سمبڑیال کے چند اصحاب احمدؑ

سمبڑیال ایک چھوٹا سا شہر ہے جو اُسی راستہ پر واقع ہے جس کے ذریعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ روزنامہ الفضل ربوہ 27اپریل 2012ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں سمبڑیال (ضلع سیالکوٹ) سے تعلق رکھنے والے چند اصحابِ حضرت مسیح موعودؑ کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
حضرت بابو الٰہی بخش صاحب ؓ
حضرت بابو الٰہی بخش صاحبؓ ولد فضل دین صاحب سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور ریلوے میں ملازم تھے، آپ کے سن بیعت کا قطعی علم نہیں۔ محترم حاجی بابو محمد اسماعیل صاحب ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر (بیعت 1908ء – وفات 16اکتوبر 1966ء مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) آپ ہی کے ذریعہ وابستہ احمدیت ہوئے، وہ بیان کرتے ہیں کہ 1900ء سے میرا تعارف بسلسلہ ریلوے ملازمت بابو الٰہی بخش صاحب مرحوم سے ہوا، بٹھنڈہ ہمارے دفتر کا ہیڈکوارٹر تھا، وہ احمدی ہونے کے بعد وقتًا فوقتًا مجھے تبلیغ کرتے رہتے تھے اور میرے نام رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو بھی جاری کروایا تھا۔ بھائی الٰہی بخش مرحوم کا نمونہ میرے لیے بڑا دلرُبا تھا۔ آخر میں نے آں مرحوم سے وعدہ کر لیا کہ میں حضرت صاحب کو سچا تسلیم کرتا ہوں لیکن میں بیعت تو حضور کے ہاتھ پر ہی کروں گا (تحریری طور پر بیعت میرے واسطے ایک اجنبی سا معاملہ تھا) کاش میں ان کی بات کو مان لیتا۔
حضرت بابو الٰہی بخش صاحبؓ نیک طبیعت شخصیت کے مالک تھے۔ 1906ء میں جب نظام وصیت کا آغاز ہوا تو آپ اوّل طور پر اس کے شاملین میں سے ہوئے۔ آپ کا وصیت نمبر 81تھا۔ آپ جماعت احمدیہ سمبڑیال کے پریذیڈنٹ بھی رہے۔ وہاں کے سیکرٹری جماعت حضرت ملک سراج الدین صاحب نے اپنی ایک رپورٹ میں آپؓ کے حوالہ سے لکھا:
’’انجمن احمدیہ سمبڑیال کے پریذیڈنٹ بابو الٰہی بخش صاحب سٹیشن ماسٹر ہیں جو آج کل ارولی ریاست بہاولپور میں ملازم ہیں۔ آپ نہایت مخلص و متقی ہیں۔‘‘
اپریل 1915ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اجازت سے ایک انجمن’’ مُعین الیتامی‘‘ٰ قائم ہوئی جس کے سیکرٹری مکرم حسن محمد خان صاحب مقرر ہوئے، حضرت بابو صاحبؓ بھی اس انجمن کے مخلص ممبر تھے۔
20جولائی 1913ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے آپ کے بیٹے کی بسم اللہ کرائی اور تین مرتبہ سورۃ فاتحہ کہلوائی۔ بعد ازاں جماعت کے ساتھ دعا کروائی۔
آپؓ کے والد محترم فضل دین صاحب نے 1910ء میں وفات پائی۔ جبکہ آپؓ نے 9اکتوبر 1917ء کو بعمر تقریباً 38سال وفات پائی۔ چونکہ موصی تھے لہٰذا جنازہ قادیان لے جایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔ حضرت مصلح موعودؓ ان دنوں شملہ سفر پر تھے حضور نے وہاں ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
حضرت بابو صاحبؓ کی اہلیہ محترمہ زینب بی بی صاحبہ نے 13جنوری 1951ء کو حیدرآباد سندھ میں اپنے بیٹے کے ہاں وفات پائی۔ موصیہ تھیں۔ حیدرآباد میں ہی دفن ہوئیں یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں لگا ہوا ہے۔
آپ کی اولاد میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک بیٹی محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ (اہلیہ حضرت صوفی غلام محمد صاحب سابق ناظر مال خرچ و ناظر اعلیٰ ثانی) تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ملک حسن محمد صاحب ؓ
حضرت ملک حسن محمد صاحبؓ ولد امیر بخش صاحب نے جنوری 1904ء میں بذریعہ خط قبولِ احمدیت کا شرف اُس وقت حاصل کیا جب آپ بسلسلہ تجارت دکن کے ضلع شہلاپور میں مقیم تھے۔ پھر مئی1904ء قادیان حاضر ہوکر دستی بیعت کی سعادت پائی۔
آپؓ کی چند چشم دید روایات یہ ہیں:
٭ حضورؑ ایک دن سیر کو تشریف لے گئے۔ کسی نے عرض کی کہ ایک صاحب قرآن کریم کے حافظ آئے ہیں اور قرآن اچھا پڑھتے ہیں۔ حضورؑ گھاس پر بیٹھ گئے اور حافظ جی نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ اُس وقت حضور کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
٭ ایک روز بعد نماز فجر حضورؑ نے خدام سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ رات کو سارنگیاں طنبورے کہاں بجتے رہے؟ کسی نے عرض کیا حضور! مرزا نظام الدین صاحب نے کنچنی کو بلایا ہے اور بیس روپے رات کا وعدہ کیا ہے۔ رات بھر مرزا نظام الدین کے ہاں ناچ ہوتا رہا ہے۔ حضور پُر نور نے لمبی آہ بھر کر فرمایا: اللہ! یہ کس قدر نمک حلال ہے بیس روپے کے عوض میں ساری رات ناچتی گاتی رہی اور جاگی ہے ہم اپنے حقیقی خالق و مالک کے لیے ایک دو گھنٹے بھی نہیں جاگ سکتے جس نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے متمتع فرمایا ہوا ہے۔ اور ان فقروں کو دو تین دفعہ دہرایا۔
٭ 4اپریل 1905ء کے زلزلہ کے بعد جب حضورؑ باغ میں ایک کچے مکان میں رونق افروز تھے۔ جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ بھی باغ میں پڑھتے تھے۔ حضورؑ تشریف لائے اور فرمایا گھر میں یعنی حضرت اماں جانؓ بو جہ تپ شدیدکے سخت بیمار تھیں۔ مَیں نے دعا کی تو الہام ہوا: اِنَّ مَعِیَ رَبِّی سَیَھۡدِین۔ بعد کسی نے زور سے آواز دی تپ ٹوٹ گیا۔ جس وقت سے یہ الہام ہوا ہے گھر میں صحت کے آثار بسرعت نمودار ہورہے ہیں۔ بخار تو بالکل اُتر گیا ہے اور دردِ سر بھی جو بشدّت تھا، غائب ہوگیا ہے۔
٭ ستمبر یا اکتوبر1906ء میں خاکسار اور مکرمی ملک سراج الدین صاحب حضرت اقدسؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک رات قادیان میں ٹھہرے۔ جمعہ یا ظہر کی نماز کے بعد ہم دونوںنے دروازہ پر حاضر ہوکر اجازت طلب کی۔ حضورؑ ترکی ٹوپی سر پر زیب فرمائے دروازہ پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا ٹھہرو جلدی کیوں کرتے ہو؟ مکرمی سراج دین نے عرض کی کہ حضور! آٹھ ملازم لاہور میں بٹھاکر شرفِ زیارت کے لیے حاضر ہوئے ہیں وہ ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے اور ہم بسلسلہ تجارت بمبئی جارہے ہیں۔ حضورؑ نے فرمایا اچھا عصر کی نماز پڑھ کر جائیں۔ پھر مرحوم نے عرض کی کہ حضور! پھر گاڑی نہیں ملے گی۔ حضورؑ نے پھر اپنے خدام کو رخصت کردیا۔
حضورؑ سے اصرار کرکے اجازت تو ہم نے لے لی مگر اُس کانتیجہ یہ ہوا کہ جب ہم بٹالہ پہنچے تو گاڑی رخصت ہوچکی تھی۔ رات بٹالہ ہی میں بسر کرنی پڑی۔ صبح ہم دونوں احمدی بھائیوں میں لڑائی شروع ہوگئی اور بمبئی تک وہ سلسلہ لڑائی شروع رہا۔ میرے دل نے محسوس کیا کہ یہ سب کچھ حضورؑ کے ارشاد پر اصرار کی وجہ ہے۔ مَیں نے حضورؑ کی خدمت میں لگاتار معافی کے خطوط ارسال کرنے شروع کئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارا سال محنت کی لیکن کمایا ایک پیسہ بھی نہیں۔ لیکن اخی المکرم ملک سراج الدین متواتر دو سال سفر میں ہی رہے۔ آخر دو سال کے بعد بہت سا نقصان اٹھا کر واپس گھر آئے۔ واقعہ تو بہت لمبا ہے مگر میں نے اختصار کے ساتھ لکھ دیا ہے تا دوست اس سے عبرت اور فائدہ حاصل کریں۔
٭ غالباً 1906ء یا 1907ء کا واقعہ ہے خاکسار قادیان آیا معلوم ہوا کہ حضور کے سر مبارک میں کوئی کیل یا کھونٹی اُٹھتے وقت لگ گئی ہے اور بہت سا خون نکلا ہے جس کی وجہ سے تکلیف ہے اور باہر تشریف نہیں لاتے۔ ہم چند خدام اکٹھے ہوگئے اور حضور پُر نور کی خدمت میں زیارت کی درخواست پیش کی، حضورنے از راہ شفقت ہمیں اندر آنے کی اجازت بخشی۔ ہم سب سات آٹھ مہمان تھے، اندر داخل ہوئے۔ حضورؑ ایک بڑے پلنگ پر مسند نشین تھے۔ اپنے خدام کو دیکھ کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ مصافحہ کا شرف بخشا۔ پھر حضورؑ ایک چھوٹی چارپائی پر بیٹھ گئے اور اپنے خدام کو اُس بڑے پلنگ پر بیٹھنے کا حکم فرمایا۔ پھر سلسلہ کلام حضورؑ کے اس زخم پر شروع ہوا۔ حضورؑ نے فرمایا: ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے علم میں خون کا نکلنا ہی مفید ہو شاید اسی وجہ سے فصد ہوگیا ہے۔
آپؓ 1938ء سے پہلے ہجرت کرکے قادیان چلے آئے اور تقسیم ملک کے بعد پاکستان آگئے۔ آپؓ نے 16اپریل 1959ء کو کراچی میں وفات پائی۔ جنازہ ربوہ لایا گیا اور بہشتی مقبرہ قطعہ صحابہ میں تدفین ہوئی۔ آپ کے تین بیٹے تھے جن میں سے ایک مکرم ملک محمد عبداللہ صاحب تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں لیکچرار رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ملک سراج الدین صاحبؓ
حضرت ملک سراج الدین صاحبؓ قوم ککے زئی تجارت سے وابستہ تھے۔ حضرت ملک حسن محمد صاحبؓ کی مذکورہ بالا روایت میں آپؓ کا ذکر ملتا ہے۔ بعدازاں ایک مرتبہ آپ نے ٹانڈہ بروڑ ریاست اندور سے ایک عریضہ اخبار میں چھپوایا جس میں اپنے والدین کو نورِ ہدایت کے عطا ہونے کے لئے بھی درخواستِ دعا کی۔ آپؓ نے 1917ء کے اواخر میں وفات پائی۔
(نوٹ: سمبڑیال میں ہی مکرم مولوی سراج الدین صاحب نامی ایک اَور بزرگ شخصیت بھی گزری ہیں جو کہ نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے لیکن وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب میں شامل نہیں تھے۔ انہوں نے خلافت اولیٰ میں بیعت کی توفیق پائی تھی اور یکم دسمبر 1964ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں جگہ پائی۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ملک اللہ رکھا صاحبؓ
حضرت ملک اللہ رکھا صاحبؓ کے حالات زندگی بھی معلوم نہیں ہیں۔ صرف اعلانِ وفات اخبار الفضل میں شائع ہوا ہے کہ ’’ملک اللہ رکھا صاحب سمبڑیال جو مخلص صحابی تھے 19اکتوبر کو وفات پاگئے۔ ‘‘
آپ کے ایک بیٹے حضرت ملک امام الدین صاحبؓ کا ذکر خیر ذیل میں کیا جاتا ہے:
حضرت ملک امام الدین صاحبؓ
حضرت ملک امام الدین صاحب 1890ء میں پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی عمر میں بیعت حضرت اقدسؑ کی توفیق پائی۔ 4 نومبر 1969ء کو وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔ آپ کی وفات پر آپ کے بھتیجے محترم ملک سعید احمد صاحب ولد ملک محمد شفیع صاحب نے لکھا: میرے محترم تایا صاحب مرحوم نہایت ملنسار، نیک اور پرہیزگار تھے۔ ان کی زندگی کے بعض واقعات بہت ہی سبق آموز ہیں قیام پاکستان کے فوراً بعد آپ پنجاب تشریف لے آئے مگر آپ کو علم نہیں تھا کہ ایسے حالات درپیش ہوں گے کہ بعد میں سفر پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ یہاں آکر آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے ملاقات کی اور حضورؓ کی ہدایات پر عمل کے نتیجے میں آپ کی تمام جائیداد اور سرمایہ محفوظ رہا اور آپ بخیریت ہندوستان سے مستقل طور پر پاکستان ہجرت کر آئے۔ لاہور آکر آپؓ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے ملاقات کی اور عرض کیا کہ حضور دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ کاروبار میں مدد فرمائے مَیں ایک سال کی آمدنی خرچہ نکال کر تحریک جدید کو دوں گا۔
اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو اُس سال بیس ہزار روپیہ نفع دیا۔ دس ہزار روپیہ اپنے خرچ کے لئے اور دس ہزار روپیہ تحریک جدید کا اپنی جیب میں ڈال کر آپ کراچی سے سمبڑیال جارہے تھے کہ راستہ میں دس ہزار روپیہ چوری ہوگیا تو باقی دس ہزار روپیہ آپؓ نے تحریک جدید کا ادا کیا اور حضورؓ سے چوری کا واقعہ بیان کیا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اَور دے گا، گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ خداتعالیٰ کا شاکر رہنا چاہئے۔
جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تحریک جدید کا آغاز فرمایا تو آپؓ نے تین سال کے لئے ساٹھ روپے کا وعدہ لکھوایا۔ پھر ساٹھ روپے یک مشت ادا کردیئے۔ اگلے سال آپؓ کو مرکز نے لکھا کہ آپؓ کے نام ساٹھ روپے ہر سال کا وعدہ ہے۔ اُس سال آپ کو کاروبار میں بہت نفع ہوا تھا چنانچہ آپؓ نے کہا کہ مَیں ایک ہزار روپیہ دیتا ہوں۔
آپؓ چندہ کی ادائیگی میں بہت چوکس رہتے تھے۔ ہر تحریک میں سب سے پہلے اور بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے تھے اور دوسروں کو بھی چندہ کی ادائیگی کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ الفضل باقاعدگی سے پڑھتے تاکہ مرکز کے حالات سے باخبر رہیں۔ بہت مہمان نواز تھے۔ مرکزی نمائندوں کی خدمت کرنا اپنا فرض خیال کرتے۔ عرصہ تک سمبڑیال کی جماعت میں سیکرٹری اصلاح و ارشاد کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ملک نبی بخش صاحبؓ
حضرت ملک نبی بخش صاحبؓ کے حالات زندگی معلوم نہیں ہوسکے۔ 13جون 1943ء کو آپؓ نے وفات پائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ڈاکٹر سید ولایت شاہ صاحبؓ
حضرت ڈاکٹر سید ولایت شاہ صاحبؓ ولد پیر حسین شاہ صاحب ساکن میراں پنڈی (سمبڑیال) 1882ء میں پیدا ہوئے۔ 1897ء میں آپ امریکن مشن ہائی سکول سیالکوٹ کی پانچویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ اُن دنوں حضرت مسیح موعودؑ کے دعاوی کی نسبت منفی پراپیگنڈہ سُنا اس لئے توجہ بھی نہ دی۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد شہر میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی اور کثرت سے لوگ مرنے لگے تو آپ کو خیال آیا کہ اگر مَیں بھی اس بیماری سے مرگیا تو خداتعالیٰ کی بارگاہ میں کون سے نیک اعمال پیش کروں گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر میں پڑھا ہوا قرآن کریم بسبب تلاوت نہ جاری رکھنے کے بھول چکا تھا۔ اس خیال سے اتنی ندامت محسوس ہوئی کہ دل میں مصمّم ارادہ کرلیا کہ قرآن شریف کو از سرِ نَو ضرور پڑھوں گا۔ پھر سوچا کہ اگر کہیں کلام اللہ کا درس دیا جاتا ہو تو وہاں صحیح قرات کے علاوہ ترجمہ بھی سیکھ جاوں۔ اِدھر اُدھر سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سوائے احمدیہ مسجد کے اَور کہیں درس نہیں ہوتا۔ آپ نے دل میں کہا کہ قرآن کریم سن لیا کروں گا لیکن ان کے عقائد اور تعلیم کے بارہ میں بالکل توجہ نہیں دوں گا۔
اُن دنوں آپ آغا قزلباش صاحب رئیس کے بھائیوں کو پڑھانے پر مامور تھے اور رہائش بھی اُن کی طرف سے مہیا کی گئی تھی۔ جب آپ درس القرآن سننے کے لئے احمدیہ مسجد جانے لگے تو آغا قزلباش صاحب نے روکا اور کہنے لگے کہ اگر تم وہاں گئے تو ضرور مرزائی ہوجاؤگے۔ آپ نے اُن کو یقین دلایا کہ مَیں مرزائی بننے نہیں جارہا صرف قرآن شریف سننے جا رہا ہوں لیکن وہ نہ مانے۔ چنانچہ اُس وقت تو آپ رُک گئے لیکن اگلے دن موقعہ پاکر مسجد احمدیہ پہنچ گئے۔ حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ اُن دنوں درس دیا کرتے تھے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ مَیں بلا ناغہ ہر روز درس میں حاضر ہوجاتا تھا اور حقائق و معارف سنتا رہتا تھا۔ جب کبھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ قادیان سے آکر درس دیتے تھے تو اُن کے رعب کی وجہ سے ہمارے غیراحمدی استاد بھی درس میں حاضر ہوجاتے تھے۔ گو مجھے خاص طور پر تبلیغ نہیں کی گئی لیکن درس کے دوران میں ہی میرے سب شکوک رفع ہوگئے اور آخر مَیں نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔
پہلے آپ بلوچستان میں سکول ٹیچر تھے۔ 1906ء میں لاہور میڈیکل سکول میں داخل ہونے کے لئے آئے تو داخلہ ہوچکا تھا لیکن ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی سفارش سے ڈاکٹر پَیری نے ملٹری کلاس میں داخل کر لیا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا کہ کالج کے طلباء نے ہڑتال کردی۔ آپ اور آپ کے فرسٹ ایئر کے ساتھیوں کو اگرچہ کوئی شکایت نہیں تھی لیکن دھمکاکر ان کا سکول جانا بھی بند کروادیا گیا۔ جب ہڑتال طول پکڑ گئی تو آپ نے اور ایک دوسرے احمدی طالبعلم شیخ عبدالحکیم صاحب بسمل نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سے پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ پھر اُن کے مشورہ پر آپ رات کو قادیان روانہ ہوگئے اور حضورؑ کی خدمت میں حالات عرض کئے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہڑتال کو بغاوت خیال کرتا ہوں۔ اگر تم لوگوں کو کچھ شکایات ہیں تو لکھ کر باادب پیش کرو۔ پھر فرمایا کہ اگر تم میرے مرید ہو تو واپس جاؤ اور سکول میں داخل ہوجاؤ۔
چنانچہ دونوں احمدی طلباء اگلے روز کالج کی پچھلی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے اور اپنے نام پھر درج رجسٹر کرائے۔ چند دنوں کے بعد سارے طلباء داخل ہوگئے، لیکن ہڑتالیوں کے سرغنے اور مانیٹر سکول سے نکال دئیے گئے اور پڑھائی پھر شروع ہوگئی ۔
1913ء میں آپؓ کینیا مشرقی افریقہ تشریف لے گئے اور وہاں پر سرکاری ملازمت سے بطور اسسٹنٹ سرجن ریٹائر ہوئے۔ جہاں بھی بسلسلہ ملازمت مقیم رہے وہاں تبلیغ بھی خوب کرتے رہے۔ پابند شریعت تھے۔ مالی قربانیوں میں بہت جذبہ دکھاتے۔ 1930 ء میں نیروبی میں مسجد احمدیہ کی تعمیر میں 400 شلنگ ادا کئے۔ قادیان میں بھی آپؓ کی معقول جائیداد تھی جس کے عوض تقسیم ملک کے بعد کوئی claim نہیں کیا۔ چند سال قادیان میں گزار واپس کینیا چلے گئے اور پھر وہیں قیام کیا۔ بچوں کی دینی تعلیم و تربیت ذاتی توجہ اور کوشش سے کی اور اپنے لڑکوں کو بچپن میں ہی تعلیم و تربیت کے لئے قادیان بھجوا دیا۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؓ موصی تھے۔ 28 نومبر 1965ء کو تقریباً 83 سال کی عمر میں نیروبی (کینیا) میں ہی وفات پائی اور وہاں احمدیہ قبرستان میں دفن ہوئے۔
آپ اور آپ کی اہلیہ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ آپ کے اُنیس سالہ چندے کی کل رقم 8340/- روپے اور اہلیہ کا چندہ 1895/- روپے تھا۔ آپ کی اہلیہ محترمہ امیر بیگم صا حبہ نے 27 مئی 1979ء کو انگلستان میں وفات پائی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت نواب دین صاحبؓ (سابق منشی سنگھ )
ایک نواحمدی حضرت نواب دین صاحبؓ (سابق منشی سنگھ ولد سردار ودھاوا سنگھ راجپوت) کے دیگر حالات معلوم نہیں ہوسکے تاہم آپؓ کا حضرت مسیح موعودؑ کے نام ایک خط اخبار بدر میں شائع شدہ ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں:
آداب و قدم بوسی کے بعد مدّعا خاطر و داستان سرگزشت پیش حضور ہے اور وہ یہ ہے کہ خاکسار سکول موضع سمبڑیال میں تعلیم پاتا تھا اور میں گرنتھ صاحب ہی پڑھتا تھا کیونکہ میں ہندو تھا اور راجگان جموں کی اولاد میں سے تھا۔ گرنتھ پڑھتے پڑھتے میرے دل میں کچھ شکوک توحید کے بارے میں پڑ گیا اور میں نہایت مجبور ہوا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈال دیا کہ اب قرآن شریف پڑھ!۔ میں نے اپنے استاد سے جو سکول میں تعلیم دیتا تھا، مولوی تھا اس سے کہا کہ مجھ کو قرآن شریف سکھادو۔ مولوی صاحب نے بباعث میرے والدین انکار کیا کیونکہ ایک طرف میرے والدین رہتے تھے اور دوسری طرف میرے نانکے اور تیسری طرف میرے سسرال۔ میں نے استاد سے بہت عجز و انکسار کیا تو آپ نے پوشیدہ رات کو قرآن شریف کی تعلیم دینی شروع کی۔ بفضلہ تعالیٰ رات رات ہی نو ماہ تک بندہ نے خوب غور سے قرآن شریف اور گرنتھ کا مقابلہ کیا تو قرآن شریف میرے دل کو سچا معلوم ہوا اور میرے دل میں اس کلام پاک کی سچائی گھس گئی ، اب میرا دل یہی چاہتا ہے کہ بال بال سے صدا اس پاک کلام کی نکلتی رہے۔ بسوئے مطلب آمدم۔ جب بندہ نے خوب سچائی قرآن شریف کی معلوم کرلی اور جوش محبت قرآن شریف غالب ہوا تو بندہ اپنے والدین کے گھر گیا اور ان کو کہا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں تو انہوں نے منع کیا اور کہا تم کو اسی واسطے علم پڑھایا گیا ہے کہ تُو اب اپنی ذات کو داغ لگاتا ہے اور ہم کو شرمسار کرتا ہے۔ بندہ نے کہا کہ میں ہرگز ہرگز اب نہیں رُک سکتا کیونکہ میں نے اسلام کو سچا دیکھا ہے اور تمہارا مذہب جھوٹا ہے۔ تو میرے باپ نے اور باپ کے بڑے بھائی نے ارادہ میرے قتل کا کیا اور مجھ کو صاف کہہ دیا کہ اگر تُو باز نہ آئے گا تو ضرور تم کو قتل کردیں گے۔ بندہ نے بباعث خوف قتل اور دوسرا شوق دینِ احمدی رات کو وہاں سے بسوئے لاہور گریز کیا۔ لاہور میں آتے بفضل خدا مشرف مسلمان ہوگیا۔ بندہ کو از بس عشق و شوق اللہ کے ملنے کا ہے۔ بہت درویش فقیر ، بیعت اپنی دینے کے ڈھونڈے مگر کوئی نہ ملا اب چند روز ہوئے ہوں گے بندہ کو دریافت کرنے کے بعد معلوم ہوا اور سوچا تو آپ کے ایک مرید محمد یٰسینؓ احمدی گنجوی کے نام مشہور تھے پایا، اور دل ان کے ہاتھ پر بیعت دینے کوتیار ہوگیا۔ جب عرض کی گئی تو آپؓ نے کہا آج بیعت لینے والا جہان پر سوائے مسیح موعود و مہدی معہود کے، جو قادیان شریف میں اللہ تعالیٰ نے بھیجے ہیں، کوئی نہیں۔ اور آپؑ کے تابعدار اور غلام اور مرید ہیں تم بھی وہاں حضورؑ کی بیعت میں داخل ہوجاو! سو ان کا یہ کلمہ میرے دل میں اثر کرگیا۔ اسی وقت یا دوسری صبح کویہ درخواست حضور کی خدمت میں بھجوائی گئی۔ سو آپ اس خاکسار کوبیعت میں داخل فرماکر جماعت احمدیہ میں جگہ عنایت فرماویںاور دعا میرے واسطے اللہ تعالیٰ سے کریں تا مجھ سے اللہ تعالیٰ دینِ احمدی کے احکام بخوبی پورے کراوے اور استقامت نصیب کرے۔
نیز حضور عالی! بندہ طالب حق ہے اور کچھ طمع نہیں۔ آپؑ اللہ کے پیارے اور نبی ہیں۔ میرے واسطے سفارش بدرگاہ خداوند کریم کرکے اللہ تعالیٰ سے میرا سلوک کرا دیویں اور ملا دیویں اب اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب کو یاور کیا اوراسلام میں داخل کرکے آپ تک پہنچا دیا۔ میری طرف سے آپ کو آداب اور السلام علیکم قبول باد۔ اورجس شخص کے ذریعہ اس خاکسار نے آپ کو پہچانا ہے اس کے حق میں بھی آپ نیک دعا فرماویں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ڈاکٹر سید میر حیدر صاحبؓ
حضرت ڈاکٹر سید میر حیدر صاحبؓ سیالکوٹ شہر کے رہنے والے تھے اور حضرت میر حسام الدین صاحبؓ سیالکوٹی کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ آپ ایک قابل ڈاکٹر تھے، 1904ء میں جب حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لائے تو آپؓ سمبڑیال ہسپتال میں تعینات تھے اور آپ نے حضور علیہ السلام کی واپسی کے سفر میں سمبڑیال ریلوے سٹیشن پر ریل گاڑی میں ہی بیعت کرنے کی توفیق پائی۔
آپؓ نے 1942ء میں وفات پائی۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/P4zxv]

اپنا تبصرہ بھیجیں