپرد کیں۔
حضرت چودھری صاحبؓ کی شاندار عالمی کامیابیوں اور عظیم الشان تاریخی خدمات اور بلند اخلاقی قدروں کے بارے میں کئی نامور مشاہیر مختلف فورمز پر اظہارخیال کرچکے ہیں تاہم آپؓ کے منفرد روحانی مقام کے بارہ میں منتخب امور کا بیان آپؓ کی خودنوشت سوانح حیات سے جاری ہے۔ چنانچہ گزشتہ شمارے میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آنے اور خلافتِ اولیٰ کے ساتھ تعلق کے حوالے سے ‘‘تحدیث نعمت’’ میں سے انتخاب پیش کیا تھا۔ اس خصوصی اشاعت میں ایسے واقعات ہدیۂ قارئین ہیں جن میں حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ اپنے خادمانہ تعلق کو محترم چودھری صاحبؓ نے اپنی تمام تر قلبی کیفیات کے ساتھ بہت عمدگی سے بیان فرمایا ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ کی ذات میں مستور منفرد استعدادوں کو اپنے کمال تک پہنچانے کے لیے جن بابرکت وجودوں نے ہر قدم پر آپؓ کی رہنمائی فرمائی اور اپنی قیمتی دعاؤں سے آپؓ کی نہایت اہم ذمہ داریوں کو عظیم الشان تاریخی کامرانیوں میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا، اُن میں سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کی ذات بابرکات نمایاں ہے۔ ذیل میں پیش کیے جانے والے واقعات میں تاریخ احمدیت کے بعض گوشوں کی تصویرکشی کے علاوہ آپؓ نے اپنے آقا حضرت مصلح موعودؓ کی سحرانگیز شخصیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے جس سے حضورؓ کے تعلق باللہ اور بلندپایہ روحانی مقام، آپؓ کی دین اسلام اور ملّت اسلامیہ سے محبت، اخلاق عالیہ، بنی نوع انسان کے لئے غیرمعمولی ہمدردی اور انسانیت کے لیے گرانقدر خدمات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ نیز خلافت احمدیہ کی عظمت اور خلیفۂ وقت کی بےمثال اطاعت اور اس بابرکت وجود سے عقیدت و محبت کے حسین انداز بھی آشکار ہوتے ہیں۔
خلافتِ ثانیہ اور جلسہ سالانہ کی برکات

حضرت چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ دسمبر 1915ء میں سالانہ جلسے پر قادیان گیا۔ خلافتِ ثانیہ کے پہلے جلسے پر ہی حضرت خلیفۃالمسیح ثانیؓ کے عرفان، علمِ قرآن، تفقہ فی الدین، وسعتِ نظر اور فکر کی گہرائی موجبِ حیرت ہوئی تھی۔ اس دوسرے جلسے پر یہ نقش اَور بھی گہرا ہوگیا اور مَیں اس وثوق کے ساتھ لَوٹا کہ سلسلہ حقّہ کی حفاظت، جماعت کی بہبودی اور ترقی، اسلام کا مستقبل، مسلمانانِ عالم کے حقوق کی نگہداشت، رسول کریمﷺ کی عزت کی برتری اور کلمۃاللہ کا اعلاء سب اس بطلِ جلیل کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔ ہمارا فرض اس کی کامل اطاعت اور اس کی آواز پر لبیک کہنا اور ہر حکم کو بجالانا ہے۔ سالانہ جلسے کے بےشمار فوائد میں بہت بڑے معاشرتی فوائد بھی شامل ہیں۔ بہت سے اسلامی شعار اور اقدار جو نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے اور جن پر مسلمانانِ ہند کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تعامل نظر نہیں آتا تھا پھر سے تازہ ہونا شروع ہوگئے اور ان کا نمونہ قائم ہونا شروع ہوگیا۔ فالحمدللہ
حضورؓ کے ارشاد پر چند اہم کیسز کی پیروی
1916ء میں مونگھیر(بہار) کی مسجد کا تنازعہ شروع ہوا جہاں احمدیوں کے عقائد کو غیراسلامی قرار دے کر مسجد میں داخلے پر پابندی لگادی گئی۔ معاملہ عدالت تک گیا۔ دو ذیلی عدالتوں سے ہوکر پٹنہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے مجھے پیروی کے لیے وہاں جانے کا ارشاد فرمایا۔ میری عمر صرف تئیس سال تھی اور مَیں اکیلا مقرر تھا۔ سامنے نامی گرامی وکیل وکلاء پیش ہوئے۔ مقدمے کے تمام پہلوؤں کی تیاری سیّد وزارت حسین صاحب نے بہت عمدگی سے کی ہوئی تھی۔ خاکسار نے بحث میں جماعت احمدیہ کے عقائد پر ہونے والے اعتراضات کا دفاع کیا اور چیف جسٹس نے میری بحث کے متعلق تعریفی کلمات فرمائے جو اخبارات میں شائع ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ذیلی عدالتوں کا فیصلہ بحال رکھا کہ احمدی مسلمان ہیں اور انہیں مسجد میں انفرادی نماز ادا کرنے کی اجازت ہے لیکن اپنا امام مقرر کرکے جماعت نہ کروائیں۔ اگرچہ عدالت نے ہمیں اپیل کا حق بھی دیا تھا لیکن مشورہ کرنے پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ بنیادی سوال پر تینوں عدالتوں کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے کہ بحمدللہ ہم مسلمان ہیں۔ نماز کے لیے علیحدہ امام مقرر کرنے کا فقہی مسئلہ کچھ بھی ہو عدالت کا فیصلہ قرینِ انصاف ہے کہ جب محلہ والوں کی کثرت غیراحمدی ہے تو احمدیوں کو الگ باجماعت نماز اس مسجد میں پڑھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اصولاً یہی طریق امن کا طریق ہے، ہمیں مزید چارہ جوئی کی ضرورت نہیں۔
اس کے بعد مجھے حضورؓ کی طرف سے مدراس ہائی کورٹ میں ایک ایسے جماعتی کیس کی پیروی کرنے کا ارشاد ملا جس کا اثر جماعت احمدیہ کے حقوق پر پڑتا تھا۔ مالابار میں ایک نوجوان کے احمدیت قبول کرنے پر اُس کی بیوی کے بھائیوں نے مدراس کے قاضی سے اُس کے مرتد ہونے کا فتویٰ حاصل کرکے اپنی بہن کی شادی کسی اَور شخص سے کردی۔ احمدی ہونے والا نوجوان اگر جماعت سے مشورہ کرتا تو اُس کو مشورہ دیا جاتا کہ وہ دیوانی عدالت میں دعویٰ حق استقرار دائر کرے کہ احمدی ہونے سے نکاح فسخ نہیں ہوتا۔ لیکن خاوند نے مقامی وکیل کے مشورے سے بیوی، اس کے بھائیوں اور اُس شخص کے خلاف فوجداری استغاثہ دائر کیا جس کے ساتھ اُس کی بیوی کا نکاح کروایا گیا تھا۔ سیشن جج ایک برہمن تھے جنہوں نے قرار دیا کہ جمہور مسلمانوں کے ساتھ عقائد کے اختلاف کی وجہ سے احمدی نوجوان مسلمان شمار نہیں ہوسکتا اور اس لیے نکاح فسخ ہوگیا ہے۔ اور چونکہ قاضی کا فتویٰ موجود ہے اس لیے یہ کوئی جرم نہیں ہوا۔ اس فیصلے پر اپیل نہیں کی جاسکتی تھی تاہم حضورؓ کے ارشاد پر نگرانی دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ میں بحث ہوئی اور ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا گیا کہ احمدی مسلمان ہیں اور احمدی ہونے سے نکاح برقرار رہے گا۔ سینئر جج صاحب نے مجھے فرمایا کہ تمہارا مؤقف درست ہے اور سیشن جج کا فیصلہ غلط ہے لیکن نگرانی کے مقدمے میں ہم کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ مَیں نے کہا کہ ہماری غرض کسی کو سزا دلوانا نہیں بلکہ اپنے حقوق کی وضاحت اور حفاظت ہے۔ یہ مقصد حاصل ہوجائے تو ہم کسی کی تعذیر پر مُصر نہیں۔
جماعت احمدیہ کے افراد کے متعلق ارتداد کا سوال کئی بار عدالتوں میں آیا ہے۔ غالباً پہلی بار یہ عدالت کے رُوبرو تب آیا تھا جب مولوی مبارک علی صاحب کے احمدی ہونے پر سیالکوٹ کے مسلمانوں کی طرف سے انہیں جامع مسجد کی تولیت اور امامت سے علیحدہ کرنے کے لیے دیوانی عدالت میں چارہ جوئی کی گئی۔ اس وقت سیالکوٹ میں کوئی احمدی وکیل نہیں تھا۔ والد صاحب بھی ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسلمان ہیں ا ور دعویٰ خارج کردیا۔ ڈویژنل جج نے بھی اپیل خارج کردی۔ مدعیان نے چیف کورٹ میں اپیل کی جہاں سے دعویٰ زائدالمیعاد ہونے کی بِنا پر خارج ہوگیا کیونکہ مولوی مبارک علی صاحب کے سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے کے چھ سال کے اندر دائر نہ کیا گیا تھا۔
1917ء میں امرتسر میں ایک شخص سراج دین کے احمدی ہونے پر اُس کی بیوی نے دعویٰ دائر کیا کہ میرا خاوند مُرتد ہوگیا ہے اس لیے میرا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔ مَیں حضورؓ کے ارشاد پر مدعا علیہ کی طرف سے پیروی کے لیے سب جج درجہ اوّل امرتسر کی عدالت میں جایا کرتا تھا۔ احمدیوں کی طرف سے کئی غیراحمدی معززین پیش ہوئے جنہوں نے کہا کہ احمدی ارکانِ اسلام پر پوری طرح کاربند ہیں۔ مدعیہ کی سرپرستی مولوی ثناءاللہ امرتسری صاحب کررہے تھے۔ مَیں نے عدالت میں اُن کو اُن کے ہی ایک اخبار کا حوالہ نکال کر دکھایا جس میں درج تھا کہ ہم ہر کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہیں اور مرزائی بھی کلمہ گو ہیں۔ چنانچہ عدالت نے قرار دیا کہ مدعیہ کا نکاح فسخ نہیں ہوا اور دعویٰ خارج کردیا۔ مدعیہ کی طرف سے اپیل ضلعی عدالت میں ہوئی اور وہ بھی خارج ہوگئی۔
اس مقدمے کے فیصلے کے بعد امرتسر کے ایک دوست نے حضورؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ ظفراللہ اپنے خرچ پر پیروی کے لیے لاہور سے امرتسر آتا رہا ہے۔ جماعت امرتسر نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے سفر خرچ کے طور پر ایک مناسب رقم پیش کی جائے۔ حضورؓ نے فرمایا: یہ مناسب نہیں، اس طرح قوم کی خاطر قربانی کرنے کی روح ماری جاتی ہے۔
حضورؓ نے ایک ذاتی مقدمے کی پیروی کا ارشاد بھی خاکسار کو فرمایا جس کے اثرات جماعت پر پڑسکتے تھے۔
اسی طرح سیالکوٹ شہر میں حضرت مولوی فیض الدین صاحبؓ کے 1904ء میں سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے پر مخالفین نے اُن پر غبن کا سراسر بےبنیاد الزام لگاکر فوجداری استغاثہ دائر کردیا۔ شہر کی دو بڑی مساجد کی تولیت مولوی صاحبؓ کے سپرد تھی۔ آخر اس بات پر راضی نامہ ہوا کہ مولوی صاحب ایک مسجد کی تولیت سے دستبردار ہوجائیں۔ چنانچہ دوسری مسجد میں احمدی باقاعدہ نماز پڑھنے لگے، وہاں جلسے بھی ہوتے، عمارت میں بھی اضافہ کیا گیا۔ لیکن 1926ء میں مولوی صاحبؓ کی وفات پر مخالفین نے فوجداری استغاثہ دائر کیا کہ یہ مسجد بھی مولوی صاحبؓ کے احمدی ہونے کے بعد ہماری ملکیت میں تھی جس پر اب احمدی قابض ہوکر ہماری عبادت میں مخل ہوتے ہیں، اُنہیں روکا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کو دیوانی عدالت میں جانے کی ہدایت کی۔ چنانچہ مجھے دیوانی عدالت میں جماعت کی طرف سے پیروی کرنے کا ارشاد ہوا۔ مجھے حیرت ہوتی کہ عدالت میں مخالفین کے جھوٹے گواہ پیش ہوتے جو باہر جاکر ہنس کر کہہ دیتے کہ ہم نے کسی ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ نہیں بولا بلکہ یہ تو باطل کے مقابلے میں حق کو سربلند کرنے کا ذریعہ ہے اور ثواب کا کام ہے۔ آخر جب غیرازجماعت معززین نے بھی مدعیان کو جھوٹا دعویٰ کرنےپر ملامت شروع کردی تو وہ اس شرط پر دعویٰ واپس لینے پر رضامند ہوگئے کہ خرچے کا بار اُن پر نہ ڈالا جائے۔
پہلے امیر جماعت لاہور کے طور پر خدمت
خلافتِ ثانیہ کے ابتدائی سالوں میں حضورؓ نے بعض جماعتوں میں امارت کا نظام جاری فرمایا۔ فیروزپور کے بعد لاہور دوسری جماعت تھی جہاں یہ نظام جاری ہوا۔ حضورؓ احمدیہ ہوسٹل لاہور میں قیام فرما تھے، مشورے کے بعد مجھے امیر مقرر فرمایا۔ حالانکہ لاہور میں نووارد ہونے کی وجہ سے میرے حق میں صرف ایک رائے آئی تھی۔ حضورؓ نے قادیان واپس جاکر بعض ہدایات خاکسار کو ارسال فرمائیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ امیر کو جماعت کی انفرادی اور اجتماعی بہبودی کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھنا چاہیے اور جماعت کو مناسب تحریک کرتے رہنا چاہیے۔ جن امور کا فیصلہ جماعت کو کرنا ہو ان کے متعلق مشورے کا یہ اسلوب رہنا چاہیے کہ اختلاف نہ ہو اور تمام امور اتفاق رائے سے یا کثرت رائے سے طے ہوں۔ لیکن جہاں امیر کی رائے میں اتفاق رائے یا کثرت رائے کے مطابق فیصلہ سلسلے کے مفاد کے خلاف ہو وہ ایسی رائے کو ردّ کرسکتا ہے لیکن ایسی صورت میں اسے مرکز میں رپورٹ کرنا ہوگا کہ کن وجوہ کی بِنا پر ایسا کیا ہے۔ جماعت کے کارکن امیر کے رُوبرو ہوں گے اور امیر جملہ امور کے متعلق مرکز کے سامنے ذمہ دار ہوگا۔
1921ء میں حنفی اور اہل حدیث مسلک کے علماء نے مشترکہ اعلان کیا کہ وہ قادیان کو فتح کرنے کے لیے وہاں ایک مشترکہ جلسہ کریں گے۔ دیگر اعلانات کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ہم مرزا صاحب کی قبر کھود کر دیکھیں گے اور اگر ان کے جسم کو قبر میں کوئی گزند نہ پہنچا ہو توہم ان کے دعویٰ کی صداقت کو تسلیم کرلیں گے۔ ایسے اعلانات کی وجہ سے حفظِ امن اور شعائراللہ کی حفاظت کے متعلق جماعت پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوگئی۔ جلسے سے ایک دن پہلے خاکسار کو حضرت خلیفۃالمسیحؓ کا ارشاد موصول ہوا کہ احمدیہ ہوسٹل کے طلباء کو ساتھ لے کر فوراً قادیان پہنچ جاؤ۔ مَیں ہوسٹل کا وارڈن بھی تھا۔ جمعہ کا دن تھا۔ مَیں نے جمعہ کی نماز میں اعلان کیا کہ تمام طلباء شام کی گاڑی سے قادیان جانے کے لیے اسٹیشن پر پہنچ جائیں۔ گاڑی نصف شب کے قریب بٹالہ پہنچی۔ بعض طلباء نے خواہش ظاہر کی کہ دوچار گھنٹے اسٹیشن پر آرام کرنے کے بعد قادیان روانہ ہوں۔ مَیں نے کہا میرے نام جو ارشاد آیا ہے اس میں فوراً پہنچنے کا حکم ہے توقف کی گنجائش نہیں۔ ہم فوراً روانہ ہوگئے۔ تین چار میل چلنے کے بعد شہری طلباء میں سے بعض نے تھکان کی شکایت کی اور کہا کچھ سستالیں۔ مَیں نے کہا سستانے بیٹھ گئے تو منزل بہت دُور ہوجائے گی، ہمّت سے بڑھتے چلو۔ فجر کی اذان ہورہی تھی کہ ہم مسجد مبارک کے چوک میں پہنچ گئے۔ دفاتر سب کھلے تھے۔ متعلقہ دفتر میں اپنے پہنچنے کی اطلاع کی گئی اور نماز کے بعدسب کی ڈیوٹی لگادی گئی۔ مجھے ارشاد ہوا کہ جلسے میں حاضر رہوں اور اگر کوئی اشتعال انگیز بات کی جائے تو مجسٹریٹ صاحب کو توجہ دلادوں۔ احمدیہ محلّوں میں پہرے کے سخت انتظام کے ساتھ نمازوں اور دعاؤں میں خاص سوزوگداز تھا۔
مخالفین کا جلسہ صبح سے رات گئے تک جاری رہتا۔ دوپہر کے وقفے میں مَیں جلدی سے جاکر ظہر کی نماز مسجد مبارک میں پڑھ لیتا اور رپورٹ حضورؓ کی خدمت میں گزارش کردیتا۔ رات کی رپورٹ لینے کے بعد حضورؓ انتظامات کے معائنے کے لیے تشریف لے جاتے تو خاکسار بھی اردل میں حاضر رہتا۔ واپسی پر دوتین گھنٹے نیند کے لیے میسر آجاتے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ان تین دنوں میں حضورؓ کو نیند کے لیے کوئی وقت میسر آیا کہ نہیں۔ پہلی رات کے معائنہ کے بعد حضورؓ نے فرمایا کہ بعض مقامات پر انتظام کی مضبوطی کی ضرورت ہے جس کے لیے اردگرد کی جماعتوں کے کچھ افراد کو بلانا ہوگا اور حضورؓ نے مشورہ طلب کیا کہ کون مستعد قابلِ اعتماد نوجوان میسر آسکتا ہے جو حضورؓ کا ارشاد جیسے اسے سمجھایا جائے جماعتوں تک پہنچادے۔ دو تین نام پیش ہوئے لیکن حضورؓ مطمئن معلوم نہ ہوئے۔ مَیں نے چودھری بشیر احمد صاحب کا نام پیش کیا۔ فرمایا وہ ٹھیک ہیں۔ رات کے تین بجے کا وقت تھا، چودھری صاحب کو طلب فرمایا ور تفصیلی ہدایات دیں۔ چار بجے کے قریب وہ قادیان سے گھوڑےپر نکلے اور جو امور ان کو تفویض کیے گئے تھے سب کی انجام دہی کے بعد ایک گھنٹہ قبل دوپہر واپس پہنچ کر رپورٹ حضورؓ کی خدمت میں پیش کردی۔ اس عرصے میں وہ گھوڑے پر سے نہیں اترے، ناشتہ بھی گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے ہی کیا۔
حضورؓ کے مضامین کا ترجمہ کرنے کی سعادت
1922ء میں شہزادہ ویلز ہندوستان آئے تو حضورؓ نے جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک کتاب تصنیف کی جس میں شہزادے کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ حضورؓ کے ارشاد پر خاکسار اس کتاب کے مسودے کا انگریزی ترجمہ کرکے قادیان حاضر ہوگیا۔ ترجمے کی نظرثانی کے لیے کمیٹی قائم ہوئی جس کے ساتھ حضورؓ بھی تشریف فرما ہوتے۔ اس مجلس کا اجلاس فجر کی نماز کے بعد شروع ہوتا اور عشاء کے بعد تک جاری رہتا۔ صرف نمازوں اور کھانے کے لیے توقف ہوتا۔ حضورؓ کی بشاش طبیعت نے سب رفقاء کو بشاش رکھا۔ یہ کتاب وقت پر تیار ہوگئی اور اس کی ایک خاص جلد چاندی کے خوبصورت بکس میں شہزادہ ویلز کو لاہور میں پیش کی گئی۔ اس واقعے کے چالیس سال بعد شہزادہ ویلز سے میری ملاقات نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کتاب ابھی تک اُن کے پاس محفوظ ہے۔
حضورؓ کا دورۂ یورپ
1924ء میں لندن میں منعقد ہونے والی ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کو بھی دعوت دی گئی جو حضورؓ نے منظور فرمائی۔ کانفرنس کے لیے حضورؓ نے ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ تصنیف فرمائی جس کا انگریزی میں ترجمہ کا ارشاد خاکسار کو ہوا۔ خاکسار کا پہلے سے پروگرام یورپ جانے کا بن چکا تھا۔ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے خاکسار تین چوتھائی حصّہ مسودے کا ترجمہ کرسکا تھا۔ حضورؓ نے خاکسار کو سفر کی اجازت مرحمت فرمائی اور بقیہ حصّہ مسودے کا ترجمہ حضرت مولوی شیرعلی صاحبؓ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے سپرد فرمایا۔ مَیں ابھی اپنے دوست مسٹر آسکربُرنلر کے پاس برلن میں ہی تھا کہ مولوی عبدالرحیم نیّر صاحب امام مسجد لندن نے مجھے لکھا کہ حضورؓ کا ارشاد ہے کہ حضورؓ اور حضورؓ کے رفقاء کے قیام کا انتظام میرے مشورے کے ساتھ کیا جائے اس لیے مجھے جلد لندن پہنچنا چاہیے۔ چنانچہ مَیں اور آسکر لندن پہنچے اور حضورؓ کے قیام کے لیے نمبر6 چیشم پلیس کرایہ پر لیا گیا۔ کانفرنس کا انتظام ایمپیرئیل انسٹی ٹیوٹ (ساؤتھ کنسنگٹن) میں کیا گیا تھا۔ حضورؓ کی تشریف آوری پر مجھے اور مسٹر آسکر کو بھی حضورؓ کے خدام میں شامل ہونے کا فخر حاصل ہوگیا۔ حضورؓ کے ورود اور ایام کا اخبارات میں بہت چرچا تھا۔ ملاقاتیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا۔ خصوصاً ہفتہ اور اتوار کی سہ پہر کو ملاقاتیوں کا سلسلہ اتنا طویل ہوجاتا کہ حضورؓ ملاقاتیوں کو باصرار کھانے کے لیے ٹھہرالیتے۔ جو کھانا تیار ہوتا ملاقاتیوں کو کھلا دیا جاتا۔ حضورؓ اور حضورؓ کے رفقاء روٹی، پنیر اور چائے پر گزارہ کرتے۔ اُن دنوں ویمبلےمیں ایک عالمی نمائش بھی جاری تھی۔ دو بار حضورؓ نمائش دیکھنے تشریف لے گئے اور دو بار چہل قدمی کے لیے ہائڈپارک بھی تشریف لے گئے۔ ایک دفعہ بلدیہ کی دعوت پر برائٹن اور ایک دفعہ ایک انگریز احمدی کی دعوت پر پورٹ سمتھ تشریف لے گئے۔ جس تقریب میں حضورؓ شمولیت فرماتے، ترجمانی کی سعادت خاکسار کو نصیب ہوتی۔ ایک موقع پر چند غیرمسلم ہندوستانی طلباء نے حضورؓ کو چائے کی دعوت دی جو حضورؓ نے قبول فرمائی۔ وہاں حضورؓ کی خدمت میں جو ایڈریس پیش کیا گیا اس سے مترشح ہوتا تھا کہ شاید حضورؓ حکومت برطانیہ کی دعوت پر تشریف لائے ہیں تاکہ ہندوستانی طلبہ کو حکومت کی وفاداری کی تلقین کریں۔ حضورؓ نے ایڈریس کے جواب میں آزادی اور اس کے حصول کے طریق کے متعلق ایسا اطمینان بخش خطاب فرمایا کہ میزبانوں کے چہروں سے پہلے حیرت پھر مسرت کے جذبات بےساختہ ظاہر ہونے لگے۔
قیامِ انگلستان کے دوران حضرت نعمت اللہ خان صاحبؓ کی کابل میں سنگساری سے شہادت کی خبر پہنچی۔جس سے حضورؓ اور سب احمدیوں کے دل غم سے نڈھال ہوئے۔ ایسکس ہال لندن میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں سرکردہ احباب نے اس ظالمانہ فعل کے خلاف نفرت کا اظہار کیا۔ اس دردناک واقعہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے مَیں نے افغانستان کے سفیر متعیّنہ پیرس کے نام ایک خط لکھا۔ اُن دنوں لندن میں افغان سفیر متعیّن نہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ یورپ میں رہتے ہوئے جناب سفیر اپنی حکومت کے اس وحشیانہ اقدام پر اگر نادم نہیں تو دل میں متاسف ضرور ہوں گے۔ لیکن ان کی طرف سے مجھے ایک نہایت خشم ناک جواب ملا جس کا اختتام یوں تھا کہ ہم نے تمہاری گستاخانہ چٹھی کے پُرزے ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیے ہیں کہ وہ اسی لائق تھے۔ خاکسار نے بڑے غور اور دعا کے بعد حضورؓ کی خدمت میں درخواست کی کہ اگر حضورؓ پسند فرمائیں تو خاکسار کو تبلیغ کے سلسلے میں افغانستان بھیج دیں۔ لیکن یہ درخواست منظور نہ ہوئی۔
جس دن کانفرنس میں حضورؓ کا مضمون پڑھا جانے والا تھا، اس سے پہلی شب خاکسار بعد نماز عشاء اپنے کمرے میں جاکر سوگیا تھا کہ حضورؓ نے یاد فرمایا۔ باقی احباب بھی حاضر تھے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ امرزیرِغور یہ ہے کہ کانفرنس کے اجلاس میں مضمون پڑھ کر کون سنائے۔ بعض احباب کی خواہش ہے کہ مضمون مَیں خود پڑھوں۔ بعض کا مشورہ ہے کہ کوئی اَور پڑھ کر سنائے۔ تمہارا نام بھی لیا گیا ہے۔ تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ جن دوستوں کے نام اس سلسلے میں لیے گئے ہیں ان سب سے مضمون کا کچھ حصہ سنا جائے۔ چنانچہ اُن دوتین اصحاب نے باری باری مضمون کی چند سطریں بلند آواز سے پڑھ کر سنائیں۔ اپنے متعلق تو حضورؓ نے فیصلہ فرمادیا تھا کہ مضمون خود نہیں پڑھیں گے۔ مشورے کے بعد حضورؓ نے فیصلہ فرمایا کہ کانفرنس میں مضمون خاکسار پڑھ کر سنائے۔ کانفرنس میں حاضرین نے کمال احترام سے حضورؓ کا خیرمقدم کیا۔ ہر شخص کی خواہش تھی کہ حضورؓ کے ساتھ مصافحہ کرنے کا شرف حاصل کرے۔ ویلز سے آنے والے ایک پادری صاحب نے حضورؓ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا کہ آپ کی تصنیف ‘‘احمدیت یعنی حقیقی اسلام’’ یہاں سے خرید کر لے گیا تھا، جب مَیں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو میری طبیعت یہ برداشت نہ کرسکی کہ مَیں بغیر ختم کیے اسے ہاتھ سے رکھ دوں، اور راتوں رات اسے ختم کرلیا۔ جب حضورؓ کا مضمون پڑھے جانے کا وقت آیا تو حضورؓ نے خاکسار کی طرف جھک کر بڑی شفقت سے فرمایا: ‘‘گھبرانا نہیں، مَیں دعا کرتا رہوں گا’’۔ ہال میں سب نشستیں پُر تھیں اور بہت سے لوگ کھڑے رہ گئے تھے۔ سارا مضمون کامل خاموشی سے سنا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے مضمون ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور بالاتفاق کانفرنس میں پڑھے جانے والے مضامین میں سے سب سے اعلیٰ شمار کیا گیا۔

انگلستان سے روانہ ہونے سے قبل حضورؓ نے لندن کی مسجد کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ پھر حضورؓ کی اجازت سے خاکسار بذریعہ ہوائی جہاز ایمسٹرڈیم پہنچا۔ ہوائی جہاز کا میرا یہ پہلا سفر تھا۔ وہاں سے برسلز میں ٹھہرتا ہوا جب مَیں پیرس پہنچا تو حضورؓ بھی پیرس تشریف لاچکے تھے جہاں لودارؔ کے قریب گرنیڈہوٹل میں قیام فرمایا۔ اکثر وقت ملاقاتوں میں صرف ہوتا۔ صرف ایک دن وارسائے کا محل دیکھنے تشریف لے گئے۔ ایک روز خاکسار سے فرمایا کہ تم نے تو ہوائی جہاز کا سفر کرلیا اب کوئی ایسا انتظام کرو کہ ہم بھی یہ تجربہ کرسکیں۔ خاکسار نے گزارش کی کہ حضورؓ کے رفقاء تو یہ منظور نہ کریں گے کہ حضورؓ اس نئی سواری کا تجربہ کریں جس میں ابھی کچھ خطرے کا عنصر بھی ہے۔ فرمایا: انہیں پہلے نہ بتایا جائے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ بعد میں جب انہیں معلوم ہوگا تو خاکسار ہدفِ ملامت ہوگا کہ خاکسار نے حضورؓ کو کیوں یہ مشورہ دیا اور خاکسار کا کوئی عذر قابلِ پذیرائی نہ ہوگا۔ خاکسار کو احساس تھا کہ حضورؓ کی خواہش ہے کہ کوئی موقع ہوائی سفر کا پیدا ہوجائے لیکن میری اپنی طبیعت یہ ذمہ داری لینے سے گریز کرتی تھی۔ میرا قیاس ہے کہ حضورؓ میرے تذبذب کو بھانپ گئے اور اصرار نہ فرمایا۔ پیرس سے بمبئی کے سفر کے انتظامات کی نگرانی حضورؓ نے میرے سپرد فرمائی اور بفضل اللہ یہ سفر بخیروخوبی طَے ہوگیا۔
پیرس سے حضورؓ کا قافلہ بذریعہ ریل وینس روانہ ہوا جہاں دو دن کے لیے قیام میٹروپول ہوٹل میں تھا۔ حضورؓ کو یہ دو دن فراغت کے میسر آگئے۔ سینٹ مارک کا چوک شہر کا مرکز ہے۔ پہلی بار جب حضورؓ چوک دیکھنے تشریف لے گئے تو خاکسار نے گزارش کی کہ یہ چوک دنیا کا خوبصورت ترین چوک کہا جاتا ہے۔ فرمایا یہ تو مَیں نہیں کہہ سکتا کیونکہ مَیں نے دنیا کے تمام چوک نہیں دیکھے البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو چوک مَیں نے دیکھے ہیں ان سب میں سے خوبصورت ترین یہ چوک ہے۔ وینس میں شیشے، چمڑے اور ریشم ہر قسم کا نہایت نفیس سامان خرید کے لیے ملتا ہے۔ حضورؓ نے بہت سی چھوٹی چھوٹی اشیاء اعزا اور احبا کے لیے تحائف کے طور پر خرید کیں۔ بارہ اشخاص کے لیے ایک چائے کا سیٹ حضورؓ کو بہت پسند آیا لیکن حضورؓ نے اپنے لیے خریدنا پسند نہ فرمایا۔ خاکسار سے فرمایا تم خرید لو۔ خاکسار نے گزارش کی یہ چیز خاکسار کی حیثیت سے بہت بڑھ کر ہے۔ فرمایا تمہیں ا س کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ خاکسار حضورؓ کے فرمان کو تفاؤل سمجھ کر خریدنے پر آمادہ تو ہوگیا لیکن پوری قیمت پاس نہیں تھی۔ حضورؓ نے فرمایا جس قدر ضرورت ہے ہم قرض دے دیتے ہیں۔ خاکسار کے لیے تعمیلِ ارشاد میں کسی عذر کی گنجائش باقی نہ رہی۔
واپسی پر (بحری) جہاز میں حضورؓ اوّل درجے میں تھے۔ ہم چار پانچ دوست دوسرے درجے میں اور باقی تمام اصحاب عرشے کے مسافر تھے۔ اُن کے لیے رسد وغیرہ وینس سے خریدی گئی تھی۔ باورچی ساتھ تھا اس لیے انہیں کھانے کے متعلق کوئی دقّت نہیں تھی۔ انہوں نے عرشے پر اپنے لیے خوب آرام دہ انتظام کرلیا تھا۔ ہمارا بھی سارا دن عرشے پر گزرتا، وہیں نمازیں ادا ہوتیں اور حضورؓ کے جلوہ افروز ہونے کے باعث محفلِ عرفان قائم ہوتی۔ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ حضورؓ کے ارشاد کے ماتحت کچھ عرصہ قاہرہ میں قیام کرنے کے لیے پورٹ سعید سے رخصت ہوئے تو حضورؓ نے بہت دعاؤں اور پُرنم آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا۔
ایک چاندنی رات میں حضورؓ معہ رفقاء عرشے پر تشریف فرما تھے۔ کسی خادم کی گزارش پر ارشاد ہوا کہ حاضرین مجلس میں سے ہر ایک دوچار شعر سنائے۔ باقی تمام خدام تو تعمیلِ ارشاد میں کامیاب ہوگئے صرف خاکسار بوجہ شدید حجاب کے قاصر رہا۔ آخر میں جملہ خدام کی گزارش پر حضورؓ بھی شعر سنانے پر رضامند ہوگئے اور غالب کی غزل ؎

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل

کچھ ایسے دردانگیز لہجے میں سنائی کہ سب آنکھیں پُرنم ہوگئیں۔
والدمحترم پر حضورؓ کی شفقتیں
اپریل 1917ء میں والد صاحب (حضرت چودھری نصراللہ خان صاحبؓ ) نے سیالکوٹ میں اپنا وکالت کا کاروبار بند کردیا اور مستقل قادیان حاضر ہوگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے نظارت اعلیٰ و نظارت بہشتی مقبرہ کے فرائض آپؓ کے سپرد فرمائے۔ نیز آپؓ نے اپنے طور پر حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا انڈیکس بھی تیار کرنا شروع کیا۔
1926ء میں میرے والد کی طبیعت خراب ہوگئی، حرارت اور کھانسی رہنے لگی۔ علاج جاری تھا۔ 31؍اگست کی صبح والدہ صاحبہ نے مجھے اپنا خواب سنایا جس کی تعبیر واضح تھی کہ جمعہ کا دن شروع ہوتے ہی والد صاحب کی وفات ہوجائے گی۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ابھی سے سب تیاری کرلی جائے۔ چنانچہ 2؍ستمبر کو بعد نماز مغرب جب اسلامی شمار سے جمعہ کا دن شروع ہی ہوا تھا ہم اس سراپا شفقت بزرگ ہستی کی رفاقت سے محروم ہوگئے۔ دو بجے شب اُن کا جنازہ لے کر روانہ ہوئے اور طلوع آفتاب کے وقت قادیان پہنچے۔ اسی رات حضرت خلیفۃالمسیحؓ باوجود رستے کی خرابی کے ڈلہوزی سے قادیان تشریف لائے اور اگلی صبح سلسلہ کے پہلے ناظراعلیٰ کا جنازہ پڑھایا۔ بہشتی مقبرہ میں خاص صحابہ کے قطعہ میں دفن ہوئے۔
آنحضورﷺ کی محبت میں
1927ء میں ایک دریدہ دہن شخص راجپال نے نہایت شرمناک کتابچہ ‘‘رنگیلارسول’’ شائع کرکے اپنی دنیاوعاقبت تباہ کرلی۔ حکومت کی طرف سے مصنف پر فوجداری مقدمہ چلایا گیا۔ ابتدائی عدالت سے اسے کچھ قید کی سزا ہوئی جو اپیل میں قائم رہی لیکن ہائی کورٹ میں مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ نے قرار دیا کہ رسول اکرمﷺ کی توہین قانون کی زد میں نہیں آتی اور ملزم کو بری کردیا۔ اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات سخت مجروح ہوئے۔ جلد ہی ایک جوشیلے مسلمان علم دین نے راج پال کو قتل کردیا۔ اس شدید ہیجان کے دَور میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ راج پال کے فعل شنیع کی ذمہ داری کسی حد تک ہم پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم اپنے اوّلین فرض کی کماحقّہٗ ادائیگی سے اب تک غافل رہے ہیں جو یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ طیّبہ اور حضورﷺ کے خلقِ عظیم کی صحیح تصویر غیرمسلموں کے سامنے پیش کریں۔ چنانچہ آپؓ نے ملک بھر میں سیرت النبیؐ کے جلسوں کا سلسلہ جاری فرمایا۔ دوسرے آپؓ نے ملک کے تعزیری قانون میں ترمیم کی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں ایسی ترمیم کردی گئی جس کے الفاظ واضح طور پر بانیانِ مذاہب کی تحریری یا تقریری توہین کو قابلِ تعزیر قرار دیتے ہیں۔
اس اثناء میں انگریزی روزنامہ ‘‘مسلم آؤٹ لک’’ لاہور میں ایک اداریہ شائع ہوا جس میں مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلے پر سخت تنقید کی گئی۔ اس پر اخبار کے مالک اور پرنٹر کے نام ہائی کورٹ سے توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔ مسلمان وکلاء کا ایک مشاورتی جلسہ میاں سرمحمد شفیع صاحب کے دفتر میں منعقد ہوا۔ جس میں سرمحمد شفیع نے مجھے وکیل کرنے کی رائے دی حالانکہ اس مجلس میں بہت سے ایسے اصحاب موجود تھے جو لیاقت اور تجربے میں مجھ سے کہیں آگے تھے۔ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں اپنے بزرگوں کی موجودگی میں اپنے آپ کو اس قابل تو نہیں سمجھتا لیکن اس کیس کی پیروی میرے لیے باعثِ فخر ہوگی۔
دوسرے ہی دن پانچ ججوں کے سامنے اس کیس کی سماعت تھی۔ تیاری کے لیے زیادہ وقت میسر نہ تھا لیکن دعا کے مواقع ضرور میسر تھے۔ عدالت میں مَیں نے یہ عذر اٹھایا کہ اس عدالت کو توہین عدالت کے معاملے میں اختیارِ سماعت حاصل نہیں۔ یہ خاص اختیار کہ اپنی مزعومہ توہین کی سزا عدالت خود ہی تجویز کرے، برطانوی عدالتوں کا خاص مسئلہ ہے اور برطانیہ میں بھی یہ اختیار عدالتہائے ریکارڈ تک محدود ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ ’کورٹ آف ریکارڈ‘ نہیں۔ کچھ مثالیں پیش کرنے کے بعد مَیں نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ زیربحث اداریہ جائز تنقید سے تجاوز نہیں کرتا اور تنقید خواہ کتنی شدید ہو توہینِ عدالت نہیں کہلاسکتی۔ ہر روز عدالتیں ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو منسوخ کرتی ہیں اور بعض دفعہ ماتحت عدالت کے جج کے متعلق سخت الفاظ بھی استعمال کرتی ہیں لیکن اس سے ماتحت جج کی توہین لازم نہیں آتی۔ آخر میں مَیں نے کہا اگر بایں ہمہ آپ قرار دیں کہ اداریہ زیربحث سے جج متعلّقہ کی توہین لازم آتی ہے تو رسول اکرمﷺ کی عزت کی حفاظت کی سعی میں اگر ہائی کورٹ کے ایک جج کی توہین لازم ہوگئی تو یہ امر ناگزیر تھا جس کی پوری ذمہ داری مسئول علیہم تسلیم کرتے ہیں۔
جب بحث ختم ہوئی تو مولانا ظفر علی خان صاحب سامعین کے حصے سے کٹہرے کو ہٹاکر میری طرف لپکے اور اس ناچیز کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر بلند آواز سے فرمایا ’’آج تم نے ان لوگوں کا منہ کالا کردیا جو کہتے ہیں مسلمانوں میں قابل وکیل نہیں ملتا‘‘۔ عدالت سے دونوں خادمانِ رسولؐ (مدیر اور پرنٹر) کو چھ چھ ماہ قید ہوئی۔
اسی دوران امرتسر میں ورتمان نامی ایک رسالے میں رسول اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کا ایک پلندہ شائع ہوا۔ دو دن کے اندر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کا اشتہار بعنوان ’’رسول اللہﷺ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے‘‘ شائع کرکے کئی شہروں کی دیواروں پر چسپاں کردیا گیا۔ دفعہ 144 نافذ کردی گئی، ہر قسم کے اشتہارات اور رسالہ جات کی اشاعت بدوں اجازت ڈپٹی کمشنر ممنوع قرار دی گئی۔ آخر حکومت حرکت میں آئی۔ ورتمان کے طابع اور ناشر کے خلاف ہائی کورٹ میں استغاثہ دائر ہوا۔ عدالت نے مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلے کو منسوخ کرکے ملزمان کو قید کی سزا سنائی۔
مظلوم کشمیریوں کی دادرسی کی کوششیں
ریاستِ کشمیر کی مظلوم آبادی نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پہلی صدا 1930ء میں بلند کی تو ڈوگرہ حکومت نے بندوق سے اس کا جواب دیا۔ اس پر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے شملہ میں سرکردہ ابنائے کشمیر کو جمع ہونے کی دعوت دی۔ اس کے نتیجے میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ اراکینِ کمیٹی کے اصرار پر حضورؓ نے اس کمیٹی کی صدارت منظور کرلی۔
حکومت کے شبہات اور مخالفانہ اقدامات
خلافتِ ثانیہ میں جماعت احمدیہ کی اندرونی مضبوطی، حضورؓ کی طرف سے ملک بھر میں سیرت النبیؐ کے جلسوں کا آغاز، تبلیغی پروگراموں اور پھر کشمیر کمیٹی کے قیام اور اس کے اقدامات کے نتیجے میں حکومت کے حلقوں میں شبہ کی نگاہ سے جماعت کو دیکھا جانے لگا۔ احرار اور دیگر مخالفین نے بھی اس شبہ کو تقویت دینے میں خوب پراپیگنڈا کیا۔ حتٰی کہ گورنر پنجاب سرہربرٹ ایمرسن جو حکومت کے مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے انہیں آپس میں الجھائے رکھنا چاہتے تھے، انہوں نے مجلس احرار کو ایک موقع پر قادیان میں ایک تبلیغی کانفرنس کے انعقاد کی اجازت دے دی اور احرار کے اشتعال انگیز دعووں کے باوجود حکماً جماعت احمدیہ کو حفاظتِ مرکز کے لیے باہر سے کسی کو بھی بلانے سے منع کردیا۔ جماعت کی طرف سے حکومت پر واضح کیا گیا کہ اس کانفرنس کی غرض سوائے فساد کے اَور کچھ نہیں ہوسکتی۔ قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے جس کے آبادی 90% احمدی ہے۔ باقی دس فیصد میں کثرت غیرمسلموں کی ہے۔ احمدی اور غیرمسلم تو اس کانفرنس میں شامل نہیں ہوں گے اور غیراحمدی عنصر احرار کی تبلیغ کا محتاج نہیں۔ لیکن حکومت نے ان عذرات کی طرف کوئی التفات نہ کیا اور براہ راست حضورؓ کو نوٹس بھیجا گیا کہ کانفرنس کے دنوں میں کوئی احمدی باہر سے قادیان نہ آئے۔ یعنی احمدیت کے مرکز میں مفسدوں کو آنے کی اجازت تھی لیکن احمدی کو نہیں۔ نیز نوٹس براہ راست امام جماعت احمدیہ کے نام بھیجا گیا جس سے ظاہر تھا کہ اس نوٹس کی غرض اُن کو گرفت میں لانا تھی۔ بہرحال یہ تبلیغی کانفرنس ہوئی، کوئی احمدی تو کانفرنس کے نزدیک بھی نہ گیا۔ بعد میں گورنر نے خود مجھ سے کہا کہ کانفرنس میں صرف جماعت احمدیہ کو گالیاں دی گئیں۔
کانفرنس کے انعقاد کے بعد حضورؓ نے اپنے خطباتِ جمعہ میں حکومت کے اس ناروا طرزعمل پر تنقید شروع کی۔ گورداسپور سے خفیہ پولیس کے دو افسر خطبہ جمعہ کے نوٹس لینے قادیان آتے جنہیں حضورؓ کے ارشاد پر حضورؓ کے قریب ہی آرام دہ جگہ پر بٹھایا جاتا۔ وہ واپس جاکر انگریزی میں ترجمہ کرکے رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کرتے جو اگلی صبح گورنر کو پہنچ جاتی۔ اگرچہ حضورؓ حکومت کے طرزعمل پر کڑی تنقید فرمارہے تھے لیکن گورنر کو کہیں بھی ہاتھ ڈالنے کی گنجائش نظر نہ آتی کیونکہ حضورؓ ہمیشہ ہر بات وضاحت سے فرمانے کے عادی تھے۔ گورداسپور کے یورپین ایس پی نے بعد میں کہا کہ جب مَیں خطبہ جمعہ کا ترجمہ پڑھتا تھا تو کسی مقام پر سمجھتا کہ اب یہ پھنسے لیکن اگلے ہی فقرے میں ایسی وضاحت ہوجاتی کہ کوئی بات قابلِ گرفت نہ رہتی۔
حکومت کو غلطی کا احساس اور مصالحت کی کوشش
1934ء میں مَیں لندن سے واپس آیا تو گورنر پنجاب نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا اور دوسری باتوں کے بعد خواہش ظاہر کی کہ امام جماعت احمدیہ نے خطبات کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے وہ اب ختم کردیا جائے۔ اور کہا کہ اگر مجھے پہلے سے اندازہ ہوتا کہ وہ اس کانفرنس کو محض دشنام طرازی اور اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کریں گے تو انہیں ہرگز اجازت نہ ملتی۔ بہرحال انہیں اپنی غلطی کا احساس تھا لیکن وہ حکومت میں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مَیں حضورؓ کے اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دُور کرنے کی کوشش کروں۔ وہ اپنی غلطی کے حوالے سے ایک خط بھیجنے کو بھی تیار تھے لیکن اُن کی خواہش تھی کہ اس کو شائع نہ کروایا جائے۔ چنانچہ مَیں تین چار بار حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ اگر مَیں یکلخت اس بارے میں خاموش ہوجاؤں تو اس سے مراد لی جاسکتی ہے کہ میرے موقف کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی ہے۔ یا حکومت نے مجھے دھمکی دی ہے۔ اگر پہلی بات ہو تو مجھے اپنی غلطی تسلیم کرنے کا اعلان کرنے میں باک نہیں ہوگا۔ لیکن دھمکی سے مَیں خاموش نہیں ہوسکتا، اس طرح تو مَیں اپنے ہاتھوں اپنی توہین کرنے والا ہوں گا۔ ہاں یہ صورت ہوسکتی ہے کہ اگر حکومت میرے موقف کو تسلیم کرلے تو مَیں کہہ سکتا ہوں کہ حکومت کی غلط فہمی رفع ہوگئی ہے اور اب اس معاملے کو طول دینا بے معنی ہے۔ حضورؓ نےفرمایا کہ مَیں حکومت کے وقار کو صدمہ پہنچانا نہیں چاہتا لیکن مجھے جماعت کے وقار کی بھی تو حفاظت کرنی ہے۔ بہرحال یہ قضیہ وقتی طور پر فرو ہوگیا۔ بعدازاں گورنر کی خواہش پر حضورؓ کی اُن کے ساتھ منالی اور لاہور میں ملاقاتیں بھی ہوئیں اور دونوں کو ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہی ہوئی۔ تاہم احرار کا حوصلہ بہرحال اتنا بڑھ چکا تھا کہ 1935ء کے موسم گرما میں قادیان میں رہنے والے ایک غیراحمدی شریر نے صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ پر لاٹھی سے حملہ کیا جس سے ان کے کندھے پر ضرب آئی۔ صاحبزادہ صاحب اپنی خوبیوں کی وجہ سے ایک نہایت ہی محبوب شخصیت تھے اور اس حرکت کی غرض صرف احمدیوں کو اشتعال دلانا تھا۔ احرار کانفرنس کا ایک ثمرآور نتیجہ تحریک جدید کا اجرا تھا جس کے نتیجے میں بیرون ملک تبلیغ اسلام کے نہایت شاندار باب کا آغاز ہوا۔
تقسیم ہند اور حضورؓ کی خدمات
ہندوستان کی تقسیم کے وقت باؤنڈری کمیشن کے سامنے کیس پیش کرنے کے لیے میرا انتخاب ہوا تو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے گراں قدر امداد کی۔ حضورؓ ان دنوں لاہورمیں ہی تشریف فرما تھے۔ پیغام بھجوایا کہ حضورؓ کب تشریف لاکر مجھے بعض معلومات بہم پہنچادیں۔ خاکسار نے گذارش کی کہ جس وقت حضورؓ کا ارشاد ہو خاکسار حاضر ہوجائے گا۔ ارشاد ہوا کہ تم نہایت قومی فرض کی سرانجام دہی میں مصروف ہو، ہم وہیں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ حضورؓ تشریف لائے اور بٹوارے کے اصولوں کے متعلق بعض نہایت مفید حوالوں کی نقول عطا کیں۔ پھر انگلستان سے اپنے خرچ پر اصل کتب بھی منگواکر مہیا کیں۔ نیز اپنے خرچ پر ایک ماہر پروفیسرسپیٹ کو انگلستان سے بلایا جنہوں نے نقشہ جات تیار کرکے دفاعی پہلو مجھے خوب سمجھادیا۔ بحث کے دوران حضورؓ خود بھی اجلاس میں تشریف فرما رہے اور دعا سے مدد فرماتے رہے۔
حضورؓ کا وصال اور جذبات کا تلاطم
9؍نومبر1965ءکو جزائر فجی میں تھا کہ بذریعہ تار اطلاع ملی کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی بیماری تشویشناک صورت اختیار کرگئی ہے۔ ہوائی کمپنی کے دفتر گیا تو معلوم ہوا کہ مجھے ربوہ پہنچنے کے لیے تین دن درکار ہوں گے۔ وہاں سے احمدیہ مرکز گیا تو وہاں حضورؓ کے وصال کی اطلاع آچکی تھی۔ وہ رات میرے لیے سخت کرب کی رات تھی۔ پچھلے پہر ایک خواب دیکھا کہ خلیفہ کا انتخاب ہوگیا ہے۔ منتخب ہونے والے خلیفہ کی عمر 56 سال ہے اور ان کی طبیعت میں بہت رشد، حیا اور حلم ہے۔ صبح مَیں نے موجود احباب سے یہ ذکر کرکے اپنا اندازہ بیان کیا کہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے ہیں جن کی عمر کے متعلق صرف میرا اندازہ ہی تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ آپؒ کی ولادت 1909ء کی ہے۔
11؍نومبر کو ناندی کے مطار سے رخصت ہوا تو ہوائی جہاز میں بیٹھ کر دل مچلا اور گویا جذبات نے اعلان کردیا کہ اب تک تو ہمیں ضبط کی زنجیر میں جکڑے رکھنا مصلحت کا مطالبہ تھا لیکن اب اگر ہمیں رخصت نہ دی گئی تو ہمیں طوفان کی شکل میں خروج کرنا ہوگا۔ پھر قرینِ مصلحت یہی تھا کہ دل اور آنکھوں کو خاموش اظہار کی اجازت دے دی جائے تا جذبات کا سمندر یک لخت تلاطم میں نہ آئے۔ مجھے ستمبر 1904ء میں پہلی بار حضورؓ کی زیارت سیالکوٹ میں نصیب ہوئی تھی۔ حضورؓ کی عمر اس وقت پندرہ سال اور آٹھ ماہ تھی۔ مَیں حضورؓ سے چار سال چھوٹا ہوں۔ میرے دل میں وہ شبیہ پوری طرح محفوظ ہے۔ آپؓ سرخ رنگ کی ترکی کلاہ پہنے ہوئےتھے۔ عمامہ پہننا کچھ عرصے بعد شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سالانہ جلسے اور ستمبر میں قادیان جانے پر ہر سال زیارت کے مواقع نصیب ہوتے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے آخری قیام لاہور کے دوران بھی زیارت کے مواقع نصیب ہوتے رہے لیکن تعلقات قائم کرنے میں حجاب مانع رہا۔ 1910ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تو میرے ان کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم قائم ہوگئے۔ اس کے بعد جب کبھی مَیں قادیان جاتا تو وہ مجھے اپنے ہاں مہمان ٹھہراتے۔ اگست 1911ء میں انگلستان روانہ ہونے سے پہلے اُن کے ہی فرمانے پر صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی خدمت میں باریابی کی سعادت حاصل کی۔ آپؓ نے ازراہ شفقت چند نصائح فرمائیں اور ارشاد فرمایا کبھی کبھی خط لکھتے رہیں۔ خاکسار گاہے گاہے چند سطریں خدمت عالی میں ارسال کرتا تو حضورؓ مشفقانہ ارشادات سے نوازتے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے وصال پر بیعت کا تحریری عہد تو انگلستان سے ہی پیش کردیا اور نومبر 1914ء میں وطن واپسی پر اپنے والدین کی خدمت میں سیالکوٹ میں حاضر ہونے سے پہلے قادیان حاضر ہوکر دست مبارک پر بیعت سے فیض یاب ہوا۔ اسی وقت سے حضورؓ نے خاکسار کی تربیت اپنے مبارک ہاتھوں میں لے لی۔ 1915ء میں حضورؓ نے جماعت احمدیہ دہلی کے جلسے میں انگریزی میں ضرورتِ مذہب پر تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا۔ خاکسار نے کچھ پریشانی کے عالم میں عرض کی حضور! خاکسار تو اس میدان میں محض نابلد ہے۔ فرمایا: ہم نوٹ لکھوا دیتے ہیں، ان پر غور کرکے مضمون پھیلا لینا، ہم دعا بھی کریں گے۔ انشاءاللہ کوئی دقّت نہیں ہوگی۔
مختلف مقدمات میں پیروی کرنے کا ارشاد ملتا رہا۔ ایک بار پنجاب چیف کورٹ میں حضورؓ اور حضورؓ کے برادران کے ایک نجی دیوانی مقدمے میں جس کا گہرا سیاسی اثر جماعت کے مفاد پر پڑتا تھا، ایک کہنہ مشق وکیل کے مقابلے میں حضورؓ نے خاکسار کا انتخاب فرمایا۔ بعض احباب نے کچھ دوسرے قابل وکیل کرنے کا مشورہ دیا تو حضورؓ نے فرمایا جو کام محبت اور اخلاص کرسکتے ہیں وہ محض لیاقت نہیں کرسکتی۔
حضورؓ کے مختلف پیغامات اور ایڈریسز کا ترجمہ انگریزی میں کرنے اور انہیں پیش کرنے کی توفیق ملتی رہی۔ بعض اہم ملاقاتوں کے موقعہ پر ترجمانی کی خدمت سرانجام دینے کے لئے حضورؓ نے منتخب فرمایا۔ خاکسار کو سیاسی امور میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور انتخابات سے طبیعت گریز کرتی تھی۔ حضورؓ نے اپنے ارشاد کے ماتحت اس میدان میں داخل کیا، ہر مرحلے پر ہدایت اور رہنمائی فرمائی۔
جیسے جیسے ہر مرحلہ میری نظر سے گزرتا گیا میرا یہ احساس تیزتر ہوتا گیا کہ مَیں کس قدر خوش قسمت تھا کہ حضورؓ کی توجہ اور شفقت کا پیہم مورد رہا۔ مَیں نے مرغ بے جان کی طرح اپنے آپ کو حضورؓ کے ہاتھ میں دے دیا اور حضورؓ ہر لحظہ ماں باپ سے بڑھ کر مشفق مربی رہے۔ مَیں نے اپنے متعلق اتنی فکر نہیں کی جتنی حضورؓ میرے متعلق کرتے رہے۔ نیوزی لینڈ پہنچنے تک مَیں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنے پروگرام کے مطابق ہی پاکستان پہنچوں گا جلدی نہیں کروں گا تاکہ اتنے عرصے میں میرے جذبات اور میری طبیعت قابو میں آجائے۔ پھر پاکستان پہنچنے پر اوّل تو مجھے کچھ حوصلہ ہوا کہ مَیں طبیعت پر ضبط قائم رکھ سکوں گا لیکن یہ احساس فریب ثابت ہوا۔ حضورؓ کے وصال کو آج چھ سال ہونے کو آئے ہیں لیکن میری طبیعت کی وہی کیفیت ہے۔ (1971ء)
٭…٭…٭

100% LikesVS
0% Dislikes
+1

اپنا تبصرہ بھیجیں