خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ 20؍فروری 2004ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کروگے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہاری عزت پہلے سے زیادہ قائم کرے گا
آج اگر اخلاق کے اعلیٰ نمونے کوئی دکھا سکتا ہے تو وہ احمدی ہیں جنہوں نے ان احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے زمانے کے امام کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی ہے
معاشرے میں عفو ودرگزر کے قیام کے سلسلہ میں بصیرت افروز خطبہ جمعہ
ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
20؍فروری2004ء بمقام مسجد بیت الفتوح،مورڈن لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآء وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (سورۃ ال عمران آیت :۱۳۵)

معاشرے میں جب برائیوں کا احساس مٹ جائے تو ایسے معاشرے میں رہنے والا ہرشخص کچھ نہ کچھ متاثر ضرور ہوتا ہے اور اپنے نفس کے بارے میں ، اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ حساس ہوتا ہے اور دوسرے کی غلطی کو ذرا بھی معاف نہیں کرنا چاہتا، چنانچہ دیکھ لیں ، آج کل کے معاشرے میں کسی سے ذرا سی غلطی سرزد ہو جائے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے چاہے اپنے کسی قریبی عزیز سے ہی ہو اور بعض لوگ کبھی بھی اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اور اسی وجہ سے پھر خاوند بیوی کے جھگڑے، بہن بھائیوں کے جھگڑے، ہمسایوں کے جھگڑ ے، کاروبار میں حصہ داروں کے جھگڑے، زمینداروں کے جھگڑے ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض دفعہ راہ چلتے نہ جان نہ پہچان ذرا سی با ت پہ جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک راہ گیرکا کندھا رش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ٹکرا گیا، کسی پر پاؤں پڑ گیا تو فوراً دوسرا آنکھیں سرخ کرکے کوئی نہ کوئی سخت بات اس سے کہہ دیتا ہے پھر دوسرا بھی کیونکہ اسی معاشرے کی پیداوار ہے، اس میں بھی برداشت نہیں ہے، وہ بھی اسی طرح کے الفاظ الٹا کے اس کو جواب دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ پھر بات بڑھتے بڑھتے سر پھٹول اور خون خرابہ شروع ہو جاتا ہے۔ پھر بچے کھیلتے کھیلتے لڑ پڑیں توبڑے بھی بلاوجہ بیچ میں کود پڑتے ہیں او رپھر وہ حشر ایک دوسرے کا ہو رہا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ اور اس معاشرے کی بے صبری اور معاف نہ کرنے کا اثر غیر محسوس طریق پر بچوں پر بھی ہوتا ہے، گزشتہ دنوں کسی کالم نویس نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ایک باپ نے یعنی اس کے دوست نے اپنے ہتھیار صرف اس لئے بیچ دئیے کہ محلے میں بچوں کی لڑائی میں اس کا دس گیارہ سال کا بچہ اپنے ہم عمر سے لڑائی کر رہا تھا کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔ اس کے بعد وہ بچہ گھر آیا اور اپنے باپ کا ریوالور یا کوئی ہتھیار لے کے اپنے دوسرے ہم عمر کو قتل کرنے کے لئے باہر نکلا۔ اس نے لکھا ہے کہ شکر ہے پستول نہیں چلا، جان بچ گئی۔ لیکن یہ ماحول اور لوگوں کے رویے معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں- اور معاشرے کی یہ کیفیت ہے اس وقت کہ بالکل برداشت نہیں معاف کرنے کی بالکل عادت نہیں ، اور یہ واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے پاکستان کا ہے لیکن یہاں یورپ میں بھی ایسے ملتے جلتے بہت سے واقعات ہیں جن کی مثالیں ملتی ہیں- بعض دفعہ اخباروں میں آ جاتا ہے۔ تو جب اس قسم کے حالات ہوں تو سوچیں کہ ایک احمدی کی ذمہ داری کس حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اپنے آپ کو، اپنی نسلوں کو اس بگڑتے ہوئے معاشرے سے بچانے کے لئے بہت کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ہمارے لئے کس قدر ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم قرآنی تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں-
یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو آسائش میں خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی، اور غصہ دبا جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
اس میں احسان کرنے والوں کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ جب تم یہ نہیں دیکھو گے کہ تمہاری ضروریات پوری ہوتی ہیں کہ نہیں تمہیں مالی کشائش ہے یا نہیں اور ہر حال میں اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گے تو نیکی کرنے کی روح پیدا ہو گی اور پھر فرمایا کہ ایک بہت بڑا خلق تمہارا غصے کو دبانا ہے۔ اور لوگوں سے عفو کا سلوک کرنا ہے اور ان سے درگزر کرنا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگوں سے عفو کا سلوک کرو گے معاف کرنے کی عادت ڈالو گے، اس لئے کہ معاشرے میں فتنہ نہ پھیلے، اس لئے کہ تمہارے اس سلوک سے شاید جس کو تم معاف کر رہے ہو اس کی اصلاح ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں سے میں محبت کرتا ہوں-
آج کل کے معاشرے میں جہاں ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے یہ خُلق تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور بھی پسندیدہ ٹھہرے گا اور آج اگر یہ اعلیٰ اخلاق کوئی دکھا سکتا ہے تو احمدی ہی ہے۔ جنہوں نے ان احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے زمانے کے امام کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عفو کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر مختلف جگہوں پر قرآن کریم میں اس بارے میں احکامات دئیے ہیں ، مختلف معاملات کے بارے میں ، مختلف سورتوں میں- میں ایک دو اور مثالیں پیش کرتا ہوں-
اللہ تعالیٰ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے

خُذِالْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ (سورۃ الاعراف ۲۰۰:)

یعنی عفو اختیار کر، معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔ یہاں فرمایا معاف کرنے کا خُلق اختیار کرو اور اچھی باتوں کا حکم دو اگر کسی سے زیادتی کی بات دیکھو تو درگزرکرو۔ فوراً غصہ چڑھا کر لڑنے بھڑنے پر تیار نہ ہو جایا کرو اور ساتھ یہ بھی کہ جو زیادتی کرنے والا ہے اس کو بھی آرام سے سمجھاؤ کہ دیکھو تم نے ابھی جو باتیں کی ہیں مناسب نہیں ہیں اور اگر وہ باز نہ آئے تو وہ جاہل شخص ہے، تمہارے لئے یہی مناسب ہے کہ پھر ایک طرف ہو جاؤ چھوڑ دو اس جگہ کو اور اس کو بھی اس کے حال پر چھوڑ دو۔ دیکھیں کہ یہ کتنا پیارا حکم ہے اگر کسی طرح عفو اختیار کیا جائے تو سوال ہی نہیں ہے کہ معاشرے میں کوئی فتنہ و فساد کی صورت پیدا ہو۔ لیکن یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو پھرفتنہ پیدا کرنے والے اور فساد کرنے والوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی، وہ شرفاء کا جینا حرام کر دیں گے۔ اور شریف آدمی پرے ہٹ جائے گا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ فساد کرنے والے معاشرے میں رہیں اور فساد بھی کرتے رہیں ، ان کی اصلاح بھی تو ہونی چاہئے اگر تمہارا معاف کرنا ان کو راس نہیں آتا تو پھران کی اصلاح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بھی چھوڑا نہیں ہے دوسری جگہ حکم فرمایا ہے۔ کہ

وَجَزَآؤُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا۔ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ۔ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (سورۃ الشوریٰ آیت ۴۱:)

بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مدنظر رکھے اس کا بدلہ دینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوتا ہے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
اب ہر کوئی تو بدی کا بدلہ نہیں لے سکتا کیونکہ اگر یہ دیکھے کہ فلاں شخص کی اصلاح نہیں ہو رہی باز نہیں آ رہا تو خود ہی اگر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی تو پھر تو اور فتنہ و فساد معاشرے میں پیدا ہو جائے گا۔ یہ تو قانون کو ہاتھ میں لینے والی باتیں ہو جائیں گی۔ اس کی وجہ سے ہر طرف لاقانونیت پھیل جائے گی۔ اس کے لئے بہرحال ملکی قانون کا سہارا لینا ہو گا، قانون پھر خود ہی ایسے لوگوں سے نبٹ لیتا ہے۔ اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ عام طور پرایسے، اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے والے، لڑائی کرنے والے، فتنہ وفساد پیدا کرنے والے، لاقانونیت پھیلانے والے جب قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو پھر صلح کی طرف رجوع کرتے ہیں ، سفارشیں آ رہی ہوتی ہیں کہ ہمارے سے صلح کر لو تو فرمایا کہ اصل میں تو تمہارے مدنظر اصلاح ہے اگر سمجھتے ہو کہ معاف کرنے سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے تو معاف کر دو لیکن اگر یہ خیال ہو کہ معاف کرنے سے اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی یہ تو پہلے بھی یہی حرکتیں کرتا چلا جارہا ہے اور پہلے بھی کئی دفعہ معاف کیا جا چکا ہے لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، ناقابل اصلاح شخص ہے تو پھر بہرحال ایسے شخص کو سزا ملنی چاہئے۔ اور اس کے مطابق جماعتی نظام میں بھی تعزیر کا، سزا کا طریق رائج ہے، جب اللہ تعالیٰ کے احکامات کو توڑو گے، جب دوسروں کے حقوق غصب کرو گے جب بھائی کی زمین یا جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو گے، جب بیوی پر ظلم کرو گے تو نظام کی طرف سے تو سزا ملے گی۔ جس کو سزا ملی ہو وہ درخواستیں لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔فوراً معاف کرنے والا حکم ان کے سامنے آ جاتا ہے اور اس کے مفسر بن جاتے ہیں- اگلی بات بھول جاتے ہیں کہ اصلاح کی خاطر سزا دینا بھی اللہ کا حکم ہے۔ ہر احمدی کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اس بھیانک معاشرے میں اس نے بھی اپنا رویہ ٹھیک نہ کیا تو پھر حضرت اقدس مسیح موعودؑکے ارشاد کے مطابق وہ جماعت سے کاٹا جائے گا۔ بہرحال اصلاح کی خاطر عفو سے کام لینا مستحسن ہے۔ لیکن اگر بدلہ لینا ہے تو ہر ایک کا کام نہیں ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یہ قانون کا کام ہے کہ اصلاح کی خاطر قانونی کارروائی کی جائے یا اگر نظام جماعت کے پاس معاملہ ہے تو نظام خود دیکھے گا ہر ایک کو دوسرے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت بہرحال نہیں ہے۔
جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ معاشرے میں صلح جوئی کی بنیاد پڑے، صلح کی فضا پیدا ہو۔ عموماً جو عادی مجرم نہیں ہوتے وہ درگزر کے سلوک سے عام طور پر شرمندہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں اور معافی بھی مانگ لیتے ہیں-
اس ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے فرماتے ہیں کہ مومنون کو یہ عام ہدایت دی ہے کہ انہیں دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنا اور ان کے قصوروں سے درگزر کرنا چاہئے مگر معاف کرنے کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ بعض لو گ نادانی سے ایک طرف نکل گئے ہیں اور بعض دوسری طرف۔ وہ لوگ جن کا کوئی قصور کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجرم کو سزا دینی چاہئے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور جو قصور کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ معاف کرنا چاہئے خدا خود بھی بندے کو معاف کرتا ہے۔تو جب خدابندے کو معاف کرتا ہے تم بھی بندوں کے حقوق ادا کرونا۔ وہی سلوک تمہارا بھی بندوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ مگر یہ سب خود غرضی کے فتوے ہیں- جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا معاف کرتا ہے تو بندے کو بھی معاف کرنا چاہئے وہ اس قسم کی بات اسی وقت کہتا ہے جب وہ خود مجرم ہوتا ہے۔ اگر مجرم نہ ہوتا تو ہم اس کی بات مان لیتے لیکن جب اس کا کوئی قصور کرتا ہے تب وہ یہ بات نہیں کہتا، اسی طرح جو شخص اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاف نہیں کرنا چاہئے بلکہ سزا دینی چاہئے وہ بھی اسی وقت یہ بات کہتا ہے جب کوئی دوسرا شخص اس کا قصور کرتاہے لیکن جب وہ خود کسی کا قصور کرتا ہے تب یہ بات اس کے منہ سے نہیں نکلتی۔ اس وقت وہ یہی کہتا ہے کہ خدا جب معاف کرتا ہے تو بندہ کیوں معاف نہ کرے۔ پس یہ دونوں فتوے خودغرضی پر مشتمل ہیں- اصل فتویٰ وہی ہو سکتاہے جس میں کوئی اپنی غرض شامل نہ ہو اور وہ وہی ہے جو قرآن کریم نے دیا ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہوتو تم یہ دیکھو کہ سزا دینے میں اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا معاف کرنے میں-(تفسیر کبیر جلد ۶ صفحہ ۲۸۵)
اب مَیں اس بارے میں احادیث سے کچھ روشنی ڈالتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی بیان کرو ں گا۔
حضرت معاذ بن انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والوں سے تعلق قائم رکھے اورجو تجھے نہیں دیتا اسے بھی تو دے اور جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے تو درگزر کر۔ (مسند احمد بن حنبل)
فرمایا کہ تمہارا مقام اس طرح بنے گا، تم ہر اس شخص سے جوکسی بھی طریق سے تمہارے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، تمہارے سے تعلق توڑتا ہے، تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، تمہارے ساتھ لڑنے مارنے پر آمادہ ہے تمہیں طاقت ہے تو پھر بھی تم اس سے درگزر کرو اور یہی نیکی کا اعلیٰ معیار ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ اگر تم معاف کر دو گے تو تمہاری اس حرکت کی فضیلت صرف میری نظر میں ہے یا خدا کی نظر میں ہے بلکہ یاد رکھو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی تمہاری عزت پہلے سے زیادہ قائم کرے گا کیونکہ عزت اور ذلت سب خد ا کے ہاتھ میں ہے۔(مسند احمد بن حنبل)
حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اسے عزت میں بڑھاتا ہے۔ جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطاکرتا ہے۔ (مسلم کتاب البر والصلۃ باب استحباب العفو والتواضع)
پھر ایک روایت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا ایک خادم ہے جو غلط کام کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے کیا میں اسے بدنی سزا دے سکتا ہوں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اس سے ہر روز ستر مرتبہ درگزر کرلیا کرو۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۹۰ مطبوعہ بیروت)
جو اپنے ملازمین پہ بلاوجہ سختیاں کرتے ہیں ان کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے۔ جو اپنے ماتحتوں سے حسن سلوک نہیں کرتے ان کو بھی اس بات پہ نظر رکھنی چاہئے۔
ایک اور روایت حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں ہے۔ حضرت ابوبکرؓ سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دوست، ساتھی اور رفیق نہیں تھا۔ ہجرت کے دوران بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپؐ کا ساتھ دیا اور آپؐ کے ساتھ رہے اور قربانیاں کیں- آنحضرتﷺ آپؓ کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے، ایمان بھی لائے تو بغیر کسی دلیل کے، تو ان سب باتوں کے باوجود کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت تعلق اور پیار تھا، اور آپؐ خلق عظیم پر قائم تھے اس لئے اپنے قریبیوں سے بھی اعلیٰ اِخلاق کی توقع کرتے تھے۔
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے حضرت ابو بکرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں برا بھلا کہنا شروع کیا حضورؐ اس کی باتیں سن کر تعجب کے ساتھ مسکرا رہے تھے، جب اس شخص نے بہت کچھ کہہ لیا تو حضرت ابو بکرؓ نے اس کی ایک آدھ بات کا جواب دیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا اور آپ مجلس سے تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکرؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، عرض کیا اے اللہ کے رسول! وہ آپ کی موجودگی میں مجھے برا بھلا کہہ رہا تھا اور آپ بیٹھے مسکرا رہے تھے لیکن جب میں نے جواب دیا تو آپ غصے ہو گئے اس پرآپ نے فرمایا وہ گالی دے رہا تھا تم خاموش تھے تو خدا کا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا لیکن جب تم نے اس کو الٹ کر جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔ (مشکواۃ۔ ابوہریرہ )
اور جب شیطان آ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں بیٹھنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ یہ ہیں وہ معیار جو آپؐنے اپنے صحابہؓ میں پیدا کئے اور پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہی ہیں وہ معیار جن کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آخرین میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
پھر ایک روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے رسول اللہؐ کی توریت میں بیان فرمودہ علامت پوچھی گئی تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی تند خو اور سخت دل نہ ہو گا۔ نہ بازاروں میں شور کرنے والا، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دے گا بلکہ عفو اور بخشش سے کام لے گا۔ (بخاری کتاب البیوع با ب کراہیۃ الشعب فی السوق)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس بات کی گواہ ہے بلکہ آپ نے تو اپنے جانی دشمنوں تک کو معاف فرمایا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔(مسلم کتاب الفضائل باب ۲۰ صفحہ ۲۹) اب دیکھیں وہ یہودیہ جس نے گوشت میں زہر ملا کر آپ کو کھلانے کی کوشش کی تھی اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا بھی، اس کا اثر بھی ہوا، بہرحال آپ نے اسے بھی معاف فرما دیا۔
حضرت معاذ بن رفاعہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ منبر پر چڑھے اور پھر بے اختیار رو دئیے اور فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سال جب منبر پر چڑھے تو رونے لگے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت طلب کرو کیونکہ یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں جو کسی کو مل سکتی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے حق میں بددعا کرنے والوں کو کہا میں دنیا میں لعنت کے لئے نہیں بلکہ رحمت کے لئے آیا ہوں-(صحیح بخاری بعث النبیﷺ)
جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو ذاتی دشمنوں پر بھی محیط تھا۔ اس لئے دشمنوں کو بھی آپ کے اس خلق کا پتہ تھا کہ آپ میں یہ بہت اعلیٰ خلق ہے۔ اور اسی وجہ سے ان کو جرأت پیدا ہوتی تھی کہ وہ باوجود دشمنیوں کے آپ کے سامنے آ کے معافی مانگ لیا کرتے تھے۔
ایک مثال دیکھیں کہ ھبار بن الاسود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینبؓ پر مکہ سے مدینہ ہجرت کے وقت نیز ے سے قاتلانہ حملہ کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ان کا حمل ضائع ہو گیا اور بالآخر یہی چوٹ ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس جرم کی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر یہ بھاگ کر کہیں چلا گیا مگر بعدمیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لائے تو ھبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے عرض کیا کہ پہلے تو میں آپ سے ڈر کر فرار ہو گیا تھا مگر پھر آپ کے عفو اور رحم کا خیال مجھے آپ کے پاس واپس لے آیا ہے۔ اے خدا کے نبی! ہم جاہلیت اور شرک میں تھے خدانے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت دی اور ہلاکت سے بچایا۔ میں اپنی زیادتیوں کا اعتراف کرتا ہوں پس میری جہالت سے صرف نظرفرمائیں- چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے اس قاتل کو بھی معاف فرمایا،بخش دیا اور فرمایا جا اے ھبار! میں نے تجھے معاف کیا۔ اللہ کا یہ احسان ہے جس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۱۰۶۔مطبوعہ بیروت)
اپنی بیٹی کے قاتل کو معاف کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن کیونکہ آپ عفو کی تعلیم دیتے تھے اس لئے خود کرکے دکھایا کیونکہ اصل مقصد تو اصلاح ہے جب آپ نے دیکھا کہ اس کی اصلاح ہو گئی ہے تو بیٹی کا خون بھی معاف کیا اور بعض حالات میں دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دی۔
وائل بن حجرؓ سے روایت ہے کہ مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک قاتل کو پیش کیا گیا جس کے گلے میں پٹہ ڈالا گیا۔ راوی کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث کو بلوایا اور فرمایا کیا تم معاف کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں- آپ نے فرمایا کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہا نہیں- آپ نے فرمایا کیا تم اسے قتل کرو گے؟ اس نے کہا جی ہاں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ۔ جب وہ شخص قاتل کو لے کر جانے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا کیا تم معاف کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں- آپ نے فرمایا کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہانہیں ، آپ نے فرمایا کیا تم اسے قتل ہی کرو گے؟ اس نے کہا جی حضور! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ، چوتھی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اسے معاف کر دیتے تو یہ اپنے گناہ اور اپنے مقتول ساتھی کے گناہ کے ساتھ لوٹتا۔(سنن ابی داؤد کتاب الدیات باب الامام یامربالعفو)
پھر ایک اور اعلیٰ مثال دیکھیں- عبداللہ بن سعد ابن ابی سرح کاتب وحی تھا مگر بغاوت اور ارتداد اختیار کرتے ہوئے کفار مکہ سے جا ملا اور وہاں جا کر کھلے بندوں یہ کہنے لگا کہ جو میں کہتا تھا اس کے مطابق وحی بنا کر لکھ دی جاتی تھی (نعوذ باللہ)۔ اس کی ایسی حرکتوں پر اسے واجب القتل قرار دیا گیا اوربعض مسلمانوں نے یہ نذر مانی کہ اس دشمن خدا اور رسول کو قتل کریں گے مگر اس نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان غنیؓ۔ کی پناہ میں آ کر معافی کی درخواست کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو اعراض فرمایا مگر حضرت عثمانؓ کی اس بار بار کی درخواست پر کہ میں اسے امان دے چکا ہوں حضورؐ نے بھی اسے معاف فرما دیا اور اس کی بیعت قبول فرما لی۔ بیعت کی قبولیت کے بعد عبداللہ اپنے جرائم کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنے سے کتراتا تھا مگر جب معاف کر دیا تو پھر دیکھیں کیارویہ ہے۔ آپؐ نے اسے نہایت محبت سے پیغام بھجوایا کہ اسلام قبول کرنا اس سے پہلے کے گناہ معاف کر دیتا ہے اس لئے تم شرمندہ ہو کے گھبراؤ نہ، چھپو نہیں-(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۱۰۲۔۱۰۴۔بیروت)
پھر ابو سفیان کی بیوی ہندبنت عتبہ نے اسلام کے خلاف جنگوں کے دوران کفار قریش کو اکسانے اور بھڑکانے کا فریضہ خوب ادا کیا تھا۔ وہ ابھارنے کے لئے اشعار پڑھتی تھی۔ مردوں کو انگیخت کیا کرتی تھی کہ اگر فتح مند ہو کے لوٹو گے تو تمہارا استقبال کریں گے ورنہ نہیں ہمیشہ کی جدائی اختیار کر لیں گی۔ (السیرۃ النبیویہ ابن ھشام جلد ۳ صفحہ ۱۵۱۔ دارالمعرفۃ بیروت)
جنگ احد میں اسی ہند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی نعش کا مثلہ کیا، اس نے ان کے ناک، کان اور دیگر اعضاء کاٹ کر لاش کا حلیہ بگاڑ دیا اور ان کاکلیجہ نکال کر چبا لیا۔ فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی بیعت لے رہے تھے تو یہ ہند بھی نقاب اوڑھ کر آ گئی، کیونکہ اس کے جرائم کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔ بیعت کے دوران اس نے بعض شرائط بیعت کے بارے میں استفسار کیا۔ نبی کریمؐ پہچان گئے کہ ایسی دیدہ دلیری ہند کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتی تو آپؐ نے پوچھا کیا تم ابو سفیان کی بیوی ہند ہو؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! اب تو میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں جو پہلے گزر چکا آپ اس سے درگزر فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک فرمائے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند کو بھی معاف فرما دیا اور ہند پر آپ کے عفو و کرم کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔ واپس گھر جا کر اس نے تمام بت توڑ دئیے۔
اسی شام جب اس نے بیعت کی ہند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضیافت کا اہتمام بھی کیا اور خاص طور پر دو بکرے ذبح کروائے اور بھون کر حضور کی خدمت میں بھجوائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آج کل جانور کم ہیں اس لئے حقیر سا تحفہ بھیج رہی ہوں اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دعا دی اور عفو کا یہ سلوک دیکھیں کہ نہ صرف معاف کیا بلکہ اس کو دعا بھی دی۔ کہ اے اللہ ہند کے بکریوں کے ریوڑ میں بہت برکت ڈال دے، چنانچہ اس دعا کے نتیجے میں بہت برکت پڑی اور اس سے بکریاں سنبھالی نہ جاتی تھیں-(سیرۃ الحلبیہ جلد۳ صفحہ ۱۱۸۔ مطبوعہ بیروت)
کعب بن زھیر ایک مشہور عرب شاعر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان خواتین کی عزت پر حملہ کرتے ہوئے گندے ا شعار کہا کرتے تھے اس بنا پر رسول اللہ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔ کعب کے بھائی نے اسے لکھا کہ مکہ فتح ہو چکا ہے اس لئے تم آ کر رسول اللہ سے معافی مانگ لو، چنانچہ وہ مدینے آ کر اپنے جاننے والے کے پاس آ کر ٹھہرا اور فجر کی نماز نبی کریم کے ساتھ مسجد نبوی میں جا کر ادا کی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا تعارف کرائے بغیر یہ کہا کہ یا رسول اللہ!
کعب بن زھیر تائب ہو کر آیا ہے اور معافی کا خواستگار ہے اگر اسے اجازت ہو تو اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ (آپؐ اس کو شکل سے نہیں پہچانتے تھے) آپؐ نے فرمایا ہاں- تووہ کہنے لگا کہ میں ہی کعب بن زھیر ہوں یہ سنتے ہی ایک انصاری کیونکہ اس کے قتل کا حکم تھا اس کو قتل کرنے کے لئے اٹھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اب چھوڑ دو یہ معافی کا خواستگار ہو کر آیا ہے۔ پھر اس نے ایک قصیدہ آنحضرتؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے اپنی چادر انعام کے طور پر اس کے اوپر ڈال دی اور اس طرح یہ دشمن بھی معافی کے ساتھ ساتھ انعام لے کر واپس آیا۔ (السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۲۱۴۔۲۱۵)
پھر عبداللہ بن ابی بن سلول نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کیازیادتیاں نہیں کیں، ہر ایک جانتا ہے لیکن آپ نے اسے بھی معاف فرما یا، ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے اس کی تمام تر گستاخیوں اور شرارتوں کے باوجود اس کی وفات پر اس کا جنازہ پڑھایا حضرت عمرؓ کو اس بات کا بڑا غصہ تھا آپ بار بار اصرار کیا کرتے تھے کہ حضور اس کا جنازہ نہ پڑھائیں- اور حضرت عمرؓ اس کی زیادتیاں بھی آپؐ کے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اے عمر! پیچھے ہٹ جاؤ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے استغفار کرو یا نہ کرو برابر ہے اگر تم ستر مرتبہ بھی استغفار کرو تو اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔ پھر فرمایا کہ اگر مجھے پتہ ہو کہ ستر سے زائد مرتبہ استغفار سے یہ بخشے جائیں گے تو میں ستر سے زائد بار استغفار کروں- پھر بھی آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور جنازہ کے ساتھ قبر تک تشریف لے گئے۔(بخاری کتاب الجنائز )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو کی تو بے انتہا مثالیں ہیں کس کس کو بیان کیا جائے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ یہ اس تعلیم کا عملی نمونہ تھا جسے لے کر آپ آئے تھے۔ اس تعلیم کو آج پھر ہر احمدی نے اس معاشرے میں جا ری کرنا ہے اپنے پہ لاگو کرنا ہے۔ کیونکہ زمانے کے امام کے ساتھ ہم نے عہد کیا ہے کہ اس تعلیم کا عملی نمونہ بن کر دکھائیں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کی طرف جھکتے ہوئے اس طر ف بہت زیادہ توجہ دیں- درگزر اور عفو کی عادت ڈالیں- یہ نہیں ہے کہ چونکہ جماعت میں قضا کا یا امور عامہ کا یا اصلاح و ارشاد یا تربیت کا شعبہ قائم ہے اس لئے ضرور ان کو مصروف رکھنا ہے۔ ذرا ذرا سی باتوں کے جھگڑے لے کر ان تک پہنچ جانا ہے۔ میرے خیال میں تو ذرا سی بھی برداشت کا مادہ پیدا ہو جائے تو آدھے سے زیادہ مسائل اور جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں گو دوسروں کی نسبت یہ جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں- ان میں سے بھی آدھے جھڑ سکتے ہیں-
حضرت اقدس مسیح موعود حضرت ابو بکرؓ کے نمونے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی، اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے اور ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ ابوبکرؓ کے گھر سے دو وقت روٹی کھایاکرتے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے اس کی خطا پر قسم کھائی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں ا س کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی

وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا۔ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَکُمْ۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ-

اور پھرحضرت ابو بکرؓ نے اپنے عہد کو توڑ دیا اور بدستور اس کو روٹی جاری کر دی کھانا کھلانا شروع کر دیا۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۸۱)
پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئی ہیں- بہت بری طرح ستایا گیا مگر ان کو

اَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ

کا ہی خطاب ہوا۔ خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں ، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا؟ ان کے لئے دعا کی۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا توتیری عزت اور جان کو ہم صحیح و سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضورؐ کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔
اب حضرت مسیح موعودؑ کے عفو کی چند مثالیں دیتا ہوں-
حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ فرماتے ہیں- کہ ایک عورت نے حضرت مسیح موعود کے گھر سے کچھ چاول چرائے، چور کا دل نہیں ہوتا اس لئے اس کے اعضاء میں غیر معمولی قسم کی بیتابی اور اس کا ادھر ادھر دیکھنا بھی خاص وضع کا ہوتا ہے۔ یعنی وہ چوری کر لے تو اس کے ایکشنز (Actions) اور طرح کے ہو جاتے ہیں- کسی دوسرے تیز نظر نے تاڑ لیا اور پکڑ لیا۔ وہ وہاں موجود تھا۔ اس کی تیز نظر تھی اس کو شک ہوا کہ ضرور کوئی گڑ بڑ ہے اور شور پڑ گیا۔ اس کی بغل میں سے کوئی پندرہ سیر کے قریب چاولوں کی گٹھڑی نکلی اور اس کو ملامت اور پھٹکا ر شروع ہو گئی۔ حضرت مسیح موعود بھی کسی وجہ سے ادھر تشریف لائے اورپوچھا کہ کیا واقعہ ہے تو لوگوں نے یہ بتایا تو فرمایا کہ یہ محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اسے دے دو اورنصیحت نہ کرو یعنی بلاوجہ اس کو کچھ کہو نہ۔ اور خداتعالیٰ کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو۔
( سیرت حضرت مسیح موعودؑاز حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ جلد اول صفحہ ۱۰۵۔۱۰۶)
پھر خان صاحب اکبر خان صاحب نے بتایا کہ مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر حضرت اقدس کے مکان تک جانے کے لئے پہلے بھی اسی طرح ایک راستہ ہوتا تھا۔ ایک دفعہ لالٹین اٹھا کر حضرت اقدس کو راستہ دکھانے لگے۔ اتفاق سے لالٹین ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور لکڑی پر تیل پڑا اور اوپر نیچے سے آگ لگ گئی۔کہتے ہیں بہت پریشان ہوا۔ بعض اور لوگ بھی بولنے لگے لیکن حضور نے فرمایا خیر ایسے واقعات ہو ہی جاتے ہیں- مکان بچ گیا اور ان کو کچھ نہ کہا۔
( سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ جلد اول صفحہ ۱۰۴)
خان اکبر صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم وطن چھوڑ کر قادیان آ گئے تو ہم کو حضرت اقدسؑ نے اپنے مکان میں ٹھہرایا۔ حضورؑ کا قاعدہ یہ تھا کہ رات کو عموماً موم بتی جلا لیا کرتے تھے۔ اور بہت سی موم بتیاں اکٹھی روشن کر دیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جن دنوں میں میں آیا میری لڑکی بہت چھوٹی تھی ایک د فعہ حضرت اقدسؑ کے کمرے میں بتی جلا کر رکھ آئی، اتفاق ایسا ہوا کہ وہ بتی گر پڑی۔ اور حضورؑ کی کتابوں کے بہت سارے مسودات اور چند اور چیزیں جل گئیں اور نقصان ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تو سارا نقصان ہو گیا ہے۔ سب کو بہت سخت پریشانی اور گھبراہٹ شروع ہو گئی یہ کہتے ہیں کہ میری بیوی اور لڑکی بھی بہت پریشان تھی کہ حضورؑ اپنی کتابوں کے مسودات بڑی احتیاط سے رکھا کرتے تھے وہ سارے جل گئے ہیں لیکن جب حضورؑ کو اس بات کا علم ہوا تو کچھ نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ خداتعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہئے کہ کوئی اس سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
( سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ جلد اول صفحہ ۱۰۳)
پھر دیکھیں آپ کے مخالف اور معاند مولوی محمد حسین بٹالوی ہماری جماعت میں ان کو جانتے ہیں وہ جوانی میں حضرت
مسیح موعود علیہ السلام کے دوست اور ہم مکتب تھے یعنی اکٹھے پڑھا کرتے تھے اور حضورؑ کی پہلی تصنیف ’’براہین احمدیہ‘‘ پر انہوں نے بڑا شاندار ریویو بھی لکھا تھا اور یہاں تک لکھا تھا کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں اسلام کی تائید میں کوئی کتاب اس شان کی نہیں لکھی گئی۔ مگرمسیح موعود کے دعویٰ پر یہی مولوی صاحب مخالف ہو گئے اور مخالف بھی ایسے کہ انتہا کو پہنچ گئے اور حضرت مسیح موعودؑ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور دجال وغیرہ کہا (نعوذ باللہ) اس طرح سارے ملک میں مخالفت کی آگ بھڑکائی۔ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے اقدام قتل والے مقدمے میں بھی مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب عیسائیوں کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔ اس وقت حضرت مسیح موعود کے وکیل مولوی فضل دین صاحب جو ایک غیر احمدی بزرگ تھے، مولوی محمد حسین کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے ان کے حسب و نسب کے بارے میں بعض طعن آمیز سوالات کرنے لگے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں روک دیا کہ میں آپ کو ایسے سوالات کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ کہتے ہوئے آپؑ نے جلدی سے اپنا ہاتھ مولوی فضل دین صاحب کے منہ پر رکھا کہ کہیں ان کی زبان سے کوئی ایسا فقرہ نکل نہ جائے۔ تو اس طرح آپ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمایا کرتے تھے اور یہاں بھی فرمائی۔ اس کے بعد مولوی فضل دین صاحب موصوف ہمیشہ یہ واقعہ حیرت سے ذکر کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب اخلاق کے انسان ہیں کہ ایک شخص ان کی عزت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے۔ اور اس کے جواب میں اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے اس پر بعض سوالات کئے جاتے ہیں تو آپ فوراً روک دیتے ہیں کہ میں ایسے سوالات کی اجازت نہیں دیتا۔(سیرت طیبہ از حضرت مرزابشیر احمد صاحب ایم اے۔ رضی اللہ عنہ صفحہ۵۳تا۵۵)
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ

یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یا وہ گو ظالم طبع لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بے ہودگی کا بے ہودگی سے جواب نہیں دیتے۔(مجموعہ اشتہارات جلددوم صفحہ ۱۲۶)
فرمایا ہم دنیامیں دیکھتے ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان سے ایک دو مرتبہ عفو و درگزر کیا جائے اور نیک سلوک کیا جائے تو اطاعت میں ترقی کرتے اور اپنے فرائض کو پوری طرح سے ادا کرنے لگ جاتے ہیں- اور بعض شرارت میں اور بھی زیادہ ترقی کرتے اور احکام کی پرواہ نہ کرکے ان کو توڑ دینے کی طرف دوڑتے ہیں- اب اگر ایک خدمت گار کو جو نہایت
شریف الطبع آدمی ہے اور اتفاقاً اس سے غلطی ہو گئی ہے اسے اٹھ کر مارنے اور پیٹنے لگ جائیں تو کیا وہ کام دے سکے گا، نہیں ،
بلکہ اسے تو عفو و درگزر کرنا ہی اس کے واسطے مفید اور اس کی اصلاح کا موجب ہے۔ مگر ایک شریر کو جس کا بار ہا تجربہ ہو گیا ہے کہ وہ عفو سے نہیں سمجھا بلکہ اور بھی شرارت میں قدم آگے رکھتا ہے اس کو ضرور سزا دینی پڑے گی اور اس کے واسطے مناسب یہی ہے کہ سزا دی جاوے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۲۵۶۔ جدید ایڈیشن)
پھر آپؑ نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو سے تقویٰ سرایت کر جاوے، تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو، اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصے کا نقص اب تک موجود ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اوربغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔( یعنی جماعت کے ممبران کی اصلاح ان کے اخلاق سے شروع ہوتی ہے) چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے اس کے لئے درد دل سے دعا کرے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینے کو ہرگز نہ بڑھاوے جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے ہی خدا کا بھی قانون ہے، جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہیں ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں ، خداتعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔ لیکن افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود ہی قریب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں- یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ (بنی اسرائیل:۸۵)۔بعض آدمی کسی قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور، اگر ایک خلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا برا، لیکن تا ہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے۔(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۱۲۶ تا ۱۲۹)۔ اصلاح کی کوشش کرو تو اصلاح ہو سکتی ہے۔
پھر فرمایا تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔ اور بدبخت ہے وہ جو ضد کرتاہے اور نہیں بخشتا۔ سو اس کامجھ میں حصہ نہیں- (کشتیٔ نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۳جدید ایڈیشن)
پھر آپ فرماتے ہیں جو نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔(کشتیٔ نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۹جدید ایڈیشن)
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ بلند حوصلگی کامظاہرہ کرنے والے ہوں- قرآن کریم کی تعلیم کو ہمیشہ اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ پیروی کرنے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے والے بنیں- آمین

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/D4ghn]

اپنا تبصرہ بھیجیں