راہوں میں خار وہ جو بچھاتے چلے گئے – نظم

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 17 جولائی 2020ء)

مجلس انصاراللہ جرمنی کے سہ ماہی ’’الناصر‘‘ اپریل تا جون 2012ء میں ایک محفل مشاعرہ کی رپورٹ میں شامل نمونہ کلام میں سے جناب محمد اسحاق اطہر صاحب کے کلام سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

راہوں میں خار وہ جو بچھاتے چلے گئے
پلکوں سے اپنی ہم وہ اُٹھاتے چلے گئے
عہدِ وفا جو باندھا تھا ہم نے کسی کے ساتھ
صدق و وفا سے اُس کو نبھاتے چلے گئے

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/5I62j]

اپنا تبصرہ بھیجیں